نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۴؍اکتوبر ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ بشریٰ سلطانہ صاحبہ اہلیہ مکرم خواجہ منیر الدین قمر صاحب مرحوم(لندن۔یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

مکرمہ بشریٰ سلطانہ صاحبہ اہلیہ مکرم خواجہ منیر الدین قمر صاحب مرحوم (لندن۔یوکے)

۱۱؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو ۸۸ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ ۱۹۳۸ء میں دار السلام تنزانیہ میں مکرم عبد الکریم بٹ صاحب کے ہاں پیدا ہوئیں۔ مرحومہ کے میاں ۱۹۶۶ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کی ہدایت پر یو کے شفٹ ہو ئے۔ انہوں نے مسجد کے ساتھ قریبی تعلق قائم رکھنے کے لیے مسجد فضل کے قریب مکان خریدا اور ۵۵ سال تک اسی مکان میں رہائش رکھی۔ مرحومہ کے شوہر مکرم خواجہ منیر الدین صاحب مرحوم کو وکالت تبشیر اوردفتر پرائیویٹ سیکرٹری یوکے میں ۲۰ سال تک بطور والنٹیر خدمت کی توفیق ملی۔ مسجد کے قریب رہنے کی وجہ سے مرحومہ کو بھی جماعتی کاموں میں بھر پورشرکت کی توفیق ملتی رہی اور خاص طور پر شعبہ ضیافت میں ۲ دہائیوں سے زائد عرصہ خدمت کی توفیق پائی۔ آپ پابند صوم و صلوٰۃ، ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ پسماندگان میں ۲ بیٹے اور ۲ بیٹیاں شامل ہیں۔ آ پ مکرم رفیق احمد حیات صاحب (امیر جماعت یوکے) کی ممانی تھیں۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم غلام علی صاحب ابن مکرم غلام الرحمٰن صاحب مرحوم( آف بریشہ کلکتہ صوبہ بنگال۔انڈیا)

۲۵؍اگست ۲۰۲۶ء کو ۹۲ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار، تلاوت قرآن مجید میں باقاعدہ، صابر وشاکر، غریب پرور، مہمان نواز، نیک اور مخلص انسان تھے۔ خلافت سے بڑی محبت اور عقیدت کا تعلق تھا۔ آپ نے مختلف جماعتی عہدوں پر رہ کر خدمت کی توفیق پائی۔ آپ نے مقامی مسجد بریشہ کے لیے زمین کا ایک حصہ بھی ہبہ کیا۔ مستعد داعی الیٰ اللہ بھی تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ آپ کے دونوں بیٹے اور دو داماد اور تین نواسے واقفین زندگی ہیں۔ آپ مکرم شیخ محمد علی صاحب (مبلغ انچارج ضلع مرشد آباد صوبہ بنگال) کے والد تھے۔

۲۔مکرم حاجی عبد الوہاب میر صاحب (آف آسنور ضلع کولگام صوبہ جموں وکشمیر متوطن فیض آباد سری نگر کشمیر۔انڈیا)

۱۶؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو ۸۹ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت خواجہ عبدالرحمٰن میر صاحب رضی اللہ عنہ کے بیٹے اور حضرت میاں حبیب اللہ میر صاحب رضی اللہ عنہ کے پوتے تھے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، دُعاگو،بڑے صابر و شاکر، خوش مزاج، نفاست پسند، غریب پرور، مہمان نواز،صلہ رحمی کرنے والے ایک نیک فطرت انسان تھے۔ نظام جماعت سے گہری وابستگی تھی۔ کئی جماعتی عہدوں پر رہ کر مخلصانہ خدمت کی توفیق ملی۔ آپ کو حج بیت اللہ کی سعادت بھی نصیب ہوئی۔ پیشہ کے لحاظ سے سرکاری ٹیچر تھے اور ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے۔ غیر از جماعت اساتذہ کو ہمیشہ تبلیغ کرتے رہتے تھے۔ غیر از جماعت بچوں کو گھر میں قرآن کریم بھی پڑھا تے رہے۔ مرحوم نے ’’کوثر الرحمٰن‘‘ اور ’’گوشۂ گُل پوش‘‘ کے عنوان سے دو کتب بھی لکھیں۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں دو بیٹے شامل ہیں۔

۳۔مکرم عبدالباسط بھٹی صاحب ابن مکرم عبد العزیز شاد صاحب (آف ویزبادن۔ جرمنی)

