متفرق مضامین

خلافت ِحقّہ(قسط نمبر29)

(نصیر احمد قمر۔ ایڈیشنل وکیل الاشاعت (طباعت))

سچی پاکیزگی، حقیقی تزکیہ اور دنیا و آخرت کی حسنات اور ترقیات کے حصول کے لئے ایک عظیم الشان الٰہی نظام

خلافت حقّہ کا ایک عظیم مقصد خداتعالیٰ کے عابدین کی جماعت کا قیام ہے جو ہر قسم کے شرک سے پاک ہو اور اللہ کے خالص مؤحّد بندے ہوں ۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ خلافت احمدیہ کی طرف سے مختلف پیرایوں میں اور بار بار افراد جماعت کو عبادات کے قیام کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے اور مختلف انداز میں ترغیب و تحریص دلائی جاتی ہے۔ خلفاء کرام کے یہ ارشادات حکمت و معرفت کا ایک خزانہ ہیں ۔ ذیل میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے ایک خطاب کا کچھ حصّہ ہدیۂ قارئین ہے جو آپ نے 18؍اگست 1949ء کو لجنہ اماء اللہ کوئٹہ سے مخاطب ہوکر فرمایا۔ اس میں آپ نے نماز، روزہ وغیرہ عبادات کی اہمیت، غرض و غایت اور برکات پر ایک مختلف زاویۂ نگاہ سے بصیرت افروز روشنی ڈالی ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں :

‘‘…اِس کے بعد مَیں تمہیں اِس طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ انسانی زندگی کے دو پہلو ہوتے ہیں ۔ ایک غذائی پہلو ہوتا ہے جس میں انسان غذا سے طاقت حاصل کرتا ہے اور دوسرا پہلو اُس کی فعّالی حیثیت ہوتی ہے جس میں وہ حاصل کی ہوئی طاقت کو استعمال کرتا ہے۔ مثلاً بجلی کوئلہ کے ساتھ پیدا کی جاتی ہے، مشین کوئلہ کھاتی ہے اور اُس سے بجلی پیدا ہوتی ہے۔ ہم بٹن دباتے ہیں اور بجلی سے کام لیتے ہیں اور جہاں بجلی نہیں ہوتی وہاں غذائی اور فعّالی دونوں پہلو تیار کئے جاتے ہیں ۔ مثلاً لالٹین ہوتی ہے اِس میں ہم تیل ڈالتے ہیں یہ اِس کا غذائی پہلو ہے۔ پھر ہم بتی کو دِیا سلائی لگا کر روشن کرکے اس سے کام لیتے ہیں ۔ یہ اس کا فعّالی پہلو ہوتا ہے۔ یہی حالت انسانی جسم کی ہے۔ کوئی انسان خواہ وہ نبی ہی کیوں نہ ہو ایسا نہیں گزرا جو کھاتا پیتا نہ ہو۔ تم میں سے ہر بوڑھا، جوان، بچہ، عورت اور مرد غذا کھاتا ہے خواہ وہ غذا اچھی ہو یا بُری، چاول ہو یا گندم، گوشت ہو یا ترکاری، وہ غذا کھاتا ضرور ہے۔ اگر وہ غذا نہ کھائے تو اُس کا جسم مر جائے گا اور طاقت قائم نہیں رہے گی۔ غذا کھانے کے بعد وہ کام کرتا ہے۔ کوئی تاجر ہوتا ہے وہ تجارت کرتا ہے، کوئی مزدور ہوتا ہے وہ مزدوری کرتا ہے، کوئی سرکاری ملازم ہوتا ہے وہ ملازمت کرتا ہے۔ غرض نوکری، زراعت اور تجارت سب کاموں کی بنیاد روٹی پر ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص کھانا نہ کھائے تو اُس کا جسم بے کار ہو جائے گا اور وہ کوئی کام نہیں کر سکے گا۔ انگریزی زبان کا مقولہ ہے کہ فوج پیٹ پر لڑتی ہے۔ اگر پیٹ ہی بھرا ہوا نہ ہوگا تو کوئی سپاہی لڑے گا کیا؟ غرض پہلے انسان غذا کھاتا ہے اور پھر اُس سے جو طاقت حاصل ہوتی ہے اُس سے کام کرتا ہے یہی حالت دین کی ہے۔

روح کی غذائیں

دین میں بھی ایک حصہ غذائی ہوتا ہے اور ایک فعّالی حصہ ہوتا ہے۔ جس طرح جسم کی طاقت کے قیام کے لئے روٹی، چاول، سبزی اور ترکاری وغیرہ اشیاء مقرر ہیں اور جس طرح ہم دن میں چار پانچ دفعہ کھاتے پیتے ہیں ، اِسی طرح روح کو زندہ رکھنے کے لئے بھی خداتعالیٰ کی طرف سے کچھ چیزیں مقرر ہیں ۔ مثلاً نماز ہے، روزہ ہے، زکوٰۃ ہے، صدقہ و خیرات ہے، ذکرِالٰہی ہے یہ سب روح کی غذائیں ہیں ۔

جس طرح روٹی کے بغیر جسم زندہ نہیں رہ سکتااِسی طرح ان چیزوں کے بغیر روح بھی زندہ نہیں رہ سکتی۔ تم یہ کبھی نہیں کہہ سکتے کہ فلاں آدمی نے 60 دن تک کھانا نہیں کھایا اور پھر وہ زندہ رہا۔ اگر کوئی شخص تمہارے سامنے یہ بات بیان کرے کہ فلاں شخص چھ ماہ سے کمرے میں بند کیا ہوا ہے اُسے روٹی اور پانی نہیں دیا گیا وہ سخت گھبرایا ہوا ہے اور چاہتا ہے کہ اُسے باہر نکالا جائے تو تم کہو گی جو شخص چھ ماہ سے بغیر کھائے پیئے اندر بند ہے وہ کیا زندہ رہ بھی سکتا ہے؟ لیکن تم بڑے اطمینان سے یہ بات کہہ دیتی ہو کہ فلاں شخص دس سال تک نماز کے قریب بھی نہیں گیا اور اُس کی رُوح زندہ ہے، فلاں شخص دس سال سے روزے نہیں رکھتا اور اُس کی رُوح زندہ ہے، فلاں شخص دس سال سے زکوٰۃ نہیں دیتا اور اُس کی روح زندہ ہے، فلاں شخص پر حج فرض ہے وہ حج نہیں کرتا اور اُس کی رُوح زندہ ہے۔ فلاں شخص ذکرِ الٰہی نہیں کرتا اور اُس کی روح زندہ ہے۔

