مجلس انصاراللہ کینیڈا کے سالانہ اجتماع و مجلس شوریٰ ۲۰۲۶ء کا کامیاب انعقاد
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے مجلس انصاراللہ کینیڈا کو اپنی بتیسویں مجلس شوریٰ اور انتالیسواں سالانہ اجتماع ۴تا ۶؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو مسجد بیت الاسلام کے احاطہ میں منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

اجتماع کا ایک اہم اور ایمان افروز پہلو حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا مجلس انصاراللہ کینیڈا کے نام خصوصی پیغام تھا جو مکرم شاہد منصور صاحب صدر مجلس انصاراللہ کینیڈا نے افتتاحی اور اختتامی اجلاسوں میں پڑھ کر سنایا۔ یہ پیغام ایک دیدہ زیب فلائر کی صورت میں بھی شائع کرکے شاملین میں تقسیم کیا گیا۔ احباب کو دورانِ اجتماع بڑی سکرینوں کے ذریعے جلسہ سالانہ جرمنی ۲۰۲۶ء سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے مستورات سے خطاب اور اختتامی خطاب براہ راست سننے اور اجتماعی دعا میں شامل ہونے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔
اجتماع کا پہلا روز: مجلس شوریٰ
۴؍ستمبر بروز جمعہ مسجد بیت الاسلام میں باجماعت نماز تہجد سے دن کا آغاز ہوا۔ نماز فجر اور درس کے بعد صبح سوا سات بجے رجسٹریشن اور ناشتے کا آغاز ہوا۔ صبح آٹھ بجے مین مارکی میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ جمعہ براہ راست سننے کا انتظام کیا گیا۔ سوا نو بجے مکرم ملک لال خان صاحب امیر جماعت احمدیہ کینیڈا کی زیر صدارت بتیسویں مجلس شوریٰ کی کارروائی کا آغاز ہوا۔ تلاوت قرآن کریم اور عہد کے بعد مکرم امیر صاحب نے مجلس شوریٰ کی اہمیت اور نمائندگان کی ذمہ داریوں کے حوالے سے افتتاحی تقریر کی۔
مکرم عاصم محمود بھلی صاحب سیکرٹری مجلس شوریٰ نے سال ۲۰۲۶ء میں پیش ہونے والی حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے منظور شدہ تجاویز اور ردّشدہ تجاویز مع وجوہِ ردّ پیش کیں۔ امسال درج ذیل تین تجاویز پیش ہوئیں:
۱۔ روزانہ ترجمہ کے ساتھ تلاوت قرآن کریم کی عادت کو فروغ دینا۔
۲۔ زندگی کی مشکلات کا سامنا کرنے والے انصار کے ساتھ رابطہ اور تعاون کو مضبوط بنانا۔
۳۔ بجٹ آمد و خرچ برائے سال ۲۰۲۷ء۔
بعد ازاں متعلقہ قائدین نے سال ۲۰۲۵ء کی مجلس شوریٰ میں منظور شدہ تجاویز پر عمل درآمد کی رپورٹ اور مجلس انصاراللہ کینیڈا کی سالانہ رپورٹ پیش کی۔

صبح ۱۱؍بج کر ۲۰؍منٹ پر تینوں تجاویز پر غور و فکر اور مناسب لائحہ عمل تجویز کرنے کے لیے سب کمیٹیاں تشکیل دی گئیں۔ کمیٹیوں کی کارروائی نماز جمعہ اور کھانے کے وقفے کے ساتھ شام چار بجے تک جاری رہی۔ بعد ازاں سب کمیٹیوں کے صدران نے اپنی رپورٹس نمائندگان شوریٰ کے سامنے پیش کیں جن پر بحث و تمحیص کے بعد کثرت رائے سے تجاویز کو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں برائے منظوری پیش کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
شام ۷ بج کر ۲۰؍منٹ پر مجلس شوریٰ کے اختتامی اجلاس کی کارروائی ہوئی۔ مکرم امیر صاحب نے مختصر تقریر کی اور اختتامی دعا کروائی۔ امسال مجلس شوریٰ میں کینیڈا بھر سے کُل ۳۷۹؍نمائندگان شامل ہوئے۔ مغرب و عشاء کی نمازوں کے بعد نمائندگان شوریٰ کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔
دوسرا روز: اجتماع کا افتتاحی اجلاس
۵؍ستمبر بروز ہفتہ نماز تہجد اور فجر کے بعد ریفریشمنٹ کا انتظام کیا گیا۔ صبح ساڑھے چھ بجے مین مارکی میں جلسہ سالانہ جرمنی سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا لجنہ اماء اللہ سے خطاب براہ راست سننے کا انتظام تھا جس کے بعد رجسٹریشن اور ناشتے کا اہتمام کیا گیا۔
تقریب پرچم کشائی:صبح نو بجے پرچم کشائی کی تقریب ہوئی۔ کینیڈا کا پرچم مکرم امیر صاحب جبکہ مجلس انصاراللہ کا پرچم مکرم صدر صاحب مجلس انصاراللہ کینیڈا نے لہرایا۔ اس موقع پر اجتماع گاہ نعرہ ہائے تکبیر سے گونج اٹھی۔ آخر پر مکرم امیر صاحب نے دعا کروائی۔
