ادبیات

چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ (قسط ۱۳)

(امۃ الباری ناصر)

۱۰۱۔ خدا کے جو ہیں وہ یہی کرتے ہیں

وہ لعنت سے لوگوں کی کب ڈرتے ہیں

لعنت la’nat: پھٹکار Curse

جو اللہ تعالیٰ کے ہوجاتے ہیں انہیں اسی کی خوشنودی اچھی لگتی ہے ۔لوگ کیا کہتے ہیں اس کی پرواہ نہیں ہوتی۔ وہ لوگوں کے برا بھلا کہنے سے نہیں ڈرتے

۱۰۲۔ وہ ہو جاتے ہیں سارے دلدار کے

نہیں کوئی ان کا بجز یار کے

دلدار dildaar: محبوب، معشوق، تسلّی دینے والا Beloved, possessing or ، delighting the heart

بجز bajuz: سوائے Without, except, for

وہ سارے کے سارے اپنے محبوب کے ہوجاتے ہیں اس کے علاوہ ان کی توجہ کا مرکز کوئی نہیں ہوتا۔

۱۰۳۔ وہ جاں دینے سے بھی نہ گھبراتے ہیں

کہ سب کچھ وہ کھو کر اسے پاتے ہیں

وہ اس محبوب کی خاطر جان بھی قربان کرنے سے گھبراتے نہیں ۔ وہ ملتا ہی تب ہے جب سب سے لا تعلق ہوکر، سب نفسانی خواہشوں کو چھوڑ کر صرف اسی کے ہوجائیں۔

۱۰۴۔وہ دلبر کی آواز بن جاتے ہیں

وہ اس جاں کے ہمراز بن جاتے ہیں

دلبر dilbar: محبوب Beloved

ہمراز hamraaz: ساتھی، دوست، رفیق Confident

سچی محبت کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ اتنا نوازتا ہے کہ وہ اس کی آواز بن جاتے ہیں وہ بولتے ہیں تو گویا خدا بول رہا ہوتا ہے ۔وہ اللہ تعالیٰ کے قریبی دوست اور ہمراز بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر بھروسہ کرتا ہے ۔

۱۰۵۔وہ ناداں جو کہتا ہے دربند ہے

نہ الہام ہے اور نہ پیوند ہے

الہام ilhaam: اللہ تعالیٰ کی طرف سے دل میں ڈالی گئی بات، القاء Divine revelation

پیوند paiwaNd: تعلق Connection, union, link

ناسمجھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دروازے بند کر لیے ہیں رابطے کی کوئی صورت نہیں ۔ اب نہ وہ کسی کو غیب کی خبر دیتا ہے نہ زندہ تعلق رکھتا ہے۔

۱۰۶۔نہیں عقل اس کو نہ کچھ غورہے

اگر وید ہے یا کوئی اور ہے

وید Ved: ہندوؤں کی مذہبی کتاب، مذہبی علم رکھنے والا ,physician Vedas, the religious book of Hindus

وہ جو یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ الہام بند ہو گئے ہیں اسے کوئی سمجھ بوجھ نہیں ہے وہ غورو فکر نہیں کرسکتا ہے ۔ بے شک اس نے وید پڑھی ہو اور بڑا قابل مانا جاتا ہو یا کوئی اور عام آدمی ہو۔

۱۰۷۔یہ سچ ہے کہ جو پاک ہو جاتے ہیں

خدا سے خدا کی خبر لاتے ہیں

سچی بات تو یہ ہے کہ جو تقویٰ شعار ہوتا ہے ۔ پاک دل رکھتا ہے ۔ خدا سے پیار کرتا ہے تو خدا خود ان سے پیار کرتا ہے اور اپنے وجود کی خبر دیتا ہے۔

۱۰۸۔اگر اس طرف سے نہ آوے خبر

تو ہو جائے یہ راہ زیر و زبر

زیروزبر zer-o-zabar: تہس نہس، نیچے اوپر تہ وبالا، درہم برہم Disturbed, disrupted, ruined, lost, troubled, agitated, distracted

اگر یہ طریق نہ ہوتا کہ خدا تعالیٰ پیار کرنے والوں سے پیار کرتا ہے ان کی پکار سنتا ہے اور جواب دیتا ہے۔ تو سارا سلسلہ ہی گڑ بڑ ہوجاتا۔ خدا کے وجود سے آگاہی نہ ہوتی ۔ اسےپہچانا ہی نہ جاتا۔ کسی کو خالق کی خبرہی نہ ہوتی ۔

۱۰۹۔طلبگار ہو جائیں اس کے تباہ

وہ مر جائیں دیکھیں اگر بند راہ

اگر الہام کلام کا سلسلہ نہ ہوتا ۔ اس سے پیار کرنے والے تو کہیں کے نہ رہتے ۔ تباہ و برباد ہوجاتے۔ بلکہ مر ہی جاتے ۔ ان کی زندگی تو اللہ تعالیٰ سے زندہ تعلق میں ہوتی ہے۔

۱۱۰۔مگر کوئی معشوق ایسا نہیں

کہ عاشق سے رکھتا ہو یہ بغض و کیں

عاشِق aashiq: محبت کرنے والا Fond of, lover

بغض و کیں bughz-o-keeN: جلن، حسد، کینہ Rancour, malice, grudge

مگر محبوب ایسے نہیں ہوتے کہ وہ خود سے محبت کرنے والوں کی قدر نہ کریں ۔ وہ ان کی محبت کا جواب محبت سے دیتے ہیں ان سے کسی طرح بھی نفرت نہیں کرتے نہ غصہ کرتے ہیں نہ دل میں ان کی طرف سے میل رکھتے ہیں ۔

۱۱۱۔خدا پر تو پھر یہ گماں عیب ہے

کہ وہ راحم و عالم الغیب ہے

راحم raahim: بہت زیادہ رحم کرنے والا Most Merciful

عالم الغیب aalem-ul-ghaib: غیب کی خبر رکھنے والا (صرف اللہ تعالیٰ کے لیے بولا جاتا ہے) knower of the unseen (an attribute of God)

محبوب اگر خدا ہو تو پھر تو ایسا سوچنا بھی غلط ہے کہ وہ خود سے محبت کرنے والوں کی پرواہ نہیں کرتا ۔ کیوں کہ وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے بار بار رحم کرتاہے اور وہ غیب کا علم رکھتاہے دلوں کے بھید جانتا ہے۔ محبت کو پہچانتا ہے۔

مزید پڑھیں: چولہ بابا نانک رحمۃ اللہ علیہ(قسط ۱۲)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button