اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الم انگیزداستان (قسط نمبر190)
{ 2015ء میں سامنے آنے والے چند تکلیف دہ واقعات سے انتخاب}
سال 2015ء اور احمدیوں پر مظالم
پاکستان میں جماعت احمدیہ کے مرکزی دفتر نظارت امورِ عامہ نے سال 2015ء کے اختتام پر پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے مظالم کے بارہ میں ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ کے اکثر مندرجات ہماری گزشتہ رپورٹس میں شائع ہو چکے ہیں۔ ایک خلاصہ کے طور پر کچھ اعداد و شمار قارئین کی خدمت میں پیش کیے جاتے ہیں۔
2015ء کے دوران جماعتِ احمدیہ کے خلاف اخبارات کی خبریں
نفرت اور شر انگیزی پر مبنی خبروں کا اعداد و شمار کے لحاظ سے احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ جماعت احمدیہ کے خلاف پروپیگنڈہ پر مبنی خبریں تو ہر اخبار میں شائع ہوتی ہیں۔ پاکستان کے شہر اور پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کو صحافت کا مرکز سمجھا جاتا ہے۔ جماعت احمدیہ کے خلاف اخبارات میں زیادہ پروپیگنڈہ وسطی پنجاب میں ہوتا ہے۔ اس لئے لاہور سے شائع ہونے والے نمایاں اخبارات یعنی روزنامہ جنگ، نوائے وقت، اوصاف، خبریں، پاکستان اور ایکسپریس کا اعداد و شمار کے لحاظ سے جائزہ لیاگیا۔ جبکہ باقی اخبارات جن میں روزنامہ جناح، سماء، امن، اسلام اور اُمت نیز بعض دیگر اخبارات شامل ہیں ان کا مجموعی جائزہ لیا گیا ہے۔ ان اخبارات نے خبروں کے ساتھ ساتھ ایسے اداریے تبصرے اور معاندین کے مضامین بھی شامل اشاعت کیے جن میں کلی یا جزوی طور پر جماعت احمدیہ کے حوالہ سے جھوٹ پر مبنی منفی تاثر عوام کے سامنے پیش کیا گیا۔
چنانچہ سال 2015ء کے دوران احمدیوں کے خلاف ساڑھے پندرہ سو سے زائد اشتعال انگیز خبریں اور ساڑھے تین سو کے قریب معاندانہ مضامین لکھے گئے۔
موضوعات کے لحاظ سے
خبروں کا جائزہ
سستی شہرت حاصل کرنے کے لئے پاکستان میں جماعت احمدیہ کے خلاف من گھڑت خبروں کو چھپوانا ایک فیشن بن چکا ہے۔ اس لئے احمدیوں کے خلاف خواہ کسی بھی طرح کا بیان دے دیا جائے اخبارات اس کو بلا تحقیق جلی سرخیوں سے شائع کر دیتے ہیں۔ اس طرح موضوعاتی اعتبار سے ہر پہلو کا احاطہ کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ پاکستان میں جو بھی افسوسناک واقعہ رونما ہوا اس کی ذمہ داری مولویوں کی طرف سے عمومًا جماعت احمدیہ پر ہی عائد کی جاتی ہے۔ مولویوں کے نزدیک تو سمندر میں لڑنے والی دو مچھلیوں کی ذمہ داری بھی احمدیوں پر ہی عائد ہوتی ہے۔ اور جب مولویوں نے ایسے بیانات دیے تو اخبارات نے ان کو بھی شائع کیا۔
جب گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصہ سے ہی الزامات دہرائے جا رہے ہیں اور ان کی تائید میں کوئی ثبوت تو کیا قرینہ بھی قائم نہ ہو پایا۔ اس جھوٹے، من گھڑت اور منفی پروپیگنڈہ سے عوام کی توجہات کے رخ بدلنے کے لئے جماعت کے خلاف افسانہ طرازیوں کا سہارا تو کثرت استعمال سے پائمال ہو چکا۔ ہاں نفرت کو روا رکھے جانے کے اس عمل نے آج پاکستانیوں کو بری طرح تقسیم کر دیا ہے۔