افتتاحی اجلاس:سوا نو بجے امیر صاحب کی زیر صدارت انتالیسویں سالانہ اجتماع ۲۰۲۶ء کے افتتاحی اجلاس کا آغاز ہوا۔ تلاوت قرآن کریم ماہر دلال صاحب نے کی جبکہ اردو ترجمہ منیر خان صاحب اور انگریزی ترجمہ عبدالعزیز وڑائچ صاحب نے پیش کیا۔ بعد ازاں صدر مجلس نے عہد دہرایا۔ مدثر مرتضیٰ صاحب نے اردو نظم پیش کی جس کا انگریزی ترجمہ Fatai A Bello صاحب نے کیا۔ صدر مجلس انصاراللہ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا ارسال کردہ خصوصی پیغام اردو اور انگریزی زبان میں پڑھ کر سنایا اور مکرم امیر صاحب نے مختصر افتتاحی تقریر کی اور دعا کروائی۔
اجتماع کے انتظامات:مسجد بیت الاسلام کے وسیع احاطہ میں مختلف عارضی مارکیوں کے ذریعے اجتماع کے انتظامات کیے گئے تھے جن میں مین مارکی، ضیافت مارکی، علمی مقابلہ جات مارکی اور رجسٹریشن مارکی شامل تھیں۔ علاوہ ازیں بازار اور بُک سٹور بھی قائم کیے گئے تھے۔ امسال ریسورس سینٹر بھی قائم کیا گیا جہاں مختلف شعبہ جات کی جانب سے معلوماتی بوتھ اور ڈیسک لگائے گئے۔ ان میں طبی معائنہ، سپورٹس پویلین، تبلیغ، نظام وصیت، رشتہ ناطہ، روزگار کی تلاش، انسانی ہمدردی کے منصوبے، مصنوعی ذہانت اور الاسلام ویب سائٹ شامل تھے۔
امسال کینیڈا کے مختلف علاقوں سے ۴۹؍انصار اجتماع کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سائیکل سفر کرکے اجتماع گاہ پہنچے۔
علمی و تربیتی ورکشاپس: درج ذیل موضوعات پر پینل ڈسکشن اور ورکشاپس منعقد ہوئیں: ہماری آئندہ نسلوں کا تحفظ، فعال زندگی کے راہنما اصول، عمر رسیدہ افراد کے لیے گورنمنٹ کی سوشل سروسز، رشتہ ناطہ کے مسائل اور ان کا حل، مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا کے دور میں بچوں کی پرورش، نظام وصیت۔ نظام نو اور ریٹائرمنٹ کی منصوبہ بندی۔
بعد نماز ظہر و عصر ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت مکرم امیر صاحب نے کی۔ تلاوت قرآن کریم و ترجمہ کے بعد مکرم امیر صاحب نے علمی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے طلبہ میں مجلس انصاراللہ کی طرف سے وظائف دیے۔ پھر مکرم صدر صاحب انصاراللہ نے تقریر کی۔ بعدازاں مختلف علمی اور ورزشی مقابلے منعقد ہوئے۔
عشائیہ اور نماز مغرب و عشاء کے بعد رات ۸؍بج کر ۲۰؍منٹ پر بعض انصار نے خلفائے کرام کے ساتھ بیتی ہوئی اپنی یادوں پر مشتمل ایمان افروز واقعات بیان کیے۔ نیز مختلف ریجنز کے انصار کے مابین بیت بازی کا مقابلہ ہوا۔
تیسرا روز: اختتامی اجلاس
۶؍ستمبربروز اتوار نماز تہجد، فجر اور درس کے بعد ریفریشمنٹ اور ناشتے کا انتظام کیا گیا۔ صبح آٹھ بجے علمی و ورزشی مقابلوں کا آغاز ہوا۔ نظم کے صف اول و دوم کے فائنل مقابلوں کے علاوہ کرکٹ، والی بال اور رسہ کشی کے فائنل بھی منعقد ہوئے۔ بعد ازاں انصار مین مارکی میں جمع ہوئے جہاں صبح ساڑھے دس بجے انہیں جلسہ سالانہ جرمنی سے حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کا روح پرور اختتامی خطاب براہ راست سننے کی سعادت حاصل ہوئی۔
دوپہر ۱۲؍بجے اردو نہ بولنے والے نو مبائعین انصار کے ساتھ مکرم امیر صاحب کی زیر صدارت مسجد بیت الاسلام میں خصوصی سوال و جواب کی مجلس ہوئی، جبکہ اسی دوران مین مارکی میں صف اول کا اردو تقریر کا مقابلہ منعقد ہوا۔
اختتامی اجلاس:ظہرانے اور نمازوں کے بعد دوپہر اڑھائی بجے مین مارکی میں اختتامی اجلاس کا آغاز ہوا جس کی صدارت مکرم امیر صاحب نے کی۔ تلاوت قرآن کریم فرخ محمود صاحب نے کی جبکہ اردو ترجمہ عبد الستار قمر صاحب اور انگریزی ترجمہ داؤد محمد اسماعیل صاحب نے پیش کیا۔ عہد کے بعد توفیق احمد صاحب نے نظم پیش کی جس کا انگریزی ترجمہ Malik Agyemang صاحب نے کیا۔ بعد ازاں اجتماع کی رپورٹ پیش کی گئی اور مکرم امیر صاحب نے انعامات تقسیم کیے۔ مکرم صدر مجلس نے ایک بار پھر حاضرین کے سامنے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا۔ بعد ازاں مکرم امیر صاحب نے اختتامی تقریر کی اور اجتماعی دعا کے ساتھ یہ مبارک اجتماع اختتام پذیر ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انتالیسویں سالانہ اجتماع ۲۰۲۶ء میں ۱۸۶؍مہمانوں سمیت کُل ۳۵۲۲؍افراد شامل ہوئے۔
اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو تمام انصار کے لیے ایمان میں مضبوطی اور روحانی و تربیتی ترقی کا باعث بنائے اور ہمیں حقیقی معنوں میں انصاراللہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(رپورٹ:سہیل احمد ثاقب۔ ناظم اعلیٰ اجتماع انصاراللہ کینیڈا)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا نیشنل اجتماع مجلس انصاراللہ کینیڈا ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام
مکرم صدر صاحب مجلس انصار اللہ کینیڈا
السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ
الحمد للہ، اللہ تعالیٰ آپ کو اپنا سالانہ اجتماع منعقد کرنے کی توفیق عطا فرما رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو آپ سب کے لئے روحانی ترقی اور مضبوطیٔ ایمان کا ذریعہ بنائے۔
انصار کا مقام اور ذمہ داری یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہر ناصر اپنی عملی زندگی میں تقویٰ، عبادات کی پابندی اور خلافت احمدیہ سے وفا و اطاعت کو نمایاں کرے۔ اپنی نیک عملی کے ذریعہ نہ صرف اپنے ایمان کو مضبوط کرے بلکہ اپنی اولاد اور نوجوان نسل کے لئے ایک بہترین نمونہ بھی قائم کرے۔ یاد رکھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام جس انقلاب کے پیدا کرنے کے لئے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے گئے اس کا حصہ بننے کے لیے ہم نے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کو استعمال کرنا ہے۔ اپنی نسل میں بھی اس روح کو پھونکنا ہے۔ ان کے لئے دعائیں بھی کرنی ہیں۔ ان کی تربیت بھی کرنی ہے کہ معاشرے کے ان سب گندوں اور غلاظتوں کے باوجود ہم نے شیطان کو کامیاب نہیں ہونے دینا۔ اور دنیا میں خدا تعالیٰ کی حکومت قائم کرنے کی کوشش کرنی ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’وہ کام کرو جو اولاد کے لئے بہترین نمونہ اور سبق ہو۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے اوّل خود اپنی اصلاح کرو۔ اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیزگار بن جاؤ گے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا۔ قرآن شریف میں خضر اور موسیٰ علیہما السلام کا قصہ درج ہے کہ ان دونو نے مل کر ایک دیوار کو بنا دیا جو یتیم بچوں کی تھی۔ وہاں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَکَانَ اَبُوۡہُمَا صَالِحًا (الکہف: 83) ان کا والد صالح تھا۔ یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ آپ کیسے تھے۔ پس اس مقصد کو حاصل کرو۔ اولاد کے لئے ہمیشہ اس کی نیکی کی خواہش کرو‘‘(ملفوظات جلد 8 صفحہ 110)
پس یہ وہ بنیادی اصول ہے جس کی طرف بار بار حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے توجہ دلائی ہے۔ ماں باپ کا اپنا نمونہ بچوں کی تربیت میں خاص کردار ادا کرتا ہے۔ اللہ کرے کہ ہم میں سے ہر ایک اولاد کے لئے بہترین نمونہ بننے والا ہو۔
اللہ تعالیٰ آپ سب کو انصار اللہ کے قیام کے مقاصد کو پورا کرنے، اپنی ذمہ داریوں کو احسن رنگ میں ادا کرنے اور دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ کی مساعی میں برکت ڈالے، کوتاہیوں سے درگزر فرمائے اور اپنی خاص تائید و نصرت سے نوازے۔ آمین
مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ سرینام کاپینتالیسواں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء




