افریقہ (رپورٹس)

جماعت احمدیہ مڈغاسکر کے بیسویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا بابرکت انعقاد

٭… ’’دعا‘‘ کے مرکزی موضوع پر منعقدہ جلسہ سالانہ میں علمی، روحانی و تربیتی موضوعات پر تقاریر

٭… ۳۲۵۰؍احباب کی شمولیت

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ مڈغاسکر کا بیسواں جلسہ سالانہ ’’دعا‘‘ کے مرکزی موضوع پر مورخہ ۲۵تا ۲۷؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو دارالحکومت انتاناناریوو میں واقع جماعتی مرکز میں منعقد ہوا۔

جلسہ سالانہ کے انتظامات کو بہتر انداز میں انجام دینے کے لیے ۲۵؍شعبہ جات قائم کیے گئے جن میں احباب جماعت نے باہمی تعاون اور اخلاص کے ساتھ خدمت کی توفیق پائی۔ تمام شعبہ جات کے ناظمین کے ساتھ صدر و مبلغ انچارج مکرم مجیب احمد صاحب، خاکسار (افسر جلسہ سالانہ) اور نائب افسر جلسہ سالانہ مکرم حافظ شکیل الرحمٰن صاحب کی متعدد میٹنگز ہوئیں اور انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ ۲۴؍ستمبر کو صدر صاحب نے جلسہ گاہ کا تفصیلی جائزہ لیا اور مختلف شعبہ جات کی تیاریوں کا معائنہ کرتے ہوئے کارکنان کی حوصلہ افزائی کی۔

جلسہ سالانہ کے تینوں دنوں کا آغاز مساجد میں باجماعت نماز تہجد سے ہوا۔ جلسہ کا باقاعدہ افتتاح پرچم کشائی کی تقریب سے ہوا۔ صدر صاحب نے لوائے احمدیت اور مکرم عبدالرحمانی صاحب نے قومی پرچم بلند کیا۔ بعد ازاں صدر صاحب نے دعا کروائی۔ اس کے بعد ترانے پیش کیے گئے۔ نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ارسال کردہ خصوصی پیغام برائے شاملین جلسہ سالانہ پڑھ کر سنایا گیا۔

تین روزہ جلسہ سالانہ مجموعی طور پر آٹھ اجلاسات پر مشتمل تھا۔ تمام اجلاسات میں مقررین نے مرکزی موضوع کے مختلف پہلو قرآن کریم، احادیث، ارشادات خلفائے کرام اور واقعات کی روشنی میں بیان کیے۔ شاملین نے نہایت توجہ اور دلچسپی سے تقاریر سنیں۔ تینوں دن شاملین کے لیے دوپہر اور شام کے کھانے کا بھی انتظام کیا گیا۔

جلسہ کے دوران جماعت احمدیہ مڈغاسکر کی سال ۲۰۲۵ء – ۲۰۲۶ء کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی جس میں مختلف شعبہ جات کی سرگرمیوں اور جماعتی ترقیات کا جائزہ پیش کیا گیا۔ اسی طرح ان احباب کی آمین کروائی گئی جنہوں نے امسال پہلی مرتبہ قرآن کریم کا دور مکمل کیا۔ انہیں اعزازی اسناد کے ساتھ قرآن کریم کا تحفہ بھی پیش کیا گیا۔

جماعت احمدیہ مڈغاسکر کی تاریخ کے حوالے سے ایک خصوصی ڈاکومنٹری پیش کی گئی جس میں جماعت کے قیام، مساجد اور دونوں سکولوں کی تعمیر، ان کے سنگ بنیاد اور تکمیل، رفاہی خدمات اور ہیومینٹی فرسٹ جرمنی کے تحت ہونے والی خدمات سمیت مختلف تاریخی معلومات پیش کی گئیں۔ ڈاکومنٹری کو احباب جماعت اور مہمانان نے پسند کیا۔ اس کے علاوہ جماعت احمدیہ کے تعارف، تعلیمی و تربیتی امور اور جماعتی خدمات کے حوالے سے ایک پُرکشش نمائش بھی لگائی گئی۔

جلسہ سالانہ کے آخری روز دوران سال وفات پانے والے احباب جماعت کے لیے دعا کی گئی۔

اختتامی اجلاس میں صدر صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے جماعت احمدیہ مڈغاسکر کے حوالے سے قبولیت دعا کے واقعات اور معجزات پر تقریر کی اور احباب جماعت کو دعا کی اہمیت اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق قائم کرنے کی طرف توجہ دلائی۔

الحمدللہ، جلسہ سالانہ کے تینوں دنوں کی مجموعی حاضری ۳۲۵۰؍ رہی۔ یہ بابرکت جلسہ احباب جماعت کے لیے روحانی ترقی، دعا کی طرف توجہ، باہمی محبت و اخوت اور جماعتی تعلق کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ثابت ہوا۔

اللہ تعالیٰ اس جلسہ سالانہ کی تمام برکات کو جماعت احمدیہ مڈغاسکر کے لیے دائمی بنائے، تمام شاملین کو دعاؤں کی قبولیت سے نوازے اور جماعت کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔ آمین

(رپورٹ:ملک بشیر احمد کھوکھر۔ افسر جلسہ سالانہ مڈغاسکر ۲۰۲۶ء)

٭…٭…٭

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکے جلسہ سالانہ مڈگاسکر ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام کا اردو مفہوم

پیارے احباب جماعت احمدیہ مدغاسکر

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ آپ اپنا ۲۰واں جلسہ سالانہ ۲۵، ۲۶ اور ۲۷؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو منعقد کر رہے ہیں۔ میری دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو عظیم کامیابی سے نوازے اور تمام شاملین بےشمار روحانی برکات حاصل کریں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے کہ ہم یہ جلسے اس لیے منعقد کرتے ہیں تاکہ ہمارے اندر اللہ کا خوف پیدا ہو اور ہم تقویٰ یعنی راستبازی میں ایک دوسرے کے لیے نمونہ بن سکیں۔ جلسہ ہمیں اپنے دینی علم اور فہم کو بڑھانے کا موقع فراہم کرتا ہے اور ایسا ماحول میسر کرتا ہے جس سے ہم نیکی، دل کی نرمی، باہمی محبت اور اخوت میں ترقی کریں تاکہ ہم پوری دنیا میں اسلام کے پیغام کو پھیلانے کا عزم کر سکیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے:’’اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاءِ کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لیے قومیں طیارکی ہیں۔ جو عنقریب اس میں آملیں گی۔ کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔‘‘(اشتہار ۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء، مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۳۶۱، ایڈیشن ۲۰۱۹ء)

تاہم، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ جلسہ کی برکات کے صرف وہی لوگ وارث ہوں گے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کیے گئے بیعت کے عہد پر قائم رہیں گے۔ جو لوگ اپنی اخلاقی اصلاح اور روحانی ترقی کی طرف توجہ نہیں دیتے وہ اس کی برکات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہدایت فرمائی ہے کہ ہمیں پنجوقتہ نمازوں کو باقاعدگی سے ادا کرنا چاہیے اور نماز تہجد پڑھنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر مسلسل درود بھیجنا چاہیے، اپنے گناہوں کی معافی مانگنی چاہیے اور استغفار میں مداومت اختیار کرنی چاہیے۔ ہمیں اپنے دل کی گہرائیوں سے اللہ تعالیٰ کے احسانات کو یاد رکھنا چاہیے اور اس کی حمد و ثنا کو اپنے روزمرہ کے معمول کا لازمی حصہ بنانا چاہیے۔

بطور احمدی مسلمان ہمیں اپنے دین میں ہر قسم کی بدعت اور تحریف کو رد کرنا چاہیے اور قرآن مجید کو اپنا مشعلِ راہ بنانا چاہیے، صرف تبھی ہم سچے معنوں میں خود کو احمدی مسلمان کہہ سکتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ ہم قرآن مجید سے کتنی محبت کرتے ہیں، اس کے احکامات کی کتنی اطاعت کرتے ہیں اور اپنی زندگیوں میں اس کی تعلیمات کو کتنا لاگو کرتے ہیں۔ اس محبت کا واضح ترین اظہار یہ ہے کہ باقاعدگی سے کم از کم دو یا تین رکوع کی تلاوت کی جائے اور پھر ان کے ترجمہ و تفسیر کا مطالعہ کیا جائے۔ روزانہ قرآن کریم کی تلاوت، اس کے مطالب سمجھتے ہوئے، کرنے سے اس کا خوبصورت پیغام ہمارے ذہنوں اور دلوں میں راسخ ہو جاتا ہے۔

اس دور میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافت احمدیہ کے الٰہی نظام سے نوازا ہے۔ لہٰذا ہر احمدی کو خلافت کا وفادار، مخلص اور فرمانبردار رہنا چاہیے اور خلیفۃ المسیح کے ساتھ محبت اور اخلاص کے تعلق کو مضبوط کرنا چاہیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے مکمل اطاعت اور عقیدت کا ہمارا عہد، ایک ایسا تعلق جو تمام دنیاوی رشتوں سے بڑھ کر ہونا چاہیے، وہ عہد خلیفہ وقت کے ساتھ ہمارے تعلق میں بھی اسی عزم کے ساتھ نظر آنا چاہیے، کیونکہ خلافت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی روحانی جانشین ہے۔

ہر ایک کو نظام جماعت کی قدر و احترام کرنا چاہیے جو خلیفۃ المسیح کی راہنمائی میں کام کرتا ہے۔ اس لیے آپ کو اطاعت کے سچے جذبے کے ساتھ جماعت کے پروگراموں اور منصوبوں پر عمل درآمد میں عہدیداروں کے ساتھ مکمل تعاون اور مدد کرنی چاہیے۔ یقیناً جماعت کے تمام ممبران کو ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ احترام اور حسن ظن کے خوشگوار ماحول میں کام کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ایسا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آخر میں، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے جلسہ کو بڑی کامیابی سے نوازے اور آپ کو اپنی زندگیوں میں تقویٰ، نیک اعمال اور اسلام احمدیت و انسانیت کی خدمت کی طرف ایک حقیقی تبدیلی لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ آپ سب پر فضل فرمائے۔

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ آسٹریلیا کی مختلف جماعتوں میں جلسہ ہائے سیرت النبیؐ کا بابرکت انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button