اسلام توحید کے قیام کے لیے آیا ہے
اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو عقل دے کہ وہ عقل سے کام لیں۔آپس میں مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے کی کوشش کریں۔ جب وہ توحید کا دعویٰ کرنے والے ہیں تو انہیں توحید کے قیام کے لیے ایک ہونا چاہیے۔ یونہی الزام تراشیوں سے جھگڑے بنانے کی ضرورت کوئی نہیں ہےاور یہ کہہ دینا کہ فلاں کے عقائد کی وجہ سے جھگڑے بڑھ رہے ہیں، بعض دفعہ عقائد کی وجہ سے بھی جھگڑے بڑھ رہے ہوتے ہیں اور یہ تو عام ہوتا ہے۔ جو مرضی چاہیں وہ کر لیںمسلمانوں میں آپس میں جو چپقلشیںہیں وہ اس وجہ سے بھی ہیں حالانکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تو اتنے محتاط اور اتنے شفقت کرنے والے تھے کہ صحابہؓ نے بعض دفعہ آپؐ کے سامنے بیان کیا کہ فلاں شخص منافق ہے تو آپؐ نے فرمایا :جب تک وہ لا الٰہ اِلّااللّٰہ کہتا ہے مَیں اسے کچھ نہیں کہہ سکتا اور تم بھی اسے منافق نہ کہو۔ (صحیح البخاری کتاب الصلاۃ باب المساجد فی البیوت حدیث:425)
پس ذرا ذرا سی بات پر جھگڑے کرنا دراصل اپنے آپ کو ہی نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ مسلمان دنیا کو اس کی بھی عقل دے۔ اب بھی وہ سمجھ جائیں۔صرف عقائد کے اختلاف کی وجہ سے ایران کے خلاف نہ ہو جائیں۔
اسلام توحید کے قیام کے لیے آیا ہے۔ اس لیے اس کی کوشش کرنی چاہیے۔ بڑی طاقتوں کو اپنا خدا نہ سمجھیں کیونکہ ہمیشہ رہنے والی طاقت صرف خدا تعالیٰ کی ہے۔ اگر ان بڑی طاقتوں کو ہی سب کچھ سمجھ لیا تو پھر یہ لوگ ایک ایک کر کے تمام اسلامی دنیا پر قبضہ کرلیں گے اور یہ جو ظاہری حکومتیں ہیں یہ بھی ختم ہو جائیں گی۔ پس اب بھی وقت ہے ہوش کرنے کی ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف جھکیں۔
ان دنیا داروں نے دنیا کا امن و سکون اور خاص طور پر مسلم دنیا کا امن و سکون برباد کیا ہے اور آئندہ بھی کریں گے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہدایت دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ
وَاِنۡ طَآئِفَتٰنِ مِنَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ اقۡتَتَلُوۡا فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا ۚ فَاِنۡۢ بَغَتۡ اِحۡدٰٮہُمَا عَلَی الۡاُخۡرٰی فَقَاتِلُوا الَّتِیۡ تَبۡغِیۡ حَتّٰی تَفِیۡٓءَ اِلٰۤی اَمۡرِ اللّٰہِ ۚ فَاِنۡ فَآءَتۡ فَاَصۡلِحُوۡا بَیۡنَہُمَا بِالۡعَدۡلِ وَاَقۡسِطُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ ۔ (الحجرات:10)
کہ اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان دونوں میں صلح کرا دو پھر اگر صلح ہو جانے کے بعد ان میں سے کوئی ایک دوسرے پر چڑھائی کرے تو سب مل کر اس چڑھائی کرنے والے کے خلاف جنگ کرو یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔ پھر اگر وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے تو عدل کے ساتھ ان دونوں لڑنے والوں میں صلح کرا دو اور انصاف کو مد نظر رکھو۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
(خطبہ جمعہ ۶؍مارچ ۲۰۲۶ء، الفضل انٹرنیشنل ۲۷ مارچ ۲۰۲۶ء)
مزید پڑھیں: قول اور فعل میں سچائی کا اعلیٰ معیار ہونا چاہیے



