افریقہ (رپورٹس)

سرینام میں اسلام احمدیت مختصر تاریخ، مبلغین سلسلہ کی مساعی ، ملکی اخبارات میں جماعتی خبریں ۔ قسط4

(لئیق احمد مشاق۔ نمائندہ الفضل انٹر نیشنل سرینام)

محترم مولانا حسن بصری صاحب دسمبر1991ء میں واپس انڈونیشیاتشریف لے گئے اور کچھ وقفے کے بعد محترم مولانا حمید احمد ظفر صاحب سرینام تشریف لائے۔

مولانا حمید احمد ظفر صاحب

مولانا حمید احمد ظفر صاحب کی مارچ 1993 ء میں سرینام تقرری ہوئی۔آپ ہالینڈ کے راستے 31؍مئی 1993ء بروز پیردن ساڑھے تین بجے سرینام پہنچے۔

ایک نہایت مبشر خواب

 مولانا حمید احمد ظفر صاحب کی ذاتی ڈائری میں 2؍جون 1993ء کی تاریخ میں یہ مبشر خواب ان الفاظ میں درج ہے : ’’یہ نظارہ ہے جیسے کوئی کہہ رہا ہو مرزا مسرور احمد ابن حضرت مرزا منصور احمد پر آئندہ جماعت کی بہت بڑی ذمہ داری ڈالی جانی ہے۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ‘‘۔

سرینام میں ایم ٹی اے کی نشریات سے استفادہ کا انتظام

 1994ء کے آغاز میں ایم ٹی اے کے لئے ڈش اینٹینا لگوانے کی کوشش شروع ہوئی۔ اس سلسلہ میں مرکزی ہدایت کے مطابق امریکہ کی جماعت سے رابطہ قائم کیا۔ مولانا ظفر صاحب نے مکرم ادریس منیر صاحب ابن محترم مولانا محمد اسمٰعیل منیر صاحب سے خط وکتابت کی اور ضروری معلومات کا تبادلہ کیا۔ 4جون کو ڈش اینٹینا اورمتعلقہ سامان امریکہ سے موصول ہوا۔جون کے آخر میں امریکہ سے محترم ادریس منیر صاحب اپنے دو معاونین مکرم عبداللہ ہاگورا صاحب اور مکرم یوسف سید صاحب کے ساتھ ڈش سیٹ کرنے سرینام آئے۔دو ممبران محترم یوسف علی جان صاحب اور محترم خلیل علی جان صاحب نے مشن ہائوس کی چھت پر ڈش لگانے کے لئے جگہ تیار کی اور 30 جون 1994ء کو سرینام میں مسلم ٹیلی ویژن احمدیہ انٹر نیشنل کی نشریات کا آغاز ہوا۔ 2جولائی کومولانا ظفر صاحب نے حضور انور کو شکریہ اور مبارکباد کا خط لکھا کہ حضور کی شفقت اور توجہ سے آج سرینام کے لوگ بھی اس روحانی مائدہ سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوئے ۔ اس فیکس کے جواب میں حضورانور کا مکتوب محررہ مورخہ25 جولائی 1994ء ان الفاظ میں موصول ہوا: ’’یہ جان کر خوشی ہوئی کہ سرینام میںسیٹلائٹ ڈش کے ذریعہ ایم ٹی اے کے پروگر ام سننے اور دیکھنے کا انتظام ہو گیا ہے۔الحمد للہ بارک اللہ لکم۔عزیزم عبداللہ ہاگورا صاحب نے بھی اس بارہ میں مجھے اطلاع بھجوائی تھی۔ اللہ تعالیٰ سب کام کرنے والوں کو جزائے خیر عطا فرمائے۔کسٹم آفیسرز کا بھی شکریہ ادا کریں‘‘۔

مذہبی کانفرنس میں شرکت

 13 مئی 1994ء کو تمام مذاہب کے نمائندوں کی میٹنگ کلچرل سنٹر سرینام میں ہوئی، جہاں مبلغ سلسلہ کو مختلف فرقوں اور مذاہب کے لوگوں کو جماعت کا تعارف کروانے کا موقعہ ملا۔اس موقعہ پرایک مذہبی لائبریری کاقیام بھی عمل میں آیا، جس میں دو شیلف ہر مذہب کیلئے مخصوص تھے۔ مسلمانوں کیلئے مخصوص دونوں شیلف جماعتی کتب سے بھر گئے۔ باقی مسلمانوں کی طرف سے صرف دو قرآن مجید دیئے گئے۔

فوروبوئیتی مشن ہائوس کی تعمیر

 سال1994 ء کے دوران حلقہ فوروبوئیتی میں مشن ہائوس کی تعمیرہوئی۔ مسجد نصر کے قریب عمارت کی بنیاد رکھنے کے بعد وقار عمل سے اس کام کا آغاز ہوا اوردس سال قبل مسجد کی تعمیر کی طرح اس مشن ہائوس کی تعمیر بھی قلیل وقت میں مکمل ہوگئی۔ مالی وسا ئل کی کمی کی وجہ سے چھت پر پرانا ٹین پینٹ کر کے استعمال کیا گیا۔مقامی افراد ،خاص طور پر نوجوانوں نے اس کار خیر میں بھر پور حصہ لیا۔

ریڈیوپروگرام کی مخالفت اور تائید الہٰی

مکرم حمید احمد ظفر صاحب مبلغ سلسلہ نے اپنی آمد کے کچھ عرصہ بعد دسمبر 1993ء میں Rapar Radio ’’راپار ریڈیو ‘‘پر ہفتہ وارجماعتی پروگرام شروع کیا جو عوام الناس میں بہت مقبول ہوا۔ یہ پروگرام زیادہ تر غیر مبائعین کے عقائد کا ردّ، ان کا بودا پن اور احمدیت کی صداقت کے دلائل قاطعہ پر مشتمل تھے۔ شروع میں ان کے سرکردہ افراد نے ان دلائل کا جواب دینے کی کو شش کی لیکن حق کے سامنے زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے اور رسوائی کے ڈر سے چینل کے مالک پر دبائو ڈال کریہ پروگرام ہی بند کروا دیا۔

