الفضل ڈائجسٹ

الفضل ڈائجسٹ

(محمود احمد ملک)

اس کالم میں ان اخبارات و رسائل سے اہم و دلچسپ مضامین کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جو دنیا کے کسی بھی حصے میں جماعت احمدیہ یا ذیلی تنظیموں کے زیرانتظام شائع کیے جاتے ہیں۔

ربوہ کی سرزمین پر حیاتیاتی تحقیق

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۳؍ اور ۴؍اپریل ۲۰۱۴ء کے شماروں میں مکرم پروفیسر ڈاکٹر محمد شریف خان صاحب نے اپنی عملی زندگی میں کی جانے والی سائنسی تحقیق کے حوالے سے دلچسپ معلومات اور واقعات قلمبند کیے ہیں جن کا گہرا تعلق ربوہ کی یادگار تاریخ سے بھی ہے۔

محترم ڈاکٹر صاحب رقمطراز ہیں کہ ۸؍ستمبر۱۹۶۳ء بطور استاد تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں میرا پہلا دن تھا۔ یہیں سے چند سال پہلے مَیں ایف ایس سی کرکے گیا تھا اس لیے میرے کولیگز میں سے بیشتر میرے معزز اساتذہ تھے۔ ایم ایس سی میں میرے تحقیقی مقالے (thesis) کے نگران پروفیسر ڈاکٹر محمد احسن الاسلام بہت شفیق استاد تھے۔ انہوں نے تحقیق کرنے کا ڈھنگ سکھایا۔ مجھے مقالے میں ۹۸فیصد نمبر ملے۔ میرا مقالہ شائع ہوا تو جرمنی کے ماہرخزندات ڈاکٹر رابرٹس نے میرے تحقیقی کام میں استعمال ہونے والے جانور (مینڈک) کے سائنسی نام سے اختلاف کیا۔ ڈاکٹر احسن نے مجھے بتایا کہ پاکستان میں مینڈک پر تحقیق نہ ہونے کی وجہ سے اُنہیں بھی اس کا سائنسی نام معلوم نہیں تھا۔ اس پر مَیں نے فیصلہ کیا کہ مَیں ایسے جانوروں پر ہی آئندہ تحقیقی کام جاری رکھوں گا یعنی مینڈک، خزندے (کرلے، چھپکلیاں) اور سانپ وغیرہ۔ چنانچہ انہی دنوں یونیورسٹی میں ہمارے شعبہ کے ہیڈ ڈاکٹر مظفراحمد کے پوچھنے پر مَیں نے بتایا کہ مَیں جماعت احمدیہ کے لیے زندگی وقف کرچکا ہوں اور مجھے تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں رپورٹ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ وہ حیران ہوکر کہنے لگے: ربوہ تو بےآب وگیاہ ویران جگہ ہے، وہاں پر جاکر کیا تحقیق کروگے، اپنے آپ کو ضائع نہ کرو، نہ وہاں تعلیمی ماحول، نہ لائبریری، نہ لیبارٹری۔ میرے پاس یونیورسٹی میں آجاؤ، جلد ہی وظیفے پر باہر جاکر پی ایچ ڈی کرلوگے وغیرہ۔ لیکن اُن کی نصیحت میرے لیے قابل عمل نہیں تھی۔ جب ۱۹۶۴ء میں ڈاکٹر صاحب یونیورسٹی کی ٹیم کے سربراہ کی حیثیت سے تعلیم الاسلام کالج کی بی ایس سی کلاسز کا یونیورسٹی سے تعلق کا جائزہ لینے آئے تو دوبارہ اپنی پیشکش دہرائی۔ اس پر مَیں نے اپنا زیرتکمیل مسودہ اور اپنی کولیکشن انہیں دکھائی تو وہ بہت خوش ہوئے اور حوصلہ افزائی کی۔

ربوہ کالج میں چند حنوط شدہ جانور اور بوتلوں میں محفوظ شدہ کچھ مچھلیاں، کِرلے اور سانپ وغیرہ رکھے گئے تھے لیکن سائنسی اصول مدّنظر نہ رکھنے کی وجہ سے وہ گلنے سڑنے کے مرحلے میں پہنچ رہے تھے اور کائی لگ رہی تھی۔ مَیں ہفتے میں ایک دن طلبہ کے ساتھ ربوہ کے گردونواح میں جانور پکڑنے جاتا۔ دیگر علاقوں کے طلبہ کو بھی جانور پکڑ کر محفوظ کرکے لانے کی ترغیب دی جاتی۔ اس طرح کالج میں ذخیرہ بڑھنے لگا۔ میری تحقیق کو دیکھتے ہوئے پاکستان سائنس فاؤنڈیشن نے مجھے پوٹھوہار اور جہلم کے علاقے میں موجود جانوروں پر تحقیق کے لیے تین سالہ منصوبے کے فنڈز بھی مہیا کردیے۔ چنانچہ ایک ٹیم کو ساتھ ملاکر دن رات کام کیا اور تین چار نئی انواع دریافت کیں۔ پھر Worldwide Fund for Nature نے ڈیرہ غازیخان اور راجن پور کے علاقے میں کام کے لیے دو سال کا منصوبہ دیا تو وہاں سے بھی کئی نمونے اکٹھے کیے۔ کالج کی بیالوجی سوسائٹی کے ذریعے اور اپنے خرچ پر بھی کچھ سفر کرکے کئی نمونے اکٹھے کیے اور مقالے تحریر کیے۔

میں روزانہ کالج کے اوقات کے بعد گھنٹوں لیبارٹری میں تحقیقی کام کرتا اور رات گئے گھر جاتا۔ جب شادی ہوئی تو جلدی گھر جانا ناگزیر ہوگیا اور تحقیقی کام متاثر ہونے لگا۔ میری خواہش تھی کہ تحقیقی سامان اپنے گھر کے کمرے میں رکھ دوں تاکہ دن رات جب موقع ملے تو تحقیق جاری رکھ سکوں لیکن ڈر تھا کہ کالج کے نوادرات کی چوری کا الزام نہ آجائے۔ لیکن ۱۹۷۴ء میں جب کالج نیشنلائز ہوا تو ایک مولوی صاحب نے جانوروں کو محفوظ رکھنے کا کیمیکل فارملین لانے کے لیے کالج سے چند سو روپے لیے لیکن چند ہفتوں بعد پرنسپل کو کہا کہ شریف خان نے اپنے ذاتی نمونے تیار کرنے ہیں ورنہ کالج کو تو کیمیکل کی کوئی ضرورت نہیں اس لیے اُنہیں کہیں کہ اپنا میٹیریل کالج سے لے جائیں۔ جب پرنسپل نے مجھے یہ پیغام دیا تو مَیں خوشی سے اپنا سارا سامان سمیٹ کر گھر لے آیا اور اس طرح بعد میں میرے گھر دارالصدر میں واقع ایک کمرے کی لیبارٹری کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوگئی۔ اور میری تحقیق اور مقالات کی رفتار میں بھی تیزی آگئی۔ کئی نامور پاکستانی اور عالمی سطح کے پروفیسر صاحبان تبادلہ خیال کرنے میری لیبارٹری میں آتے رہے۔ اسی دوران نیویارک نیشنل ہسٹری میوزیم کی طرف سے ایک تحقیقی منصوبے کے لیے گرانٹ کی منظوری ہوئی تو حکومت پاکستان نے کہا کہ شریف خان کے علاوہ کسی دوسرے ریسرچر کا انتخاب کیا جائے۔ جواب ملا کہ اس فیلڈ میں اُس کے علاوہ پاکستان میں کسی کو نہیں جانتے۔ اس طرح یہ منصوبہ ختم ہوگیا۔ بہرحال میری لیبارٹری کی تحقیق میں بیس سے زیادہ نئی انواع دریافت اور رجسٹر کی گئیں جن کے نمونے یورپ اور امریکہ کے کئی اداروں میں مہیا کیے گئے۔

کالج جوائن کرنے کے بعد مَیں نے مطلوبہ لٹریچر کی تلاش میں کالج لائبریری کا تفصیلی جائزہ لیا۔ پھر فضل عمر ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی لائبریری میں گیا تو ایسے تحقیقی مقالے دیکھنے کو ملے کہ ربوہ میں یہ علمی خزانہ دیکھ کر دل سے حضرت مصلح موعودؓ کے لیے بےساختہ دعا نکلی۔ اُس زمانے میں فوٹو کاپی نہیں تھی چنانچہ ایک ایک مقالہ ہاتھ سے نقل کرتا رہا۔ پھر پنجاب یونیورسٹی کی لائبریری بھی کھنگالی۔ کچھ مواد نہرو یونیورسٹی انڈیا اور کچھ برٹش نیچرل ہسٹری میوزیم لائبریری سے دستیاب ہوا۔ میرے تحقیقی مقالے تواتر سے دنیابھر میں شائع ہونے لگے تو بدلے میں ہر جگہ سے سائنسدانوں کے مقالے مجھے بھجوائے جانے لگے۔ جرمن، فرنچ، روسی اور اطالوی زبانوں میں مقالے ملے تو کئی دوستوں نے تراجم کرنے میں مدد کی۔ خصوصاً ملک زبیر احمد صاحب آف ملتان نے تین غیرملکی زبانوں سے تراجم کرنے میں اور بعض دوستوں نے میرے تحقیقی مقالے ٹائپنگ کرنے میں بھرپور مدد کی۔ پھر چھ سو روپے کا اپنا پہلا ٹائپ رائٹر مَیں نے خرید لیا اورایک انگلی سے ٹائپنگ شروع کی۔ بعد میں الیکٹرانک ٹائپ رائٹر بھی خریدا لیکن ٹائپنگ ہمیشہ ایک انگلی سے ہی کی۔ اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ غلطی کا امکان بہت کم ہوجاتا ہے۔ ۱۹۸۸ء میں ڈاکٹر صلاح الدین صاحب نے مجھے ایک کمپیوٹر کا تحفہ دیا تو کئی کام آسان ہوگئے۔ ٹائپ شدہ چیزوں کا ریکارڈ بھی محفوظ ہوگیا۔

پاکستان میں میرا پہلا تحقیقی مقالہ ۱۹۶۵ء میں اور بیرون ملک ۱۹۷۲ء میں ایک امریکی شمارے میں شائع ہوا تھا۔ اب تک ان کی تعداد اڑہائی صد سے زائد ہوچکی ہے۔ کئی کتب بھی شائع ہوچکی ہیں جن کے تراجم بھی مختلف زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں۔ ۱۹۸۸ء میں پنجاب یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی ڈگری کے لیے مَیں نے رجسٹر کروایا تھا اور ۱۹۹۱ء میں اپنی ریسرچ بھی جمع کروادی لیکن لمبا عرصہ گزرنے پر بھی یونیورسٹی کی طرف سے جب خطوں کا بھی جواب نہ ملا تو آخر ایک روز پریشانی میں وہاں خود پہنچا۔ متعلقہ کارکن نے جواب دیا کہ آپ کو تو ابھی تین سال ہی مقالہ جمع کروائے ہوئے ہیں، یہاں تو بیس بیس سال پرانا مال پڑا ہے جن کے جمع کروانے والے کب کے مرگئے۔ آخر میرے ایک شاگرد نے ۱۹۹۵ء میں اُس ذخیرے میں سے چند دن محنت کرکے میرا مقالہ ڈھونڈ نکالا تو ’صاحب‘ اُسے دیکھ کر کہنے لگے کہ ہم نے مختلف پاکستانی یونیورسٹیوں سے پتا کیا تھا لیکن اسے جانچنے والا کوئی نہیں ملا، مصنف ہی بتاسکتا ہے کہ اسے کون جانچے۔ اس پر مَیں نے کینیڈا کے پروفیسر رچرڈ Wassersug کا پتہ لکھ دیا اور ڈاک خرچ کے اڑہائی سو روپے دوسری بار جمع کروادیے۔ تقریباً مہینے بعد پروفیسر صاحب کا جواب آیا کہ مجھے جو مقالہ ۱۹۹۵ء میں بھجوایا گیا ہے اس پر یونیورسٹی میں پیش کرنے کا سن ۱۹۹۱ء درج ہے، مجھے سمجھ نہیں آئی کہ اسے پانچ سال کیوں روکے رکھا۔ بہرحال مَیں مسٹر خان کو اُن کی فاضلانہ مطبوعات سے کافی عرصے سے جانتا ہوں اور اُنہیں پہلے ہی پی ایچ ڈی سمجھتا ہوں۔ … الغرض چند دن بعد پنجاب یونیورسٹی سینیٹ میں دو پروفیسروں کے سامنے رسماً پیش ہوا جو میرے مقالے کے نفس مضمون سے نابلد تھے۔ چنانچہ اِدھراُدھر کی باتیں ہوئیں اور اس طرح ۱۹۹۶ء میں مجھے ڈگری سے نواز دیا گیا۔

۱۹۹۹ء میں امریکہ آنے سے قبل گورنمنٹ کالج کی خواہش پر اپنے جمع شدہ نوادرات اُنہیں عطیہ کردیے۔ جبکہ میری ذاتی تحقیقی لائبریری کو خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ کردیا گیا ہے۔ اپنا غیرمطبوعہ تحقیقی کام مَیں اپنے ہمراہ لے آیا تھا جو تاحال جاری ہے اور وقتاً فوقتاً تحقیقی مقالوں کی صورت شائع ہوتا رہتا ہے۔ دنیابھر کے مختلف خطّوں سے بےشمار طلبہ اور ماہرین مجھ سے رابطہ کرتے ہیں اور اپنی تحقیق کے حوالے سے تبادلۂ خیال کرتے ہیں چنانچہ میری مصروفیت جاری رہتی ہے۔

