دو واقعات
پادری عبد الحق کے ساتھ مختصر گفتگو
۱۹۵۰ء کی دہائی کے اواخر کی بات ہے جب خاکسار جامعہ احمدیہ ربوہ میں درجہ ثالثہ کا طالبعلم تھا، مگر دراصل خاکسار کا جامعہ میں یہ دوسرا سال تھا۔ وجہ یہ کہ ہمارے نئے پرنسپل محترم میر داؤد احمد صاحب (مرحوم) نے خاکسار اور خاکسار کے ساتھ دیگر دو طلبہ کو درجہ اولیٰ کے بعد درجہ ثالثہ میں کردیا تھا۔ اُن دنوں معلوم ہوا کہ پادری عبد الحق سرگودھا میں وارد ہوئے ہیں اور ایک جلسے میں تقریر کر رہے ہیں۔ اُس موقع پر جامعہ کے طلبہ کا ایک وفد پادری صاحب سے تبادلہ خیالات لیے استاذی المکرم مولانا غلام باری سیف صاحب کی قیادت میں بذریعہ ٹرین صبح آٹھ بجے روانہ ہوا۔ خاکسار بھی اُس وفد میں شامل تھا۔
سرگودھاریلوےسٹیشن سے نکل کر ہم پیدل تیزی کے ساتھ جلسہ کے پنڈال میں پہنچے۔ پادری عبد الحق صاحب کی تقریر جاری تھی، فصیح و بلیغ مقرر تھے۔ چونکہ پہلے یہ مسلمان تھے جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے، بلکہ مسلمانوں کے مولوی تھے، اس لیے تقریر میں قرآن کریم کی آیات تلاوت کر کے، من مانی تشریح پیش کر کے اپنے موقف کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
ہمیں پنڈال میں بہت پیچھے جگہ ملی، استاذی المکرم نے ایک چِٹ لکھ کر پادری صاحب کو پہنچائی کہ ہم ربوہ سے آئے ہیں اور آپ سے گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ پادری صاحب نے چِٹ پڑھی اور تقریر کے دوران کہا کہ اِس وقت تو تقریر ہورہی ہے۔ تقریر کے بعد آپ لوگ میری قیام گاہ پرآجائیں، وہاں گفتگو ہو جائے گی۔
تقریر کے اختتام پر پادری صاحب گاڑی میں روانہ ہوئے، اور ہم سب پیدل چل پڑے۔ پادری صاحب کی کوٹھی پر پہنچے ۔ مولانا صاحب نے پہرہ دار کے ذریعے اندر رابطہ کیا۔ پادری صاحب نے انہیں اندر بلالیا۔ آپ نے باہر آ کر بتایا کہ پادر ی صاحب چاہتے ہیں کہ طلبہ اکٹھے نہ آئیں بلکہ باری باری، ایک ایک کر کے اندر آ کر سوالات کر لیں۔ چنانچہ اس پر عمل ہوا۔
خاکسار کی باری سب سے آخر پر آئی، پہلے بڑی کلاسز کے طلبہ گئے تھے۔ عاجز اندر گیا اور علیک سلیک کے بعد خاکسار نے کفارے پر گفتگو شروع کی۔ احمدیہ علم کلام کے مطابق کہا کہ آدم و حوا کی غلطی پر بائبل کی رُو سے خدا نے جو سزا آدم کو دی وہ یہ تھی کہ آدم اپنے پسینے کی کمائی سے روزی حاصل کرے گا اور عورت کو یہ سزا سنائی کہ دردِ زہ سے بچہ جنے گی۔ عین اس وقت پادری صاحب کی اہلیہ کمرے میں کوئی چیز لینے کے لیے داخل ہوئی اور لے کر فوراً چلی گئی۔ پادری صاحب کو خوب علم تھا کہ آگے کیا سوال آئے گا اور ان کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔ فوراً بہانہ بنایا۔ کہنے لگے تم نے عورت کے سامنے دردِ زہ کی بات کر دی (حالانکہ بات تو پہلے سے ہو رہی تھی)۔اور وہ اٹھ کھڑے ہوئے گویا گفتگو ختم۔ اور باہر جانے والے دروازے کی طرف چل پڑے۔ خاکسار بھی چل پڑا۔ انہوں نے دروازہ کھولا۔ آگے استاذی المکرم مع طلبہ کھڑے تھے۔ پادری صاحب نے متبسّم ہو کر استاذی المکرم سے کہا آپ نے طلبہ کو خوب ٹریننگ دی ہے۔ اور ہم واپس ربوہ روانہ ہوئے۔
خاکسار عرض کرتا ہے کہ پادری صاحب کا اِس طرح بہانہ بنا کر آغاز ہی میں بحث ختم کر کے اٹھ کھڑا ہونا درست نہ تھا۔ یہ طریق ایک دینی مُنَاد کے لیے ہرگز مفید نہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پادری صاحب موصوف ساری عمر ایک بھی شخص کو عیسائی بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کا اپنا قول ہے:’’میں نے لوگوں کو مناظرے کے میدان میں پچھاڑا ضرور ہے۔ مگر مسیح خداوند کے لیے ایک بھی رُوح جیت نہ سکا۔‘‘(تاریخ کلیسیائے پاکستان، مصنفہ ایس۔کے۔داس۔ جے۔ ایس پرنٹرز۔ بیسمنٹ لودھی آرکیڈ۔۴۲ فیروز پور روڈ لاہور۔ پاکستان)
۱۹۶۰ء کی دہائی کی ابتدا میں، ٹانگانیکا (اب تنزانیہ)میں ایک بار کھڑے کھڑے مذکورہ بالا سزاؤں کی بات محترم شیخ عَمری عبیدی صاحب سے ہوئی۔ خاکسار محترم عَمری عبیدی صاحب کو ۱۹۵۰-۵۱ء سے جانتا تھا جب وہ ربوہ میں جامعہ کے طالبعلم تھے اور خاکسار چنیوٹ میں دسویں جماعت میں تھا۔ قریباً ہر جمعہ کو خاکسار ربوہ اپنے بڑے بھائی کے ہاں آتا جو افسر تعمیرات تھے۔ ان کے کچے کوارٹر میں بالعموم غیر ملکی طالبعلم ان کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ کبھی ایک کبھی دو۔ محترم عَمری صاحب بھی ان کے ساتھ کچھ عرصہ رہے۔ خاکسار نے انہیں پہلی بار جب kanzu (لمبا چوغہ جو افریقی احباب کا خاص لباس ہے) پہنے دیکھا تو بہت دلچسپ لگا۔ ٹخنوں سے کچھ اوپر تک۔ محترم عمری صاحب نے کہا کہ حَوّا اور آدم کو گمراہ کرنے کی سزا سانپ کو بھی سنائی گئی تھی اِس میں یہ بھی تھا کہ سانپ پیٹ کے بَل رِینگ کر چلا کرے گا۔ کہنے لگے کیا اِس سزا سے پہلے سانپ کے پاؤں ہوتے تھے؟یہ بات عاجز کو بہت دلچسپ لگی۔ بعد میں جب عیسائیوں کا سواحیلی لٹریچر پڑھا تو اُن کے ایک کتابچے میں اِس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ساتھ تصویریں بھی بنائی گئی تھیں جن میں دکھایا گیا تھا کہ سانپ درخت کے تنے سے لپٹا ہوا حوا کو گمراہ کر رہا ہے۔ اِس تصویر میں سانپ کے پاؤں نہیں تھے۔ خاکسار بعد میں عیسائیوں سے گفتگو میں یہ بھی سوال کیا کرتا تھا کہ سزا سے قبل سانپ پیٹ کے بل رینگ کر چلتا تھا، اُس کے پاؤں نہیں تھے تو گمراہ کرنے پہ کیا سزا ہوئی کہ تُو پیٹ کے بل رِینگ کر چلے گا؟ اِس کا جواب کسی پادری کے پاس نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ محترم عَمری عبیدی صاحب کو جزائے خیر دے اور اُن کے درجات بلند فرمائے۔
ایک عیسائی نوجوان سےگفتگو
۲۔ اَب ہم آپ کو ۱۹۸۰ء کی دہائی میں لیے چلتے ہیں۔ خاکسار نیروبی سے visit پر ممباسہ آیا، وہاں مولانا بشیر احمد اختر صاحب ہمارے مبلغ تھے۔ وہ کچھ عرصہ قبل کینیا کے ایک جزیرے لامُو (Lamu) میں رہے تھے ۔ لامُو بحر ہند میں ایک چھوٹا سا جزیرہ ہے جو ممباسہ سے ہوائی جہاز کے ذریعے ۱۵۰؍میل کے فاصلے پر ہے۔ اِس جزیرے کی سو فیصد آبادی مسلمان تھی۔ وہاں مولانا اختر صاحب کی شدید مخالفت ہوئی۔ لامُو میں ایک طویل تنگ گلی سے مولانا اختر صاحب گزرا کرتے تھے۔ ان کے خلاف منصوبہ بنایا گیا کہ جب وہ وہاں سے گزریں تو اُن پر وزنی پتھر مکان کی چھت سے گرا کر نعوذ باللہ اُن کا کام تمام کر دیا جائے۔ مولانا اختر صاحب کو اِس سازش کا علم نہیں تھا۔ وہ وہاں سے گزرے تو اُوپر سے وزنی پتھر پھینکا گیا، خدا کے فضل سے پتھر گرنے کے مقام سے وہ ایک دو قدم آگے جا چکے تھے، اور مخالفین کا منصوبہ ناکام ہو گیا۔
اَب جب عاجز ممباسہ آیا تو اُن سے کہا کہ خاکسار لامُو جانا چاہتا ہے۔ کہنے لگے وہاں ہماری شدید مخالفت ہے۔ عاجز نے کہا، یہ خاکسار کو معلوم ہے اور اِسی لیے وہاں جا کر جائزہ لینا چاہتا ہے۔ اُنہوں نے ہم دونوں کے ریٹرن ایئر ٹکٹس حاصل کر لیے اور ہم دُعا کرنے کے بعد روانہ ہو گئے۔ لامُو سے کچھ قبل ایک اَور بہت چھوٹا سا جزیرہ ہے جس میں صرف چھوٹا سا ایئر پورٹ ہی ہے۔ ہم وہاں سے بذریعہ کشتی لامُو پہنچے جہاں ہم نے دو دن ٹھہر کر جائزہ لینا تھا۔ مولانا اختر صاحب خاکسار کو وہاں ایک چھوٹی سی سرائے میں لے گئے۔ جس کا مالک مولانا اختر صاحب سے خوب واقف تھا۔ صرف رہائش کا انتظام تھا۔ وہاں ہم دو دن رہے۔
عرصہ قیام میں ہم لٹریچر لے کر مختلف مقامات پر جائزہ لینے کے لیے گھومتے پھرتے رہے۔ لوگ ہمارے مبلغ سے واقف تھے۔ ہر جگہ لوگ بڑی عزت سے ہمیں ملے۔ ہمارا سواحیلی اخبار اور لٹریچر بھی خریدا۔ گورنمنٹ کے دفاتر میں بھی گئے۔ وہاں بھی افسران اور دیگر کارکنان نے پذیرائی کی اور لٹریچر بھی خریدا۔ ہم وہاں سے نکلے تو عاجز نے کہا یہاں تو دنیا ہی بدلی ہوئی ہے۔ اِس کی کیا وجہ ہے؟ کہنے لگے معلوم نہیں۔
