خطبہ جمعہ بطرز سوال و جواب
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۴؍فروری ۲۰۲۵ء بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے) یوکے)
سوال نمبر۱: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے خطبہ کے عنوان کی بابت کیابیان فرمایا؟
جواب:فرمایا: خیبر کی جنگ کا ذکرہو رہا تھا۔ اب خیبر کے دوسرے قلعہ کی فتح کا ذکر کروں گا۔
سوال نمبر۲:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے قلعہ صعب بن معاذ کی فتح کی بابت کیا بیان فرمایا ؟
جواب:فرمایا:اس قلعہ میں خیبر کے باقی تمام قلعوں سے زیادہ کھانا، جانور اور سازو سامان تھا اور اس میں پانچ سو جنگجو رہتے تھے۔ حضرت کعب بن عمر ؓسے روایت ہے کہ انہوں نے تین روز تک صعب بن معاذ کے قلعہ کا محاصرہ رکھا۔ یہ ایک مضبوط قلعہ تھا۔ حضرت مُعَتِّب اسلمیؓ سے روایت ہے کہ بنو اسلم کو خیبر میں سخت بھوک کا سامنا کرنا پڑا۔ بنو اسلم نے اتفاق کیا کہ حضرت اسماء بن حارثہ ؓکو رسول کریمﷺکی خدمت میں بھیجیں۔ بنو اسلم نے حضرت اسماء بن حارثہؓ سے کہا کہ رسول اللہﷺکو ہمارا سلام پیش کرنا اور عرض کرنا کہ ہمیں بھوک اور کمزوری نے آ لیا ہے۔ بہت برا حال ہے۔ حضرت اسماءؓ نے آپؐ کو بنو اسلم کا سلام پیش کیا۔ عرض کی کہ ہمیں بھوک اور کمزوری نے سخت پریشان کر رکھا ہے۔ پس آپﷺاللہ سے ہمارے لیے دعا کریں۔ آپؐ نے دعا کی پھر فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے جس سے میں آپ لوگوں کو تقویت بخشوں۔ میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں ہے۔ میں ان کا حال سمجھتا ہوں جو اس وقت بھوک سے نڈھال ہیں۔ پھر یہ دعا کی کہ اے اللہ!وہ قلعہ ان کے لیے فتح کر دے جو کھانے اور چربی سے بھرا پڑا ہے۔ پھر آپ نے جنگ کے لیے جھنڈا حُباب بن منذرؓ کے حوالے کیا۔ اس کی تفصیل میں بیان کیا جاتا ہے کہ یہود میں سے ایک شخص مبارزت کے لیے، باہر نکلا جس کا نام یوشع تھا۔ اس نے مقابلے کے لیے للکارا تو فوراً حضرت حُباب بن منذرؓ اس کے مقابلے کے لیے آئے۔ وہ قتال کرتے رہے یہاں تک کہ حضرت حُباب نے اس کو قتل کر ڈالا۔ پھر زیال نامی یہودی نے مبارزت طلب کی تو حضرت عمارہ بن عقبہ غفاریؓ اس کے مقابلے کے لیے نکلے اور آگے بڑھ کر اس یہودی کے سر پر کاری ضرب لگائی جس سے اس کا سر پھٹ گیا۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺکو دیکھا کہ آپؐ تیر اندازی کر رہے تھے اور آپ کا ایک نشانہ بھی خطا نہ گیا۔ آپؐ میری طرف دیکھ کر مسکرائے۔ حضرت حُباب بن منذرؓ نے اپنے جوانوں کے ساتھ قلعہ کے اندر داخل ہو کر سخت جنگ کر کے اسے فتح کر لیا اور تمام اسلحہ اور غلے پر قبضہ کر لیا۔ قلعہ کا دفاع کرنے والے بہت سے یہودی مارے گئے اور کئی قید ہوئے۔ حضرت مُعَتِّب اسلمی جو حضورﷺسے بھوک کی وجہ سے دعا کی درخواست لے کر آئے تھے وہ کہتے ہیں کہ ابھی ہم واپس نہ آئے تھے کہ اللہ نے قلعہ صعب بن معاذ پر فتح دی… حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ قلعہ صعب میں سے جس قدر کھانے کا سامان ملا وہ اتنا تھا کہ کسی اَور قلعہ سے اتنا سامان نہیں ملا۔ اس میں بہت سا جَو،کھجوریں،گھی، شہد،تیل اور چربی تھی۔ رسول اللہﷺکے منادی نے اعلان کیا کہ خود بھی کھاؤ اور اپنے جانوروں کو بھی کھلاؤ اور اٹھا کر کچھ نہ لے جانا۔ جو کچھ کھانا ہے یہیں کھاؤ۔
سوال نمبر۳:حضورانورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نےقلعہ زبیر بن عوام کی فتح کی بابت کیا بیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: اس قلعہ کا نام قُلَّہ تھا یہ بعد میں حضرت زبیر بن عوام ؓکے حصہ میں آیا اس لیے اس کا نام قلعہ زبیر مشہور ہو گیا۔ جب یہود ناعم اور صعب بن معاذکے قلعہ سے زبیر بن عوام کے قلعہ کی طرف بھاگے تو رسول اللہﷺنے ان کا محاصرہ کیا۔ یہ قلعہ پہاڑ کی چوٹی پر تھا۔ آپ نے تین دن اس کا محاصرہ کیے رکھا۔ ایک یہودی جس کا نام غزال تھا وہ آیا اور اس نے کہا کہ اے ابوالقاسم !آنحضرتﷺکو مخاطب کر کے کہا (غیر مسلم اسی لقب سے بلاتے تھے )کہ آپ مجھے امان دیں اس شرط پر کہ میں آپ کو ایسی بات بتاؤں گا جس سے آپ اہل نطاةسے راحت حاصل کر لیں گے یعنی اس قلعہ پر قبضہ کر سکیں گے اور آپ اہل شَق کی طرف نکلیں گے یقینا ًاہل شَق آپؐ کے رعب کی وجہ سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس کے بعد آپؐ دوسرے قلعہ کی طرف جاسکتے ہیں۔ رسول اللہﷺنے اس کے اہل اور اس کے مال پر اس کو امان دے دی۔ یہودی نے کہا کہ بیشک اگر آپ اس طرح ایک مہینہ بھی کھڑے رہیں تو ان کو کوئی پروا نہیں ہو گی۔ ان کی زمین کے نیچے سرنگیں ہیں وہ رات کو نکلتے ہیں اور اس سے پانی لاتے ہیں پھر اپنے اپنے قلعوں کی طرف لَوٹ جاتے ہیں۔ وہ آپ سے دفاع کر رہے ہیں۔ اگر آپ ان سے ان کے پانی کا راستہ کاٹ دیں تو وہ آپ کے لیے ہتھیار ڈال دیں گے۔ رسول اللہﷺاس کےساتھ گئے اور یہود کی سرنگوں کو کاٹ دیا۔ جب ان کی پانی کی جگہ ان سے منقطع ہو گئی تو وہ باہر نکل آئے اور پھر شدید قتال شروع ہو گیا، پھر جنگ شروع ہو گئی۔ اس دن مسلمانوں میں سے کچھ صحابہ ؓ شہید ہو گئے اور یہود میں سے دس آدمی قتل ہوئے اور آپؐ نے فتح حاصل کی اور یہ نطاة کے قلعوں میں سے آخری قلعہ تھا۔
سوال نمبر۴: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے شَق کے دونوں قلعوں کی فتح کی بابت کیا بیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: شَق کا پہلا قلعہ جس سے آپؐ نے ابتدا کی وہ اُبَی کا قلعہ تھا۔ رسول اللہﷺایک چوٹی پر کھڑے ہوئے جس کا نام سَمْوان تھا۔ اس پر کھڑے ہو کر آپؐ نے قلعہ والوں سے قتال کیا۔ا بتدا میں ایک یہودی نے مبارزت کے لیے بلایا۔ اس کے مقابلے میں حضرت حُباب بن منذرؓ نکلے۔ وہ دونوں ایک دوسرے پر حملہ آور ہوئے۔ حضرت حُباب نے ایک وار سے اس کا دایاں بازو درمیان سے کاٹ دیا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی وہ شکست کھاتا ہوا اپنے قلعہ کی طرف لوٹ گیا۔ حضرت حُباب نے اس کا پیچھا کیا اور اس کی ریڑھ کی ہڈی کا پٹھا کاٹ دیا۔ وہ گر گیا تو حضرت حُباب نے اس کو قتل کردیا۔ پھر ایک اَور آدمی نکلا اور پکارا کہ کون ہے مبارزت کرنے والا۔ مسلمانوں میں سے آل جحش میں سے ایک شخص باہر آیا مگر وہ مقابلہ کرتے ہوئے شہید ہوگیا۔ اس یہودی نے اپنی جگہ پر کھڑے ہو کر پھر مبارزت کے لیے بلایا تو اس سے ابودجانہ نے مقابلہ کیا۔ حضرت ابودجانہؓ نے اپنے خَود پر سرخ کپڑا باندھ رکھا تھا۔ وہ یہودی بڑا اکڑ کر چل رہا تھا۔ حضرت ابودجانہ جلدی سے آگے بڑھے اس پر تلوار سے وار کیا اور اس کی ٹانگ کاٹ دی اور اسے قتل کردیا۔ حضرت ابودجانہؓ اس کا جنگی سامان زرہ اور تلوار لے کر آنحضرتﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ نے یہ اشیاء حضرت ابودجانہؓ کو عنایت فرما دیں اور یہود مبارزت کرنے سے عاجز آ گئے۔ اب پھر اس کے بعد کوئی نہیں نکلا۔ پھر مسلمانوں نے نعرہ ہائے تکبیر کے ساتھ بھرپور حملہ کیا اور قلعہ میں داخل ہو گئے۔ مسلمانوں میں سے سب سے آگے حضرت ابودجانہؓ تھے۔ مسلمانوں نے اس قلعہ میں ساز و سامان بکریاں اور کھانا پایا۔ سب یہودی بھاگ گئے وہ دیواریں پھلانگتے ہوئے جارہے تھے گویا کہ وہ ہرن ہوں۔ یہاں تک کہ وہ سب شَق کے دوسرے قلعہ کی طرف چلے گئے۔ بہت تیزی سے دوڑے۔ رسول اللہﷺصحابہ کے ساتھ ان کی طرف نکلے اور یہود سے قتال ہوا۔ یہود نے مسلمانوں پر شدید تیر اندازی اور سنگ باری کی۔ یہود کے جواب میں مسلمان بھی ان پر ویسی ہی تیراندازی کررہے تھے مگر یہود کے تیر مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچا رہے تھے کیونکہ یہود انہیں قلعے کے برجوں سے تیر مارتے تھے، اوپر سے مار رہے تھے اور مسلمان قلعہ کے نیچے پڑاؤ کیے ہوئے تھے۔ رسول کریمﷺبھی مسلمانوں کے ساتھ یہود پر تیراندازی کر رہے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہود کا نشانہ خاص طور پر وہ جگہ تھی جہاں حضورﷺپڑاؤ کیے ہوئے تھے کیونکہ وہاں بہت زیادہ تیر گر رہے تھے۔ رسول اللہﷺصحابہ کے ساتھ موجود تھے کہ ایک تیر رسول اللہﷺکے کپڑوں کو آ لگا۔ ایک روایت میں ہے کہ آپﷺتیر لگنے سے زخمی ہو گئے اور تیر لگنے سے آپؐ کے کپڑے پھٹ گئے۔ رسول اللہﷺنے تیر نکالا پھر آپؐ نے ایک مٹھی کنکریوں کی لی اور اس قلعہ کی طرف پھینک دی جس سے ان کا قلعہ لرزنے لگا یہاں تک کہ مسلمانوں نے یہود کو پکڑ لیا۔ پھر قبضہ ہو گیا۔
سوال نمبر۵: حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے کَتِیبہ کے قلعوں کی فتح کی بابت کیا بیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: اس بارے میں لکھا ہے کہ جب رسول اللہﷺنے نطاة اور شَق کے قلعوں کو فتح کیا تو یہودی کَتِیبہکے تینوں قلعوں وَطِیح، سُلالِم اور قَموص میں منتقل ہو گئے۔ کَتِیبہکے قلعوں میں سے سب سے بڑا قلعہ قَموص کا تھا اور یہ سب سے محفوظ قلعہ تھا۔ یہود ان تینوں قلعوں میں قلعہ بند ہو گئے اور وہ اپنے قلعوں سے نیچے جھانکتے بھی نہ تھے اور ان میں سے کوئی مبارزت طلب کرنے والا بھی نہ نکلتا۔ رسول اللہﷺنے چودہ روز تک ان قلعوں کا محاصرہ کیے رکھا حتٰی کہ آنحضرتﷺنے ارادہ کیا کہ ان پر منجنیق نصب کی جائے۔ جب یہود کو ہلاک ہونے کا یقین ہو گیا یعنی توپ کے ذریعہ سےپتھر پھینکا جائے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺسے صلح کا مطالبہ کیا اور کِنانہ بن ابوحُقَیق نے یہود میں سے ایک آدمی کو جس کا نام شَمَّاخ تھا رسول اللہﷺکی طرف پیغام دے کر بھیجا کہ میں آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺنے اجازت دے دی۔ کنانہ بن ابوحُقَیق قلعہ سے نیچے اترا اور رسول اللہﷺسے صلح کا معاہدہ کر لیا۔ آپؐ نے صحابہ کرام کو بھیجا تو انہوں نے ان کے مالوں پر قبضہ کر لیا۔ یعنی صحابہؓ نے ان کے مالوں پر قبضہ کیا ان قلعوں میں سے ایک سو زرہیں،چار سو تلواریں،ایک ہزار نیزے،پانچ سو کمانیں مع ترکش حاصل ہوئے۔ قلعہ قَموص کی فتح کے سلسلہ میں بعض اَور مختلف روایات بھی ہیں جیسا کہ قلعہ قَموص کے فتح کے ضمن میں کتب سیرت میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس کا محاصرہ بیس روز تک کیا گیا اور بالآخر حضرت علیؓ کے ہاتھ یہ قلعہ یہود کے ساتھ سخت مقابلے کے بعد فتح ہوا۔
سوال نمبر۶:حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے آنحضرت ﷺ کے یہود سے معاہدہ کی بابت کیا بیان فرمایا ؟
جواب: فرمایا: یہود سے پھر ایک معاہدہ ہوا اور معاہدے کی شرائط یہ تھیں:نمبر ایک کہ یہود پر لازم ہو گا کہ وہ تمام قلعوں کو خالی کر دیں اور اپنا تمام جنگی سامان اور اسلحہ وہیں چھوڑ دیں تاکہ اسلامی فوج اس پر قبضہ کرے اور وہ مسلمانوں کی املاک کا ایک حصہ بن جائے۔ یعنی اپنا اسلحہ مسلمانوں کے سپرد کر دیں۔ آجکل کے زمانے میں جسے سرنڈر (surrender)کرنا کہتے ہیں۔ دوسرا یہ تھا کہ رسول کریمﷺمذاکرات کے مطابق یہودیوں کے خون کی حفاظت اور ان کی عورتوں اور بچوں کو غلام بنانے سے معافی دینے کا عہد کریں۔ یہ تھا کہ آنحضرتﷺیہودیوں کی حفاظت کریں گے قتل نہیں ہوں گے اور ان کے بیوی بچوں کی حفاظت ہو گی۔ نمبر تین یہ تھا کہ یہود پر لازم ہو گا کہ خیبر سے جلا وطن ہو کر شام کی طرف چلے جائیں۔ نمبر چار یہ شرط تھی کہ خیبر سے جلا وطنی کے وقت مسلمان انہیں اجازت دیں گے کہ جس قدر مال ان کی سواریاں اٹھا سکتی ہیں اٹھا کر لے جائیں۔ نمبر پانچ یہ کہ یہود اس بات کا عہد کریں کہ وہ مخفی خزانوں کے تمام اموال کے متعلق مسلمانوں کو آگاہ کریں گے اور فاتحین کے سپرد کریں گے۔ نمبر چھ یہ کہ یہود اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ جب وہ اس معاہدے کی شروط کی خلاف ورزی کریں یا کسی ایسی چیز کو چھپائیں جس کا ظاہر کرنا ضروری ہو تو مسلمانوں پر اس کی کوئی ذمہ داری نہ ہوگی اور مسلمان اس معاہدے کی تمام شروط سے آزاد ہوں گے اور یہودیوں کے اموال اور اولاد مسلمانوں کے لیے حلال ہوگی۔خیبر کی فتح کے بعد یہود کا خیبر میں قیام اور یہود کی نصف پیداوار پر خیبر کے باغات دینے کا ذکر بھی ملتا ہے۔لکھا ہے کہ معاہدے کے مطابق تو یہود کو شام کی طرف جلاوطن ہونا تھا مگر یہود نے رسول کریمﷺکی خدمت میں عرض کیا کہ انہیں خیبر میں رہنے دیا جائے تا کہ وہ یہاں کی زراعت اور کھیتی باڑی کرتے رہیں کیونکہ وہ اس کے متعلق بہت کچھ جانتے ہیں۔ رسول کریمﷺنے ان کی درخواست قبول کرتے ہوئے انہیں خیبر میں رہنے کی اجازت دے دی تا کہ وہ زراعت کا کام کریں اور اس کے عوض نصف پھل حاصل کریں۔ ان سے بڑی نرمی کا سلوک کیا۔ صحیح بخاری کی روایت میں اس کا ذکر یوں ملتا ہے کہ حضرت عبداللہؓ نے بیان کیا کہ نبی کریمﷺنے خیبر یہود کو دیا کہ وہ اس میں کام کریں اور وہاں کھیتی باڑی کریں اور ان کے لیے نصف ہے جو وہاں پیدا ہو۔
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 28؍اگست 2026ء