(نوٹ: محترم پروفیسر ڈاکٹر محمد شریف خان صاحب ۱۹۳۹ء میں تنزانیہ میں پیدا ہوئے تھے اور ۲۰۲۳ء میں بعمر۸۴؍سال امریکہ میں وفات پاگئے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ۶؍اکتوبر۲۰۲۳ء کے خطبہ جمعہ میں ان کا ذکرخیر فرمایا اور نماز جنازہ غائب پڑھائی۔ ۲۰۰۲ء میں انہیں پاکستان میں Zoologist Of The Yearکا ایوارڈ دیا گیا۔)

………٭………٭………٭………

ایران کا دارالحکومت تہران

ایران کے دارالحکومت تہران کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ ۲۶؍نومبر۲۰۱۴ء میں شائع ہوا ہے۔ (مرسلہ مکرم امان اللہ امجد صاحب)

تہران دراصل ’تہ ران‘ تھا جس کا مطلب ہے وہ شخص جو زمین کی گہرائیوں تک لوگوں کا تعاقب کرے۔ اس قدیم شہر کی تہذیب چھ ہزار سال قبل مسیح سے ہے۔ ۱۲۱۰ء میں یہ ایک معمولی سا گاؤں تھا۔ جب ۱۲۲۰ء میں منگولوں نے شہر رےؔ کو تباہ کردیا تو وہاں کے باشندے ہجرت کرکے تہران اور اس کے گردونواح میں آباد ہوگئے۔ قاچار خاندان کے بانی محمدخاں قاچار نے ۱۷۸۸ء میں اسے فارس کا صدر مقام قرار دیا۔ یہ خاندان ۱۹۲۵ء تک فارس کا حاکم رہا۔ بعدازاں جنرل رضا پہلوی نے اس پر قبضہ کرکے اپنے شاہ ایران ہونے کا اعلان کردیا۔ ۱۹۳۵ء میں فارس کو ایران کا نام دیا گیا۔ پہلوی دَور میں ایران بہت اہمیت کا حامل بنا۔ تیل کی دولت نے اسے بہت شان و شوکت عطا کی۔ ۱۹۴۳ء میں یہاں سٹالن، روزویلٹ اور چرچل کے مابین اقوام متحدہ کے قیام کے سلسلے میں مذاکرات کا انعقاد عمل میں آیا۔

اس وقت تہران ایک صنعتی شہر بھی ہے۔ تعلیمی اعتبار سے یہاں چھ یونیورسٹیاں ہیں جن میں سے قدیم ترین یونیورسٹی ۱۹۳۵ء سے قائم شدہ ہے۔ مواصلات کا نظام نہایت شاندار ہے۔ ایئرپورٹ جدید سہولیات سے مزیّن ہے۔

تہران کے قابل دید مقامات میں ’’شاہ یاد‘‘ وہ عمارت شامل ہے جو بادشاہت کے اڑہائی ہزار سال مکمل ہونے کی یاد میں ۱۹۷۱ء میں تعمیر کی گئی۔ اڑہائی ہزار سالہ جشن کے موقع پر ایک قومی سٹیڈیم (آریامہرسٹیڈیم) بھی یہاں تعمیر کیا گیا جس میں ایک لاکھ تماشائی بیٹھ سکتے ہیں۔ ۱۸۳۱ء میں یہاں تعمیر کی گئی ’’سپہ سالار مسجد‘‘ پہلے سرکاری تقریبات کے لیے بھی استعمال کی جاتی تھی۔ اسی طرح نیلے گنبد والی مسجد شاہ بھی قابل دید ہے۔ پارلیمنٹ کی عمارت بھی جدید تعمیر کا نادر نمونہ ہے۔ اس کا ایوان بہت دیدہ زیب ہے۔ علاوہ ازیں یہاں سعدآباد محل بھی ہے جو مختلف ادوار میں بنائے گئے اٹھارہ محلّات کا مجموعہ ہے۔ محل کا رقبہ ۱۰۳؍ایکڑ ہے۔ اسے اب عجائب گھر میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ یہاں ’’کاخ گلستان‘‘ نامی سو سالہ پرانا محل بھی ہے جو باغات سے گھرا ہوا ہے۔ اس میں اسلامی کتب خانہ، تخت طاؤس کی شبیہ اور شاہی مہمان خانہ بھی ہے۔ اس کے علاوہ ’’سبزہ میدان‘‘ کے نام سے دنیا کا واحد چھتا ہوا میدان بھی ہے۔ اس کی عمر بھی سو سال سے زیادہ ہے۔

………٭………٭………٭………

مزید پڑھیں:ہمارے خاندان میں احمدیت کا نفوذ اور اُس کے ثمرات

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ بھی پڑھیں
Close
Back to top button