دسمبر95 ء میں راپار نے پروگرام بند کیا تو مولانا ظفر صاحب نے فوراً Radio Radika ’’رادیکا ریڈیو‘‘ کی انتظامیہ سے مل کر وہی دن اور وہی وقت اُن سے حاصل کر لیا اور وہاں سے ڈنکے کی چوٹ پر حق کا پرچار شروع کردیا۔نصف گھنٹے کا یہ پروگرام ہر جمعہ کی شام نشر ہوتا تھا۔

مارچ 1996ء میں مولانا حمید احمد ظفرصاحب رسول بخش نامی ایک غیر از جماعت کے ہاں شادی کی دعوت میں مدعو تھے، اس تقریب میں ملک کے نائب صدر مسڑ جولیس رتن کمار آیہودیا (Mr. Jules Rattankoemar Ajodhia) سمیت شہرکے معززین کثیر تعداد میں موجود تھے۔ میزبان کی دعوت پر مولاناظفر صاحب نے اس مجلس میں اسلامی شادی اور اس سے متعلقہ امور پر آدھا گھنٹہ تقریر کی ۔اس پرجماعت کے دیرینہ مخالف ایک مولوی عبدالبصیر عرف چٹن نے ناراضگی کا اظہار کیا کہ ہمارے ہوتے ہوئے قادیانی کو تقریر کی دعوت دی گئی۔ چنانچہ اسے بھی سٹیج پر بلایا گیا لیکن وہ صرف چند الفاظ ہی بول سکا۔ تقریب کے آخر پر نائب صدر اور دوسرے معززین مولانا صاحب سے گلے ملے اور آپ کو بہترین تقریر کرنے پر مبارکباد دی۔

مالی قربانی کی تحریک اور خواتین کاجذبہ

6جون1997 ء کو خطبہ جمعہ میں مولانا صاحب نے یورپین مساجد کے لئے چندہ کی تحریک کی تو 13خواتین نے اپنے زیورات پیش کئے ۔ ان زیور ات کی کُل مالیت تقریباً1638 امریکی ڈالر بنتی تھی۔ یہ زیورات جب حضور رحمہ اللہ کی خدمت اقدس میں پیش کئے گئے تو حضور نے فرمایا: ’’جس جس نے یہ تحائف دیئے ہیں ان کو شکریہ اور جزاکم اللہ کہیں ۔اللہ قبول فرمائے اور اپنے بے شمار فضلوں سے نوازے،سب کے جان ومال میں برکت بخشے،سب کو میری طرف سے سلام کہیں۔‘‘ (خط محررہ 8؍ستمبر 1997ء)

ہومیو ڈسپنسری کا اجراء

اکتوبر 1996ء کے وسط میں لندن سے ہومیوپیتھک ادویات کے تین بکس ملے۔مرکز سے ہومیو ادویات ملنے کے بعد مولانا حمیدظفرصاحب نے وسیع پیمانے پر علاج کی مہم شروع کی اور کثرت سے لوگ آپ کے پاس علاج کے لئے آنے لگے۔ ہومیو گلوبیولز کے لئے آپ نے غانا رابطہ کیا اور وہاں سے کافی مقدار میں آپ کو یہ گولیاں بھجوائی گئیں۔ جماعت کے ایک ممبر شبیر جمن بخش کی اہلیہ مخلصہ خاتون پھیپھڑوں کے کینسر میںمبتلا تھیں۔ آپ نے انہیں ہومیو نسخہ استعمال کروایا جس سے کافی سکون محسوس ہوا۔ آپ نے جنوری 1997ء کے آخر میں مرکز کو اس علاج سے آگاہ کیا اور مختصر عرصہ میں 56 مریضوں کو مختلف امراض کی ادویات دے کر اس کی رپورٹ بھجوائی ۔

حضر ت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے اس رپورٹ کے جواب میں فرمایا:’’اللہ مبارک کرے،اب آپ اس سلسلہ کو جاری رکھیں ‘‘۔نیز ایم ٹی اے پر ہومیو پیتھک کلاس میں مورخہ 26 مارچ 1997 ء کو اس رپورٹ کا ذکر بھی فرمایا۔ اس ایک سال کے دوران مولانا ظفر صاحب نے تقریباً 970؍ افراد کو ہومیو ادویات دیں۔

مشن ہائوس کی چھت کی تبدیلی

محترم مولانا حمید احمد ظفر صاحب کے قیام کے دوران جماعت نے ہر شعبہ میں ترقی کی، نیزمتعدد تعمیری کام ہوئے۔ ان میں سے ایک اہم کام مشن ہائوس کی چھت کی تبدیلی تھا ۔ مشن ہائوس کی چھت تقریباً بیس سال پرانی تھی اور مشن ہائوس کی عمارت میں مختلف وقتوں میں کچھ اضافہ بھی کیا گیا تھا۔ مشن ہائوس کے سامنے کا حصہ جماعتی پروگراموں کے لئے استعمال ہوتا تھا جس پر سائبان نہیں تھا،لیکن سائبان بنانے کے لئے ستون محترم مولانا حسن بصری صاحب کے وقت میں تعمیر ہو چکے تھے۔ مولانا ظفر صاحب نے عطایا کی صورت میں رقم اکٹھی کر کے اس کام کا بیڑا اٹھایا۔ اور پوری عمارت کیلئے ایک چھت کا منصوبہ تیار کیا۔اس کام کے لئے لکڑی کے جتنے لمبے بالے درکار تھے وہ عام طور پر دستیاب نہیں تھے۔ آپ نے لکڑی کے مختلف کارخانوں سے رابطہ کرکے مطلوبہ بالے حاصل کئے اور پوری عمارت اور سامنے کا حصہ ایک ہی چھت سے ملا دیا۔ اس چھت کا تمام ٹین محترم نصیر علی بخش صاحب نے عطیہ دیا،جس سے خرچ کی بہت بچت ہوئی۔

جلسہ سالانہ1997 ء

 جماعت احمدیہ سرینام کا اٹھارواں جلسہ سالانہ 6 اور 7 ستمبر ،بروز ہفتہ اتوار مرکزی مسجد ناصر میں منعقد ہوا۔اس جلسہ میں ہمسایہ ملک گیانا سے مکرم عبدالرشید آغبولہ صاحب مبلغ سلسلہ اور ٹرینیڈاڈ کے امیرو مشنری انچارج مکرم ابراہیم بن یعقوب صاحب کے علاوہ دونوں ملکوں سے سترہ مہمان جلسہ میں شمولیت کے لئے تشریف لائے۔ اس جلسہ کی وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی۔ پروگرام کے لئے سادہ اور پر وقار جلسہ گا ہ تیار کی گئی۔ تراجم قرآن مجید اور نمائش کتب کا اہتمام کیا گیا۔جلسہ میں مختلف مذاہب اور اقوام سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل ہوئے۔اس موقع پر تعلیمی اور تربیتی کلاس میں نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے افراد جماعت کو انعامات بھی دیئے گئے۔ سرینام میں کافی عرصہ بعد اس طرح کا پروگرام منعقد ہوا جو ہر لحاظ سے کامیاب رہا۔

 نومبر 1998ء کے آخری عشرہ میں مولانا حمید احمدظفر صاحب کو پاکستان واپسی کا ارشاد موصول ہوا۔ یوں آپ چھ سال خدمات بجا لانے کے بعد دسمبر 1998 ء میں واپس پاکستان تشریف لے گئے۔ مجموعی طور پر آپ کے قیام کے دوران جماعت نے ہر میدان میں قدم آگے بڑھایا، بہت سارے اطفال اور ناصرات آپ کے زیرتربیت جوان ہوئے اور انہوں نے دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ اردو لکھنی پڑھنی سیکھی۔ تبلیغ کے لئے منظم کوششیں کی گئیں۔ باقاعدگی سے جماعتی کتب کے سٹال لگا ئے گئے۔ آپ نے افراد جماعت میں مالی قربانی کے جذبے کو بیدار کیا جس سے چندے میں کئی گنا اضافہ ہوا،اور جماعت پہلی دفعہ مالی لحاظ سے خودکفیل ہوئی۔ اور بہت سارے لوگ اس لحاظ سے آپ کے احسان مند بن گئے کہ آپ نے انہیں باقاعدہ چندہ دینے کی عادت ڈالی اور وہ اِس نیکی پر مضبوطی سے قائم بھی ہو گئے۔مولانا صاحب نے اپنی ذاتی کوشش سے جماعتی ضروریا ت کو پورا کرنے کے لئے پلاسٹک کی 50 کرسیاں خریدیں، جماعتی کچن کے لئے برتن، کھانا پکانے کے لئے کڑاہیاں اور متعدد دوسری اشیاء تیار کروائیں۔ عمارت کی تعمیرو مرمت کا بھی بہت سا کام آپ کی محنت اور کوشش سے تکمیل کو پہنچا۔ خداتعالیٰ آپ کو اس خدمت کا بہترین اجر عطا فرمائے اور دین و دنیا کی حسنات سے نوازے۔

جلسہ سا لانہ برطانیہ اور عالمی بیعت

 جولائی 1999ء میں مجلس عاملہ نے یہ فیصلہ کیا کہ جلسہ سالانہ برطانیہ کے ساتھ ا نہی دنوں میں سرینام کا جلسہ سالانہ بھی منعقد کیا جائے،اور عالمی بیعت میں شامل ہوا جائے۔ چنانچہ تب سے یہ طریق چلا آتا ہے کہ جلسہ برطانیہ کے آخری دن کے پروگرام مسجد میں دیکھنے کا انتظام کیا جاتا ہے اور افراد جماعت عالمی بیعت میں شامل ہوتے ہیں۔

نومبر2001 ء میں 8 افراد پر مشتمل جماعتی وفد جلسہ سالانہ گیانا میں شمولیت کے لئے جارج ٹائون گیا۔

ٹی وی پر رمضان پروگرام کا آغاز

 سال 2001 ء کے آواخر میں سرینام میں ایک نئے ٹی وی چینل’’سنگیت مالا‘‘ کا قیام عمل میں آیا اُس سال نومبر میں رمضان المبارک کے آغاز سے قبل اِس چینل کی انتظامیہ نے جماعت سے رابطہ کیا کہ آپ ہمارے چینل سے دینی پروگرام پیش کریں۔ اس وقت جماعت کے پاس کوئی مبلغ نہیں تھا، لہٰذ اکچھ ممبران نے بڑی محنت سے رمضان المبارک کے حوالے سے پندرہ پندرہ منٹ کے 30پروگرام تیار کئے اور ان کے سٹوڈیو میں جاکر ریکارڈنگ کروائی، اور اس طرح ایک نیک سلسلہ کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد ہر سال باقاعدگی سے جماعت کو اس کارخیر کو انجام دینے کی توفیق مل رہی ہے۔

ٹی وی کے لئے عید پروگرامز کی ریکارڈنگ

اُسی سال دسمبر2001ء میں ’’سنگیت مالا ‘‘ٹی وی چینل 26 سے 45 منٹ کا اور’’راماشا میڈیا گروپ (R.M.G) چینل 38 سے 50 منٹ دورانیے کا ’’عیدسپیشل ‘‘ پروگرام نشر ہوا، ہر دو پروگرام میں تلاوت قرآن مجید مع ترجمہ،نظم ’عید کا پیغام‘ ،حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا تعارف ،دعویٰ اور تحریرات کے نمونے پیش کئے گئے۔

ہفتہ وار ٹی وی پروگرام کا آغاز اورسٹوڈیو کی تیاری

جنوری 2002ء کے وسط میںہفتہ وار ٹی وی پروگرام شروع کرنے کے لئے مختلف ٹی وی چینلز سے رابطہ کرکے خرچ معلوم کیا گیا۔سب سے کم معاوضہ پچیس سرینامی ڈالر فی پروگرام ’’راپار براڈکاسٹنگ نیٹ ورک‘‘ والوں نے بتایا ۔ 18جنوری بروز جمعۃالمبارک جماعتی دفتر کے ساتھ ملحقہ ایک کمرے کو بطور سٹوڈیو سیٹ کرنے کا پروگرام بنایا گیا اور ضروری سامان خریدا گیا۔ 21 جنوری بروز پیر اس سٹو ڈیو میں پہلی بارریکا ڈنگ کی گئی۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے 22 جنوری2002ء بروز منگل (RBN Ch 5)سے پندرہ منٹ دورانیہ کا پہلا جماعتی پروگرام نشر ہوا۔کچھ عرصہ ہفتہ میں دو پروگرام ہفتہ اور منگل کی سہ پہر نشر ہوتے رہے۔ پھر صرف ایک پروگرام ہفتہ کی سہ پہر نشر ہونا شروع ہوا اور یہ سلسلہ بفضل خدا آج بھی باقاعدگی سے جاری ہے۔

سرکردہ شخصیات سے ملاقات

 یکم مارچ2002ء بروز جمعۃ المبارک جماعتی وفد نے علاقے کے پولیس کمشنر(Mr. Linkers)سے ملاقات کی، جماعت کا تعارف کروایا اور لٹر یچر پیش کیا۔

19 مارچ 2002ء بروزمنگل جماعتی وفد نے چیف کمشنر پولیس سرینام مسٹر برام سے ملاقات کی۔جماعت کا تفصیلی تعارف کروایا ،قرآن مجید اور دوسرا لٹریچر پیش کیا۔

25مارچ 2002ء کو صدر صاحب جماعت کی قیادت میںایک وفد نے ملک کے نائب صدر مسٹر جولیس رتن کمار آیہودیا (Mr.Jules Rattankoemar Ajodhia) سے ملاقات کی، جماعت کا تعارف کروایا، قرآن مجید اور جماعتی لٹریچر پیش کیا۔

جلسہ ہائے سیرۃالنبیؐ اور تبلیغ سیمینار

 اپریل 2002ء میں مبلغ انچارج گیانا نے دونوں ملکوں کا ایک مشترکہ پروگرام منعقد کرنے کی تجویز پیش کی۔اس تجویز کوعملی شکل دینے کے لئے جلسہ ہائے سیرۃالنبی صلی اللہ علیہ وسلم اور تبلیغ سیمینار کی تیاری کی گئی۔ ایک جلسہ کے لئے شہر میں واقع ’’بوائز سکائوٹس ‘‘کاہال بک کروایا گیا۔ 30مئی کو گیانا سے چھ رکنی وفد مبلغ سلسلہ کی قیادت میں سرینام پہنچا۔ 31مئی کو حلقہ فوروبوئیتی (Fowruboiti) میں پہلاجلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم منعقد ہوا۔ 120 افراد جماعت کے علاوہ 60ہندو مردوزن اس جلسہ میں شامل ہوئے۔ حاضرین نے اس پروگرام کو بہت پسند کیا۔

 2جون 2002ء بروز اتوار بوائز سکائوٹس ہال میں دوسرا جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم منعقد ہوا۔ اس کامیاب پروگرام کے اختتام پر مجلس سوال و جواب بھی منعقد ہوئی۔ اس جلسہ میں 70مہمان شامل ہوئے۔اُسی شام مسجد ناصر میں تبلیغ سیمینار ہوا جس میں مبلغ انچارج گیانا نے لیکچر دیا اور تبلیغ کے طریق اور دلائل سکھائے۔

اسلام میں عورت کا مقام  کے موضوع پر ٹی وی پروگرام

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے 1986ء تا 1988ء جلسہ ہائے سالانہ برطانیہ کے موقع پر ’’اسلام میں عورت کا مقام‘‘کے موضوع پر انتہائی پر حکمت تقاریر ارشاد فرمائی تھیں۔ یہ علمی خزانہ چھ اقساط میں الفضل انٹرنیشنل میں شائع شدہ ہے۔ ستمبر 2002ء میں ان تقاریر کا ترجمہ کرکے ٹی وی پروگرام میں پیش کر نا شروع کیا گیا،اور یہ پروگرام لجنہ اماء اللہ کی ممبرات نے ریکارڈ کروائے۔ یہ پروگرام عوام الناس میں بہت مقبول ہوئے۔ محکمہ سوشل ویلفیئر کے ڈائر یکٹر نے فون پہ رابطہ کرکے کہا کہ: ’’میں سنی مسلمان ہوں اور آپ کی جماعت کے پروگرام باقاعدگی سے دیکھتا ہوں، میں نے پہلی دفعہ دیکھا ہے کہ ایک خاتون اپنے بارے میں اسلامی تعلیم عوام الناس کے سامنے پیش کر رہی ہے ،جس میں گہری حکمت اورسچائی ہے‘‘۔

بین المذاہب سمپوزیم

 جماعت احمدیہ کے یوم تاسیس کے حوالے سے 23مارچ 2003ء کو Peace and Brotherhood کے موضوع پربین المذاہب سمپوزیم کے انعقاد کا پروگرام بنایا گیا۔ اس مقصدکے لئے شہر کے وسط میں واقع ’’بوائز سکائوٹس‘‘ کا ہال بک کروایا گیا۔ اس پروگرام کی دعوت جماعت کے تعارفی خط کے ساتھ صدر مملکت ،وزراء اور مختلف مذہبی جماعتوں تک پہنچائی گئی اور بکثرت دعوت نامے تقسیم کئے گئے۔نیز’’ ہندو اور سکھ مذہب میں اوتار کی پیشگوئیاں ‘‘ اور’’ مسیح کی آمد ثانی‘‘کے عنوان سے فولڈرز تیار کئے گئے ، سمپوزیم کے موضوع کی مناسبت سے ایک بینر تیار کروایا گیا۔اخبار اور ٹی وی پر اس پروگرام کی تشہیر کی گئی۔صد ر جمہوریہ کے دفتر سے فون آیا کہ وہ ملک سے باہر ہیں لہٰذا وزیر تعلیم Mr. Walter Sandriman ان کی نمائندگی میں اس پروگرام میں شریک ہونگے۔ 21مارچ کو اخباری نمائندے نے مشن ہائوس فون کیا اور اس پروگرام اور اس کے مقاصد کے بارے میںمعلوما ت حاصل کیںاور 22مارچ 2003ء بروز ہفتہ روز نامہ De Ware Tijdنے صفحہ 3پراس سمپوزیم کے انعقاد کی خبر کو تفصیل سے شائع کیا۔پروگرام سے قبل ہال کو مختلف بینرز، نیزحضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کرام کی تصاویر سے آراستہ کیا گیا۔تراجم قرآن مجید اور جماعتی لٹریچر کی نمائش لگائی گئی۔ جماعت کی طرف سے محترم فرید جمن بخش صاحب نے قرآن مجید ،احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات سے مزیّن تقریر انتہائی اچھے انداز سے پیش کی۔ ہندو اور عیسائی نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

مجموعی طور پر یہ سمپوزیم خداتعالیٰ کے فضل سے انتہائی کامیاب رہا اور شرکاء نے جن میں مختلف رنگ ،نسل اور مذاہب کے لوگ تھے انہوں نے پروگرام کے معیار کی بہت اچھے انداز میں تعریف کی۔ 24 مارچ کو روز نامہ De Ware Tijd نے صفحہ 12پر اس سمپوز یم کی خبر کو تمام مقررین کے اقتباسات اور دو تصاویر کے ساتھ تفصیل سے شائع کیا۔ اخبار نے جماعت کی اس کوشش کو سراہا اور اس موضوع کی تعریف کی اور اسے وقت کی ضرورت قرار دیا۔

اخبارات میں جماعتی مضامین

30جنوری 2004ء بروز جمعۃ المبارک روزنامہ De Ware Tijd نے ’’عید الاضحی کا فلسفہ اور اہمیت‘‘ کے حوالے سے ایک مضمون صفحہ نمبرA4پر شائع ہوا۔ محترم مولانا لئیق احمد طاہر صاحب مبلغ انگلستان نے جلسہ سالانہ برطانیہ 2003ء کے موقعہ پر ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اسلوب جہاد‘‘کے موضوع پر تقریر کی تھی۔ اس تقریر کا ترجمہ کرکے مقامی اخبارات کو بھجوایا گیا۔ روزنامہ Dagblad SURINAME نے 22؍ جنوری 2004ء بروز جمعرات اس مضمون کی قسط اول اور 28جنوری بروز بد ھ قسط دوم صفحہ نمبر B3پر شائع کی۔

شادی اور مثبت ازدواجی تعلقات کے حق میں اور ہم جنس پرستی کے خلاف اسلامی تعلیم کے حوالے سے ایک تفصیلی مضمون تیار کرکے تمام اخبارات کو بھجوایا گیا۔ روزنامہ Dagblad SURINAME نے 25فروری 2004ء بروز بدھ اس مضمون کی پہلی قسط اور منگل 2مارچ کو قسط دوم صفحہ B3پر Sex and Marriage کے عنوان سے شائع کی۔

پیر یکم نومبر 2004ء کو روزنامہ De Ware Tijd دا وار ٹیڈنے رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی فضیلت کے حوالے سے ایک مضمون صفحہ A4پر شائع کیا۔

 جماعت احمدیہ سرینام کے قیام کی  پچاس سالہ تقریب

 نومبر 2006ء میں سرینام میں جماعت کے قیام کو پچاس سال مکمل ہوئے ،اس حوالے سے متعدد یادگار کام ہوئے جن میںسے چند درج ذیل ہیں۔ امسال مسجد ناصر کی تزئینِ نَو کی گئی ، پرانی چھت کی جگہ لوہے کے پائپ کی نئی چھت اور سبز پلاسٹک شیٹ کی سیلنگ بنوائی گئی۔لکڑی کی جگہ ایلمونیم کی کھڑکیاں لگوائی گئیں ۔

٭ 7مارچ کو جماعتی وفد نے بھارتی سفیر مسٹر آشوک کمار شرما سے ملاقات کی۔ اس وقت ڈینش اخبارات میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں والا معاملہ عروج پر تھا ۔ اس حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوئی اورانہیں جماعتی مئوقف سے آگاہ کیا گیا،نیز جماعتی عقائد کے حوالے سے تقریباً 90منٹ تک گفتگو ہوئی۔سفیر موصوف کو قرآن مجید اورجماعتی لٹریچر بھی دیا گیا۔

٭ 22اپریل 2006کو جلسہ سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم منعقد ہوا۔ جس میں ’’بانیان مذاہب کی عزت‘‘ کے حوالے سے قرآنی تعلیم اور اسوہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کیا گیا۔۔ملک کے نائب صدر مسٹر رام دین سارجو سمیت اہل علم حضرات کی بڑی تعداد اس پروگرام میں شامل ہوئی۔ATV.Ch 12نے 23اپریل کو اس جلسہ کی تفصیلی خبر نشر کی۔

٭مئی 2006ء میں سرینام کے چار اضلاع سیلاب سے بری طرح متأثر ہوئے ۔ اس موقعہ پر ہیومینٹی فرسٹ امریکہ کا نمائندہ مبلغ پانچ ہزار امریکی ڈالر کی رقم لے کر سرینام آیا۔ اور متأثرین کے لئے اشیاء خورونوش اور ضرورت کا سامان خرید کر 26مئی کو ملٹری حکام کے حوالے کیا گیا۔

٭ 23اکتوبر کو عید الفطر منائی گئی۔اس موقعہ پر نائب صدر مسٹر رام دین سارجو مسجد آئے اور دو گھنٹے سے زائد وقت افراد جماعت کے ساتھ رہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیثیت،دعویٰ ،جماعت کا نام احمدیہ رکھنے کی وجہ اور نظام خلافت کے حوالے سے سوالات بھی کئے، جن کے تفصیلی جوابات دیئے گئے۔دو مختلف ٹی وی چینلز کے نمائندوں نے نائب صدر کا انٹرویو لیا۔مقامی وقت کے مطابق شام چھ بجے ATV Ch 12پر اور رات ساڑھے سات بجے STVS Ch.8پر خبروں میں یہ انٹر ویو اور نماز عید کے مناظر نشر ہوئے۔

 ٭امسال پچاس سالہ تقریب کے لئے خصوصی طور پر شرٹس،سٹکر اور مختصر جماعتی تاریخ پر مبنی کتابچہ تیار کروایا گیا۔ اور جلسہ سالانہ کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ 9دسمبر کو جلسہ سالانہ منعقد ہوا، جس کے لئے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیزنے ازراہ شفقت خصوصی پیغام عطا فرمایا۔ اس موقعہ پر مسجد ناصر کو خوبصورتی سے سجایا گیا۔ بھارتی سفیر نے اپنے سٹاف کے ساتھ اس جلسہ میں شرکت کی۔ نائب صدر اور وزیر داخلہ کی طرف سے مبارکباد کا پیغام اور پھول موصول ہوئے۔ 11دسمبر کو روزنامہ Dagblad SURINAME نے مسجد کی رنگین تصویر کے ساتھ اس جلسہ کی خبر کو تفصیل سے شائع کیا۔

صدسالہ خلافت جوبلی کے پروگرام

22مئی2008ء کو مرکزی مسجد ناصر میں پہلا جلسہ منعقد ہوا۔ اس مقصدکے لئے مسجد اور مشن ہائوس کو خوبصورتی سے سجایا گیا۔ اس جلسہ میں120 احباب جماعت شامل ہوئے جن میں10نو مبائعین تھے۔

ٹی وی پروگرام

امسال اپریل کے مہینہ سے خلافت کے بارے میں ہفتہ وار پروگرام کا سلسلہ شروع کیا گیا اور خلافت جوبلی کے موقعہ پر 24تا 28مئی خلافت کے حوالے سے خاص پروگرام پیش کرنے کے لئے ایک دوسرے ٹی وی چینل سے شام چھہ بجے کا وقت لیا گیا ۔اس طرح خدا تعالیٰ کے خاص فضل سے خلافت جوبلی کے حوالہ سے ہم نے پانچ دن تک روزانہ ایک پروگرام اور پانچ پروگرام ہفتہ وار پیش کئے۔

یوم خلافت

27مئی کو دن کا آغازباجماعت نماز تہجد سے ہوا۔ نماز فجر کے بعد قرآن مجید کا درس دیا گیا۔ صبح نو بجے حضور انور ایداللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطاب ایم ٹی اے کے ذریعہ سنا گیا۔ اس کے بعد دو مینڈھے ذبح کئے گئے جن کا گوشت ضرورتمند احباب ـــــــــــ میں تقسیم کیا گیا۔ شام کے وقت مشن ہاؤس میں چراغاں کیا گیا۔ نماز مغرب و عشاء کے بعد مشن ہاؤس میں باربی کیو کا اہتمام کیا گیا۔اِسی دن روزنامہ Times of SURINAMEمیں’’خلافت قدرت ثانیہ‘‘کے عنوان سے جماعتی مضمون شائع ہوا ۔

 جلسہ خلافت حلقہ فورو بوئیتی (Fowruboitie)

31مئی کو حلقہ فورو بوئیتی میںجلسہ خلافت کا انعقاد کیا گیا۔ تقاریر کے بعد شرکاء جلسہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ بنصراہ العزیز کے27 مئی کے خطاب کی سی ڈی تقسیم کی گئی۔ اس جلسہ کی حاضری 180تھی ، جن میں13نو مبا ئعین،30غیر مبائعین اور20 ہندو شامل تھے۔

 سپورٹس ڈے

5 جون کو ایک پُرفضا مقام ’’کارولینا کریک‘‘ (Carolina Kreek) پر احباب جماعت نے سپورٹس ڈے اور پکنک کا پروگرام بنایا ۔ اس پروگرام کا انتظام شہر سے تقریباً 50کلو میٹر دور کیا گیا تھا۔

 جلسہ خلافت حلقہ سارون (Saron)

7جون 2008ء کو حلقہ سارون میں جلسے کا پروگرام تھا۔ تقاریر کے بعد شرکاء جلسہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز کے 27مئی کے خطاب کی سی ڈی تقسیم کی گئی۔ اس جلسہ میں100احباب شامل ہوئے جن میں چھ نو مبائعین اور 25غیر از جماعت دوست شامل ہیں۔

 اشاعت کتب

خلافت جوبلی کے بابرکت سال میں جماعت کو دو کتب تیار کرنے کا بھی موقع ملا۔ سو صفحات کی ایک کتاب ’دینی معلومات‘ کے نام سے تیار کی گئی جس میں اسلام اور احمدیت کے بارے میں معلومات کا انتخاب شامل کیا گیا۔ دوسرا کتابچہ ’خلافت ‘کے حوالے سے ہے جس میں قرآن مجید، احادیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کرام کے ارشادات کی روشنی میں خلافت کا مطلب، ضرورت ، اہمیت اور برکات کا ذکر کیا گیا۔ نیز حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعا لیٰ بنصرہ العزیز کا تاریخی اور پُرمعارف پیغام بھی درج کیا گیا ۔

مقابلہ مضمون نویسی

 امسال دنیا بھر میں ہونے والے تمام پروگراموں کا محور اور مرکزی نقطہ ’’خلافت‘‘تھا ۔اس حوالے سے سرینام جماعت کو بھی انصار،خدام اور لجنہ کے مابین مضمون نویسی کا مقابلہ کروانے کی توفیق ملی۔ کل 21مضامین موصول ہوئے جن میں انصار کے 3،خدام کے 8اور لجنہ اماء اللہ کے 10مضا مین تھے ۔پہلی تین پوزیشنز حاصل کرنے والوں کو انعامات سے نوازاگیا۔ نیز تمام شاملین کو یادگاری سرٹیفکیٹ دیئے گئے۔

مسجد نصر کی تزئین نو

 2008 ء میں جماعت کی دوسری مسجد نصر کی تزئین نَو کی گئی۔یہ مسجد محترم مولانا محمد صدیق ننگلی صاحب نے 1984ء میں تعمیر کروائی تھی مگر اس کی چھت کافی جگہ سے خراب ہو گئی تھی۔اس مسجد کی نئی چھت لوہے کے پائپ سے فریم تیار کر کے بنائی گئی۔اور سیلنگ سبز پلاسٹک شیٹ سے تیار کی گئی۔لکڑی کی تمام کھڑکیاںنکال کر ایلمونیم کی ونڈوز لگوائی گئیں۔ اور نیا پینٹ کروایا گیا۔ زیادہ تر کا م وقار عمل کے ذریعہ کیا گیا۔

رمضان المبارک 2008ء

 ا مسال خدا تعالیٰ کے فضل سے پہلی بار جماعتی طور پرسحرو افطار کا کیلنڈر تیار کیا گیا۔

3 ستمبر کو تین روزناموں Times of SURINAME، De Ware Tijd اور داخ بلاد سرینام (Dagblad SURINAME) میں رمضان المبارک کی برکات کے حوالے سے ایک مضمون شائع ہوا۔ 18 ستمبر 2008ء بروز بدھ انڈین سفیر مسٹر آشوک کمار شرما افطاری کے لئے مسجد آئے۔ موصوف نے جماعت میں اجتماعی افطار کے طریق کو بہت پسند کیااور باقی مساجد کی نسبت اسے زیادہ بہتر قرار دیا ،اور برملا اس بات کا اظہار کیا کہ جس طرح آپ نے خواتین کے لئے علیحدہ انتظام کیا ہے وہ زیادہ باعزت اور قابل قدر ہے۔

 جلسہ سالانہ

22نومبر2008ء بروز ہفتہ جماعت کو اپنا انتیسواں جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق ملی ۔ صد سالہ خلافت جوبلی کے Logo اور مختلف بینرز سے آراستہ سادہ اور پر وقار جلسہ گاہ تیار کی گئی۔امسال جلسہ کا موضوع ’’عالمی انسانی حقوق اسلامی تعلیم کی روشنی میں‘‘ تھا۔ ہمسایہ ملک گیانا سے مکرم احسان اللہ مانگٹ صاحب مشنری انچارج جلسہ میں شمولیت کے لئے تشریف لائے۔ ملک کے نائب صدر Ramdin Sardjoe بھی جلسہ میں شامل ہوئے اور جماعت کو جلسہ کے انعقاد کی مبارکباد پیش کی اور انسانی حقوق کو جلسہ کاموضوع بنانے پر جماعت کی تعریف کی، نیز برملا اس بات کا اظہار کیا کہ اس جماعت کے افراد دنیا میں امن اور بھائی چارے کے فروغ کے لئے عملی کو ششیں کر رہے ہیں۔

 میڈیامیں تذکرہ

 امسال جلسہ سالانہ برطانیہ میں سرینام کا چھ رکنی وفد شامل ہوا۔ واپسی پر شاملین کی نمائندگی میں محترم شمشیرعلی صاحب نیشنل پریذیڈنٹ نے اپنے تأثرات اور جماعت کی عالمگیر ترقی کے حوالے سے اخباری نمائند ے کو آگاہ کیا۔ یہ خبر روز نامہ De Ware Tijd میں 26 اگست2008ء کو صفحہA6پر شائع ہوئی۔اسی روز نامے میں 17اکتوبر کو مسجد خدیجہ برلن کے افتتا ح کی خبر صفحہ A11 پر تصویر کے ساتھ شائع ہوئی۔

پروفیسر ریٹائرڈ اجے مان سنگھ۔ یو نیورسٹی آف ویسٹ انڈیز کنگسٹن جمیکا کی آمد

ہندوستانی نژاد ایک شخص مسٹر اجے مان سنگھ نے جوکینیڈا سے زوآلوجی میں پی ایچ ڈی کرنے کے بعد 35سال کریبین کے ممالک میں درس وتدریس کے شعبہ سے منسلک رہے۔ ریٹا ئر منٹ کے بعد کریبین ممالک میں موجود مذاہب کے بارے میں ایک کتاب لکھنا شروع کی۔ موصوف انڈین کلچرل سنٹر کی وساطت سے سرینام آئے وہاں سے جماعت کا پتہ لے کر 18اگست 2009ء کو مشن ہائوس آئے۔ انہیں جماعت کاتفصیلی تعارف کروایا گیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مقام اور دعویٰ کی تفصیل بتائی گئی۔موصوف نے تمام معلومات نوٹ کیں۔بعد ازاں انہیں انگریزی ترجمہ قرآن مجید اور دیگر جماعتی لٹر یچر پیش کیا گیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی مشہور زمانہ کتاب Revelation Rationality….. کا انڈیکس دیکھ کر انہوں نے بے ساختہ کہا میرے لئے اس کتاب میں بہت کچھ ہے ۔دوران گفتگو انہوں نے اردو ترجمے والے قرآن مجید کا پوچھا۔ اس پرانہیں حضرت خلیفۃ المسیح الرا بع رحمہ اللہ تعالیٰ کا ترجمہ قرآن کریم پیش کیا گیا،جس پر وہ بے حد خوش ہوئے۔

اخبارات میں مختلف مضامین اور خبریں

 رمضان المبارک کی فرضیت اور اہمیت، رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی فضیلت اور اعتکاف کے مسائل، عید الفطر کی برکات اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں حقیقی عیدکے حوالے سے مضامین اخبارات میں شائع ہوئے۔ ایک ٹی وی نیوز چینل کے نمائندے 9ستمبر کی شام مشن ہائوس آئے اور عیدکے لئے تیار کی جانے والی سویوں اور دوسرے کھانوں کی ریکا رڈنگ کی ،اور 10ستمبر 2010ء عید کی شام اپنی خبروں میں دکھائی۔

جلسہ سالانہ سرینام

جماعت احمدیہ سرینام کو 12،13نومبر 2010ء اپنا اکتیسواںجلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق ملی۔اس جلسہ میں شمولیت کے لئے محترم احسان اللہ مانگٹ صاحب مبلغ انچارج گیانا، محترم مولانا طالب یعقوب صاحب ریجنل مشنری ٹرینیڈاڈ تشریف لائے ۔ نیزحضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ شفقت کینیڈا سے مکرم مبارک نذیر صاحب کو بھجوانے کا ارشاد فرمایا ۔ ا س جلسہ سالانہ کی خاص بات یہ تھی کہ جماعت احمدیہ سرینام کو 1997 ء کے بعد اس طرح کا جلسہ کرنے کی توفیق ملی جس میں ایک سے زائد مبلغین سلسلہ بیرون ملک سے شامل ہوئے۔ یہ جلسہ اس لحاظ سے بھی یادگار ہے کہ پہلی بار ریڈیو،ٹی وی اور اخبار نے کسی جماعتی پروگرام کو اتنی وسیع کوریج دی۔

