مجلس خدام الاحمدیہ بیلجیم کا تینتیسویں سالانہ نیشنل اجتماع ۲۰۲۵ء
٭…حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا اجتماع کا مرکزی موضوع’’اطاعت‘‘ کے حوالے سے خصوصی بصیرت افروز پیغام
٭…اجتماع میں کُل ۳۷۰؍افراد نے شمولیت کی
اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس خدام الاحمدیہ بیلجیم کو اپنا ۳۳واں نیشنل سالانہ اجتماع ’’اطاعت‘‘ کے مرکزی موضوع پر مورخہ ۸تا۱۰؍اگست ۲۰۲۵ء کو بمقام بیت السلام، دلبیک منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ

اجتماع کی تیاری کےليے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس کے ناظم اعلیٰ اجتماع مکرم محمد انصر خان صاحب مقرر ہوئے۔ اجتماع گاہ کی تیاری کےليے ۶؍اگست کووقارعمل ہوا جس دوران مسجد بیت السلام کا صحن خیموں اور مارکیوں سے بھر گیا اور اجتماع گاہ کی ترتیب و تیاری مکمل کی گئی۔
امسال ہماری خوش قسمتی تھی کہ سالانہ اجتماع کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اجتماع کے مرکزی موضوع پر ایک خصوصی محبت بھرا پیغام ارسال فرمایا۔
حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا مکمل پیغام ڈچ اور فرانسیسی زبان میں ترجمہ کرکے ایک کتابچہ کی شکل میں تیار کیا گیا جو اجتماع کے دوران تمام خدام و اطفال میں تقسیم کیا گیا۔ اس کے علاوہ اجتماع گاہ میں مختلف بینرز پر بھی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے پیغام کا کچھ حصہ درج کیا گیا۔ یہ پیغام صدر مجلس خدام الاحمدیہ بیلجیم مکرم آصف بن اویس صاحب نے افتتاحی اجلاس میں پیش کیا اور ایک ’اوپن ٹاک‘ اجلاس میں بھی اس پر مزید روشنی ڈالی۔ ان تمام کوششوں کا مقصد یہی تھا کہ حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ہر خادم و طفل تک پہنچے اور وہ اس پر عمل کرنے والے بنیں۔

افتتاحی اجلاس سے قبل اجتماع گاہ میں نمازِ جمعہ ادا کی گئی جس کے بعد اجتماعی طور پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ سماعت کیا گیا۔
اجتماع کا آغاز معائنہ و پرچم کشائی کے بعد افتتاحی اجلاس سے ہوا جس کی صدارت مکرم ڈاکٹر ادریس احمد صاحب امیر جماعت احمدیہ بیلجیم نے کی۔ تلاوت قرآن کریم، عہد خدام الاحمدیہ اور نظم کے بعد صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ نے اجتماع کی اغراض و مقاصد بیان کیے۔ بعد ازاں مکرم امیر صاحب نے اجتماع کے مرکزی موضوع ’’اطاعت‘‘ پر تقریر کی۔ افتتاحی اجلاس دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔
اس کے بعد علمی و ورزشی مقابلہ جات منعقد ہوئے۔ علمی مقابلہ جات میں تلاوت، حفظ قرآن، ترجمہ قرآن، نظم، حدیث، اسماء الحُسنیٰ، تقاریر وغیرہ شامل تھے۔ ورزشی مقابلہ جات میں فٹ بال، کرکٹ، سومیٹر دوڑ، ریلے ریس، والی بال، رَسہ کشی، کلائی پکڑنا وغیرہ شامل تھے۔ اجتماع میں ایک فوڈ سٹال پر لذیذ کھانے اور مشروبات فراہم کیے گئے اور پہلی مرتبہ MKAB شاپ کا انتظام کیا گیا جہاں خدام و اطفال، مجلس خدام الاحمدیہ بیلجیم کی اشیاء، جماعتی لٹریچر اور دیگر دلچسپ مصنوعات مثلاً مینارۃ المسیح کے چھوٹے ماڈل خرید سکتے تھے۔

