ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۳۲)(قسط ۱۵۶)
(ڈاکٹر لئیق احمد)
(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)
لیکٹک ایسڈ
Lacticum acidum
ایسی عورتیں جنہیں خون کی کمی کی شکایت ہو اور ان کا چہرہ زرد رہتا ہو ان کے لیے بھی یہ دوا مفید ہے۔ سینے کی تکلیفوں میں بھی اچھا اثر رکھتی ہے۔ اگر بغلوں کے غدود بڑھ جائیں تو اس بیماری میں بھی لیکٹک ایسڈ مفید ہو سکتی ہے۔ سلیشیا بھی بہت اچھا اثر دکھاتی ہے۔ اونچی طاقت میں سلیشیا دینے سے گٹھلی اندر ہی اندر گھل جاتی ہے لیکن اگر گٹھلی پکنے کے قریب ہو تو پھر اونچی طاقت کی بجائے چھوٹی طاقت میں سلیشیا یا ہیپرسلف دینی چاہیے۔ (صفحہ۵۵۳)
لیکٹک ایسڈ کے بعض مریضوں کا سارا جسم کانپتا ہے۔ پیشاب کی بار بار حاجت ہوتی ہے اور پیشاب مقدار میں بہت زیادہ آتا ہے۔ جوڑوں، کندھوں ،کلائیوں اور گھٹنوں میں درد ہوتا ہے۔ سخت کمزوری اورسردی کا احساس ہوتا ہے۔ زبان بالکل خشک ، پیاس کی شدت اور بھوک کی زیادتی ہوتی ہے۔ رالیں بہت زیادہ بہتی ہیں۔ گلا بالکل خشک رہتا ہے اور پانی پینے سے بھی یہ خشکی ختم نہیں ہوتی۔(صفحہ۵۵۳)
لاروسیراسس
Laurocerasus
(Cherry-Laurel)
یہ دوا دل کی بیماریوں میں بہت کام آتی ہے۔ اچانک خوف اور دہشت کی وجہ سے یا گہرے غم کے نتیجہ میں جسم کانپنے لگ جائے تو لار و سیراسس فوری فائدہ دیتی ہے۔ اس کا مریض خواب میں ڈر کر یا کسی اجنبی کو اچانک سامنے دیکھ کر خوف سے کانپنے لگتا ہے۔ جب بھی کوئی ہیجانی کیفیت ہو تو خوف غالب آجاتا ہے۔ جسم ٹھنڈا اور نیلا ہو جاتا ہے۔ بعض دفعہ ایسے شخص کو مرگی کے دورے بھی پڑنے لگتے ہیں۔ نظر دھندلا جاتی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسے مریض کا دل کمزور ہو گا اور دل کے مریضوں کے لیے واقعی یہ ایک مقوی دوا ہے۔ (صفحہ۵۵۵)
نسبتا بوڑھے مریضوں میں یہ دوا بہت مفید ہے۔ ایسے مریضوں کے دل کے نچلے حصہ کے عضلات کمزور پڑ جاتے ہیں اور دل کی کمزوری کے باعث پھیپھڑوں پر دباؤ پڑتا ہے اور پانی جمع ہونے لگتا ہے جس سے مریض کے لیے سانس لینا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ڈاکٹر عموماً دل کے ایسے مریضوں کو دمہ کی تیز دوائیں اور Inhaler دے دیتے ہیں یعنی وہ آلہ جس کے ساتھ منہ لگا کر سانس کھینچنے سے وقتی فائدہ ہو تا ہے کیونکہ اس میں تشنج کو زبردستی ختم کرنے کی دوائیں ہوتی ہیں جو پھیپھڑے کی نالیوں کو کھول دیتی ہیں۔ لیکن لمبے استعمال سے آخر یہ زہریلی دوائیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں اور تشنج کے وقت مریض جتنا چاہے اس آلہ کے ساتھ منہ لگا کر سانس کھینچے، تشنج نہیں ہٹتا اور مریض اسی حالت میں مرجاتا ہے۔ لارو سیراسس Inhaler سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ سانس لینے میں دشواری دم گھٹنا سینے کا تنگ ہونا ایک دم گھٹن کا احساس جیسے دل کو کچھ ہو گیا ہے ، ان سب کا یہ مؤثر علاج ہے۔ دل کے والوز (Valves) کو طاقت بخشتی ہے اور دل کے خون کے نیچے اترنے کی سرسراہٹ کے احساس کے لیے بھی یہ دوا بہت مفید ہے۔ دل کے عضلات کو تقویت دے کر وہ کمزوری جس کے نتیجہ میں خون واپس پھیپھڑوں میں چلا جاتا ہے اسے دور کردیتی ہے۔ (صفحہ۵۵۵-۵۵۶)
دل کی کمزوری کی وجہ سے پیدا ہونے والی کھانسی جو بار بار اٹھے، اس میں بہت فائدہ دیتی ہے۔ سپونجیا بھی ایسے مریضوں کی اہم دوا ہے۔ اس میں مریض کے چہرے پر نیلاہٹ آ جاتی ہے جس کا مطلب ہے کہ سانس کی کمی کی وجہ سے خون میں آکسیجن کی آمیزش کم ہوگئی ہے لیکن سب مریضوں کے چہرے پر نیلاہٹ نہیں آتی بلکہ بعض چہرے زرد پڑ جاتے ہیں، ان کے لیے اس بیماری کی الگ دوائیں ہیں۔ نیلاہٹ پیدا کرنے والی دل کی بیماری رفع کرنے کے لیے ہو میو دوا لارو سیراسس شہرت رکھتی ہے۔(صفحہ۵۵۶)
لاروسیراسس کے مریض کو سردی بہت لگتی ہے،بیرونی ذریعہ سے گرمی پہنچانے سے بھی سردی کا احساس کم نہیں ہوتا۔ (صفحہ۵۵۶)
لاروسیراسس میں غنودگی اور چکر پائے جاتے ہیں۔ بعض دفعہ غشی طاری ہو جاتی ہے۔ دماغی کمزوری کی وجہ سے یادداشت ختم ہو جاتی ہے۔ خیالات میں یکسوئی نہیں رہتی۔ (صفحہ۵۵۶)
لاروسیراسس کی تکلیفیں بیٹھنےسے کم ہوجاتی ہیں۔لیٹنے سے کھانسی شروع ہوجاتی ہے۔ معدے سے کمر تک گولہ سا اترنے کا احساس ہوتا ہے۔جھکنے سے اور حرکت سے بھی ہر تکلیف بڑھ جاتی ہے۔(صفحہ۵۵۷)
لیڈم
Ledum
(Marsh Tea)
لیکیسس کی طرح اس کی بیماریاں بائیں طرف سے شروع ہونے کا زیادہ رحجان رکھتی ہیں۔تکلیفیں اوپر کے دھڑ کی نسبت نچلے دھڑمیں زیادہ شدت سے اپنا اثر دکھاتی ہیں۔ تکلیف اکثر پاؤں یا ٹانگوں کے نچلے حصہ سے شروع ہوتی ہے اور نیچے سے اوپر کی طرف پھیلنا شروع ہوجاتی ہے۔ (صفحہ۵۵۹)
آرنیکا کی طرح لیڈم کا بھی چوٹوں سے گہرا تعلق ہے اور بعض اعضا کی چوٹوں میں اسے آرنیکا اور ہائی پیریکم (Hypericum) وغیرہ سے ملا کر دیا جائے تو بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔وہ چوٹیں جو گہرا اثر چھوڑ جائیں یا ایسے زخم جو نوکدار چیز مثلاً کیل یا کانٹاوغیرہ چبھنے سے پیدا ہوں، ان میں لیڈم بطور خاص مفید ہے۔بعض دفعہ ان کے زخموں میں بظاہر مندمل ہوجانے کے بعد سالہا سال تک درد کی لہریں بجلی کے کوندوں کی طرح اٹھتی رہتی ہیں۔ایسی صورت میں اگر تشنج ہوجائے تو لیڈم اس کا بہترین علاج ثابت ہوسکتی ہے۔گھوڑے کی لید تشنج پیدا کرنے میں مشہور ہے لیکن اگر گھوڑا خود کسی کیل وغیرہ پر پاؤ ں رکھ دے اور اس کے سم میں گہرا زخم بن جائے جو ہڈی کے کنارے تک جا پہنچے تو اس کا تشنج اور ٹیٹنس لیڈم ۲۰۰ دینے سے آناً فاناً ٹھیک ہوسکتا ہے۔