۱۲؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو ۶۴سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ كے خاندان میں احمدیت آپ كے پڑنانا حضرت میاں عطاء اللہ صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام كے ذریعہ آئی جو چاركوٹ راجوری كشمیر كے رہنے والے تھے۔ جب چاند سورج گرہن كا نشان ظاہر ہوا تو ان كے بڑے بھائی حضرت قاضی محمد اكبر صاحب رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائیوں كو ایك وفد كے ساتھ حضرت مولانا برہان الدین صاحب جہلمی رضی اللہ عنہ كے پاس جہلم بھیجا كہ امام مہدی كے ظہور كا نشان ظاہر ہو گیا ہے، آپ اس بارہ میں كیا كہتے ہیں۔ انہوں نے كہا کہ حضرت امام مہدی قادیان میں ظاہر ہو چكے ہیں، جاكر ان كی بیعت كرو۔ چنانچہ یہ وفد سیدھا قادیان گیا اور بیعت سے مشرف ہوا اور واپس آكر حضرت قاضی اكبر صاحب رضی اللہ عنہ كو خبر دی۔ اس پر انہوں نے بھی پہلے خط كے ذریعہ اور پھر دستی بیعت كی توفیق پائی۔ یہ پانچوں بھائی صحابی تھے۔ مرحوم صوم وصلوٰۃ کے پابند، تہجدگزار، دعاگو، بڑے دیانت دار، غیر معمولی ہمدرد اور ہردلعزیز انسان تھے۔ صبح کے وقت خوبصورت آواز میں دیر تک قرآن کریم کی تلاوت کرتے اور اس کے بعد ترجمہ بھی پڑھتے تھے۔ ہمیشہ باوضو رہنے كی كوشش كرتے۔ کسی کی غیبت یا برائی کو پسند نہیں کرتے تھے۔ اگر کوئی غلطی كرتا تو بڑی حكمت سے علیحدگی میں سمجھاتے تھے۔ چندوں میں باقاعده تھے۔ جماعت اور خلافت کے لیے بہت غیرت ركھتے تھے۔ بچوں كو ہمیشہ خلیفہ وقت کی اطاعت اور جماعت کے ساتھ جڑے رہنے کی نصیحت کیا کرتے تھے۔ جرمنی آنے كے بعد سے آپ مسلسل کسی نہ کسی شعبے میں جماعتی خدمت سرانجام دیتے رہے۔ وفات كے وقت اپنے حلقہ میں سیكرٹری وصایا کے طورپر خدمت کی توفیق پارہے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی اورتین بیٹے شامل ہیں۔ آپ كے ایک بیٹے مکرم باسل احمدبھٹی صاحب جرمنی میں مربی سلسلہ ہیں۔ جبکہ دوسرے بیٹے عزیزم شمائل احمد بھٹی جامعہ احمدیہ جرمنی کے طالب علم ہیں۔ آپ مکرم عبد المؤمن طاہر صاحب (مربی سلسلہ انچارج عربی ڈیسک مرکزیہ یوکے) کے چھوٹے بھائی اور مکرم عبد الودود بھٹی صاحب (واقف زندگی وکالت تبشیریوکے) کے بڑے بھائی تھے۔ جبکہ آپ کےایک بھائی مکرم عبدالشکور صاحب … اور دوسرے بھائی مکرم حافظ عبدالکریم صاحب … خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

۴۔مکر مہ ثروت نصیر بٹ صاحبہ بنت مکرم غلام احمد صاحب (لاہور)

۷؍فروری ۲۰۲۶ء کو ۸۰ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ حضرت حاجی گلاب دین صاحب رضی اللہ عنہ کی پڑپوتی، حضرت میاں جمال دین صاحب رضی اللہ عنہ (آف بھڈیار ضلع امرتسر) کی پوتی اور حضرت حکیم مولوی جلال دین صاحب رضی اللہ عنہ کی نواسی تھیں۔ مرحومہ نے مقامی مجلس میں سیکرٹری ناصرات اور نائب سیکرٹری مال کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ گھر میں ڈش انٹینا نہ ہونے کی وجہ سے ہر جمعہ کو سفر کر کے حلقہ کے مرکز میں خطبہ سننے جاتی تھیں۔ ماہانہ جماعتی رپورٹس مسجد تک پہنچانے کا کام بھی آپ نے اپنے ذمہ لے رکھا تھا۔ آخری عمر میں بصارت سے محرومی کے باعث خطبہ جمعہ اور ایم ٹی اے کے پروگرام ہیڈ فونز کے ساتھ سنتی تھیں۔ مرحومہ خوش اخلاق، ملنسار، مہمان نواز، بڑی نیک اور دعا گو خاتون تھیں۔ نظام جماعت اور خلافت کے ساتھ گہرا اخلاص ووفا کا تعلق تھا۔ گھر یلو ذمہ داریوں کے باوجود جماعتی خدمات میں پیش پیش رہتیں۔ رحمی رشتوں کا بہت خیال رکھتی تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں۔

۵۔مکرم قاضی بدر لطیف صاحب ابن مکرم قاضی عزیز احمد صاحب (دار النصر شرقی محمو در بوہ)

۳؍فروری ۲۰۲۶ء کو ۶۰ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مکرم قاضی نذیر احمد صاحب لائلپوری کے پوتے تھے۔ مرحوم نے اپنی زندگی کے تقریباً ۴۰ سال نہایت ہمت اورصبر و حوصلے کے ساتھ بیماری میں گزارے۔ کبھی اف تک نہ کی اور نہ ہی کبھی کسی سے اپنی تکلیف پر کوئی شکوہ کیا۔ مرحوم کو ۱۳ سال تک مسجد اقصیٰ میں لاؤڈسپیکر کی خدمت کی توفیق ملی۔ آپ بڑے ملنسار، مہمان نواز اور نرم دل انسان تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔

۶۔مکرم عبد الہادی عصام صاحب (آف مراکش)

۷؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو ۶۸ سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ مراکش جماعت کے پرانے ممبر تھے اور مکرم عصام الخامسی صاحب (صدر جماعت مراکش) کے بھائی تھے۔ آپ نے ۲۰۱۰ء میں بیعت کی تھی۔ کثرت سے درود شریف پڑھنے کے عادی تھے اور دوسرے احمدیوں کو بھی اس کی ترغیب دلایا کرتے تھے۔ آخری بیماری بڑے صبر و تحمل سے برداشت کی۔ مرکزی مہمانوں کی خدمت بڑی خوشی اور شوق سے کیا کرتے تھے۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بہنیں اور ایک بھائی شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔

اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button