متفرق

اچھی مجلسوں سے فائدہ اٹھانا بھی مومن کی شان ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ’’بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جو پاک مجالس میں تو بیٹھتے ہیں لیکن ان مجالس کی نیکیوں کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ بلکہ ان کی سوچ ہی ایسی ہوتی ہے کہ اگر کوئی بری بات نظر آئے تو اس کو لے کر زیادہ شور مچایا جاتا ہے۔ تو ایسے لوگوں کی ہی مثال دیتے ہوئے آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ اس شخص کی مثال جو حکمت کی بات سنے اور پھر سنی ہوئی باتوں میں سے سب سے شرانگیز بات کی پیروی کرے ایسے شخص کی ہے جو ایک چرواہے کے پاس آیا اور کہا کہ اپنے ریوڑ میں سے مجھے ایک بکری کاٹ دو۔ تو چرواہا اسے کہے کہ اچھا ریوڑ میں سے تمہیں جو بکری سب سے اچھی لگتی ہے اسے کان سے پکڑلو۔ تو وہ جائے اور ریوڑ کی حفاظت کرنے والے کتے کو کان سے پکڑلے۔ تو ایسے لوگ جو اس سوچ کے ہوتے ہیں اور اس سوچ سے مجلسوں میں آتے ہیں باہر نکل کر اچھی باتوں کا ذکر کرنے کی بجائے اگر انہوں نے کسی کی وہاں برائی دیکھی ہوتو اس کا زیادہ چرچا کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کی صلاحیت ہی یہی ہے اور ان کی کم نظری یہ ہے کہ انہوں نے کتے کے علاوہ کچھ دیکھا ہی نہیں ہوتا۔ اس لئے آگے بڑھ کر صرف کتے کا کان ہی پکڑتے ہیں۔ اچھی مجلسوں سے فائدہ اٹھانا بھی مومن کی شان ہے۔‘‘ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۶؍جولائی ۲۰۰۴ء بحوالہ خطبات مسرور ۲۰۰۴ء صفحہ۴۹۲۔۴۹۳)

(مرسلہ: طارق احمدمرزا)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button