کھانے کے لیے ہم عرب کے ایک ہوٹل میں جاتے رہے، جہاں پہلے بھی مولانا اختر صاحب کھانے کے لیے جایا کرتے تھے۔ اُس کا مالک مولانا اختر صاحب سے خوب واقف تھا۔ بڑے تپاک سے ملا۔ کھانے کا آرڈر دے دیا گیا۔ ہوٹل کا مالک کھانا آنے تک ہمارے پاس بیٹھا باتیں کرتا رہا۔ مولانا اختر صاحب نے اُسے خاکسار کا تعارف کروایا۔
وہ مولانا اختر صاحب سے کہنے لگا، آپ نے محسوس کیا ہوگا کہ اب یہاں وہ مخالفانہ فضا نہیں جو پہلے تھی۔ پوچھا اس کی کیا وجہ ہے؟ کہنے لگا، اس قصبہ کی سوفیصد آبادی مسلمان تھی، کوئی چرچ نہیں تھا۔ لیکن اب ہمارے چند نوجوان عیسائی ہوگئے ہیں اور چرچ بھی موجود ہےجس میں انگریز پادری ہے۔ کہنے لگا ہم نے آپس میں اِس پر بات بھی کی تھی اور کہا تھا کہ عیسائیوں کا علاج تو قادیانی تھے، مگر ہم نے اُنہیں یہاں رہنے نہیں دیا۔
خاکسار نے اُسے کہا جو نوجوان عیسائی ہو گئے ہیں کیاآپ خاکسار کی اُن سے ملاقات کرا سکتے ہیں؟ کہنے لگا :بالکل کرا سکتا ہوں۔ خاکسار نے کہا کہ جب ہم کھانے کے لیے یہاں آئیں تو اُنہیں یہاں بُلا لیں۔ کہنے لگا ٹھیک ہے۔ پھر ہم نے پوچھا کہ چرچ کہاں ہے؟ اُس نے رستہ بتایا تو مولانا اختر صاحب نے کہا مجھے سمجھ آ گئی ہے کہ کہاں ہے، ہم وہاں جائیں گے۔ خاکسار نے ہوٹل کے مالک سے کہا کہ جب خاکساراُن نوجوانوں سے بات کر رہا ہوگا تو آپ نے اِس میں بالکل دخل نہیں دینا اگرچہ آپ کو میری بات سے اِختلاف ہو۔ کہنے لگا، ٹھیک ہے۔
ہم دونوں چرچ دیکھنے اور انگریز پادری سے ملاقات کے لیے بھی گئے۔ پہنچے تو چرچ سنسان پڑا تھا کوئی وہاں نہ تھا۔ ایک غریب عورت اپنے چھوٹے سے بچے کے ساتھ زمین پر بیٹھی تھی جیسے خادمہ ہو۔ ہم نے پوچھا کہ وہ انگریز پادری صاحب کہاں ہیں، ہم اُن سے ملنا چاہتے ہیں۔ کہنے لگی وہ ممباسہ گئے ہوئے ہیں۔ کب آئیں گے؟معلوم نہیں شاید ایک دو دن بعد۔ ہم نے اسے انگریزی لٹریچر دیا کہ ہماری طرف سے پادری صاحب کو دے دینا جب بھی وہ ممباسہ سے واپس آئیں۔ اُس عورت کو سواحیلی اخبار دیا اور ہم واپس چلے آئے۔
ہم دو دِن وہاں رہے کسی جگہ بھی ہماری مخالفت نہ ہوئی۔ الحمد للّٰہ۔ مولانا اختر صاحب نے خاکسار کووہ جگہ بھی دکھائی جہاں اُن پر پتھر پھینکا گیا تھا۔ رات کھانے کے لیے ہم ہوٹل میں گئے۔ ہوٹل کا مالک ہمارے پاس آ گیا۔ میں نے پُوچھا کہ اُن تین نوجوانوں کو آنے کا کہا تھا؟ کہنے لگا دو سے تو رابطہ نہیں ہو سکا۔ وہ شاید ممباسہ گئے ہوئے ہیں۔ ہاں ایک سے رابطہ ہوا ہے وہ کچھ دیربعد یہاں آ جائے گا۔ اتنے میں ہوٹل کے مالک کا ایک عرب دوست اُسے ملنے وہاں آ گیا۔ خاکسار نے ہوٹل کے مالک سے کہا اپنے اِس عرب دوست کو سمجھا دو کہ جب عیسائی نوجوان سے خاکسار کی گفتگو ہو گی تو وہ درمیان میں دخل نہ دے، چاہے اُسے خاکسار کی بات پسند نہ آئے۔ اُس نے اُسے اچھی طرح سمجھا دیا۔ مگر پھر بھی وہ درمیان میں بولنے کی کوشش کرتا رہا مگر ہوٹل کامالک اُسے خاموش کرا دیتا۔
اَب وہ نوجوان آگیا۔ حال اَحوال پُوچھنے کے بعد خاکسار نے کہاکہ تم مسلمان تھے، کیا اچھی بات دیکھی کہ تم عیسائی ہو گئے؟ کہنے لگا بات یہ ہے کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے اور محمد ﷺ محض رسول۔ اور ظاہر ہے کہ اگر کسی نے بڑے افسر تک رسائی حاصل کرنی ہو تو دوست کی نسبت بیٹے کے واسطے سے رسائی جلد ہو سکے گی۔ آخر مسلمان تھا، آنحضرتﷺ کی رسالت کا انکار نہ کر سکا۔ عاجز نے کہا، تمہاری بات درست معلوم ہوتی ہے۔ مگر یہ بتاؤ کہ اگر وہ افسر اپنے بیٹے سے ناراض ہو اور اسے چھوڑ دیا ہو، اُس سے تعلق مُنقطِع کر لیا ہو تو پھر بھی اس کے ذریعے افسر تک رسائی ہو سکے گی یا اس صورت میں دوست کے ذریعے رسائی ہوگی؟کہنے لگا،اس صورت میں دوست ہی کام آئے گا۔ خاکسار نے کہا کہ مان لیا کہ یسوع خدا کا بیٹا ہے، مگر خدا نے اپنے بیٹے کو چھوڑ دیا تھا اس سے تعلق توڑ دیا تھا۔ چنانچہ یسوع خود اس کا اقرار کرتا ہے۔ انجیل میں آتا ہے کہ جب یسوع صلیب پر شدید تکلیف میں تھا تو اس نے چِلّا کر کہا: ایلی ایلی لما سبقتنی، میرے خدا، میرے خدا تُو نے کیوں مجھے چھوڑ دیا۔ تو خدا نے اُس بیٹے کو چھوڑ دیا تھا۔ اِس لیے اَب تو رسول اللہ ﷺ کے ذریعے ہی خدا کا قرب حاصل ہو سکتا ہے۔ وہ نوجوان اس پر خاموش رہا۔
اب عاجز نے اُس نوجوان سے کہا: سچ بتاؤ کہ کیوں عیسائی ہوئے؟ کہنے لگا : یہ سب جانتے ہیں کہ جب میں مسلمان تھا تو میرے کپڑے میلے کچیلے پھٹے ہوئے ہوا کرتے تھے۔ لوگوں سے مانگ کر کھاتا تھا۔ مگر اَب دیکھو کہ میں نے عُمدہ لباس پہنا ہوا ہے۔ کھانے کی کوئی کمی نہیں ۔ہر طرح سے آرام ہے۔ عاجز نے کہا، اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ تم نے خدا کا قرب حاصل کرنے کے لیے عیسائیت اِختیار نہیں کی بلکہ اچھے لباس،کھانے پینے اور دنیوی آرام کے لیے عیسائی ہوئے ہو۔ وہ خاموش رہا۔ عاجز نے کہا: نوجوان! جو گفتگو آج ہوئی اس پر غور کرنا، سوچنا اور اپنی عاقبت سنوارنے کے لیے اقدام کرنا۔ وہ گم صُم، خاموش رہا۔ ہوٹل کا مالک بہت خوش ہوا۔ ہم وہاں سے رخصت ہوئےاور صبح واپس ممباسہ روانہ ہوگئے۔
مزید پڑھیں: تقویٰ،کی،اہمیت،و،برکات