اخبارات کے ارباب حل و عقد جو خود کو اس ملک کا دانشور کہلوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، پاکستان اور اسلام کے سب سے بڑے خیر خواہ ہونے کے بلند بانگ دعاوی کرتے ہیں انہیں کبھی یہ جرأت نہیں ہوئی کہ اخبار میں شائع ہونے والے کسی بیان کے بارے میں کسی مولوی صاحب سے پوچھیں کہ آپ نے یہ بیان دیا تھا اور ہم نے اس کو اخبار کی زینت بنا دیا، اب اس کا ثبوت بھی دیجئے۔ اخبار والوں کی بلا سے، احمدیوں کے خلاف نفرت کا طوفان اٹھتا ہے تو اٹھتا رہے وہ ایک کے بعد دوسرا ایشو شائع کرنا شروع کر دیں گے۔ وطن عزیز کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک کی نام نہاد مذہبی قیادت کو حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لئے کوئی ایشو نہ ملے وہ احمدیوں کا ایشو بھڑکانا شروع کر دیتی ہے اور اخبارات ان کے بے بنیاد اور شرّ انگیز بیانات کو جلی سرخیوں میں شائع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
چنانچہ گزشتہ سال 2015ء کے دوران بھی مختلف ایشوز بنا کر احمدیوں کے خلاف بیان بازیاں کی جاتی رہیں۔ کبھی حکومتی عمائدین پر قادیانی ہونے کا الزام لگا دیا جاتا ہے اور جب کبھی مولوی حکومت پر سیاسی دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں تو حکومتی ایوانوں میں قادیانی لابی کا شور برپا کر دیتے ہیں۔ مگر وہی مولوی جب حکومت کے ساتھی ہوتے ہیں اس وقت نہ تو انہیں حکومتی ایوانوں میں قادیانی لابی نظر آتی ہے اور نہ ہی کلیدی عہدوں پر فائز کوئی قادیانی۔ مگر اخبارات کی ’سادگی‘ ملاحظہ کیجئے کہ ان مولویوں کے ایسے بے بنیاد بیانات جلی سرخیوں سے شائع کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
حکومتی پشت پناہی کا الزام
جماعتِ احمدیہ کے خلاف کئے جانے والے جھوٹے پروپیگنڈہ کا ایک طریق یہ بھی ہے کہ اخبارات میں بڑی بڑی سرخیوں میں یہ بیانات چھپوائے جائیں کہ حکومت احمدیوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت کی حکومت ہو، سرکاری انتظامیہ کو دباؤ میں لانے کے لئے پاکستان میں احمدیوں کے خلاف امتیازی قوانین انتہا پسند عناصر کا خاص ہتھیار بن چکے ہیں۔ ایک دو شخصیات کو چھوڑ کر کسی سیاسی جماعت میں آج ایسی جرأت دکھائی نہیں دے رہی کہ وہ احمدیوں کے بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ تو درکنار اس حوالے سے عوامی سطح پر ایک بیان بھی جاری کر سکے۔ انتہا پسند عناصر کا یہ خاص طریق ہے کہ اس طرح حکومت کو دباؤ میں لا کر اپنے مفادات حاصل کیے جائیں اور حکومت کو احمدیوں کے خلاف اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا جائے۔
وطن عزیز کے حوالہ سے جماعت احمدیہ پر بے بنیاد الزامات
