اپنی بیویوں سے رِفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں
خُذُوا الرِّفْقَ الرِّفْقَ فَاِنَّ الرِّفْقَ رَاْسُ الْـخَیْرَاتِ۔نرمی کرو۔نرمی کرو کہ تمام نیکیوں کا سر نرمی ہے۔
اس الہام میں تمام جماعت کے لئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رِفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں۔وہ اُن کی کنیزکیں نہیں ہیں۔درحقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغاباز نہ ٹھہرو۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتا ہے وَ عَاشـِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ یعنی اپنی بیویوں کے ساتھ نیک سلوک کے ساتھ زندگی کرو اور حدیث میں ہے خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ بِاَھْلِہٖ یعنی تم میں سے اچھا وہی ہے جو اپنی بیوی سے اچھا ہے۔ سو روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ان کے لئے دعا کرتے رہو اور طلاق سے پرہیز کرو کیونکہ نہایت بد خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔ جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندہ برتن کی طرح جلد مت توڑو۔
(اربعین نمبر ۳۔روحانی خزائن جلد ۱۷ صفحہ ۴۲۸و۴۲۹حاشیہ)
دل دکھانا بڑا گناہ ہے اور لڑکیوں کے تعلقات بہت نازک ہوتے ہیں جب والدین ان کو اپنے سے جدا اور دوسرے کے حوالہ کرتے ہیں تو خیال کرو کہ کیا امیدیں ان کے دلوں میں ہوتی ہیں اور جن کا اندازہ انسان عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ کے حکم سے ہی کر سکتا ہے۔
(ملفوظات جلد ۶ صفحہ ۲۲۷ ایڈیشن ۲۰۲۲)
مزید پڑھیں: نبی اکرمﷺ صادق تھے اور خدا آپؐ کے ساتھ تھا



