خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 05؍جون 2026ء
’’میرا یہ مسلک نہیں کہ مَیں ایسا تُند خو اور بھیانک بن کر بیٹھوں کہ لوگ مجھ سے ایسے ڈریں جیسے درندہ سے ڈرتے ہیں اور مَیں بُت بننے سے سخت نفرت کرتا ہوں۔ مَیں تو بُت پرستی کے ردّ کرنے کو آیا ہوں نہ یہ کہ مَیں خود بُت بنوں اور لوگ میری پوجا کریں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مَیں اپنے نفس کو دوسروں پر ذرا بھی ترجیح نہیں دیتا۔ میرے نزدیک متکبر سے زیادہ کوئی بُت پرست اور خبیث نہیں۔ متکبر کسی خدا کی پرستش نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی پرستش کرتا ہے‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
حضورؑ ایسی سادگی سے مہمانوں کو ملا کرتے تھے کہ مَیں نے بعض اوقات حضورؑ کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ حضورؑ کے ہاتھ میں قلم ہوتی اور بعض اوقات حضورؑ پاؤں سے ننگے تشریف لے آتے(ایک روایت)
رقّت سے میرے آنسو نکل آئے کہ جب حضرت ہمارے مقتدا ء، پیشوا ہو کر ہماری یہ خدمت کرتے ہیں تو ہمیں آپس میں ایک دوسرے کی کس قدر خدمت کرنی چاہیے(روایت حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ)
گھر کے بھی کسی کام میں مدد کرنے میں آپؑ کو کوئی عار نہیں تھا
مَیں نے حضورؑ کے مکان کے صحن کے دروازہ سے اندر جو جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص جلدی جلدی چارپائی بُن رہا ہے اور حضور اس کے پاس بیٹھے ہوئے دیا ہاتھ میں لے کراسے روشنی کر رہے ہیں… حضورؑ کے یہ اخلاق دیکھ کر مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ میرے آنسو نکل آئے۔ اس وقت مَیں حضورؑ کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر کہہ رہا تھا کہ یہ چہرہ جھوٹے شخص کا ہرگز نہیں ہو سکتا(ایک روایت)
تھوڑی دیر نہ گزری تھی جو دیکھتا ہوں کہ حضرت صاحب تو مٹی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور مرید سارے چادر پر بیٹھے ہوئے ہیں۔… مَیں دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں کُڑھ رہا تھا۔ ساتھ ہی ایمان ترقی کر رہا تھا کہ خدا نے کیا مرتبہ دیا ہے اور نفس میں کس قدر انکسار اور فروتنی ہے (ایک روایت)
حضورؑ کا یہ برتاؤ دیکھ کر مَیں حیران رہ گیا کہ کہاں وہ پیر جن کے برابر کوئی بیٹھ نہیں سکتا اور کہاں اللہ تعالیٰ کا مسیح موعودؑ جو ایک ناچیز خادم کو چارپائی کے سرہانے بٹھاتا ہے (ایک روایت)
مَیں ایک دفعہ جاگا تو آپ فرش پر میری چارپائی کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔ مَیں ادب سے گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ آپؑ نے بڑی محبت سے پوچھا آپ کیوں اٹھے؟ مَیں نے عرض کیا کہ آپ نیچے لیٹے ہوئے ہیں۔مَیں اوپر کیسے سو رہوں۔مسکرا کر فرمایا :مَیں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔ لڑکے شور کرتے تھے انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آوے۔(روایت حضرت مولوی عبد الکریم صاحب سیالکوٹیؓ)
’’یہ اخلاق کے خلاف ہے کہ کسی بھائی کی مصیبت اور تکلیف میں اس کا ساتھ نہ دیا جاوے۔ اگر تم کچھ بھی اس کے لیے نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا ہی کرو۔ اپنے تو درکنار مَیں تو یہ کہتا ہوں کہ غیروں اور ہندوؤں کے ساتھ بھی ایسے اخلاق کا نمونہ دکھاؤ اور ان سے ہمدردی کرو۔ لا ابالی مزاج ہر گز نہیں ہونا چاہیے ‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)
حضرت مسیح موعودؑ جب کسی سے ملتے تھے تو مسکراتے ہوئے ملتے تھے اور ساتھ ہی ملنے والے کی ساری کلفتیںدور ہو جاتی تھیں۔ ہر احمدی یہ محسوس کرتا تھا کہ آپ کی مجلس میں جا کر دل کے سارے غم دھل جاتے ہیں۔ بس آپ کے مسکراتے ہوئے چہرے پر نظر پڑی اور سارے جسم میں مسرّت کی ایک لہر جاری ہو گئی۔ آپ کی عادت تھی کہ چھوٹے سے چھوٹے آدمی کی بات بھی توجہ سے سنتے تھے اور بڑی محبت سے جواب دیتے تھے۔ ہر آدمی اپنی جگہ سمجھتا تھا کہ حضرت صاحب کو بس مجھی سے زیادہ محبت ہے۔ بعض وقت آدابِ مجلسِ رسول سے ناواقف عامی لوگ دیر دیر تک اپنے لا تعلق قصے سناتے رہتے تھے اور حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ بیٹھے سنتے رہتے اور کبھی کسی سے یہ نہ کہتے تھے کہ اب بس کرو
والد صاحب نے اپنی عمر ایک مغل کے طور پر نہیں گذاری بلکہ فقیر کے طور پر گذاری(روایت حضرت مرزا سلطان احمد صاحب)
’’اہل تقویٰ کے لیے یہ شرط تھی کہ وہ غربت اور مسکینی میں اپنی زندگی بسر کرے۔ یہ ایک تقویٰ کی شاخ ہے جس کے ذریعہ ہمیں غضب ناجائز کا مقابلہ کرنا ہے۔ بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخری اور کڑی منزل غضب سے ہی بچنا ہے‘‘(حضرت مسیح موعودؑ)
مَیں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظراستخفاف سے دیکھیں۔ خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔ یہ ایک قسم کی تحقیر ہے اور جس کے اندرحقارت ہے۔ ڈر ہے کہ یہ حقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جاوے۔ بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے۔ اس کی دلجوئی کرے۔ اس کی بات کی عزّت کرے کوئی چڑ کی بات منہ پرنہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے (حضرت مسیح موعودؑ)
اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔ جب کُل ایک ہی چشمہ سے پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔ مکرم و معظّم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہو سکتا۔ خدا کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے(حضرت مسیح موعودؑ)
آنحضرتﷺ کی غلامی میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی عاجزی اور انکساری کے واقعات نیز اپنی جماعت کو عجز و انکسار اختیار کرنے کی نصیحت
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 05؍جون 2026ء بمطابق 05؍احسان1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
گذشتہ خطبہ میں
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے عجز و انکسار کے واقعات بیان کیے تھے یا آپؑ کی نصائح۔ آج بھی اسی حوالے سے کچھ واقعات اور آپؑ کی نصائح پیش کروں گا۔
حضرت شیخ محمد اسماعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ ’’حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے اخلاقِ حسنہ کا یہ حال تھا کہ قادیان کے جو لوگ ہر وقت آپؑ کے خلاف دشمنی کرنے میں مشغول رہتے تھے اور کوئی دقیقہ فروگذاشت کا نہ چھوڑتے تھے وہ بھی جب آپؑ کے آستانہ پر آئے اور دستک دی تو میں نے دیکھا کہ آپؑ ننگے پیر ہی تشریف لے آئے اور دیکھتے ہی نہایت تلطّف اور مہربانی سے اس کے سلام کا جواب دے کر پوچھتے آپ اچھے تو ہیں اور اس کے سارے گھر کا حال پوچھ کر آپؑ فرماتے آپ کیسے آئے ؟پھر وہ اپنی ضرورت کو پیش کرتا تو آپؑ پوچھتے کتنی ضرورت ہے ؟تو آپؑ اس کی ضرورت سے زیادہ لا کر دیتے اور فرماتے اگر اَور ضرورت ہو تو اَور لے جائیں۔‘‘
(روایات اصحاب احمد جلد 2 صفحہ395-396)
دشمنوں سے بھی آپؑ کا انتہائی اچھا سلوک تھا اور ان سے بھی ہمیشہ عاجزی سے پیش آئے۔کبھی تکبر نہیں دکھایا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں انہوں نے منشی ظفر احمد صاحبؓ سے یہ روایت سنی ہے اور مولوی شیر علی صاحبؓ نے ان کو بتایا تھا کہ’’ایک دفعہ میراں بخش سودائی‘‘ ایک معذور سا انسان تھا دماغی لحاظ سے۔’’نے بڑی مسجد سے آتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نام لے کر آواز دی کہ‘‘۔ بڑی بدتمیزی سے نام لیا۔ بہرحال اس میں عقل نہیں تھی تو ایسا ہی نام لینا تھا۔ کہنے لگا ’’اوئے غلام احمدا‘‘ آپؑ اسی وقت کھڑے ہو گئے اور فرمایا ’’جی‘‘۔ کوئی برا نہیں منایا۔آپؑ نے فرمایا جی کیا کہتے ہو۔’’اس نے کہا ‘‘او سلام تے آکھیا کر۔’’ یعنی پنجابی میں اس نے کہا پہلے سلام کرو۔ اپنے آپ کو افسر سمجھتا تھا وہ اپنے خیال میں بیچارہ۔‘‘آپ نے فرمایا ’’السلام علیکم۔‘‘ پھراس نے کہا ’’معاملہ ادا کر۔‘‘ زمینداروں میں وہاں معاملہ ادا کیا جاتا ہے۔گورنمنٹ کی طرف سے یہ ایک ٹیکس ہوتا ہے۔ بہرحال ’’حضور نے‘‘اس کی بات سن کے ’’جیب میں سے رومال نکال کر جس میں…‘‘ سے چار آنے یا آٹھ آنے اسے دے دئے اور ’’وہ خوش ہو کر‘‘ پھر چلا گیا ’’گھوڑیاں گانے لگا۔‘‘
(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 734 روایت نمبر805)
گھوڑیاں تعریف کے شعر ہوتے ہیں۔
دماغی طور پر معذور کی باتوں کو بھی آپؑ نے کبھی برا نہیں منایا اور اس کے لیے بھی کھڑے ہو جاتے تھے۔
ماسٹر نذیر حسین صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب کبھی بھی اپنے والد کے ہمراہ قادیان حضورؑ کے پاس میں آیا اور حضورؑ کو اطلاع کرائی گئی کہ حکیم مرہم عیسیٰ صاحب آئے ہیں تو مَیں نے ہمیشہ یہی دیکھا کہ حضورؑ اطلاع ہوتے ہی فوراً باہر تشریف لے آتے اور اس وقت کچھ نہ کچھ کھانے کے لیے بھی پیش فرماتے اور بعض دفعہ یہ بھی ہوتا کہ پہلے خود ہی جا کر کھانا لے کر آتے۔ لکھتے ہیں کہ
حضورؑ ایسی سادگی سے مہمانوں کو ملا کرتے تھے کہ مَیں نے بعض اوقات حضورؑ کو ایسی حالت میں دیکھا ہے کہ حضورؑ کے ہاتھ میں قلم ہوتی اور بعض اوقات حضورؑ پاؤں سے ننگے تشریف لے آتے۔
گھر کے کمرے میں بیٹھے ہوتے تو دروازہ knock ہونے پہ اسی طرح باہر آ جاتے۔ اگر کبھی حضورؑ مسجد میں تشریف فرما ہوتے اور کوئی مہمان آتا تو حضورؑ اس سے اکثر اٹھ کر مصافحہ کرتے۔اور اگر حضورؑ کسی سے کوئی اَور بات کر رہے ہوتے اور کوئی آجاتا اور حضورؑ کے پاس بیٹھ کر مصافحہ کرتا تو حضورؑ فوراً اس کی طرف توجہ فرماتے اور اس کا حال وغیرہ پوچھتے۔ الغرض
حضورؑ انتہائی عاجزی سے اپنے آنے والوں کو ریسیو (receive)کیا کرتے تھے۔
(ماخوذ از روایات اصحاب احمد جلد 3 صفحہ 173 روایات حضرت ماسٹر نذیر حسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ)
حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ کہتے ہیں کہ’’مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آیا ہوا تھا۔ غالباً 1897ء یا 1898ء کا واقعہ ہوگا۔ مجھے حضرت صاحبؑ نے مسجد مبارک میں بٹھایا …‘‘چھوٹی مسجد تھی اس وقت۔ آپؑ نے فرمایا’’کہ آپ بیٹھئے میں آپ کے لیے کھانا لاتا ہوں۔ یہ کہہ کر آپؑ اندر تشریف لے گئے۔میرا خیال تھا کہ کسی خادم کے ہاتھ کھانا بھیج دیں گے مگر چند منٹ کے بعد جبکہ کھڑکی کھلی تو مَیں کیا دیکھتا ہوں کہ اپنے ہاتھ سے سینی‘‘ یعنی بڑی پلیٹ، تھال، ٹرے میں کھانا لگا کر’’اٹھائے ہوئے میرے لیے کھانا لائے ہیں۔ مجھے دیکھ کر فرمایا کہ آپ کھانا کھائیے مَیں پانی لاتا ہوں۔‘‘ کہتے ہیں
’’بے اختیار رقّت سے میرے آنسو نکل آئے کہ جب حضرت ہمارے مقتدا ء، پیشوا ہو کر ہماری یہ خدمت کرتے ہیں تو ہمیں آپس میں ایک دوسرے کی کس قدر خدمت کرنی چاہیے۔‘‘
(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ صفحہ 258)
آپؑ کی سادگی اور عاجزی کی ایک روایت حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایک خاتون مائی بھولی، مائی جیواں کے حوالے سےبیان کرتے ہیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ ’’ایک بار حضورؑ تشریف لائے تو میں نئی کنک (گندم) بھنا کر لے گئی۔‘‘ اس کے گاؤں میں جہاں گئے تھے۔ ’’آپ نے اپنے ساتھ جو تھے ان کو بانٹ دی۔ خود بھی چکھی اور خوش ہوئے۔ جب حضورؑ سیر کو آیا کرتے تو ہماری کچی مسجد میں آ کر نماز اشراق پڑھتے۔ ہم لوگ ساگ روٹی پیش کرتے تو حضور علیہ السلام کبھی برا نہ مناتے اور نہ ہی کراہت کرتے‘‘ بلکہ بڑی خوشی سے مہمان نوازی قبول کرتے۔
(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 202 روایت نمبر1318)
حضرت منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلویؓ ایک واقعہ بیان کرتے ہیں کہ’’حضرت صاحب اپنے بیٹھنے کی جگہ کھلے کواڑ کبھی نہ بیٹھتے‘‘ دروازہ کھول کے نہیں بیٹھتے تھے بلکہ ہمیشہ دروازہ اندر لاک کر کے بیٹھتے تھے۔ کہتے ہیں کہ’’حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب تھوڑی تھوڑی دیر بعد آکر کہتے ‘‘اباکنڈا کھول’’ اور حضرت اٹھ کر کھول دیتے۔ مَیں ایک دفعہ حاضر خدمت ہوا۔ حضور بوریئے پر بیٹھے تھے۔ مجھے دیکھ کر آپ نے پلنگ اٹھایا۔ اندر اٹھا کر لے گئے۔ مَیں نے کہا حضور مَیں اٹھا لیتا ہوں۔ آپؑ فرمانے لگے بھاری زیادہ ہے آپ سے نہیں اٹھے گا۔اور فرمایا آپ پلنگ پر بیٹھ جائیں۔‘‘ پلنگ اٹھا کر آپؑ وہاں لے گئے اور ان کو بٹھایا اور اپنے بارے میں فرمایا کہ ’’مجھے یہاں نیچے آرام معلوم ہوتا ہے‘‘ مَیں نیچے بیٹھوں گا۔تم پلنگ پر بیٹھو۔ کہتے ہیں’’پہلے مَیں نے انکار کیا لیکن آپؑ نے فرمایا نہیں آپ بلا تکلّف بیٹھ جائیں۔ پھر میں بیٹھ گیا۔ مجھے پیاس لگی تھی۔ مَیں نے گھڑوں کی طرف نظر اٹھائی وہاں کوئی پانی پینے کا برتن نہ تھا۔ آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔کیا آپ کو پیاس لگ رہی ہے؟ مَیں پانی لاتا ہوں۔ نیچے زنانے سے جا کر آپ گلاس لے آئے۔ پھر فرمایا ذرا ٹھہریئے۔اور پھر نیچے گئے اور وہاں سے دو بوتلیں شربت کی لے آئے جو منی پور سے کسی نے بھیجی تھیں۔‘‘کہتے ہیں ’’بہت لذیذ شربت تھا۔ فرمایا کہ ان بوتلوں کو رکھے ہوئے بہت دن ہو گئے کیونکہ ہم نے نیت کی تھی کہ پہلے کسی دوست کو پلا کر پھر خود پئیں گے۔ آج مجھے یاد آ گیا۔ چنانچہ آپ نے گلاس میں شربت بنا کر مجھے دیا۔‘‘یہ تحفہ جو آیا تھا آپؑ نے کہا پہلے مَیں کسی دوست کو پلاؤں گا پھر پیوں گا۔ کہتے ہیں کہ ’’میں نے کہا پہلے حضور اس میں سے تھوڑا سا پی لیں۔‘‘ گلاس میں شربت بنا کر جب ان کو دیا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کہا آپ پی لیں پہلے ’’تو پھر میں پیوں گا۔ آپ نے ایک گھونٹ پی کر مجھے دے دیا اور مَیں نے پی لیا۔ میں نے شربت کی تعریف کی۔ آپؑ نے فرمایا کہ ایک بوتل آپ لے جائیں اورایک باہر دوستوں کو پلا دیں۔ آپ نے ان دونوں بوتلوں میں سے وہی ایک گھونٹ پیا ہو گا۔ مَیں آپ کے حکم کے مطابق بوتلیں لے کر چلا آیا۔‘‘
(اصحاب احمد جلد 4صفحہ 168-169)
اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ عائشہ صاحبہ بنت احمد جان صاحب نے بیان کیا کہ 1906ء میں جب میری والدہ مرحومہ فوت ہو گئی تھیں تو مجھے اماں جی اہلیہ حضرت خلیفہ اوّلؓ اپنے گھرلے گئیں۔ ناشتہ وغیرہ کرایا۔ پھر چار پانچ یوم کے بعد حضرت ام المومنینؓ مجھے اپنے گھر لے آئیں۔ جہاں اب اماں جان ، یہ جگہ بتا رہی ہیں کہ جہاں اب اوپر باورچی خانہ ہے وہاں اماں جانؓ اپنے گھر میں میرا سر دھلوا رہی تھیں تو ایک عورت میرے سر میں پانی ڈالتی تھی اور اماں جان اس بچی کا جس کی والدہ فوت ہو گئی تھی سر دھلوا رہی تھیں۔ اور کہتی ہیں حضرت ام المومنینؓ میرے سر کو صابن سےملتیں اور دھوتی تھیں۔ وہ عورت جو تھی وہ زیادہ پانی ڈال دیتی تھی۔ حضور علیہ السلام اس جگہ ٹہل رہے تھے۔ انہوں نے جب دیکھا تو اس عورت سے لوٹا لے کر میرے سر پر پانی ڈالنا شروع کر دیا اور آہستہ آہستہ پانی ڈالتے جاتے تھے اور حضرت اماں جان ام المومنینؓ کنگھی کرتی جاتی تھیں۔ حضورؑ فرماتے تھے کہ اس طرح جوئیں نکل جائیں گی۔
(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 285روایت نمبر1509)
ہو سکتا ہے سر میں جوئیں بھی پیدا ہو گئی ہوں۔کافی دیر سے ان کی والدہ بیمار تھیں پھر فوت ہو گئیں۔ کوئی احتیاط کرنے والا نہیں تھا۔بہرحال اس وجہ سے جوئیں پڑ گئی ہوں گی یا ان علاقوں میں ویسے ہی پڑ جایا کرتی تھیں۔ بہرحال آپؑ نے فرمایا کہ اس طرح سر دھو لو ،اس طرح کنگھی پھیرتے جاؤ تو جوئیں نکل جائیں گی۔
گھر کے بھی کسی کام میں مدد کرنے میں آپؑ کو کوئی عار نہیں تھا۔
