متفرق شعراء

عظمتِ ماہِ صیام

عبادت میںجو خلقت ہے ، یہ روزوں کی بدولت ہے

سجی مولا کی جنت ہے ، یہ روزوں کی بدولت ہے

جو شیطاں بھی مقید ہے تو دوزخ بھی مقفل ہے

نظر بند ان کی قوت ہے ، یہ روزوں کی بدولت ہے

یہ روزہ ہے میری خاطر ، مَیں خود اس کی جزا ہوں گا

خدا کی جو زیارت ہے ، یہ روزوں کی بدولت ہے

جو نفرت کی کمر توڑی ، عداوت کو مٹا ڈالا

محبت کی اشاعت ہے ، یہ روزوں کی بدولت ہے

امیروں کو غریبوں کی صفوں میں لا بٹھایا ہے

اخوّت ہی اخوّت ہے ، یہ روزوں کی بدولت ہے

بیک آواز اُٹھتے ہیں ، بیک آواز چلتے ہیں

بہت اعلیٰ یہ وحدت ہے ، یہ روزوں کی بدولت ہے

قرآنِ پاک اُترا تو تقدس مل گیا اس کو

بکثرت اب تلاوت ہے ، یہ روزوں کی بدولت ہے

امیرانہ روش چھوڑی، غریبانہ ہوئے سارے

ہر اک نیکی میں سبقت ہے ، یہ روزوں کی بدولت ہے

خوشا! ماہِ صیام آیا، فرازؔ!! اتنا یقیں پھر سے

مرا ایماں سلامت ہے ، یہ روزوں کی بدولت ہے

 (اطہر حفیظ فرازؔ)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button