متفرق شعراء

خلیفہ آسماں سے ہے، خلافت آسمانی ہے

(اطہر حفیظ فراز)

خلیفہ دل ہمارا ہے، خلافت زندگانی ہے

خلافت فصلِ گُل بھی ہے، بہارِ جاودانی ہے

خلافت اب قیامت تک سہارا غمزدوں کا ہے

محمدؐ کے نوشتے ہیں، خدا کی مہربانی ہے

وہ مخزن ہے دعاؤں کا، وہ رہبر رہنماؤں کا

بِنا مرشد جئے جانا کہاں کی عقل دانی ہے

خلافت کے بنا دنیا خزاؤں کے اثر میں تھی

خلافت ہے گُلِ تازہ، یہ خوشبو کی روانی ہے

خلافت تیز لہروں میں کھوِیّا بھی ہے، ناؤ ہے

خلافت تپتے صحرا میں گھٹا کی سائبانی ہے

خلافت باپ کا سایہ، خلافت ماں کی شفقت ہے

خلافت عہد پِیری میں عصا کی قدر دانی ہے

خلافت فضلِ ربّانی، خلافت فیضِ یزدانی

ہمیں ایمان اور صالح عمل کی یاددہانی ہے

مشارق اور مغارب میں عجب قصّے محبت کے

خلافت حسنِ کامل ہے، خلیفہ یار جانی ہے

خلافت کے بِنا اپنی سبھی ہستی ادھوری ہے

خلافت دل کی دھڑکن ہے، دلوں کی راجدھانی ہے

خلافت کو اگر سمجھو بَلائے حبس میں لوگو!!

کبھی بادِ صبا بھی ہے، کبھی بارش کا پانی ہے

زمانے بھر کو اب ہم نے اِسی وحدت پہ لانا ہے

یہی اب طے کیا ہم نے، یہی اب ہم نے ٹھانی ہے

ہمیں لبّیک کہنا ہے، خلیفہ کی صداؤں پر

ہمیں شیطاں کے نرغے سے سبھی دنیا چھڑانی ہے

بڑے جُبّوں عماموں میں علمبردار بنتے ہیں

مگر ان دینداروں نے کہاں کب کس کی مانی ہے

یہی اب مَا حَصَل ٹھہرا فرازؔ!! اپنی نگارش کا

خلیفہ آسماں سے ہے، خلافت آسمانی ہے

(اطہر حفیظ فرازؔ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button