مفتی محمد صادق صاحب کہتے ہیں کہ ’’ایک دفعہ میں وضوء کے واسطے پانی کی تلاش میں لوٹا ہاتھ میں لیے اس دروازے کے اندر گیا جو مسجد مبارک میں سے حضرت صاحبؑ کے اندرونی مکانات کو جاتا ہے تاکہ وہاں حضرت صاحبؑ کے کسی خادم کو لوٹا دے کر پانی اندر سے منگواؤں۔ اتفاقاً اندر سے حضرت صاحبؑ تشریف لائے۔ مجھے کھڑا دیکھ کر فرمایا آپ کو پانی چاہیے؟ مَیں نے عرض کی ہاں حضور۔ حضورؑ نے لوٹا میرے ہاتھ سے لے لیا اور فرمایا مَیں لا دیتا ہوں اور خود اندر سے پانی ڈال کر لے آئے اور مجھے عطاءفرمایا۔‘‘
(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ صفحہ 257-258)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ مراد خاتون صاحبہ اہلیہ محترمہ محترم ڈاکٹر خلیفہ رشیدالدین صاحب ؓمرحوم ومغفور نے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت ام المومنینؓ اور سب نے مل کر آم کھائے۔ آم کاموسم تھا۔ چوسنے والے آم اس زمانے میں زیادہ ہوتے تھے۔ تو صحن میں چھلکوں اور گٹھلیوں کے دو تین ڈھیر لگ گئے۔ بہت ساری عورتیں بیٹھی تھیں۔ ان پر بہت سی مکھیاں بھی آنی شروع ہو گئیں۔ عورتیں باتوں میں مصروف ہو گئیں اور صفائی کا اس وقت خیال نہیں آیا۔ کہتے ہیں کہ اس وقت میں بھی وہاں بیٹھی تھی کچھ خادمات بھی موجود تھیں۔کام کرنے والی بھی، خدمت کرنے والی عورتیں موجود تھیں۔ اس دوران حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام آئے اور آپ نے جب یہ دیکھا تو خود ایک لوٹے میں فنائل ڈال کر سب صحن میں چھلکوں کے ڈھیروں پر اپنے ہاتھ سے ڈالی تاکہ مکھیاں وغیرہ چلی جائیں اور گند صاف ہو۔ بونہ آئے۔
(ماخوذ از سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 261 روایت نمبر1470)
بجائے کسی کو کچھ کہنے کے اپنے عمل سے ہی دکھا دیا کہ گندگی کی صفائی جلدی کرنی چاہیے۔ اس میں جہاں آپؑ کی عاجزی نظر آتی ہے وہاں حفظان صحت کی طرف توجہ بھی نظر آتی ہے۔
ایک وفد جس میں لاہور کے کچھ معززین جن میں ڈاکٹر علامہ اقبال اور سر شہاب الدین وغیرہ بھی شامل تھے حضرت اقدسؑ سے ملاقات کے لے آئے اور اس ملاقات کا حال بیان کرتے ہوئے بابو غلام محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ’’رات کو کھانا کھانے کے بعد جب چارپائیاں تقسیم ہوئیں تو مَیں نے مضبوط اور بڑی چارپائی لے لی مگر چوہدری شہاب الدین صاحب نے (جو بعد میں سر شہاب الدین کہلائے )میرا بستر اس سے اٹھا کر میری چارپائی پر قبضہ کر لیا۔ حضرت صاحبؑ تشریف لائے۔ہر ایک سے دریافت فرمایا کہ آپ کو کوئی تکلیف تو نہیں؟ ہر شخص نے کہا کہ حضور! مجھے کوئی تکلیف نہیں۔لیکن جب میرے پاس پہنچے تو میں پریشان کھڑا تھا کیونکہ میری چارپائی پر چوہدری شہاب الدین صاحب قبضہ کر چکے تھے۔ میں نے عرض کیا کہ حضور !میری چارپائی چوہدری شہاب الدین نے چھین لی ہے اور میں حیران ہوں کہ کہاں سوؤں۔ فرمایا ٹھہریئے !مَیں آپ کے لیے اَور چارپائی لاتا ہوں۔‘‘ کہتے ہیں ’’چنانچہ حضرت صاحبؑ تشریف لے گئے۔ مگر جب کافی دیر گذر گئی اور چارپائی نہ آئی تو
مَیں نے حضورؑ کے مکان کے صحن کے دروازہ سے اندر جو جھانکا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک شخص جلدی جلدی چارپائی بُن رہا ہے اور حضور اس کے پاس بیٹھے ہوئے دیا ہاتھ میں لے کر‘‘ لیمپ لے کر ’’اسے روشنی کر رہے ہیں۔
حضورؑ کی یہ حالت دیکھ کر مجھے بہت شرم آئی۔ مَیں آگے بڑھا‘‘دروازہ کھلا ہی تھا ’’اور عرض کی کہ حضور! دیا مجھے پکڑا دیں‘‘ یہ لیمپ مجھے پکڑا دیں ’’مگر حضورؑ نے فرمایا کہ اب تو ایک ہی پھیرا باقی ہے۔
حضورؑ کے یہ اخلاق دیکھ کر مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ میرے آنسو نکل آئے۔ اس وقت مَیں حضورؑ کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر کہہ رہا تھا کہ یہ چہرہ جھوٹے شخص کا ہرگز نہیں ہو سکتا۔‘‘
(لاہور تاریخِ احمدیت صفحہ217-218)
’’آپ کے خادم مرزا اسماعیل بیگ مرحوم کی شہادت ہے کہ جب حضرت اقدسؑ اپنے والد بزرگوار کے ارشاد کے ماتحت بعثت سے قبل مقدمات کی پیروی کے لیے جایا کرتے تھے تو سواری کے لیے گھوڑا بھی ساتھ ہوتا تھا اور مَیں بھی عموماً ہمرکاب ہوتا تھا لیکن جب آپ چلنے لگتے تو آپ پیدل ہی چلتے اور مجھے گھوڑے پر سوار کرا دیتے۔‘‘جو خادم تھا اس کو گھوڑے پر سوار کر دیتے اور آپؑ پیدل چلتے۔ کہتے ہیں ’’مَیں بار بار انکار کرتا اور عرض کرتا حضور! مجھے شرم آتی ہے۔ آپؑ فرماتے کہ ‘‘ہم کو پیدل چلتے شرم نہیں آتی۔تم کو سوار ہوتے کیوں شرم آتی ہے۔’’ جب حضرتؑ قادیان سے چلتے تو ہمیشہ پہلے مجھے سوار کراتے جب نصف سے کم یا زیادہ راستہ طے ہو جاتا تو میں اتر پڑتا اور آپؑ سوار ہو جاتے اور اسی طرح جب عدالت سے واپس ہونے لگتے تو پہلے مجھے سوار کراتے اور بعد میں آپؑ سوار ہوتے۔ جب آپؑ سوار ہوتے تو گھوڑا جس چال سے چلتا اسی چال سے چلنے دیتے‘‘ تاکہ میں ساتھ ساتھ چل رہا ہوں تو مجھے تکلیف نہ ہو۔
