شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں
(گذشتہ سے پیوستہ۔ تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۱۸؍اپریل)
’’طاعت در معروف‘‘ کی پُرحکمت تفسیر و توضیح
پھر قرآن شریف میں آتا ہے: وَاَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ لَئِنۡ اَمَرۡتَہُمۡ لَیَخۡرُجُنَّ ؕ قُلۡ لَّا تُقۡسِمُوۡا ۚ طَاعَۃٌ مَّعۡرُوۡفَۃٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ (سورۃ النور:۵۴)
اور انہوں نے اللہ کی پختہ قسمیں کھائیں کہ اگر تو انہیں حکم دے تو وہ ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔ تُو کہہ دے کہ قسمیں نہ کھائو۔ دستور کے مطابق (معروف طریق کے مطابق) اطاعت (کرو)۔ یقیناً اللہ جو تم کرتے ہو اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔
تو اس آیت سے پہلی آیتوںمیںبھی اطاعت کا مضمون ہی چل رہاہے اورمومن ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی اور مانا۔ اور اس تقویٰ کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کے مقرب ٹھہرتے ہیں اور بامراد ہو جاتے ہیں۔ تو اس آیت میں بھی یہ بتایاہے کہ مومنوں کی طرح ’سنو اوراطاعت کرو‘ کا نمونہ دکھائو، قسمیں نہ کھائو کہ ہم یہ کردیں گے، وہ کردیں گے۔
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تفسیر میں لکھاہے کہ دعویٰ تو منافق بھی بہت کرتے ہیں۔ اوراصل چیز تو یہ ہے کہ عملاً اطاعت کی جائے اورمنافقوں کی طرح بڑھ بڑھ کر باتیں نہ کی جائیں۔ تو یہاں اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے لئے فرمارہاہے کہ جو معروف طریقہ ہے اطاعت کا، جو دستورکے مطابق اطاعت ہے، وہ اطاعت کرو۔ نبی نے تمہیں کو ئی خلاف شریعت اور خلاف عقل حکم تو نہیں دیناجس کے بارہ میں تم سوال کر رہے ہو۔ اس کی مثال مَیں دیتاہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ میری بیعت میں شامل ہوئے ہو اور مجھے مانا ہے تو پنج وقتہ نماز کے عاد ی بن جائو،جھوٹ چھوڑ دو، کبر چھوڑ دو، لوگوں کے حق مارنا چھوڑ دو،آپس میں پیارو محبت سے رہو، تویہ سب طاعت در معروف میں ہی آتاہے۔ اگر یہ کام کوئی نہ کرے اور کہتا پھرے کہ ہم قسم کھاتے ہیں کہ آپ جو حکم ہمیں دیں گے ہم اس کو بجا لائیں گے اور اسے تسلیم کریں گے تو یہ طاعت در معروف نہیں ہے۔
اسی طرح خلفاء کی طرف سے مختلف وقتوں میں مختلف تحریکات بھی ہوتی رہتی ہیں۔ روحانی ترقی کے لئے بھی جیساکہ مساجد کو آباد کرنے کے بارہ میں ہے، نمازوں کے قیام کے بارہ میں ہے،اولاد کی تربیت کے بارہ میں ہے، اپنے اندر اخلاقی قدریںبلند کرنے کے بارہ میں، وسعت حوصلہ پیدا کرنے کے بارہ میں، دعوت الیٰ اللہ کے بارہ میں، یا متفرق مالی تحریکات ہیں۔ تو یہی باتیں ہیں جن کی اطاعت کرنا ضروری ہے۔ دوسرے لفظوں میں طاعت در معروف کے زمرے میں یہی باتیں آتی ہیں۔ تو نبی نے یا کسی خلیفہ نے تم سے خلاف احکام الٰہی اور خلاف عقل توکام نہیں کروانے۔ یہ تو نہیں کہنا کہ تم آگ میں کود جائو اور سمند میں چھلانگ لگا دو۔ گزشتہ خطبہ میں ایک حدیث میں مَیں نے بیان کیاتھاکہ امیر نے کہا کہ آگ میں کود جائو۔ تواس کی اور روایت ملی ہے جس میںمزید وضاحت ہوتی ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عَلْقَمَہ بِنْ مُجَزِّز کو ایک غزوہ کے لئے روانہ کیا جب وہ اپنے غزوہ کی مقررہ جگہ کے قریب پہنچے یا ابھی وہ رستہ ہی میں تھے کہ ان سے فوج کے ایک دستہ نے اجازت طلب کی۔ چنانچہ انہوں نے ان کو اجازت دے دی اور ان پر عبداللہ بن حذافہ بن قیس السہمی کو امیر مقرر کردیا۔ کہتے ہیںمَیں بھی اس کے ساتھ غزوہ پر جانے والوں میں سے تھا۔ پس جب کہ ابھی وہ رستہ میں ہی تھے تو ان لوگوں نے آگ سینکنے یا کھانا پکانے کے لئے آگ جلائی تو عبداللہ نے (جو امیر مقرر ہوئے تھے اور جن کی طبیعت مزاحیہ تھی) کہا کیا تم پر میری بات سن کر اس کی اطاعت فرض نہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں؟ اس پر عبداللہ بن حذافہؓ نے کہا کیا میں تم کو جو بھی حکم دوں گا تم اس کو بجا لائو گے؟ انہوں نے کہا۔ ہاں ہم بجا لائیں گے۔
اس پر عبداللہ بن حذافہؓ نے کہا میں تمہیں تاکیداً کہتا ہوں کہ تم اس آگ میں کود پڑو۔ اس پر کچھ لوگ کھڑے ہو کر آگ میں کودنے کی تیاری کرنے لگے۔ پھر جب عبداللہ بن حذافہؓ نے دیکھا کہ یہ تو سچ مچ آگ میں کودنے لگے ہیں تو عبداللہ بن حذافہؓ نے کہا اپنے آپ کو (آگ میں ڈالنے سے) روکو۔ (خود ہی یہ کہہ بھی دیا جب دیکھا کہ لوگ سنجیدہ ہو رہے ہیں)۔
کہتے ہیں پھر جب ہم اس غزوہ سے واپس آگئے تو صحابہؓ نے اس واقعہ کا ذکر نبیﷺ سے کر دیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’امراء میں سے جو شخص تم کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے کا حکم دے اس کی اطاعت نہ کرو۔‘‘(سنن ابن ماجہ۔ کتاب الجہاد۔ باب لاطاعۃ فی معصیۃ اللّٰہ)
تو واضح ہو کہ نبی یا خلیفہ وقت کبھی بھی مذاق میں بھی یہ بات نہیں کر سکتا۔ تو اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے کہ اگر امیر کی طرف سے کسی واضح حکم کی خلاف ورزی دیکھو تو پھر اللہ اور رسول کی طر ف رجوع کرو۔ اور اب اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد خلافت راشدہ کا قیام ہو چکاہے اور خلیفہ ٔوقت تک پہنچو۔ جس کا فیصلہ ہمیشہ معروف فیصلہ ہی ہوگا انشاء اللہ۔ اور اللہ اور رسول ﷺکے احکام کے مطابق ہی ہوگا۔ تو جیساکہ مَیں نے پہلے عرض کیاکہ تمہیں خوشخبری ہو کہ اب تم ہمیشہ معروف فیصلوں کے نیچے ہی ہو۔ کوئی ایسا فیصلہ انشاء اللہ تمہارے لئے نہیں ہے جو غیرمعروف ہو۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ لایا ہوا روحانی انقلاب
اس کے بعد اب مَیں یہ بیان کرنا چاہتاہوںکہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہوکر،آپ کی بیعت کرکے، آپ سے ان دس شرائط پر عہد بیعت باندھ کر ان شرائط پر عمل بھی کیا گیا، اطاعت کا نمونہ بھی دکھایا گیا یاصرف زبانی جمع خرچ ہی رہا کہ ہم ان شرائط پر آپؑ سے بیعت کرتے ہیں۔ اس کے لئے مَیں نے چند نمونے لئے ہیں جن سے پتہ چلے کہ بیعت کرنے والوں نے اپنے اندر کیا روحانی تبدیلیاں کیں اورکیا روحانی انقلابات آئے۔ اور یہ تبدیلیاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی اوراس زمانہ میں بھی ہمیں نظر آتی ہیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’میں حلفاً کہتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لائے ہیںاور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہوجاتے ہیں‘‘۔ (سیرت المہدی۔ جلد اول۔ صفحہ ۱۶۵۔ ایڈیشن دوم۔ مطبوعہ ۱۹۳۵ء)
(شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں صفحہ ۲۰۱تا۲۰۵)
مزید پڑھیں: شرائطِ بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں



