مکرم الحاج قاسم سانفو صاحب
برکینا فاسو کے ابتدائی احمدی اور مخلص وفادارخادم
جماعت احمدیہ برکینا فاسو کے ابتدائی احمدی اور مخلص بزرگ مکرم الحاج قاسم سانفو صاحب چھہترسال کی عمر میں مورخہ ۱۹؍جنوری۲۰۲۴ء کی صبح واگادوگو میں اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔انا للہ و انا الیہ راجعون۔
آپ کی نماز جنازہ نیشنل ہیڈ کواٹرز کی مسجد بیت المہدی میں بعد نماز جمعہ سہ پہر دو بجے مکرم محمود احمد ناصر صاحب امیر جماعت احمدیہ برکینافاسو نے پڑھائی۔ بعد ازاں آپ کے جسد خاکی کو (Leo) روڈ پر واقع آپ کے آبائی گاؤں Sagabtinga(ساگب تینگا)لے جایا گیا جہاں آپ کی تدفین ہوئی۔ قبر تیا رہونے پر مکرم امیر صاحب نے دعا کروائی۔

خاندان میں احمدیت: مکرم الحاج قاسم سانفو صاحب ۱۹۴۸ء میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم الحاج مختار سانفو صاحب ایک تاجر تھے جن کی ملاقات گھانا کے ریجن وا(Wa) میں مکرم الحاج صالح صاحب (موجودہ امیر جماعت گھانا مکرم محمد بن صالح صاحب کے والد محترم)سے ہوئی۔ اُن کو۱۹۵۰میں قبول احمدیت کی توفیق ملی۔ بعد ازاں الحاج مختار سانفو صاحب نے مختلف اوقات میں اپنے چھ بیٹوں کو وا(Wa)میں امام صالح صاحب کے پاس دینی تعلیم کے حصول کے لیے بھجوایاجن میں الحاج قاسم صاحب بھی شامل تھے۔ بیٹوں کے واپس آنے پر ساٹھ کی دہائی میں الحاج مختار صاحب نے اپنے گاؤں میں اپنی زمین پر الگ مسجد بنائی اور احمدیت کی تبلیغ شروع کر دی۔
مخالفت: قبول احمدیت پر ا س خاندان کی گاؤں میں شدید مخالفت ہوئی اور لوگوں نے گاؤں کے مشترکہ کنویں سے انہیں پانی لینے سے منع کر دیا۔ چنانچہ الحاج مختار صاحب نے اپنے گھر کے صحن میں کنواں کھودا ۔ اللہ تعالیٰ نے پانی عطافرمایا تو مکرم الحاج مختار سانفو صاحب نے اپنے خاندان کو ہدایت کی کہ کسی کو یہاں سے پانی لینے سے روکا نہ جائے۔ بعد ازاں گاؤں کے باقی کنویں خشک ہوگئے اور سارا گاؤں پینے کا پانی آپ کے گھر سے لینے لگا۔ آپ نے ہدایت کر رکھی تھی کہ فیملی کے لوگ صرف رات کو پانی نکالیں گے اور سارا دن گاؤں والوں کے لیے کنواں وقف کردیا۔ اس کنویں کا پانی خشک موسم میں بھی ختم نہیں ہوتا جب کہ باقی سب کنویں خشک ہو جاتے ہیں۔ آج بھی یہ کنواں زیر استعمال ہے۔ اب جماعت نے اس پر نلکا لگا دیا ہے۔
مخلص اور وفا دار: مکرم الحاج قاسم سانفو صاحب اپنے والد الحاج مختار سانفو صاحب کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ساری زندگی ہر قربانی کے لیے تیار رہے۔ جماعت احمدیہ برکینا فاسو میں آپ کو بہت عزت کی نگاہ سے دیکھ جاتا تھا۔ آپ منکسرالمزاج، مخلص ، تہجد گزار، مہمان نواز، ہر دل عزیز، معزز، جماعت کے ساتھ انتہائی مخلص اور خلافت کے سچے عاشق اور وفادارتھے۔
تبلیغ کا جنون: آپ کی زندگی کا مقصد ہی خدمت انسانیت اور پیغام حق پہنچانا تھا۔ حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کا بہت علم تھا۔ مبلغین اور واقفین زندگی کی بہت عزت کرتے اور ان کے ساتھ احترام کے ساتھ پیش آتے ۔ آپ باقاعدہ مبلغ نہیں تھے لیکن آپ نے سال ہا سال تک لوکل مبلغین کے ساتھ مسلسل تبلیغی دورےکیے۔ مورے فون علاقوں میں آپ کی تبلیغ سے بہت لوگوں نے احمدیت قبول کی اور کئی جماعتیں قائم ہوئیں۔ آپ نے متعدد آڈیو کیسٹس ریکارڈ کروائیں جو آج بھی جماعتی ریڈیوز پر نشر ہوتی ہیں ۔ آپ کبھی اس بات کا انتظار نہ کرتے کہ جماعت کی طرف سے آپ کو تبلیغی کاموں کے لیے رقم بھجوائی جائے تو دورےپر جائیں گے بلکہ مسلسل اپنے ذرائع استعمال کرتے رہتے۔