 یہ عجیب بات ہے کہ جسم کی غذا کے متعلق تو تم یہ خیال کرتی ہو کہ غذا کے بغیر انسان چوتھے پانچویں دن مَر جاتا ہے لیکن روحانی غذا کے متعلق تم یہ خیال کرتی ہو کہ روح دس سال کے بعد بھی زندہ رہتی ہے۔ جس طرح غذا نہ ملنے کی وجہ سے جسم مر جاتا ہے اُسی طرح روحانی غذا نہ ملنے کی وجہ سے روح بھی مر جاتی ہے۔ انسان کھاتا پیتا ضرور ہے لیکن یاد رکھو اِس کا اصل مقصود کھانا پینا نہیں ۔ ظاہری طور پر جو چیز تمہیں نظر آ رہی ہے وہ تو بشر ہے جیسے گھوڑے، گائے اور بکری وغیرہ کھاتے پیتے ہیں اور وہ انسان نہیں کہلاتے اِسی طرح صرف کھانے پینے کی وجہ سے انسان انسان نہیں کہلاتا۔ انسان اُسی کو کہتے ہیں جس میں خداتعالیٰ سے ملنے کی قابلیت پائی جاتی ہو۔

انسان اُنس سے ہے اور اُنس کے معنی محبت کے ہیں ۔ عربی کا یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی اسم کے آگے الف اور نون لگا دیا جائے تو اُس کے معنی دو کے ہو جاتے ہیں ۔ مثلاً مُؤۡمِنٌ اسلام لانے والا ایک مرد ہے۔ اور مُؤۡمِنَانِ ایمان لانے والے دو مرد ہیں ۔ مُسۡلِمٌ اسلام لانے والا ایک مرد ہے۔ مُسۡلِمَانِ اسلام لانے والے دو مرد ہیں ۔ اِسی طرح لفظ اُنس کے معنی ہیں محبت۔ اور جب اس کے آگے الف اور نون لگا دیا جائے تو اِس کے معنی ہو جائیں گے دو محبتیں ۔ چنانچہ انسان کو انسان اِسی لئے کہتے ہیں کہ اِس کے اندر دو محبتوں کا مادہ پیدا کیا گیا ہے۔ ایک تو بنی نوع انسان کی محبت ہے اور دوسرے خداتعالیٰ کی محبت۔ بنی نوع انسان کی محبت میں بیوی کی محبت بھی شامل ہوتی ہے، بچوں کی محبت بھی شامل ہے، ماں ، باپ، رشتہ داروں اور دوستوں کی محبت بھی شامل ہوتی ہے، اپنے مُلک والوں کی محبت بھی شامل ہوتی ہے۔ دوسری محبت خداتعالیٰ کی ذات سے ہوتی ہے۔ جب کسی بشر میں یہ دونوں محبتیں کامل طور پر پائی جاتی ہوں تو اُسے انسان کہتے ہیں ۔

غرض ایک طرف انسان، بنی نوع انسان یعنی قوم، مُلک اور خاندان کی خدمت کرتا ہے تو دوسری طرف وہ عشق الٰہی میں مبتلا ہوتا ہے کسی بشر کو چلتا پھرتا یا سانس لیتا ہوا دیکھ کر اُسے انسان نہیں کہتے۔ وہ صرف بشر ہے یعنی زمین پر چلنے پھرنے والا ایک جانور۔ وہ انسان نہیں کیونکہ اس میں خداتعالیٰ کی محبت نہیں پائی جاتی۔ ایک محبت والے کو انسان نہیں کہتے۔ ایک طرف سے محبت کرنے والا تو جانور بھی ہوتا ہے۔ گائے، بھیڑیں اور گھوڑے بھی بچے سے محبت کرتے ہیں حتیّٰ کہ چیونٹی اور مکھیاں بھی اپنے بچوں سے محبت کرتی ہیں ۔ پھر محض بیوی اور خاوند کی آپس میں محبت ہونے کی وجہ سے انسان انسان کس طرح کہلا سکتا ہے۔ یہ لفظ تو صرف اُس جانور کے لئے بولا جاتا ہے جس میں دو محبتیں پائی جاتی ہوں ۔ ایک طرف اس میں خداتعالیٰ کی محبت پائی جاتی ہو اور دوسری طرف بنی نوع انسان کی محبت پائی جاتی ہو۔ خدا تعالیٰ کی محبت جسم سے نہیں ہوتی۔ خداتعالیٰ روحانی ہے۔ جسمانی نہیں ۔ تم اپنے بھائی اوربچے کو تو گود میں لے کر پیار کر سکتی ہو لیکن خداتعالیٰ کو جسم سے پیار نہیں کر سکتیں ۔ خداتعالیٰ ایک وراء الوراء ہستی ہے جس کو نہ تم مادی آنکھوں سے دیکھ سکتی ہو نہ مادی کانوں سے تم اُس کی آواز سُن سکتی ہو، نہ تمہارے مادی ہاتھ اُسے چھو سکتے ہیں ۔ وہ اعلیٰ درجہ کی اور وراء الوراء ہستی ہے۔ اُس سے محبت کی جا سکتی ہے تو دل اور روح سے۔ اور جس کی روح مردہ ہے وہ خداتعالیٰ سے محبت کیا کرے گی۔ جس روح نے کھانا نہیں کھایا وہ زندہ کس طرح ہو سکتی ہے۔ اور اگر وہ زندہ نہیں تو مردہ روح محبت نہیں کر سکتی۔