اس جلسہ کے لئے The Role of Religion in the Development of Socity ’’معاشرتی ترقی میں مذہب کا کردار‘‘کا عنوان منتخب کیا گیا ۔ جلسہ کے لئے ایک دیدہ زیب دعوت نامہ تیار کرکے ملک کی اعلیٰ مقتدر شخصیات کے علاوہ مختلف مذاہب کے نمائندوںاور مذہبی تنظیموں کو بھجوایا گیا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے 10نومبر کو ریڈیو ’’تری شول ‘‘سے جلسہ سالانہ کے تعارف کے حوالے سے 30منٹ کا لائیو پروگرام پیش کرنے کی توفیق ملی۔جس میں جلسہ سالانہ کا نظام اور جماعت احمدیہ کے جلسوں کی امتیازی حیثیت پرگفتگو ہوئی۔ 12نومبرکی صبح محترم مولانا مبارک احمد نذیر صاحب نے ریڈیو ’’رادیکا‘‘پر 30منٹ کا ایک لائیو انٹر ویو دیا،جس میں آپ نے جماعت کے تعارف کے ساتھ ساتھ افریقہ اور دنیا کے دوسرے ممالک میں جماعت کی انسانیت کے لئے کی جانے والی خدمات کا مختصر جائز ہ پیش کیا۔ جلسہ کی تمام تقاریر بڑی توجہ اور اہتمام سے سنی گئیں۔

 اختتامی دعا سے قبل محترم افسر صاحب جلسہ سالانہ نے رکن پارلیمنٹ مسڑ انتون پال اور پنڈت جگیشر ارجن شرما کو قرآن مجید اور دیگر جماعتی لٹر یچر کا تحفہ پیش کیا۔ کھانے کے بعد اخباری نمائندوں نے محترم صدر صاحب جماعت کا تفصیلی انٹر ویو لیا۔ یہ انٹر ویو 15نومبر کو ’’ٹائمز آف سرینام‘‘میں شائع ہونے والی خبر کا حصہ تھا۔اس یادگار جلسہ کے موقعہ پر جماعت احمدیہ کی طرف سے شائع شدہ مختلف تراجم قر آن مجید اور مختلف زبانوں میں شائع شدہ لڑیچر کی نمائش بھی لگائی گئی۔نیزخاص طور پر لاہور میں جماعت کی مساجد پر حملے اور شہیدان لاہور کی تصاویر پر مبنی نمائش تیار کی گئی جو حاضرین کی توجہ کا مرکز رہی،اور وہ اس عظیم سانحہ پر احباب سے دلی افسوس کا اظہار کرتے رہے۔ 15نومبر بروز پیر روزنامہ(Times of SURINAME) نے صفحہ نمبر 2پر جلسہ کی خبر کو تفصیل سے شائع کیا۔ 15نومبرکو صداقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حوالے سے محترم مولانا مبارک احمد نذیر صاحب کی نصف گھنٹے کی تقریر ’’رادیکاٹی وی‘‘ پر نشر ہوئی۔ 17نومبر 2010ء بروز بدھ روزنامہ Dagblad SURINAME نے تمام مقررین کی تصاویر اور تقاریر کے اقتباسات کے ساتھ دو مکمل صفحات نمبر 27،28پر جلسہ کی خبر کو تفصیل کے ساتھ شائع کیا۔محترم مولانا مبارک احمد نذیر صاحب کا مختصر تعارف اور انٹرویو بھی اسی خبر کی زینت بنا۔جماعت سرینام کی ساٹھ سالہ تاریخ میں یہ مفصّل ترین جماعتی خبر تھی۔

کانفرنس ہال میں نمائش

مذہب کے عالمی دن کے حوالے سے 16جنوری 2011ء بروز اتوار شہر کے مرکزی کانفرنس ہال میںمنعقد ہونے والے بین المذاہب سیمینار میں جماعت کو شرکت کا موقعہ ملا۔ خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت نے ہال میں نمایاں جگہ پر اپنا سٹال سیٹ کیا اور ایک بڑے ٹیبل پر مختلف تراجم قرآن مجید کی نمائش قرینے سے لگائی۔سٹال کو کلمہ طیبہ کے مختلف بینرز سے بھی سجایا گیا۔ پروگرام کے دوران شرکاء میں کثرت سے جماعت کے تعارف پر مشتمل فولڈرز تقسیم کئے گئے اور سینکڑوں افراد نے سٹال پر آکر جماعتی لٹریچر اور نمائش کو دیکھا ۔اس سیمینار کا افتتاح وزیر داخلہ مسڑ مُستاجا نے کیا۔ مہمان خصوصی کو جماعت کی طرف سے اسلامی اصول کی فلاسفی اور چند فولڈرز پیش کئے گئے۔ خداتعالیٰ کے فضل سے ہمارا سٹال لوگوں کی بھرپور توجہ کا مرکز رہا، اور بڑی تعداد میں لوگوں نے تراجم قرآن مجید، جماعتی کتب اور لٹر یچر دیکھا۔متعدد افراد نے جماعت اور اسلام کے بارے میں سوالات بھی کئے جن کے تسلی بخش جوابات دیئے گئے۔ ٹی وی کے مشہور پروگرام 10 Minuten Jeugdjournaal (10منٹ نیوز) کے نمائندے نے تین بچوںکا انٹر ویو لیا اور مذہب کے حوالے سے سوالات کئے۔ یہ انٹر ویو 17 جنوری بروز پیر تین مختلف چینلز (ATV)، (STVS)اور (Apintie, Ch 10) پر نشر ہوا۔ چینل 8کے نمائندے نے سٹال کی ریکارڈنگ کی۔ اسی شام (STVS,News)چینل 8 میں مقامی خبروں میں اس سیمینار کی خبر تفصیل سے نشر ہوئی۔ اس خبر میں بار بار جماعتی سٹال کو دکھایا گیا اور تراجم قرآن مجید کو قریب کر کے دکھایا گیا۔اگلے دن دو مختلف ٹی وی چینلز نے اس سیمینار کی خبر کو نشر کیا جس میںجماعتی سٹال کی کوریج کے ساتھ کے ساتھ تین افراد جماعت کا انٹر ویو بھی نشرکیاگیا۔

(باقی آئندہ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button