اتوار کے روز اجتماع کا اختتامی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت مبلغ انچارج جماعت احمدیہ بیلجیم مکرم توصیف احمد صاحب نے کی۔ اس اجلاس میں انعامات تقسیم کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس مقامی کو خدام کا عَلم انعامی جبکہ مجلس آلکن کو اطفال کا عَلم انعامی حاصل کرنے کا اعزاز ملا۔ اسی طرح ریجن لمبرگ، بہترین ریجن قرار پایا۔ آخر پرصدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ بیلجیم اور مبلغ انچارج صاحب نے تقاریر کیں۔ اجتماع کی کُل حاضری قریباً ۳۷۰؍خدام، اطفال و مہمانان پر مشتمل تھی۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ اجتماع نہایت کامیاب رہا۔ اجتماع گاہ میں ہر طرف محبت اور اخوت کی فضا قائم تھی اور خدام و اطفال خوشی و مسرت کے ساتھ اپنے گھروں کو واپس روانہ ہوئے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلام احمدیت کے حقیقی خدام بنائے اور ہمیں اپنے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ کی خواہشات کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(رپورٹ:چودھری طاہر احمد گِل۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
٭…٭…٭
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا مجلس خدام الاحمدیہ بیلجیم کے سالانہ نیشنل اجتماع ۲۰۲۵ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام
مکرم صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ بیلجئیم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته
اللہ تعالیٰ کے فضل سے مجلس خدام الاحمدیہ بیلجئیم کو اپنا سالانہ نیشنل اجتماع منعقد کرنے کی توفیق مل رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو ہر لحاظ سے بابرکت فرمائے اور تمام شاملین کو اس سے بھر پور روحانی اور تربیتی استفادہ کی توفیق دے۔ آمین
جماعت کے ہر خادم اور طفل کو یاد رکھنا چاہیئے کہ اطاعت ایمان کا وہ جو ہر اورروحانی ترقی کی بنیاد ہے جس کے بغیر ایک قوم ترقی نہیں کر سکتی۔ آپ کی تنظیم کا نام ’’خدام الاحمدیہ‘‘ ہے اور یہ نام اس بات کی طرف بھی یاد دہانی کرواتا ہے کہ آپ کی شناخت دین کی خدمت سے وابستہ ہے اور حقیقی خدمت اطاعت کے بغیر ممکن نہیں۔ پس ہر خادم کی پہلی ذمہ داری اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل فرمانبرداری ہے۔ جس کا عملی اظہار پنجوقتہ نمازوں کےقیام، قرآن کریم کی تعلیم پر عمل کر کے اعلیٰ اخلاق کے مظاہرہ سے ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ جماعت کا نظام چونکہ خلافت سے وابستہ ہے اس لئے خلافت کی مکمل اطاعت آپ کے عہد کا بنیادی حصہ ہے اور اسی سے جماعت احمد یہ وحدت کی لڑی میں پروئے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وارث بنتی چلی جاتی ہے۔ پس اطاعت کےہر پہلو میں اپنا بہترین نمونہ قائم کرنے کی کوشش کریں۔ اپنے گھروں میں، اپنے کاموں میں اور معاشرے میں اپنے عمل سے یہ ثابت کریں کہ ایک احمدی نوجوان فرمانبرداری کے اعلیٰ معیار کس طرح قائم کرتا ہے۔ اپنی آئندہ نسلوں کے دلوں میں بھی خلافت کے ساتھ محبت، اخلاص اور وفا کا تعلق پیدا کریں تاکہ اطاعت کا یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہے۔ جس قوم کے نوجوان اطاعت کے زیور سے آراستہ ہوں اسے دنیا کی کوئی طاقت ترقی کی راہوں پر گامزن ہونے سے نہیں روک سکتی۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اطاعت کی حقیقی روح کو سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے اور آپ کو خلافت احمدیہ کا حقیقی سلطان نصیر بنائے۔ آمین
مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ جرمنی کا ۴۹ واں جلسہ سالانہ بخیرو خوبی اختتام پذیر ہوگیا