مردہ ماں کے سامنے خواہ تم اُس کے بچے کو ذبح کر دو وہ اس کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکے گی۔ ایک بکری اپنے بچے کی حفاظت کی خاطر کوشش کرے گی، ایک مرغی اپنے بچے کی خاطر کوشش کرے گی لیکن مردہ عورت اپنے بچے کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتی اِس لئے کہ وہ مر چکی ہے اور وہ اپنے بچہ کی تکلیف کو محسوس نہیں کر سکتی۔ اِسی طرح اگر کسی کی روح مر جائے تو اِس کے متعلق یہ خیال کر لینا کہ وہ محبت کر سکتا ہے سراسر بیوقوفی ہے۔ خداتعالیٰ سے محبت وہی کر سکتا ہے جس کی روح زندہ ہو اور روح تبھی زندہ رہ سکتی ہے جب اُسے غذا ملے۔ اور اُس کی غذا روٹی نہیں ۔ روح کھانا نہیں کھاتی، پانی نہیں پیتی، اُس کی غذا نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور ذکرِ الٰہی وغیرہ ہے۔ یہ چیزیں انسانیت کو قائم رکھنے کے لئے ضروری ہیں ۔

نماز کی پابندی سے مراد

جب میں کہتا ہوں کہ نماز کی پابندی کی جائے تو اِس کا یہ مطلب نہیں کہ تم پانچ نمازوں میں سے چار پڑھو یا ہفتہ کی 35 نمازوں میں سے 34 نمازیں پڑھو یا سال بھر کی 1800 نمازوں میں سے 1799 نمازیں پڑھو اِس کو پابندی نہیں کہتے۔ جب میں کہتا ہوں کہ نماز کی پابندی کی جائے تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ تم سال کی 1800 نمازیں پوری کی پوری پڑھو۔ جسم فاقہ برداشت کر سکتا ہے لیکن رُوح فاقہ برداشت نہیں کر سکتی۔ تین دن کے فاقہ کے بعد بھی تمہارے جسم میں طاقت باقی رہ جائے گی۔ بعض لوگ دس دس بارہ بارہ دن فاقے کے بعد بھی زندہ رہتے ہیں ۔ لیکن روح ایک لطیف چیز ہے جو ایک فاقہ بھی برداشت نہیں کرسکتی۔

بالارادہ ایک چھوڑی ہوئی نماز بھی روحانیت کو ہلاک کردیتی ہے

 اگر سال میں ایک نماز بھی چھوڑدی جائے تو روح مر جائے گی۔ اِس وجہ سے علماء نے یہ فتویٰ دیا ہے کہ جان بوجھ کر چھوڑی ہوئی نماز کی قضاء نہیں ۔ مثلاً ظہر کی نماز کا وقت آ جائے اور تم جان بوجھ کر نہ پڑھو۔ بیمار ہو، سو رہے ہو، یا کوئی اَور روک پیدا ہو جائے تو اَور بات ہے۔ لیکن اگر نماز کا وقت ہو اور تم بِالارادہ نہ پڑھو تو وہ دوبارہ ساری عمر نہیں پڑھی جائے گی۔ غرض ایک چھوڑی ہوئی نماز بھی روحانیت کو ہلاک کر دیتی ہے۔

بعض لوگ کہتے ہیں ہم اللہ کے فضل سے نماز پڑھتے ہیں ہاں کبھی کبھار کوئی نماز رہ جائے تو رہ جائے حالانکہ کبھی کبھار نماز کا رہ جانا بھی نماز نہیں ۔

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز کی پابندی کی اتنی تاکید کی ہے کہ آپ جیسا رحیم و کریم انسان، جو محبت میں چُور رہتا تھا، کہتا ہے میرا جی چاہتا ہے کہ اپنی جگہ کسی اَور کو امام مقرر کر دوں اور کچھ آدمیوں کے سروں پر لکڑیاں رکھ دوں اور پھر اُن سب لوگوں کے گھروں کو جو عشاء اور فجر کی نمازیں مسجد میں ادا نہیں کرتے مکینوں سمیت جلا دوں ۔ (بخاری کتاب الاذان باب وجوب صلٰوۃ الجماعۃ)

 رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات بے نمازوں کے متعلق نہیں کہی بلکہ ایسے پڑھنے والوں کے متعلق کہی ہے جو قاعدہ کے مطابق مسجدوں میں آکر نماز ادا نہیں کرتے۔ آپ نے ایسا کیا نہیں کیونکہ دین میں جبر جائز نہیں ۔ صرف نفرت کے اظہار کے لئے آپ نے ایسا کہا۔ ویسے آپ بادشاہ بھی تھے اور اگر ایسا کرنا چاہتے تو کر سکتے تھے۔ اِس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ نے صرف اظہارِ نفرت فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں میرا دل چاہتا ہے کہ میں ایسے لوگوں کے گھروں کو جَلا دوں ۔ وہ ہمارے شہر میں رہنے کے قابل نہیں ۔ بچہ اور بیمار کے لئے جائز ہے کہ وہ گھر میں نماز ادا کر لے لیکن دوسرے مَردوں کے لئے جو بِلاعذر مسجد میں نماز ادا نہیں کرتے، بھاری گناہ ہے۔

اب تم دیکھ لو کہ ہمارے مُلک میں کتنے وہ لوگ ہیں جو مسجدوں میں آ کر نماز ادا کرتے ہیں ۔ ایک فیصدی بھی نہیں ۔ عورتوں کے لئے مسجد میں آ کر نماز ادا کرنا ضروری نہیں ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اگر ممکن ہو اور عورتیں مسجد میں آ کر نماز ادا کر لیں تو اچھا ہے لیکن بعض لوگ کہتے ہیں کہ عورتوں کے لئے مسجد میں نماز ادا کرنا فرض نہیں ۔ ہاں اگر وہ پڑھ لیں تو منع نہیں ۔ بہرحال عورتوں کے لئے مسجد میں نماز ادا کرنا فرض نہیں ۔ بعض کے نزدیک جائز ہے۔ بعض کے نزدیک اگر ممکن ہو اور مسجد میں جا کر نماز ادا کرلیں تو عام ثواب سے اُنہیں زیادہ ثواب ملے گا۔ لیکن مَردوں کے متعلق یہ فتویٰ ہے کہ اگر وہ مسجد میں جا کر نماز ادا نہ کریں تو اُنہیں عذاب ملے گا۔ اگر مسجد میں جاکر وہ نماز پڑھیں گے تو اُن کی اصلی نماز سمجھی جائے گی۔ لیکن موجودہ حالات میں عورتیں تو مسجد میں جا کر نماز کیا پڑھیں گی، مرد بھی اتفاقی حادثہ کے طور پر مسجد میں جاتے ہیں ۔ آجکل یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ مسجد میں نماز ادا کرنا تنخواہ دار امام یا مؤذّن کا کام ہے یا وہ مسافر جو غریب ہو اور وہ مسجد میں آ کر ٹھہر جائے، وہ نماز پڑھ لے۔ یا وہ شخص جس نے ووٹ لینے ہوں وہ نماز مسجد میں پڑھ لے۔ اَور لوگ نماز پڑھنا ضروری نہیں سمجھتے۔

مَیں جب مصر گیا تو وہاں قاہرہ کی جامع مسجد دیکھنے گیا۔ میں نے دیکھا کہ وہ بہت بڑی مسجد ہے اُس میں پچاس ہزار کے قریب آدمی آ سکتے ہیں ۔ اِتنی بڑی مسجد میں ایک امام پانچ چھ آدمیوں کو ساتھ لے کر ایک کونہ میں کھڑا نماز ادا کر رہا ہے۔ وہ محراب میں نہیں کھڑا تھا۔ مجھے یہ بات عجیب معلوم ہوئی میں نے اُس مولوی سے پوچھا کہ جب محراب ہے تو تم ایک کونہ میں کھڑے ہو کر نماز کیوں ادا کر رہے ہو؟ اُس نے کہا قاہرہ کی دس لاکھ کی آبادی ہے (اب 30-25 لاکھ کے قریب آبادی ہے) دس لاکھ میں سے اگر معذوروں کو نکال دیا جائے تب بھی دواڑھائی لاکھ آدمی ایسا ہوگا جو مسجد میں آ کر نماز ادا کر سکتا ہے اور اگر شہر کے دُور دراز حصوں کو نکال دیا جائے تب بھی 45-40 ہزار آدمی مسجد میں آ کر نماز ادا کر سکتے ہیں ۔ میں کونہ میں اِس لئے نماز ادا کر رہا ہوں تا غیر مذہب کا اگر کوئی آدمی آ جائے اور مجھے محراب میں کھڑا نماز پڑھتے دیکھے تو وہ یہ خیال نہ کرے کہ یہ شہر کی جماعت ہے اور شہر میں صرف چار پانچ آدمی ہیں جو مسجد میں آ کر نماز ادا کرنا ضروری خیال کرتے ہیں ۔ میں کونہ میں کھڑا اِس لئے نماز پڑھ رہا ہوں تا وہ سمجھے کہ اصل نماز تو ہوگئی ہے یہ لیٹ آنے والے لوگ ہیں ۔ غرض آجکل ایک فیصدی بھی ایسے مسلمان نہیں پائے جاتے جو مسجد میں جا کر نماز پڑھنا ضروری خیال کرتے ہوں ۔ سرکاری دفاتر میں ان کی طرف سے بھی نماز باجماعت کا کوئی انتظام نہیں ۔ سرکاری اداروں کی طرف سے یہ شائع کیا جاتا ہے کہ عید کی نماز میں بڑے بڑے افسر شامل ہوئے لیکن کیا عید اور جمعہ کی نمازیں کسی اَور خدا نے بنائی ہیں ؟ اور روزانہ پانچ نمازیں کسی اور خدا نے بنائی ہیں ؟ جس خدا نے عید اور جمعہ کی نمازیں مقرر کی ہیں اُس خدا نے روزانہ پانچ نمازیں بھی مقرر کی ہیں ۔ پھر کیا وجہ ہے کہ وہ عید اور جمعہ کا حکم تو مان لیتے ہیں اور روزانہ پانچ نمازوں والا حکم نہیں مانتے۔ عید اور جمعہ کی نمازوں میں لوگ چونکہ کثرت سے آتے ہیں اِس لئے بڑے بڑے لوگ شہرت کی خاطر وہاں چلے جاتے ہیں ۔ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو نماز باجماعت ادا کرتے ہیں مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں ۔ عام لوگ صرف اپنے اعمال پر پردہ ڈالنے کے لئے چلے جاتے ہیں ۔ یہ خرابی مسلمانوں میں مردوں میں بِالعموم اور عورتوں میں بِالخصوص پائی جاتی ہے۔

 عورتیں کہتی ہیں کیا کریں ، بچے ہیں ، گھر کا کام ہے اِس لئے نماز نہیں پڑھ سکتیں ۔ بھلا ایسا بھی کوئی گھر ہے جو بچوں سے خالی ہو؟ یا ایسی عورت ہے جس کو گھر کا کام نہ ہو؟ مرد باہر کا کام کرتا ہے اور عورت گھر کا کام کرتی ہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں جو نماز میں روک پیدا کر سکے۔

پس مَیں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ نماز روحانی غذا ہے۔ مَیں یہ نہیں کہتا کہ تم نمازیں پڑھو، یہ حکم قرآن کریم میں پہلے سے موجود ہے۔ مَیں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ روزے رکھو، یہ حکم قرآنِ کریم میں پہلے سے موجود ہے۔ میں تمہیں یہ نہیں کہتا کہ زکوٰۃ دو، حج کرو، یہ احکام تمہیں پہلے سے معلوم ہیں ۔ اگر تمہیں معلوم ہیں اور معلوم ہونے کے بعد تم اِن میں کوتاہی کرتی ہو تو اِس کا علاج میرے قبضہ میں نہیں ۔