پاکستان کے قیام اور استحکام میں جماعت احمدیہ کا کردار ایک روشن مثال ہے۔ تاہم یکطرفہ بے بنیاد اور شر انگیز پروپیگنڈہ کے ذریعے عوام الناس کو ذرائع ابلاغ کے ذریعے مسلسل گمراہ کیا جا رہا ہے کہ احمدی پاکستان کے دشمن ہیں اور وطن عزیز کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ ہر احمدی اپنے آقا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد مبارک کے تحت وطن کی محبت کو ایمان کا حصہ سمجھتا ہے۔ کون انکار کر سکتا ہے کہ جو افراد اور جماعتیں قیام پاکستان کی شدید مخالفت کرتی تھیں آج ان کی اولادیں اعلانیہ کہتی ہیں کہ وہ قیام پاکستان کے گناہ میں شریک نہ تھے۔ آج ایسے لوگ پاکستان میں حبّ الوطنی کے ٹھیکیدار بنے بیٹھے ہیں۔ جبکہ جماعت احمدیہ نے قیام و استحکام پاکستان کے لئے جو قربانیاں پیش کیں وہ تاریخ کا حصہ ہیں۔ وطن عزیز کے دفاع کی خاطر احمدی سپاہیوں سے لے کر احمدی جرنیلوں تک نے اپنا خون پیش کیا ہے۔ سائنسی علوم کے میدانوں سے لے کر اقتصادیات تک، وطن کے لئے ہر گوشہ زندگی میں احمدیوں کی خدمات پر پردہ ڈالنا ایسے ہی ہے جیسے سورج کی موجودگی میں روشنی سے انکار کر دیا جائے۔
توہین مذہب کا حسّاس موضوع
جماعت احمدیہ کے معاندین کا یہ پرانا طریق ہے کہ جماعت احمدیہ سے ایسے عقائد منسوب کئے جائیں جو جماعت احمدیہ کے عقائد ہی نہیں۔ اس طرح جھوٹ کا سہارا لے کر اتنا پروپیگنڈہ کر دیا جائے کہ عوام اس کو سچ تسلیم کرنے پر آمادہ ہو جائیں۔ اس کی نمایاں مثال ناموس رسالت اور مبیّنہ توہین مذہب کا نازک معاملہ ہے۔ وطن عزیز میں عوام اس حوالے سے بے حد حسّاس ہیں۔ جب بھی اس حوالے سے کوئی بات کرتا ہے تو اسے بے حد احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ جماعت احمدیہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و وفا کا تعلق رکھتی ہے اور دنیا کے ہر کونے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کی عظمت کو قائم کرنے کی خاطر ہر دم مصروف عمل ہے۔ اسی طرح ہر احمدی شعائر اللہ کا نہ صرف احترام کرتا ہے بلکہ ان کی عظمت تمام عالم پر ظاہر کرنے کی خاطر دن رات مصروف عمل ہے۔ لیکن جماعت احمدیہ کے معاندین جماعت احمدیہ کی مخالفت میں ہر ظالمانہ طریق کو جائز سمجھتے ہوئے زہریلا پروپیگنڈہ کئے جا رہے ہیں اور عوام کو اشتعال دلاتے ہیں۔
ناموس رسالت کے حوالہ سے شائع ہونے والے چند بیانات تو ایسے اشتعال انگیز ہوتے ہیں کہ اگر کوئی مذہبی جنونی ایسی خبروں کو پڑھ کر کسی بے گناہ احمدی پر حملہ کر دے تو ہمارے ذرائع ابلاغ کو کیا یہ سوچنا نہیں چاہیے کہ ان کی غیر ذمہ داری معاشرے میں کس طرح بے امنی اور لاقانونیت کو جنم دے رہی ہے۔ اور کیا معصوم انسانوں کے خون نا حق بہنے کی ذمہ داری سے وہ خود کو بری الذمہ سمجھ سکتے ہیں؟
کہیں ملّاں کو گستاخانہ خاکوں کی اشاعت میں احمدیوں کا ہاتھ نظر آتا ہے تو کہیں یہ خاکے تہذیبوں میں تصادم کی یہودی قادیانی سازش دکھائی دیتے ہیں۔ اور کہیں کہا جاتا ہے (خاکم بدہن) قادیانیت حضورؐ سے بُغض کا نام ہے۔احمدیوں کو بلا تحقیق (نعوذ باللہ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ قرار دے کر انہیں ناقابلِ معافی گردانا جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ان جھوٹے ظالموں کی گرفت فرمائے اور معصوم احمدیوں کو اپنی حفظ و امان میں رکھے۔ آمین۔
(باقی آئندہ)
…………………




