صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۳۰)(قسط ۱۵۵)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

لیک ڈیفلوریٹم

Lac defloratum

لیک ڈیف بہت ٹھنڈے مزاج کی دوا ہےجبکہ لیک کینائینم کا مزاج بہت گرم ہوتا ہے۔لیک ڈیف کا مریض بے حد ٹھنڈا ہوتا ہے۔گرم کمرے میں گرم کپڑوں میں لپٹ کر بھی اس کی سردی دور نہیں ہوتی۔سانس لینے سے جو ہلکی سی ہوا چہرے پر محسوس ہوتی ہےاس سے بھی اسے سردی لگتی ہے۔سردی کایہ شدید احساس آرنیکا،لیکیسس اور سورائینم وغیرہ کی سردی سے بہت مختلف ہے۔اس میں سارا بدن ہی ٹھنڈا ہوتا ہے۔مریض سردی سے اس حد تک زود حس ہوجاتا ہےکہ بند کمرے میں جہاں ہوا کا نام و نشان بھی نہ ہو وہ ٹھنڈی ہوا کو محسوس کرتا ہےاور اعصابی اور بائی کی دردوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ویسے تو عموماً سارے جسم میں ہی درد ہوتا ہےلیکن سرمیں خاص طور پر زیادہ تکلیف محسوس ہوتی ہے۔یہ درد تعفّنی مادوں کی وجہ سے نہیں بلکہ بائی کا درد (Rheumatic)ہوتا ہے ۔چہرے اور سر کے اعصابی ریشوں میں شدید درد ہوتا ہے۔اگر مریض بہت ٹھنڈا ہو تو لیک ڈیف کو یاد رکھنا چاہئے۔لیک ڈیف کی تکلیفوں کو گرمی پہنچانے سے فائدہ ہوتا ہےلیکن مریض کسی صورت گرم ہونے میں نہیں آتا۔ہمیشہ ٹھنڈا ہی رہتا ہے۔آرام اور دباؤ سے درد میں افاقہ ہوتا ہے۔جلد بہت زود حس ہوجاتی ہے۔یہ زود حسی بعض اور دواؤں میں بھی پائی جاتی ہے۔لیک کینائینم میں جلدکی زود حسی دردوں کے احساس سے تعلق رکھتی ہےلیکن لیک ڈیف میں محض سردی سے۔ (صفحہ۵۳۱-۵۳۲)

لیک ڈیف کی سب علامتوں میں ملیریا کے پرانے اثرات بھی ملتے ہیں مثلاً خون کی کمی سوجن ، ذیابیطس کی علامتیں دل کی کمزوری وغیرہ وغیرہ۔ ان سب علامتوں کو الگ الگ یاد رکھنے کی بجائے صرف یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ اس دوا کا مزاج سخت ٹھنڈا ہے۔ جلد سردی کی وجہ سے سخت زود حس ہو جاتی ہے اگر یہ علامتیں اکٹھی ہو جائیں اور پھر دل کی تکلیف ہو یا ملیریا اور ذیابیطس کے آثار ظاہر ہوں تو ان میں اس بات کا بھاری امکان ہوتا ہے کہ یہ ان سب بیماریوں میں بھی مفید ثابت ہو گی۔(صفحہ۵۳۳)

ایسی مریضہ جس کا موٹاپے کی طرف میلان ہو اور جسم ٹھنڈا رہتا ہو ۔ اسے ذیابیطس ہو جائے تو لیک ڈیف بھی اس کی ایک امکانی دوا ہو گی۔ اگر کوئی عورت ضرورت سے زیادہ موٹے بچے کو جنم دے جبکہ غذا و غیرہ نارمل ہو تو اس بات کا بھاری خطرہ موجود ہے کہ اسے ذیا بیطس ہو جائے گی اور بچے میں بھی رجحان ہو گا۔ اگر اس کا مزاج ٹھنڈا ہے اور جسم ٹھنڈا رہتا ہے تو لیک ڈیف اسے مکمل شفا دے سکتی ہے اس لیے فوراً اس کے ذریعہ علاج شروع کرنا چاہئے ۔ وہ عورتیں جو موٹی ہوں جسم ٹھنڈا ہو اور وہ دودھ ہضم نہ کر سکتی ہوں ان کے لیے یہ دوا نہایت مفید ہے۔ اگر کسی عورت کو دودھ سے نفرت نہ بھی ہو مگر اسے دوران حمل دودھ ہضم نہ ہو تا ہو تو اس کی حمل کی متلی کو بھی خدا کے فضل سے یہ دوا ٹھیک کر دیتی ہے۔ اس میں معدہ کی ان تمام بیماریوں کی علامتیں پائی جاتی ہیں جو دودھ ہضم نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ دودھ ہضم نہ ہونے کے نتیجہ میں یا مرغّن غذاؤں کے استعمال سے نظام ہضم میں خرابی ہو جائے تو عموماً پلسٹیلا استعمال کی جاتی ہے مگر پلسٹیلا کا مزاج بہت گرم اور لیک ڈیف کا بہت ٹھنڈا ہو تا ہے اور یہی علامت ان دونوں کو ممتاز کرتی ہے ۔(صفحہ۵۳۵)

لیک ڈیف دل کی تکلیفوں میں بھی مفید ہے۔ دل کی کمزوری یا تنگی کی وجہ سے دمہ (Cardiac Asthma) ہوجاتا ہے۔ سانس لینے سے دل پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔ یہی علامت سپونجیا میں اپنی مخصوص شکل میں پائی جاتی ہے۔ لیک ڈیف کے مریضوں میں بعض دفعہ سارا ہاتھ نہیں بلکہ صرف انگلیاں ٹھنڈی ہوتی ہیں اور کسی طرح گرم ہونے میں نہیں آتیں۔ اس کی ایک استثنائی علامت یہ ہے کہ سردرد کو سخت سردی محسوس ہونے کے باوجود ٹھنڈک ہی سے آرام آتا ہے اور یہ علامت فاسفورس سے مشابہ ہے۔ فاسفورس کا مریض سردی کے شدید احساس کی وجہ سے جسم کو گرم کپڑوں میں لپیٹے رکھتا ہے لیکن سر کو ٹھنڈا رکھنا چاہتا ہے اور سردی کے احساس کے بغیر کسی چیز سے اسے تسکین نہیں ملتی۔ اس علامت کے علاوہ فاسفورس کی دیگر علامات لیک ڈیف سے بہت مختلف ہیں۔(صفحہ۵۳۷)

(نوٹ ان مضامین میں ہو میو پیتھی کے حوالے سے عمومی معلومات دی جاتی ہیں۔قارئین اپنے مخصوص حالات کے پیش نظر کوئی دوائی لینے سے قبل اپنے معالج سے ضرورمشورہ کرلیں۔)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۹)(قسط ۱۵۴)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button