مَیں صرف ایک بات بتانا چاہتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، ذکرِ الٰہی وغیرہ روحانی غذائیں ہیں ۔ جس طرح تمہارا جسم غذا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اِسی طرح تمہاری روح بھی غذا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی۔ تمہارا جسم بے شک زندہ رہے گا لیکن تمہاری رُوح کے اندر یہ قابلیت نہیں رہے گی کہ تم خدا تعالیٰ سے مل سکو۔ وہ فضل جو عام ہے مثلاً کھانا وغیرہ ملنا یہ ایک الگ چیز ہے۔ خداتعالیٰ کی محبت وہ ہوتی ہے کہ اس سے ایسا تعلق پیدا ہو جائے کہ کسی نہ کسی رنگ میں وہ اپنی مرضی ظاہر کرتا رہے اور یہ چیز اِن چیزوں کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی کیونکہ مردہ زندہ والا کام نہیں کرسکتا۔

پس ایک نصیحت مَیں تمہیں یہ کروں گا کہ تم روح کی غذائی حالت کو بہتر بناؤ۔ جس طرح تم چاہتی ہو کہ تمہارا جسم زندہ رہے، تم بیمار اور کمزور ہو جاتی ہو تو دوائیں کھاتی ہو، یخنی پیتی ہو، مقویات استعمال کرتی ہو یا اگر کسی کا جگر خراب ہو تو وہ سبزیوں کا استعمال زیادہ کرتی ہے اسی طرح اگر تمہاری روح کمزور ہے تو اُس کی تقویت کا انتظام کرو۔

 اگر صرف نماز سے سرور نہیں ہوتا تو ذکرِ الٰہی کرو، اگر صرف زکوٰۃ سے سرور پیدا نہیں ہوتا تو صدقہ خیرات کرو، پیٹ بھرنے کا آخر یہی قاعدہ ہے کہ اگر دس لقموں سے پیٹ نہیں بھرتا تو پانچ لقمے اور کھاؤ۔ یہی روح کا حال ہے۔ اگر صدقہ سے روح میں تازگی پیدا نہیں ہوتی تو اَور صدقہ دو۔ اگر پانچ نمازوں سے روح میں تازگی پیدا نہیں ہوتی تو چھ نمازیں پڑھو۔ اور اگر پھر بھی تازگی پیدا نہیں ہوتی تو سات نمازیں پڑھو۔ نماز چھوڑ دینے سے روح تازہ نہیں ہوتی بلکہ نمازیں زیادہ پڑھنے سے روح میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔ یہ روح کا ایک غذائی پہلو ہے جس کی طرف میں تمہیں توجہ دلاتا ہوں ۔

انسانی زندگی کا دوسرا پہلو فعّالی ہے۔ انسان جو غذا کھاتا ہے اس سے جسم میں طاقت پیدا ہوتی ہے اور وہ کام کرتا ہے۔ اگر کوئی شخص کھانا کھانے کے بعد بستر پر لیٹ رہے اور کوئی کام نہ کرے تو دیکھنے والے یہی کہیں گے کہ اس میں اپنے جسم سے صحیح کام لینے کا مادّہ نہیں ۔ اسی طرح یہ روحانی غذائیں ہیں اِن سے طاقت حاصل کر لینے کے بعد انسان کو اَور کام بھی کرنا پڑتا ہے۔

 جو شخص نماز پڑھ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنا کام کر لیا یا روزے رکھ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنا کام کر لیا یا صدقہ خیرات دے کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنا کام کر لیا۔ وہ ایسا ہی بیوقوف ہے جس طرح وہ شخص جو کہے میں نے روٹی کھالی، پانی پی لیا تو زندگی کا کام پورا کر لیا۔ کھانا پینا زندگی کے کام نہیں بلکہ اُسے کام کے قابل بنانے کے لئے غذائیں ہیں ۔ اِسی طرح یہ روحانی کام بھی انسانی زندگی کا مقصود نہیں ، نہ جسمانی زندگی کا مقصود کھانا پینا ہے اور نہ روحانی زندگی کا مقصود نماز روزہ وغیرہ ہے۔ یہ دونوں سہارے ہیں ایک جسم کے لئے اور ایک روح کے لئے۔ ایک سے جسم کام کے قابل بنتا ہے اور دوسرے سے روح کام کے قابل بنتی ہے۔ جسم میں جب طاقت پیدا ہوتی ہے تو انسان نوکری کرتا ہے، تجارت کرتا ہے اور دنیا کے دوسرے کام کرتا ہے۔ اِسی طرح جب انسان کو روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے وہ مختلف کام کرتا ہے۔ وہ کام کیاہیں ؟ وہ کام دو قسم کے ہیں ۔ ایک تو اس کا کام مخفی ہوتا ہے اور وہ خداتعالیٰ کی محبت میں ترقی کرنا ہوتا ہے۔ دوسرا کام انسانی دماغ کی اصلاح اور اُس کی فکر کی اصلاح اور اُس کے خیالات و جذبات کی اصلاح ہے۔

