اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں۔ استغفار پر زور دیں
ایسے پیار کرنے والے خدا کا کس کس طرح ہمیں شکر ادا کرنا چاہئے جس نے نہ صرف ہمیں اپنی کمزوریوں سے بچنے کے طریق سکھائے بلکہ یہ بھی فرما دیا کہ مَیں تمہارے ان عملوں کو جو تم کمزوریوں اور گناہوں سے بچنے کے لئے کرتے ہو قبول کرتے ہوئے تمہیں مشکلات اور مصائب سے بھی نجات دوں گا۔ پس مشکل حالات سے نکلنے کا صرف یہی ذریعہ ہے کہ ہم اپنی عبادتوں اور اپنی دعاؤں کو خالص کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے آگے جھکیں۔ استغفار پر زور دیں۔ جماعتی طور پر بھی اور انفرادی طور پر بھی صدقہ اور خیرات کی طرف توجہ کریں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صدقہ اور استغفار کے مضمون کی گہرائی کو بیان کرتے ہوئے بہت سارے مختلف مواقع پر ارشادات فرمائے ہیں جن میں سے چند ایک میں بیان کرتا ہوں۔
استغفار کی حقیقت بیان فرماتے ہوئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ
’’گناہ ایک ایسا کیڑا ہے جو انسان کے خون میں ملا ہوا ہے مگر اس کا علاج استغفار سے ہی ہو سکتا ہے۔ استغفار کیا ہے؟ یہی کہ جو گناہ صادر ہو چکے ہیں‘‘ (جو گناہ ہم کر چکے ہیں) ’’ان کے بد ثمرات سے خدا تعالیٰ محفوظ رکھے۔ اور جو ابھی صادر نہیں ہوئے اور جو بالقوۃ انسان میں موجود ہیں‘‘ (جن کا امکان ہے کہ ہو سکتے ہیں یا جس کی طاقتیں انسان میں موجود ہیں کہ وہ طاقتیں گناہ کی طرف لے جا سکتی ہیں) ’’ان کے صدور کا وقت ہی نہ آوے۔‘‘ (وہ گناہ ہم سے سرزد ہی نہ ہوں۔ یہ استغفار ہے) ’’اور اندر ہی اندر وہ جل بھن کر راکھ ہو جاویں۔‘‘ (یعنی گزشتہ گناہوں کی معافی بھی اور آئندہ گناہوں سے بچنے کے لئے استغفار ہے تا کہ اللہ تعالیٰ کا رحم جوش میں آئے اور وہ ہمیں اپنی رحمتوں اور فضلوں سے نوازتا رہے۔) فرمایا کہ ’’یہ وقت بڑے خوف کا ہے اس لئے توبہ و استغفار میں مصروف رہو اور اپنے نفس کا مطالعہ کرتے رہو ۔ ہر مذہب و ملّت کے لوگ اور اہل کتاب مانتے ہیں کہ صدقات و خیرات سے عذاب ٹل جاتا ہے مگر قبل از نزولِ عذاب۔ مگر جب نازل ہو جاتا ہے تو ہرگز نہیں ٹلتا۔پس تم ابھی سے استغفار کرو اور توبہ میں لگ جاؤ تا تمہاری باری ہی نہ آوے اور اللہ تعالیٰ تمہاری حفاظت کرے۔‘‘ (ملفوظات جلد 5صفحہ 299۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
ابھی تو یہ چھوٹی سی مشکلات ہیں لیکن یہ چھوٹی چھوٹی مشکلات ہمیں سامنے نظر آ رہی ہیں۔ جس طرف دنیا جا رہی ہے، جس طرح انسان بے لگام ہو رہا ہے، جس طرح اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے سامان ہو رہے ہیں تو انسان اس تباہی کی طرف جا رہا ہے جو انسان کے اپنے ہاتھوں سے ہونی ہے۔ یہ دنیا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کو بھڑکا رہی ہے۔ پس ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے والوں کا یہ کام ہے کہ جہاں ہم اپنے آپ کو بد اثرات سے بچانے کے لئے توبہ اور استغفار پر زور دیں وہاں عمومی طور پر دنیا کے لئے بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کو بھی عقل دے۔
(خطبہ جمعہ ۲۴؍فروری ۲۰۱۷ء، مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۱۷؍مارچ ۲۰۱۷ء )
مزید پڑھیں: سورۃ الجمعہ میں خلافت علیٰ منہاج نبوت کا ذکر