لوکل مبلغ مکرم مائیگا تیجان صاحب بیان کرتے ہیں: ’’مجھے مکرم الحاج قاسم صاحب کے علاقے میں بطور مبلغ خدمت کا موقع ملا۔ آپ ہمارے ساتھ تبلیغی دوروں پر جاتے۔آپ جماعت کا گہرا علم رکھتے تھے اور مبلغین سے بھی زیادہ تبلیغ کرتے تھے۔ آپ جماعت کے بہت بڑے مجاہد تھے۔ مہمان نوازی کرنی ہو یا موٹر سائیکل میں پٹرول ڈلوانا ہو،آپ اپنی جیب سے خرچ کر تے رہتے۔ آپ کے پاس اپنی ایک موٹرسائیکل تھی جو جماعتی کاموں کے لیے استعمال ہوتی رہی یہاں تک کہ مکمل طور پر خراب ہو کر ختم ہوگئی۔ آپ نے اپنے بچوں کو بھی جماعت اور خلافت کے ساتھ وابستہ کیا۔ آپ خلافت کے سچے عاشق تھے۔ ہم حضور انور کے خطبہ جمعہ کا مورے زبان میں ترجمہ کرتے اور آپ کو بھی بھجواتے اگر کبھی خطبہ بھجوانے میں دیر ہوجاتی تو آپ کا فون آجاتا کہ خطبہ کا ترجمہ موصول نہیں ہوا۔ ‘‘
جماعت کے سینئر مبلغ مکرم سانغو ابوبکر صاحب بیان کرتے ہیں: ’’ میرا مکرم الحاج قاسم سانفو صاحب سے تعارف ۱۹۹۵ء میں ہوا جب میں آئیوری کوسٹ سے پڑھ کر برکینافاسو میں بطور مبلغ متعین ہوا۔ آپ عمر میں مجھ سے بڑے تھے۔ ہم نے اکٹھے مورے فون علاقوں میں بے شمار دورے کئے۔ میں عربی میں تقریر کرتا جبکہ آپ اس کا ترجمہ مورے زبان میں کرتے۔میں نے مشاہدہ کیا کہ آپ بہت منکسرالمزاج، ہر دل عزیز،معزز، جماعت کے ساتھ انتہائی مخلص اور خلافت کے سچے عاشق تھے۔اس وقت موبائل فون نہیں ہوتے تھے۔ آپ کا گاؤں دارالحکومت سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ تاہم جب بھی کسی جماعتی کام کے لیے اور دورے کے لیے آپ کو پیغام بھجوایا جاتا تو آپ پیغام ملتے ہی تشریف لے آتے۔ میں نے دیکھا کہ جب بھی آپ تبلیغ کرتے آپ کی باتوں میں ایک خاص قسم کی کشش محسوس ہوتی۔ اور لوگ توجہ سے آپ کی بات کو سنتے۔‘‘
مہمان نواز: مکرم عبدالوہاب آدم صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ گھانا اپر وولٹا (موجودہ برکینا فاسو) کے دورے پر آتے توآپ کے پاس آکر قیام کیا کرتے تھے۔ آپ ہمیشہ مہمان نوازی کرنے میں پیش پیش رہتے ۔ سلسلے کے خادم اور عہدیدار جب بھی آپ کے پاس آئے آپ نے ہمیشہ ان کی مہمان نوازی کو اپنا فرض سمجھا۔
جماعت احمدیہ کی رجسٹریشن کروانے میں اہم کردار: آپ کی خدمات میں برکینا فاسو میں جماعت کی رجسٹریشن کروانے کے لیے سعی بھی شامل ہے۔ اس سلسلے میں ہونے والے پہلے جنرل اجلاس کی صدارت آپ نے کی تھی۔ ۱۹۸۶ء میں اپر وولٹا میں جماعت کی رجسٹریشن کے وقت بننے والی پہلی مجلس عاملہ میں آپ بطور سیکرٹری تبلیغ و تربیت شامل تھے۔
اللہ پر بھروسہ رکھو: آپ کبھی کوئی شکوہ نہ کرتے اور اگر کوئی نظام جماعت کے بارے میں کوئی شکایت کرتا تو اس کو یہی نصیحت کرتے کہ تم اپنے فرائض اد اکرو اور باقی معاملات کے لیے اللہ کی طرف نگاہ رکھو۔ ہمارے ہر معاملے کا وہی متکفّل ہے۔اللہ تعالیٰ خود آسانی پیدا فرمادے گا۔
نظام وصیت میں شمولیت: اللہ تعالیٰ نے آپ کو ۲۰۱۵ء میں وصیت کرنے کی توفیق عطا فرمائی لیکن فارم میں بعض تکنیکی غلطیوں کی وجہ سے اس پر کارروائی مکمل نہ ہو سکی۔ بعد ازاں دو سال قبل دوبارہ وصیت فارم پُر کرکے بھجوایا۔ ابھی یہ وصیت زیر کارروائی تھی کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ تاہم آپ اپناچندہ وصیت ادا کر رہے تھے۔
شادی اور خاندان: آپ کی ایک شادی مورو نابا(موسی قبیلہ کے سب سے بڑے چیف ) کی بیٹی سے ہوئی تھی۔آپ نے پسماندگان میں بھائیوں اور بہنوں کے علاوہ چار بیوگان ۱۶؍بچے اور پچاس کے قریب پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں چھوڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ کی فیملی بھی جماعت کے ساتھ اخلاص و وفا کے ساتھ منسلک ہے۔ آپ کے بچوں میں سے ایک بیٹا لوکل مبلغ کے طور پر خدمت بجا لا رہے ہیں۔ ایک بیٹا اعلیٰ سرکاری عہدے پر فائز ہے اور جماعتی خدمت میں پیش پیش ہے۔
اللہ تعالیٰ جماعت کے اس مخلص ، فدائی وجود کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔ آپ کی قربانیوں کی آپ کو بہترین جزا دے۔ اور آپ کی نیکیاں آپ کے خاندان میں جاری رہیں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: محترم حامد مقصود عاطف صاحب مربی سلسلہ




