زرافے کے ڈاکٹر: Oxpeckers
زرافہ افریقہ کے سب سے خوب صورت، منفرد اور حیرت انگیز جانوروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کی لمبی گردن، مضبوط ٹانگیں، خوب صورت دھبوں والا جسم اور پُرسکون مزاج اسے دوسرے جانوروں سے ممتاز بناتا ہے۔ لیکن زرافے کے جسم پر اکثر کچھ چھوٹے پرندے بھی دکھائی دیتے ہیں جو اس کی گردن، پشت اور سر پر بیٹھے رہتے ہیں۔ ان پرندوں کو آکس پیکر (Oxpecker) کہا جاتا ہے۔ یہ چھوٹے پرندے بڑے جانوروں، خصوصاً زرافوں، بھینسوں، زیبرا اور ہرنوں کے جسم سے چیچڑ اور دوسرے طفیلی جاندار نکال کر کھاتے ہیں۔ اسی وجہ سے انہیں عام طور پر زرافے کا doctors of the giraffe یا ’’صفائی کرنے والا پرندہ‘‘ کہا جاتا ہے۔
آکس پیکر افریقہ میں پائے جانے والے چھوٹے پرندے ہیں۔ ان کی معروف اقسام میں سرخ چونچ والا آکس پیکر(red-billed oxpecker) اور زرد چونچ والا آکس پیکر (yellow-billed oxpecker)شامل ہیں۔ ان کے پنجے مضبوط اور تیز ہوتے ہیں، جن کی مدد سے وہ بڑے جانوروں کے جسم سے مضبوطی سے چمٹے رہتے ہیں۔ جانور چل رہا ہو، دوڑ رہا ہو یا اپنے جسم کو ہلا رہا ہو، آکس پیکر اپنے پنجوں کی مدد سے اس کے جسم پر اپنا توازن برقرار رکھ سکتا ہے۔

زرافہ آکس پیکر کے لیے ایک بہترین میزبان ہے۔ زرافے کا بہت بڑا جسم ہوتا ہے۔ اگرچہ زرافہ اپنی لمبی گردن اور لمبی زبان کی مدد سے جسم کے بعض حصوں تک پہنچ سکتا ہے، لیکن کئی ایسے مقامات بھی ہیں جہاں وہ آسانی سے صفائی نہیں کر سکتا۔ اس لیے ان پرندوں کے لیے اس کے جسم پر چلنے پھرنے اور خوراک تلاش کرنے کے لیے کافی جگہ موجود ہوتی ہے۔ آکس پیکر اکثر زرافے کی لمبی گردن، کندھوں، پشت اور دُم کے قریب بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔ وہ زرافے کی کھال اور بالوں میں بڑی احتیاط سے تلاش کرتے ہیں اور چیچڑ(ticks)، کیڑے اور دوسرے چھوٹے جاندار تلاش کر کے کھا لیتے ہیں۔
چیچڑ زرافے اور دوسرے بڑے جانوروں کے لیے تکلیف دہ ہو سکتے ہیں۔ یہ جانور کی کھال سے چمٹ جاتے ہیں اور اس کا خون چوستے ہیں۔ اگر کسی جانور کے جسم پر بہت زیادہ چیچڑ موجود ہوں تو اسے خارش، تکلیف اور بعض اوقات بیماریوں کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔ آکس پیکر ان چیچڑوں کو کھا کر زرافے کو ان سے نجات دلانے میں مدد کرتے ہیں۔ یوں پرندے کو خوراک مل جاتی ہے اور زرافے کے جسم سے کچھ نقصان دہ طفیلی جاندار کم ہو جاتے ہیں۔
بعض اوقات یہ پرندے جانور کے زخموں سے خون یا دوسرے جسمانی مادے بھی حاصل کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ آیا آکس پیکر کو ہر حال میں “ڈاکٹر” کہنا درست ہے یا نہیں۔ اگرچہ وہ بہت سے چیچڑ نکال دیتے ہیں، لیکن بعض اوقات زخموں پر بار بار چونچ مارنا جانور کے لیے مزید تکلیف کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
آکس پیکر بعض اوقات زرافے کے لیے ممکنہ خطرے کی نشاندہی کرنے میں بھی مددگار ہو سکتے ہیں۔ ان پرندوں کی نظر بہت تیز ہوتی ہے اور وہ دور سے کسی غیر معمولی حرکت یا خطرے کو محسوس کر سکتے ہیں۔ جب انہیں خطرہ محسوس ہوتا ہے تو وہ اچانک حرکت کرتے یا اُڑ جاتے ہیں، جس سے زرافے کو بھی آس پاس کی صورتحال کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، ان کے اس کردار کو باقاعدہ اور مکمل ’’خطرے کا الارم‘‘ سمجھنا درست نہیں ہوگا۔
آکس پیکر اور زرافے کا تعلق قدرت میں پائے جانے والے باہمی تعلقات کی ایک دلچسپ مثال ہے۔ پرندے کو کھانا ملتا ہے، جبکہ زرافے کو جسم کی صفائی کا فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ حیاتیات کی زبان میں ایسے تعلق کو باہمی مفاد یا Mutualism سے تعبیر کیا جا سکتا ہے، اگرچہ سائنس دانوں کے مطابق آکس پیکر اور بڑے جانوروں کا تعلق ہمیشہ اتنا سادہ نہیں ہوتا کہ دونوں کو ہر وقت یکساں فائدہ ہی پہنچے۔
آکس پیکر نے اپنی زندگی کے اس انداز کے مطابق خود کو بہت اچھی طرح ڈھال لیا ہے۔ ان کے مضبوط پنجے انہیں بڑے جانوروں کے جسم پر مضبوطی سے قائم رہنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان کی چونچ چھوٹے جانداروں کو پکڑنے کے لیے موزوں ہے اور وہ زرافے کے جسم پر تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکتے ہیں۔
زرافے کی پشت پر بیٹھے ہوئے آکس پیکر کا منظر افریقی میدانوں کی ایک خوب صورت تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک طرف کئی میٹر بلند زرافہ آہستہ آہستہ گھاس کے میدان میں چل رہا ہوتا ہے اور دوسری طرف ایک چھوٹا سا پرندہ اس کی گردن یا پشت پر بیٹھا اپنی خوراک تلاش کر رہا ہوتا ہے۔ یہ منظر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قدرت میں ہر مخلوق کا کوئی نہ کوئی کردار ہے۔خاص طور پر بچوں کے لیے زرافے اور آکس پیکر کی مثال بہت سبق آموز ہے۔ ۔
آکس پیکر کو زرافے کا ’’ڈاکٹر” کہنا ایک دلچسپ اور آسان تشبیہ ہے۔ یہ چھوٹے پرندے زرافے کے جسم پر موجود چیچڑ اور دوسرے جاندار تلاش کرکے کھاتے ہیں اور اس طرح اس کی صفائی میں مدد کرتے ہیں، جبکہ زرافہ انہیں خوراک اور محفوظ جگہ فراہم کرتا ہے۔ زرافے اور آکس پیکر کا یہ تعلق قدرت کے حیرت انگیز نظام کی ایک خوب صورت مثال ہے اور ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی مخلوق بھی چھوٹی مخلوقات کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
(ابو الفارس محمود)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: وفاداری اور طاقت کی علامت، جنگل کا کسان: ہارن بلز