جس طرح روٹی کھانے کے نتیجہ میں انسان ہل چلاتا ہے، تجارت کرتا ہے، صنعت و حرفت کرتا ہے، مزدوری کرتا ہے۔ انسان کے جسم میں طاقت ہو تبھی وہ اچھا سپاہی، اچھا وکیل اور اچھا مدرِّس بن سکتا ہے۔ اِسی طرح روحانی غذاؤں نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور ذکرِ الٰہی وغیرہ کے نتیجہ میں انسان کو روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے اور اس طاقت کے نتیجہ میں اُس کے اخلاق درست ہو جاتے ہیں ۔ وہ ظلم سے دُور چلا جاتا ہے۔ اُس کے اندر دیانت و امانت، رحم اور عدل پیدا ہو جاتا ہے، اُس میں خدمت خلق کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے، محبت اور قربِ الٰہی کی خواہش پیدا ہو جاتی ہے۔ اِس کے بعد وہ خود بھی یہ کام کرتا ہے اور دوسروں سے بھی کرواتا ہے۔ مثلاً جھوٹ نہیں بولتا اور کوشش کرتا ہے کہ دوسرے لوگ بھی جھوٹ نہ بولیں ۔ وہ دوسروں پر ظلم نہیں کرتا بلکہ وہ دوسروں کو بھی تلقین کرتاہے کہ وہ بھی دوسروں پر ظلم نہ کریں ۔ اُس کے خیالات پاکیزہ ہو جاتے ہیں اور وہ دوسروں کے خیالات کو بھی پاکیزہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ غرض اُس کی روح رات دن مخلوق کی اصلاح میں لگی رہتی ہیں خود نماز مقصود نہیں ۔

قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ۔ (العنکبوت:46) جس طرح روٹی مقصود نہیں ، روٹی کھانے سے طاقت پیدا ہوتی ہے اور پھر انسان دنیا کے کام کرتا ہے۔ اِسی طرح نماز اصل مقصود نہیں بلکہ اس کا کام یہ ہے کہ وہ ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے۔ جو شخص نماز پڑھتا ہے اُس کی روح کو طاقت ملتی ہے اور بُرائیوں کے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جاتی ہے۔ اُس کے اندر دیانت و امانت، عدل و انصاف، رحم غرض جتنے اخلاقِ فاضلہ ہیں وہ سب پائے جاتے ہیں اور اس کے اندر یہ طاقت بھی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ دوسرے لوگوں کے اندر بھی یہ اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرے۔ یہی حال روزوں کا ہے۔

 روزوں کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ (البقرۃ:184) روزوں کی یہ غرض ہے تا روح کو طاقت پہنچے اور وہ تقویٰ کے قابل ہو جائے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔ وہ شخص روزہ دار نہیں جو بھوکا اور پیاسا رہتا ہے۔ روزہ دار وہ ہے جس کی زبان قابو میں رہے۔ غرض روزے کا مقصود بھوکا اور پیاسا رہنا نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ انسان کے اندر یہ جذبہ پیدا ہو جائے کہ اُسے کسی وقت اپنے بھائیوں اور بنی نوع انسان کی خاطر اپنی مملوکہ اور حلال چیزیں بھی چھوڑنی پڑیں تو وہ چھوڑ دے۔ روزے میں ہمارا اپنا کھانا جو حلال ذرائع سے کمایا ہوا ہوتا ہے اور شریعت کے لحاظ سے حرام نہیں ہوتا ہمارے پاس موجود ہوتا ہے، ہمارا اپنا پانی ہمارے پاس موجود ہوتا ہے لیکن ہم وہ کھانا بھی نہیں کھاتے، وہ پانی بھی نہیں پیتے۔ اِس میں مسلمانوں کو یہ سبق دیا جاتا ہے کہ جب تم بنی نوع انسان کی خاطر، اپنے بھائیوں کی خاطر خداتعالیٰ کے حکم کے ماتحت اپنی حلال چیز بھی اپنے اُوپر حرام کر لیتے ہو تو دوسرے کا مال تم پر کس طرح حلال ہو سکتا ہے۔ غرض روزہ میں خداتعالیٰ انسان کو حلال کھانے اور حلال کمانے کی طرف توجہ دلاتا ہے۔

اسی طرح حج ہے لوگ اپنا کاروبار چھوڑ کر حج کے لئے جاتے ہیں اور ایک جگہ جا کر اکٹھے ہو جاتے ہیں ۔ اِس سے خداتعالیٰ انسان کو یہ سبق دیتاہے کہ بنی نوع انسان کی ہمدردی کے لئے، اپنے وطن کے لئے اور رشتہ داروں کی خاطر تمہیں اپنا کام چھوڑ کر بھی جانا پڑے تو جاؤ۔ جو شخص سچے دل سے حج کرنے جاتا ہے اُسے یہ توفیق مل جاتی ہے کہ وہ بنی نوع انسان اور اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کی خاطر کام کرے اور ایسا کرنے کے لئے اگر اُسے وطن اور کاروبار بھی چھوڑنا پڑے تو وہ چھوڑ دیتا ہے۔