لیڈم میں تشنج روکنے کا رحجان عموماً ایسے تشنج میں ملتا ہے جو نوکیلی چیزیں چبھنے کےنتیجہ میں پیدا ہو خواہ وہ سالوں بعد ہی کیوں نہ ہو۔ہڈیوں کے گرد کوئی نوکدار چیز لگنے سے اگر ہڈیوں کا انیمل زخمی ہوجائے تو اس میں لیڈم بہت مفید ہے۔اس تکلیف میں ہائی پیریکم ہڈی کے گرد لپٹی ہوئی نسوں کو نقصان پہنچنے کی صورت میں کام آتی ہے۔اسی طرح اگر جراحی کے وقت نشتر سے اعصاب کٹ جائیں اور زخم بظاہر مندمل بھی ہوجائے لیکن درد باقی رہے تو اس کے خلاف بھی ہائی پیریکم مفید ہےجبکہ لیڈم نشتر کے زخموں کے لیے زیادہ فائدہ مند نہیں ہے۔ ایڑی میں موچ آ جائے تو آرنیکا اونچی طاقت میں دینا مفید ہو تا ہے۔ اعصابی رگوں میں بداثرات باقی رہ جائیں تو انہیں دور کرنے میں آرنیکا کام نہیں کرتی۔ ان میں روٹا اور بیلس زیادہ اچھا اثر دکھاتی ہیں۔ بار بار موچ آنے کی وجہ سے ٹخنہ متورم ہو جائے اور مسلسل اس میں تکلیف رہے تو ایکوی زیٹم (EQUISETUM) بہت مفید ہے۔ لیڈم بھی ٹخنے کی اس تکلیف میں بہت کار آمد ثابت ہوتی ہے لیکن اس کی سوزش کا عموماً جو ڑوں کے درد سے زیادہ تعلق ہے۔ ٹخنوں کی چوٹوں کے بداثرات کے لیے روٹا، بیلس اور ایکوی زیٹم مفید دوائیں ہیں۔ (صفحہ۵۵۹-۵۶۰)
بسا اوقات ٹخنے کی چوٹ صرف ٹخنے تک ہی محدود نہیں رہتی بلکہ پنڈلی کے تشنج میں بھی تبدیل ہو جاتی ہے۔ چلنے یا زیادہ حرکت کرنے سے تشنج شروع ہو جاتا ہے اور شدید بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ بعض دفعہ یہ تشنج گھٹنوں یا کولہوں میں منتقل ہو جا تا ہے اور کسی علاج سے آرام نہیں آتا۔ اگر صحیح علاج کیا جائے تو تکلیف اوپر سے نیچے کی طرف منتقل ہونے لگے گی اور جہاں پہلی چوٹ لگی تھی وہیں جا کر ٹھہر جائے گی۔ اگر وہیں اس کا بالمثل علاج کیا جائے تو پھر تکلیف کہیں اور منتقل نہیں ہو گی۔ (صفحہ۵۶۱)
لیڈم میں جو ورم پائے جاتے ہیں وہ اکثر پاؤں کے جوڑوں میں نقرسی مادہ کی وجہ سے ہوتے ہیں جس کا ایک خاص مزاج ہوتا ہے۔اس کی پہچان بہت آسان ہے۔اگر سردی یا ٹھنڈے پانی سے آرام آئے اور گرمی سے مرض بڑھے تو پاؤں کے جوڑوں کا ایسا درد لیڈم سے جلدٹھیک ہوجاتا ہے۔لیڈم سےمتاثرہونے والی ہر سوزش کو ٹھنڈی ٹکور سے آرام آتا ہے۔ وہ درد جو جسم کے کسی ایسے عضو کی خالی جگہ پر محسوس ہو جسے بیماری کی وجہ سے کاٹ دیا گیا ہو بہت تکلیف دہ ہو تا ہے کیونکہ وہاں سے عضو تو کٹ چکا ہوتا ہے اور کوئی چیز موجود نہیں ہوتی لیکن تکلیف بدستور محسوس ہوتی ہے۔ بسا اوقات ٹانگ تو کٹ جاتی ہے مگر اس ٹانک کے پاؤں کے انگوٹھے کی جگہ پر مریض ایسا درد محسوس کرتا ہے گویا واقعی وہاں کوئی انگوٹھا موجود ہو جو درد کر رہا ہو۔ ایسے درد میں آرنیکا اور لیڈم بہت کام آتی ہیں۔ اگر یہ پتہ چل جائے کہ وہ عضو کٹنے سے پہلے کیا بیماری تھی تو اسی بیماری کا علاج ہونا چاہیے کیو نکہ اعصاب اور ذہنی ریشوں نے اس بیماری کو اپنی یادداشت میں محفوظ رکھا ہوا ہے اور یہ دراصل یادداشت کا درد ہے۔ جب اس بیماری کا علاج کریں گے تو سارے اعصاب کو پیغام مل جائے گا کہ ایسے درد کے خلاف انہیں کیا رد عمل دکھانا چاہیے۔ یہ یاد رکھیں کہ عموماً عضو کے کاٹنے کے بعد جو درد رہ جاتا ہے اس میں آرنیکا ،لیڈم ہائی پیریکم، سمفائٹم وغیرہ مفید ہو سکتی ہیں مگر شرط یہی ہے کہ عضو کاٹنے سے پہلے والی بیماری ان دواؤں سے مماثلت رکھتی تھی۔ (صفحہ۵۶۱)
لیڈم میں جوڑوں کے درد کو ٹھنڈ ک پہنچانےسے آرام آتا ہےباوجود اس کے کہ مریض ٹھنڈا ہوتا ہے اور بیرونی اور اندرونی طور پر سردی محسوس کرتا ہے۔ٹھنڈک کے احساس کے باوجود سردی سے آرام اور گرمی سے تکلیف ایک عجوبہ ہے۔ (صفحہ۵۶۱-۵۶۲)
لیڈم کی مریض خواتین میں حیض بہت جلد بہت زیادہ اور گہرے سرخ رنگ کا ہو تا ہے۔ اگر یہ علامتیں موجود ہوں تو لیڈم رحم کی اکثر بیماریوں میں مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن لیڈم کی اس علامت کو فراموش نہ کریں کہ ہر تکلیف کو ٹھنڈ پہنچانے سےآرام آتا ہے۔ لیڈم کی ایک علامت پلسٹیلا سے ملتی ہے لیکن دونوں میں فرق کرنا مشکل نہیں۔ پلسٹیلا میں اگر کسی عضو میں دیر تک درد رہے تو وہ عضو سکڑ نے لگتا ہے اور کمزور ہوجاتا ہے۔ لیڈم میں بھی اگر ایک ٹانگ میں تکلیف ہو تو وہ ٹانگ دوسری ٹانگ کی نسبت سکڑ کر کچھ چھوٹی ہو جاتی ہے۔ دونوں میں امتیاز یہ ہے کہ پلسٹیلا کا مریض گرمی محسوس کرتا ہے اور سردی سے آرام جبکہ لیڈم کا مریض سردی محسوس کرتا ہے۔ پھر بھی سردی ہی سے اسےآرام آتا ہے۔ (صفحہ۵۶۲)
لیڈم کے مریض کے جسم میں حرارت غریزی کم ہونے کی وجہ سے جسم ٹھنڈا رہتا ہےلیکن اس کے باوجود اس کا مریض بستر کی گرمی برداشت نہیں کرسکتا۔ٹکورکرنےسے بھی درد میں اضافہ ہوجاتا ہے۔مریض اپنے پاؤں ٹھنڈے پانی میں رکھنا پسند کرتا ہے۔ (صفحہ۵۶۳)
للیئم ٹگرینم
Lilium tigrinum
(Tigor Lily)
گرمی اور سردی کے احساس کے لحاظ سے اس کی علامت پلسٹیلا سے ملتی ہے۔گرمی تکلیف دیتی ہے اور ہاتھ پاؤں بھی جلتے ہیں۔(صفحہ۵۶۶)
لیئم ٹگ میں دل کی تکلیف بھی پائی جاتی ہے۔ ایسے محسوس ہو تا ہے کہ دل اچانک مٹھی میں آکر جکڑا گیا ہے جیسے شکنجہ پڑ گیا ہو۔ یہ علامت کیکٹس میں بھی بہت نمایاں ہوتی ہے۔ نبض بہت تیز اور بے قاعدہ ہوتی ہے۔ دل کے مقام پر ٹھنڈک اور بوجھ کا احساس رہتا ہے۔ ہجوم میں اور گرم کمرے میں دم گھٹتا ہے۔ (صفحہ۵۶۷)
للیئم ٹگ کے مریض کی تکلیفیں گرم کمرے میں اور رسمی تسلی اور تشفی دینے سے بڑھ جاتی ہیں۔تازہ ہوا میں بہترمحسوس کرتا ہے۔ (صفحہ۵۶۷)
(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں:ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۳۰)(قسط ۱۵۵)