غرض نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور ذکرِ الٰہی وغیرہ روحانی غذائیں ہیں ۔ ان کے بعد انسان کو کچھ کام بھی کرنا ہوتا ہے۔ لیکن بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اِس میں غفلت سے کام لیتے ہیں ۔ وہ نماز پڑھ کر مغرور ہو جاتے ہیں اور بجائے اِس کے کہ اُنہیں کوئی روحانی طاقت حاصل ہو وہ نماز پڑھ کر یہ سمجھتے ہیں کہ گویا اُنہوں نے خداتعالیٰ پر احسان کیا ہے۔ نماز تو اِس لئے سکھائی گئی ہے تا نیکی کی طاقت بڑھے۔ اگر کوئی شخص نمازپڑھتا ہے اور پھر اُس کی نیکی کی طاقت نہیں بڑھتی تو وہ سمجھ لے کہ اس نے صحیح طور پر نماز نہیں پڑھی۔ جس طرح تم کھانا کھاتی ہو کھانے سے اگر تمہیں جسمانی طاقت حاصل نہیں ہوتی تو تم ڈاکٹر کے پاس جاتی ہو اور علاج کرواتی ہو۔ اِسی طرح اگر نماز تمہارے اندر ایسی روحانی طاقت پیدا نہیں کرتی کہ تمہارے اندر بُرائیوں سے نفرت کا مادہ پیدا ہو جائے تو سمجھ لو تمہاری وہ نماز صحیح نماز نہیں ۔ تمہارے اندر کوئی روحانی بیماری داخل ہوچکی ہے جس کا علاج ضروری ہے۔ جیسے بعض لوگ آٹے میں بُرادہ ملا دیتے ہیں بظاہر تو لوگ ایسے آٹے سے روٹی تیار کرکے کھاتے ہیں لیکن وہ انتڑیوں میں جا کر تکلیف پیدا کرتا ہے اور غذا سے جو طاقت پیدا ہوتی ہے وہ حاصل نہیں ہوتی۔ اسی طرح اگر کوئی شخص نماز پڑھتا ہے اور بظاہر اُسے کوئی روحانی طاقت حاصل نہیں ہوتی تو اُسے سمجھ لینا چاہیے کہ نماز خراب ہے۔ جس کی صحت خراب ہو جاتی ہے اُسے طاقتور غذائیں استعمال کروائی جاتی ہیں ، علاج کروایا جاتا ہے۔ اسی طرح اگر روحانی صحت خراب ہو جائے تو نماز، روزہ، زکوٰۃ اور ذکرِالٰہی وغیرہ میں کثرت سے اس کا علاج کرنا چاہیے۔ یہ چیزیں خود مقصو دنہیں ہاں بطور غذا کے ہیں ۔ تم اپنی نمازوں کو ٹٹولتی رہا کرو اور دیکھتی رہا کرو کہ آیا وہ کوئی زائد فائدہ تمہیں پہنچاتی ہیں یا نہیں ۔

ہمارے مُلک میں ایک مثل مشہور ہے وہ ہے تو ہنسی والی لیکن جو سبق اس میں بیان کیا گیا ہے وہ بہت بڑا ہے۔ کہتے ہیں کوئی مولوی تھا اُس نے کسی گاؤں میں جا کر وعظ کرنا شروع کیا لیکن اُس کا وعظ سننے کوئی نہ آتا تھا۔ کبھی کبھار پانچ سات آدمی اکٹھے ہو جاتے تھے۔ ایک میراثی کو خیال آیا کہ اِس مولوی سے پوچھیں تو سہی کہ اِس وعظ و نصیحت سے کیا فائدہ پہنچتا ہے؟ وہ مولوی کے پاس گیا اور اُس سے پوچھا مولوی صاحب! نماز روزے سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ اُس کا مطلب یہ تھا کہ انسان دنیا میں مزدوری کرتا ہے، مشقت برداشت کرتا ہے انسانی فطرت یہ تقاضا کرتی ہے کہ اس کے بدلہ میں اُسے کچھ ملے اور جب یہ بات ہے تو نماز کے بدلہ میں مجھے کچھ ملنا چاہیے۔ مولوی نے اس میراثی کو ٹالنے کے لئے کہا کہ نماز پڑھنے سے نور ملتا ہے۔ میراثی مطمئن ہو گیا اور اُس نے خیال کر لیا اچھا کچھ تو ملے گا۔ وہ گھر گیا اور بیوی سے کہنے لگا مَیں نماز پڑھوں گا اور اِس کے بدلے میں مجھے نور ملے گا۔ اس میراثی نے ظہر کی نماز پڑھی، عصر کی نماز پڑھی، مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھیں ۔ ہر نماز کے بعد وہ جسم کو دیکھتا تھا کہ نور کیا چیز ہے؟ سردیوں کاموسم تھا صبح کی نماز کے لئے جو اُٹھا تو اُسے سردی لگی۔ مولوی نے اُسے یہ بھی بتایا تھا کہ اگر پانی نہ ملے یا کوئی بیمار ہو تو وہ تیمم کرلے۔ اُسے سردی لگی تو اُس نے خیال کر لیا کہ چلو تیمم ہی کر لوں ۔ اتفاقاً اُس کے پاس توا پڑا تھا۔ اندھیرے میں اُس نے توے پر ہاتھ مارکر تیمم کر لیا۔ جونہی اُس نے اپنے ہاتھ منہ پر پھیرے وہاں سیاہی لگ گئی۔ جب اُس نے پانچ نمازیں پڑھ لیں تو خیال کر لیا اب تو نور آ جانا چاہیے۔ اُس نے بیوی کو کہا دیکھو میرے منہ پر نور ہے یا نہیں ؟ بیوی کو بھی نور کا علم نہیں تھا۔ اُس نے کہا مجھے تو کوئی تغیر معلوم نہیں ہوتا ہاں سیاہی زیادہ معلوم ہوتی ہے۔میراثی نے کہا اگر نور سیاہ ہوتا ہے تو پھر تو گھٹائیں باندھ کر آیا ہے دیکھو! میرے ہاتھ بھی سیاہ ہوگئے ہیں ۔ یہ ایک لطیفہ ہے لیکن اِس سے پتہ لگتا ہے کہ انسانی فطرت یہ تقاضا کرتی ہے کہ اُسے محنت کے بدلہ میں کچھ ملے۔ جس کام کے بدلہ میں کچھ نہ ملے وہ کام لغو سمجھا جاتا ہے۔

پس اگر کوئی شخص یہ تقاضا کرے کہ اُسے نماز کے بعد کیا ملا تو اُس کا یہ تقاضا صحیح ہوگا۔ اِسی چیز کی طرف خداتعالیٰ اِس آیت میں اشارہ کرتا ہے کہ اِنَّ الصَّلٰوۃَ تَنْھٰی عَنِ الْفَحْشَآئِ وَالْمُنْکَرِ نماز بے حیائیوں اور بُری باتوں سے روکتی ہے۔ اِسی طرح روزے کے متعلق فرمایا۔ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَتا تمہارے اندر تقویٰ کی طاقت پیدا ہو جائے۔ اِسی طرح زکوٰۃ سے بھی دل میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں سب اصول بیان کر دیئے گئے ہیں اور اصول ہی اصل چیز ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پانی پینے سے پیٹ بھر جاتا ہے لیکن بخار والے مریض کا پانی سے پیٹ نہیں بھرتا بلکہ وہ پانی مانگتا چلا جاتا ہے۔ اِسی طرح نماز کا خاص فائدہ یہ ہے کہ وہ ناپسندیدہ باتوں سے روکتی ہے اور نیکی کی طاقت پیدا کرتی ہے۔ اگر ہمیں وہ طاقت حاصل نہیں ہوتی تو ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہماری روحانی صحت میں ضرور کوئی خرابی ہے۔ جس طرح بخار والا غذا قبول نہیں کرتا یا غذا کھانے سے اُسے اِسہال شروع ہو جاتے ہیں ، قَے ہوجاتی ہے اور اس سے ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ اُس کے اندر بیماری پیدا ہوگئی ہے۔ ہم ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں اور اُس بیماری کا علاج کرواتے ہیں اگر علاج نہ کروایا جائے تو مرض بڑھ جاتا ہے۔ اِسی طرح روحانی غذاؤں سے اگر روحانی طاقت حاصل نہیں ہوتی اور پھر تم اِس کا فکر نہیں کرتیں تو اِس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم روحانی طور پر مَر جاؤ گی اِس لئے کہ تمہارے اندر بیماری پیدا ہوگئی ہے۔ ہم نماز پڑھتے ہیں لیکن اِس کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے، روزہ رکھتے ہیں لیکن اس کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے، ہم اندھا دُھند چلے جاتے ہیں اِس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جس طرح جسم غذا جذب نہیں کرتا تو وہ مَر جاتا ہے اِسی طرح ہماری روح غذا جذب نہ کرنے کی وجہ سے مَر جاتی ہے۔ انسان کو اس کی نگرانی کی بھی ضرورت ہوتی ہے کہ یہ روحانی غذائیں اُس کے تن لگتی ہیں کہ نہیں ، اِن غذاؤں سے اُسے روحانی طاقت حاصل ہوتی ہے یا نہیں ۔ ان غذاؤں سے پیدا شدہ تغیرات کو نہ دیکھیں تو ہو سکتا ہے ہمارے اندر کوئی بیماری پیدا ہو جائے اور ہم وقت پر اِس کا علاج نہ کریں اور ہلاکت میں مبتلا ہو جائیں ۔

تمہارے لئے میں پھر خلاصہ بیان کرتا ہوں کہ اوّل لجنہ اماء اللہ کو یہ بات مدنظر رکھنی چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے نماز ادا کرے۔ دوم دینی مشاغل میں وہ یاد رکھے کہ جس طرح جسم کی غذا ہے اُسی طرح روح کی بھی غذا ہے۔ جس طرح جسم کو غذا نہ ملے تو وہ مَر جاتا ہے اسی طرح روح بھی بغیر غذا کے مَر جاتی ہے۔ مگر نہ جسمانی غذا جسم کا مقصود ہے نہ روحانی غذا روح کا مقصود ہے۔ جسمانی غذا ہم اِس لئے استعمال کرتے ہیں تا خون پیدا ہو اور طاقت حاصل ہو اور اُس طاقت سے ہم دوسرے کام کریں ۔ اِسی طرح روحانی غذاؤں کی بھی یہی غرض ہے کہ ہمیں روحانی طاقت ملے جس کے ذریعہ ہم دوسرے کام کر سکیں ۔ اگر غذا ہی اصل مقصود ہوتی تو خداتعالیٰ یہ کیوں فرماتا۔ فَوَیْلٌ لِلْمُصَلِّیْنَ۔ الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ۔ (الماعون: 5۔6)کہ لعنت ہے ایسے نمازیوں پر جو اپنی نمازوں سے غافل ہیں ۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض نمازیوں کی نماز اُن کے لئے لعنت کا موجب بھی ہوسکتی ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور دوسری عبادات پر خوش نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان کے ذریعہ جو طاقت پیدا ہوتی ہے اُس کا مطالعہ کرتے رہنا چاہیے۔

پھر میں نے بتایا کہ روحانی طاقتوں کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اندر ایک جذبہ پیدا ہوجاتا ہے کہ وہ دوسرے شخص کے اندر بھی وہی اخلاقِ فاضلہ پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے جو اُس کے اندر پائے جاتے ہیں ۔ تم اپنے اندر تبلیغ کا مادّہ پیدا کرو۔ اگر تم ایسا نہیں کرتیں تو تمہارے لئے موت مقدر ہے۔ ہیضہ جب آتا ہے تو پہلے وہ تمہارے ہمسایہ پر حملہ کرتا ہے اور اگر تم احتیاط نہ کرو تو تم بھی اُس سے بچ نہیں سکتیں ۔ طاعون ہے اس کا بھی یہی حال ہے۔ اِسی طرح اگر تم میں دین کی تبلیغ کی طرف توجہ نہیں اور تم اسے دُور کرنے کی کوشش نہیں کرتیں تو ہمسایہ کی بھی روحانی مرض تم کو ہی لگ جائے گی۔ پس نمازیں پڑھو اور پھر اِس پر غور کرتی رہا کرو کہ وہ کیا اثر پیدا کرتی ہیں ۔ پھر وہی چیز دوسروں کے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرو۔ اگر تم ایسا نہ کرو گی تو وہ روحانی مرض کی مبتلا ایک نہ ایک دن تمہیں بھی اپنا شکار بنا لیں گی۔ تم اپنے اندر دوسروں کو وعظ و نصیحت کرنے کی عادت پیدا کرو تا تم اُنہیں اپنا شکار بنا لو۔

بِالآخر مَیں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ تمہیں اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق بخشے اور تمہیں سچی مؤمنہ اور مسلمہ بنائے تا تم اپنے لئے، اپنے خاندان کے لئے، مُلک و قوم کے لئے اور سب سے بڑھ کر اسلام کے لئے مفید وجود بن سکو’’۔

 (انوارالعلوم جلد 21صفحہ 239 تا251)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button