(حیات طیبہ از عبدالقادر صاحب سابق سوداگر مل صفحہ 16)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ مولوی شیر علی صاحبؓ نے مجھے بیان کیا کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جب مولوی محمد علی صاحب سے کوئی بات وغیرہ دریافت کرنی ہوتی تھی تو آپؑ بجائے اس کے کہ ان کو اپنے پاس بلا بھیجتے خود مولوی صاحب کی کوٹھری میں‘‘ جو چھوٹا سا کمرہ تھا، ’’تشریف لے آیا کرتے تھے‘‘ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓکہتے ہیں کہ مَیں عرض کرتا ہوں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں مولوی محمد علی صاحب آپ کے مکان کے ایک حصہ میں رہائش رکھا کرتے تھے۔‘‘ حضرت مسیح موعود نے اپنے مکان کا ایک کمرہ مولوی محمد علی صاحب کو دیا ہوا تھا ’’اور ان کا کام کرنے کا دفتر اسی چھوٹی سی کوٹھری میں ہوتا تھا جو مسجد مبارک کے ساتھ جانب شرق واقع ہے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد 1صفحہ 357 روایت نمبر394)
وہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود ان کے پاس چلے جایا کرتے تھے۔افسوس یہ ہے کہ مولوی صاحب نے حضورؑ کی عاجزی سے جو سبق لینا تھا وہ نہ لیا اور آخر میں بڑائی نے ان کو نقصان پہنچایا۔
ایڈیٹر الحکم
حضرت مسیح موعودؑ کی سادگی
کے حوالے سے تحریر کرتے ہیں کہ
’’آپؑ سیر کو نکلتے ہیں تو کوئی تمیز نہیں ہوتی کہ کوئی آگے نہ بڑھے بلکہ بسا اوقات جلیل القدر اصحاب کو خیال پیدا ہوتا ہے کہ خاک اڑتی ہے اور حضرت اقدس پیچھے ہیں۔‘‘ چلنے سے مٹی اُڑ رہی ہے کچی سڑکیں تھی ’’مگر حضرت حجة اللہ نے کبھی اس قسم کا خیال بھی نہیں فرمایا۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پیچھے سے لوگ چلے آتے ہیں اور اعلیٰ حضرت کو ٹھوکر لگ گئی ہے یا جوتی نکل گئی ہے‘‘یعنی کسی کا پاؤں لگ گیا ’’یا چھڑی گر گئی ہے‘‘ٹھوکر لگنے سے’’مگر کبھی کسی نے نہیں دیکھا یا سنا ہوگا کہ آپ نے کوئی ملال ظاہر کیا ہو یا کسی خاص وضع کو پسند کیا ہو۔‘‘یہ بھی نہیں کہا کہ تمہیں خیال نہیں آتا۔’’مسجد میں بہت مرتبہ ایسا ہوا کہ آپؑ صحابہؓ کے زمرہ میں بیٹھے ہیں اور کوئی اجنبی آیا ہے تو اس نے بڑھ کر مولانا مولوی عبدالکریم صاحب یا حضرت حکیم الامت سے اوّل مصافحہ کیا اور حضرت مسیح‘‘موعود’’آپ کو سمجھا تو ان بزرگوں نے زبان سے بتایا‘‘ لوگوں کو بتاتے تھے ’’کہ حضرت صاحب یہ ہیں۔‘‘ غرض
اپنے آقا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو ہی ہمیشہ اپنا عمل بنایا اور وہی نمونہ آپؑ نے دکھایا۔
(ملفوظات جلد2صفحہ270حاشیہ ،ایڈیشن 2022ء)
ڈاکٹر بشارت احمد صاحب کی ایک روایت ہے کہ ’’نواب محمد علی خاں صاحبؓ آف مالیر کوٹلہ کی بیگم صاحبہ کا انتقال ہو گیاتو حضرت اقدسؑ جنازہ کے ساتھ قبرستان تشریف لے گئے۔ نماز جنازہ خود پڑھائی۔ قبر ابھی تیار نہ تھی۔ مَیں بھی جنازہ کے ساتھ تھا۔ لوگ قبر دیکھنے میں مشغول ہو گئے۔‘‘کہتے ہیں’’مَیں بھی اسی طرف متوجہ ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں جو دیکھتا ہوں تو حضرت صاحب ندارد۔‘‘ وہاں نہیں تھے۔’’گھبرا کر اِدھر اُدھر دیکھا تو باغ میں ایک طرف اکیلے زمین پر بیٹھے ہوئے نظر پڑے۔ مَیں نے جلدی سے ایک درخت کے نیچے سفید چادر بچھائی اور حضرت سے جا کر عرض کی کہ یہاں تو دھوپ ہے وہاں درخت کے سایہ میں تشریف لے چلیے۔‘‘آپؑ ’’فرمانے لگے۔ ہاں یہ ٹھیک ہے۔آپ درخت کے سایہ میں اس چادر پر بیٹھ گئے۔ قریب ہی میں بیٹھ گیا۔‘‘ کہتے ہیں’’تھوڑی دیر میں لوگوں نے جو دیکھا کہ حضرت صاحب درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے ہیں تو لوگ وہیں آنا شروع ہوگئے۔ اب جو آتا حضرت اقدس اسے فرماتے ‘‘آئیے آئیے یہاں بیٹھیے’’ اور خود پیچھے کھسک جاتے۔ اور اسے چادر پر بٹھا لیتے‘‘ آنے والے کو۔ ’’لوگ آتے گئے اور حضرت صاحب پیچھے …‘‘ہو کر’’لوگوں کو چادر پر بٹھاتے گئے۔ یہاں تک کہ
تھوڑی دیر نہ گزری تھی جو دیکھتا ہوں کہ حضرت صاحب تو مٹی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور مرید سارے چادر پر بیٹھے ہوئے ہیں۔
آنے والوں کو تو زیارت اور ملاقات کے ذوق و شوق میں یہ نظر نہ آیا‘‘ کہ کیا ہو رہا ہے کہ حضرت صاحب نیچے چلے گئے ہیں اور ہم چادر پہ بیٹھے ہیں’’مگر‘‘ کہتے ہیں
’’مَیں دیکھ رہا تھا اور دل ہی دل میں کُڑھ رہا تھا۔ ساتھ ہی ایمان ترقی کر رہا تھا کہ خدا نے کیا مرتبہ دیا ہے اور نفس میں کس قدر انکسار اور فروتنی ہے۔‘‘
(مجدد اعظم ڈاکٹر بشارت احمدحصہ دوم صفحہ 1293-1294)
جن دنوں عبداللہ آتھم کے ساتھ امرتسر میں مباحثہ ہو رہا تھا ان دنوں کا ایک واقعہ منشی ظفر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں۔کہتے ہیں غالباً کریم بخش ایک رئیس کی کوٹھی پر ہم ٹھہرے ہوئے تھے تو کرنل الطاف علی خان ہمارے ساتھ ہو لیے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں حضرت صاحب سے تخلیےمیں، علیحدگی میں ملنا چاہتا ہوں۔ کرنل صاحب کوٹ پتلون پہنے اور داڑھی مونچھ منڈوائے ہوئے تھے کلین شیو تھے۔ میں نے کہا کہ آپ اندر چلے جائیے۔ باہر سے ہم کسی کو اندر نہ آنے دیں گے۔ چنانچہ کرنل صاحب اندر چلے گئے اور آدھے گھنٹے کے قریب وہاں حضرت صاحب کے پاس تخلیے میں رہے۔ کرنل صاحب جب باہر آئے تو چشم پُر آب تھے۔ آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔ مَیں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کیا باتیں کی ہیں جو ایسی حالت ہو گئی ہے۔ کہنے لگے کہ جب میں اندر گیا تو حضرت صاحب اپنے خیال میں بوریے پر بیٹھے ہوئے تھے حالانکہ بوریہ پر صرف آپ کا گھٹنا ہی تھا اور باقی حصہ زمین پر تھا۔ مَیں نے کہا حضورزمین پر بیٹھے ہیں تو حضورؑ نے یہ سمجھا کہ غالباً مَیں یعنی کرنل صاحب بوریے پر بیٹھنا پسند نہیں کرتا۔ اس لیے حضور نے اپنا صافہ بوریے پر بچھا دیا اپنا کپڑا جو تھا یا پگڑی کا حصہ کھول کے۔ کہتے ہیں اس کپڑے کو بھی بہرحال زمین پر بچھایا اور کرنل صاحب کو کہا کہ آپ یہاں بیٹھ جائیں۔ شاید آپ بوریے پر بیٹھنا نہیں چاہتے تو اپنا کپڑا سر سے اتار کےکہا کہ لیں یہاں کپڑا بچھا دیتا ہوں۔ اس پر بیٹھ جائیں۔ یہ حالت دیکھ کر کرنل صاحب کہتے ہیں میرے آنسو نکل پڑے اور مَیں نے عرض کیا کہ اگر چہ مَیں ولایت میں Baptize ہو چکا ہوں۔ یعنی عیسائیت قبول کر چکا ہوں مگر اتنا بے ایمان نہیں ہواکہ حضور کے صافے پر بیٹھ جاؤں۔ حضورؑ فرمانے لگے کچھ مضائقہ نہیں۔ کوئی حرج نہیں۔ آپ بلا تکلف بیٹھ جائیں۔ بہرحال کہتے ہیں مَیں صافے کو ہاتھ سے ہٹا کر بوریہ پر بیٹھ گیا اورمَیں نے اپنا حال سنانا شروع کیا کہ مَیں شراب بہت پیتا ہوں اور دیگر گناہ بھی کرتا ہوں۔ خدا رسول کا نام نہیں جانتا لیکن مَیں آپ کے سامنے اس وقت عیسائیت سے توبہ کر کے مسلمان ہوتا ہوں۔ یہ سب کچھ ہونے کے باوجود میں عیسائی ہو گیا تھا لیکن اب میں آپ کی یہ حالت دیکھ کر آپ کی باتیں سن کے مسلمان ہوتا ہوں مگر جو عیوب مجھے لگ گئے ہیں ان کو چھوڑنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔
حضورؑ نے فرمایا:استغفار پڑھا کرو اور پنجگانہ نمازپڑھنے کی عادت ڈالو۔ یہ نسخہ ہے۔ اگر برائیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ دین سے انسان ہٹ گیا ہے تو استغفار بہت پڑھے اور نمازوں پہ زور دے۔
کہتے ہیں جب تک میں حضورؑ کے پاس بیٹھا رہا میری حالت دگرگوں ہوتی رہی اور مَیں روتا رہا اور اسی حالت میں اقرار کر کے کہ مَیں استغفار اور نماز ضرور پڑھا کروں گا۔یہ مَیں نے اقرار کیا اور آپ کی اجازت لے کر آ گیا۔ وہ اثر میرے دل پر اب تک ہے۔ یہ کرنل صاحب اسی مباحثے (مباحثہ آتھم) میں شریک ہوئے تھے اور عیسائیوں کی طرف بیٹھا کرتے تھے لیکن فطرت ان کی نیک تھی اللہ تعالیٰ نے اثر کیا اور انہوں نے دوبارہ اسلام قبول کرلیا۔
(ماخوذ از اصحابِ احمد جلد 4 صفحہ 150-151)
مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ بیان کرتے ہیں ’’(1896ءکا غالباً کا واقعہ ہے کیونکہ 1900ء میں آپ نے یہ بیان شائع کیا تھا۔)‘‘چار سال پہلے کی بات بتا رہے ہیں ’’کہ آپ کے گھر کے لوگ لودہانہ گئے ہوئے تھے۔ جون کا مہینہ تھا۔ مکان نیا نیا بنا تھا۔ میں دوپہر کے وقت وہاں چارپائی بچھی ہوئی تھی اس پر لیٹ گیا۔ حضرت ٹہل رہے تھے۔
مَیں ایک دفعہ جاگا تو آپ فرش پر میری چارپائی کے نیچے لیٹے ہوئے تھے۔ مَیں ادب سے گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ آپؑ نے بڑی محبت سے پوچھا آپ کیوں اٹھے؟ مَیں نے عرض کیا کہ آپ نیچے لیٹے ہوئے ہیں۔مَیں اوپر کیسے سو رہوں۔مسکرا کر فرمایا: مَیں تو آپ کا پہرہ دے رہا تھا۔لڑکے شور کرتے تھے انہیں روکتا تھا کہ آپ کی نیند میں خلل نہ آوے۔‘‘
(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ صفحہ147)
حضرت منشی امام دین صاحبؓ نے اپنی بیعت کے وقت کا نظّارہ بیان کیا ہے کہ
’’مَیں نے 1894ء میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے دست مبارک پہ بیعت کی۔ شام کی نماز کے وقت اخویم منشی عبدالعزیز صاحبؓ اور بھائی جمال الدین صاحبؓ سیکھوانی میرے ساتھ تھے۔ نماز سے فارغ ہونے کے بعد منشی صاحب موصوف نے میری طرف اشارہ کر کے (حضرت اقدسؑ کی خدمت میں) عرض کیا حضورؑ !ان کی بیعت لے لیں۔ حضورؑ نے فرمایا اندر آ جائیں۔ جب میں اکیلا بیت الفکر میں گیا تو حضورؑ ایک چارپائی کی پائنتی کی طرف بیٹھ گئے اور مجھے چارپائی کے سرہانے بیٹھنے کا ارشاد فرمایا۔ مَیں پہلے تو جھجکا مگر حضورؑ کے دوبارہ ارشاد فرمانے پر بیٹھ گیا اور حضورؑ نے بیعت لی۔
حضورؑ کا یہ برتاؤ دیکھ کر مَیں حیران رہ گیا کہ کہاں وہ پیر جن کے برابر کوئی بیٹھ نہیں سکتا اور کہاں اللہ تعالیٰ کا مسیح موعودؑ جو ایک ناچیز خادم کو چارپائی کے سرہانے بٹھاتا ہے‘‘
جو اچھا حصہ ہے اس پر بٹھاتا ہے۔’’اخویم منشی عبدالعزیز صاحبؓ گو کمرے کے اندر داخل نہیں ہوئے تھے لیکن باہر سے یہ نظارہ‘‘وہ بھی ’’دیکھ رہے تھے۔‘‘
(اصحاب احمد جلد 1صفحہ 112)
حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ منشی اروڑا صاحبؓ مرحوم اور مَیں نے لدھیانہ میں حضورؑ کی خدمت میں عرض کی کہ کبھی حضور کپورتھلہ میں تشریف لائیں۔ ان دنوں کپورتھلہ میں ریل نہ آئی تھی۔ حضورؑ نے وعدہ فرمایا کہ ہم ضرور کبھی آئیں گے۔ اس کے بعد جلد ہی حضور بغیر اطلاع دیے ایک دن کپورتھلہ تشریف لے آئے اور یکہ خانہ سے اتر کر جس ٹانگے پر، گھوڑا گاڑی پہ گئے تھے اس سے اتر کر مسجد فتح والی نزدیکہ خانہ کپورتھلہ میں تشریف لے گئے۔ فتح والی مسجد تھی۔ حافظ حامدعلی صاحب ساتھ تھے۔ مسجد سے حضورؑ نے وہاں کا جو ملّا تھا اس کو بھیجا۔ غیر احمدی تھاکہ منشی اروڑا صاحب یا منشی ظفر احمد صاحب کو ہمارے آنے کی اطلاع کردو۔ کہتے ہیں مَیں اور منشی اروڑا صاحب کچہری میں تھے۔ کورٹ میں کام کیا کرتے تھے۔زود نویس تھے کہ ملّا نے آکر اطلاع دی کہ مرزا صاحب مسجد میں تشریف فرما ہیں اور انہوں نے مجھے بھیجا ہے کہ اطلاع کر دو۔ منشی اروڑا صاحب نے بڑی تعجب آمیز ناراضگی کے لہجے میں پنجابی میں کہا دیکھو تاں تیری مسیت وچ آ کے مرزا صاحب نے ٹھہرنا سی۔ کہ تمہاری مسجد میں آکے مرزا صاحب ٹھہریں گے۔ یہ کس طرح ہو سکتا ہے؟جھوٹ نہ بولو۔ تو مَیں نے کہا چل کر دیکھنا تو چاہیے۔ منشی ظفر صاحب نے کہا۔ پھر منشی صاحب جلدی سے صافہ یعنی (پگڑی) باندھ کر میرے ساتھ چل پڑے۔ مسجد میں جا کر دیکھا کہ حضورؑ فرش پر لیٹے ہوئے تھے اور حافظ حامد علی صاحب پاؤں دبا رہے تھے اور پاس ایک پیالہ اور چمچہ رکھا تھا… جس سے معلوم ہوا کہ شاید آپ نے دودھ پیا ہے یا کوئی روٹی اس میں بھگو کے کھائی ہے۔ منشی اروڑا صاحب نے عرض کی کہ حضورؑ نے اس طرح تشریف لانی تھی۔ ہمیں اطلاع فرماتے۔ ہم کرتار پور سٹیشن پر حاضر ہوتے۔ حضورؑ نے جواب دیا۔ اطلاع دینے کی کیا ضرورت تھی۔ ہم نے آپ سے وعدہ کیا تھا وہ پورا کرنا تھا۔ سو وہ کر دیا۔
(ماخوذ از اصحاب احمد جلد4 صفحہ 141-142)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں:
’’میری تو یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو درد ہوتا ہو اور مَیں نماز میں مصروف ہوں۔ میرے کان میں اس کی آواز پہنچ جاوے تو مَیں تو یہ چاہتا ہوں کہ نماز توڑ کر بھی اگر اس کو فائدہ پہنچا سکتا ہوں تو فائدہ پہنچاؤں اور جہاں تک ممکن ہے اس سے ہمدردی کروں۔
یہ اخلاق کے خلاف ہے کہ کسی بھائی کی مصیبت اور تکلیف میں اس کا ساتھ نہ دیا جاوے۔ اگر تم کچھ بھی اس کے لیے نہیں کر سکتے تو کم از کم دعا ہی کرو۔ اپنے تو درکنار مَیں تو یہ کہتا ہوں کہ غیروں اور ہندوؤں کے ساتھ بھی ایسے اخلاق کا نمونہ دکھاؤ اور ان سے ہمدردی کرو۔ لا ابالی مزاج ہر گز نہیں ہونا چاہیے۔‘‘
یہ صرف نصیحت نہیں بلکہ آپؑ کے جتنے واقعات سنائے ہیں ان میں خود آپؑ کا یہی طرز عمل تھا۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام آگے لکھتے ہیں کہ
’’ایک مرتبہ میں باہر سیر کو جارہا تھا۔ ایک پٹواری عبد الکریم میرے ساتھ تھا۔ وہ ذرا آگے تھا اور مَیں پیچھے۔ راستہ میں ایک بڑھیا کوئی 70یا 75 برس کی ضعیفہ ملی۔ اس نے ایک خط اسے‘‘اس پٹواری کو’’پڑھنے کو کہا مگر اس نے اس کو جھڑکیاں دے کر ہٹا دیا۔‘‘ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کہتے ہیں’’میرے دل پر چوٹ سی لگی‘‘اس سے۔ میں آگے وہاں اس کے قریب آیا تو ’’اس نے وہ خط مجھے دیا۔ مَیں اس کو لے کر ٹھہر گیا اور اس کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھا دیا۔ اس پر اسے بہت شرمندہ ہونا پڑا کیونکہ ٹھہرنا تو پڑا اور ثواب سے بھی محروم رہا۔‘‘
(ملفوظات جلد1صفحہ415-416،ایڈیشن 2022ء)
اگر عاجزی سے خط پڑھ دیتا تو اچھا تھا۔
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان فرماتے ہیں:
’’خاکسار عرض کرتا ہے کہ
حضرت مسیح موعودؑ جب کسی سے ملتے تھے تو مسکراتے ہوئے ملتے تھے اور ساتھ ہی ملنے والے کی ساری کلفتیں‘‘ یعنی تکلیفیں ’’دور ہو جاتی تھیں۔‘‘آپ کی مسکراہٹ دیکھ کے۔’’ہر احمدی یہ محسوس کرتا تھا کہ آپ کی مجلس میں جا کر دل کے سارے غم دھل جاتے ہیں۔ بس آپ کے مسکراتے ہوئے چہرے پر نظر پڑی اور سارے جسم میں مسرّت کی ایک لہر جاری ہو گئی۔ آپ کی عادت تھی کہ چھوٹے سے چھوٹے آدمی کی بات بھی توجہ سے سنتے تھے اور بڑی محبت سے جواب دیتے تھے۔ ہر آدمی اپنی جگہ سمجھتا تھا کہ حضرت صاحب کو بس مجھی سے زیادہ محبت ہے۔ بعض وقت آداب مجلسِ رسول سے ناواقف‘‘ آدمی۔ رسولوں کی جو مجلس ہے ان کے آداب سے ناواقف لوگ ’’عامی لوگ دیر دیر تک اپنے لا تعلق قصے سناتے رہتے تھے اور حضرت صاحب خاموشی کے ساتھ بیٹھے سنتے رہتے اور کبھی کسی سے یہ نہ کہتے تھے کہ اب بس کرو۔‘‘
(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ 227 روایت نمبر247)
’’ایک شخص حضرت کی خدمت میں آیا اس نے سر نیچے جھکا کر آپ کے پاؤں پر رکھنا چاہا۔ حضرت نے ہاتھ کے ساتھ اس کے سر کو ہٹایا اور فرمایا :یہ طریق جائز نہیں۔ السلام علیکم کہنا اور مصافحہ کرنا چاہیے۔‘‘
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 168، ایڈیشن 2022ء)
حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ لکھتے ہیں کہ’’کشمیر سے ایک احمدی لمبے قد کا غریب آدمی نہایت اخلاص کے ساتھ اپنے گاؤں سے قادیان تک سارا راستہ پیدل چلتا ہوا آیا کرتا تھا۔ اس کا نام غالباً اکل جو تھا۔ وہ ایک دفعہ قادیان میں آیا ہوا تھا جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک صبح سیر پر جانےکے واسطے باہر تشریف لائے۔ چوک میں وہ کشمیری بھی کھڑا تھا جب اس نے حضرت صاحبؑ کو دیکھا تو فرط محبت میں روتا ہوا آپ کے پاؤں پر سر رکھ دیا۔ آپ نے جھک کر اسے اٹھایا اور فرمایا :یہ ناجائز ہے۔ انسان کو سجدہ نہیں کرنا چاہیے۔‘‘
(ذکر حبیب از حضرت مفتی محمد صادق صاحب صفحہ 162)
یعنی کسی شخص کو کبھی سجدہ نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے پاؤں پہ نہیں جھکنا چاہیے۔
اسی طرح حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی ؓلکھتے ہیں:’’ایک دفعہ ایک شخص جو دنیا کے فقیروں اور سجادہ نشینوں کا شیفتہ‘‘ تھا یعنی ان کا عاشق تھا ’’اور خُو کردہ تھا‘‘ ان کی مجلسوں میں بیٹھنے کی اس کو عادت پڑی ہوئی تھی۔ پیروں سجادہ نشینوں کی مجلسوں کی اُسے عادت تھی۔ کہتے ہیں وہ ’’ہماری مسجد میں آیا۔ لوگوں کو آزادی سے آپؑ سے گفتگو کرتے دیکھ کر حیران ہو گیا۔ آپؑ سے کہا کہ آپ کی مسجد میں ادب نہیں !‘‘ وہ شخص جو پیروں کی مجلس سے اٹھ کے آیا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کہنے لگا کہ آپ کی مسجد میں تو ادب کوئی نہیں ہے۔’’لوگ بے محابا‘‘ بیٹھے ہیں اور بے خوف اور بے دھڑک بیٹھے ہیں اور’’بات چیت آپ سے کرتے ہیں‘‘ یعنی کہ عزّت احترام آپ کا نہیں کررہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ
’’میرا یہ مسلک نہیں کہ مَیں ایسا تُند خو اور بھیانک بن کر بیٹھوں کہ لوگ مجھ سے ایسے ڈریں جیسے درندہ سے ڈرتے ہیں اور مَیں بُت بننے سے سخت نفرت کرتا ہوں۔ مَیں تو بُت پرستی کے ردّ کرنے کو آیا ہوں نہ یہ کہ مَیں خود بُت بنوں اور لوگ میری پوجا کریں۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ مَیں اپنے نفس کو دوسروں پر ذرا بھی ترجیح نہیں دیتا۔ میرے نزدیک متکبر سے زیادہ کوئی بُت پرست اور خبیث نہیں۔ متکبر کسی خدا کی پرستش نہیں کرتا بلکہ وہ اپنی پرستش کرتا ہے۔‘‘
(سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از حضرت یعقوب علی عرفانی صاحبؓ صفحہ 314)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ منشی ظفر احمد صاحبؓ کی ایک روایت بیان کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ’’ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام دہلی سے واپسی پر امرتسر اترے۔ حضرت ام المومنینؓ بھی ہمراہ تھیں۔ حضورؑ نے ایک صاحبزادے کو جو غالباً میاں بشیر احمد صاحب تھے گود میں لیا اور ایک وزنی بیگ دوسری بغل میں لیا۔‘‘ یعنی ایک طرف بچہ اٹھایا، دوسری طرف بیگ اٹھایا ’’اور مجھے فرمایا آپ پاندان لے لیں۔‘‘ یہ بھی ساتھ تھے۔ ان کو فرمایا کہ پاندان جو چھوٹا سا ہے وہ آپ اٹھا لیں۔’’مَیں نے کہا حضور! مجھے یہ بیگ دے دیں۔ آپؑ نے فرمایا نہیں۔ایک دو دفعہ میرے کہنے پر حضورؑ نے یہی فرمایا تو میں نے‘‘ بہرحال ’’پاندان اٹھا لیا اور ہم چل پڑے۔ اتنے میں دو تین جوان عمر انگریز جو اسٹیشن پر تھے انہوں نے مجھ سے کہا کہ حضور سے کہو ذرا کھڑے ہو جائیں۔چنانچہ مَیں نے عرض کی کہ حضور یہ چاہتے ہیں کہ حضور ذرا کھڑے ہو جائیں۔ حضور کھڑے ہو گئے‘‘انگریز تھے وہاں اسٹیشن پہ۔ ’’اور انہوں نے اسی حالت میں حضورؑ کا فوٹو لے لیا‘‘ایک بچہ بھی اٹھایا ہوا تھا۔ سامان اٹھایا ہوا تھا۔ انہوں نے تصویر کھینچ لی۔ وہ تصویر کھینچنا چاہتے تھے۔ باوجود اتنی سادگی کے وہ لوگ آپ کی شخصیت سے متاثر ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس بزرگ کی تصویر لیں۔
(سیرت المہدی جلد 2 صفحہ 58-59 روایت نمبر1073)
حضرت ملک مولا بخش صاحبؓ بیان کرتے ہیں ’’ایک صاحب میاں جان محمد نام ہمارے گھر کے سامنے امرتسر میں رہتے تھے۔وہ بہت باتونی تھے۔ حضرت اقدسؑ کی کتاب سرمہ چشم آریہ کے عملاً حافظ تھے اور باوجود اَن پڑھ ہونے کے آریوں سے خوب بحث کیا کرتے تھے۔ ان کو مراق کی مرض ہو گئی‘‘ ڈپریشن اور جنونی حالت ہو جاتی تھی۔’’جو بھی ملتا اس کو‘‘ کافی دیر کھڑا کر کے ’’اپنی مرض کےلمبے (چوڑے) حالات سناتےتھے۔ لوگ تنگ آ جاتے اور ان کی باتیں سننے سے گریز کرتے۔ ان کو کسی نے کہا تم قادیان جاؤ اور( حضرت )مولوی حکیم نور الدین صاحبؓ سے علاج کرواؤ۔ انہوں نے کہا کہ وہ بڑے آدمی ہیں۔میری داستان کب سنیں گے؟‘‘ کہتے ہیں حضرت خلیفہ اوّلؓ کب میری داستان سنیں گے۔بڑی لمبی داستان ہے۔’’اس شخص نے کہا نہیں وہ بڑے بااخلاق انسان ہیں ضرور تمہاری باتیں سنیں گے۔ چنانچہ وہ صاحب قادیان آگئے۔ اتفاقاً ایسا ہوا کہ جب وہ یکے سے جا کر اترے (تو) اسی وقت حضرت اقدسؑ بمعہ خدام سیر سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ یکہ والے نے کہا وہ (حضرت) مرزا صاحب آرہے ہیں۔ پھر کیا تھا وہ صاحب یکہ سے اترے‘‘ ٹانگے سے اترے ’’اور سیدھے جاکر مصافحہ کیا اور اپنی بیماری کا حال اپنی مراقی حالت میں سنانا شروع کیا۔‘‘ گھبراہٹ میں جس طرح بیان کرتے تھے۔ لمبی لمبی کہانی سنانی شروع کر دی۔ ’’داستان اس قدر لمبی ہو گئی کہ سب لوگ تنگ آگئے مگر حضرت اقدسؑ آرام سے کھڑے ان کے ہاتھ میں ہاتھ دیے سب کچھ سنتے رہے۔ آخر کار میاں جان محمد صاحب نے خود ہی کہا‘‘یہ جو مریض شخص تھے۔’’کہ اب میرا منہ خشک ہو گیا ہے‘‘ مَیں اب بول نہیں سکتا۔مَیں تو اتنی دیر بول چکا ہوں اور آپ سنتے جا رہے ہیں۔’’اس پر حضورؑ نے فرمایا بہت اچھا آپ مہمان خانہ میں جاویں اور کچھ کھاویں پئیں اور پھر مولوی صاحب‘‘یعنی’’(مراد حضرت حکیم نور الدین صاحبؓ) کو حالات سنا کر ان سے دوائی لیں۔ چنانچہ یہ صاحب تازہ دم ہو کر (حضرت)مولوی (نور الدین صاحبؓ) کی خدمت میں حاضر ہوگئے‘‘ حضرت حکیم نورالدین صاحبؓ کی خدمت میں ’’اور وہی داستان طویل شروع کر دی۔ (حضرت )مولوی صاحبؓ نے جھٹ نسخہ لکھ کر دے دیا‘‘ حکیم تھے، اس نے تھوڑا سا بیان کیا تھا تو ان کو پتہ لگ گیا کہ کیا بیماری ہے۔ نسخہ لکھ دیا ‘‘اور کہا مجھے آپ کی مرض معلوم ہے اور اس کی داستان نہ سنی۔ انہوں نے نسخہ تو لے لیا مگر کہا کہ
کہتے تو تھے کہ مولوی نور الدین صاحبؓ بڑے بااخلاق ہیں مگر حضرت مرزا صاحبؑ کے اخلاق سے ان کو کیا نسبت؟ اس کا ان پر اس قدر اثر ہوا کہ انہوں نے بیعت کر لی۔‘‘
پہلے بیعت نہیں کی تھی۔ اس پر انہوں نے بیعت کرلی۔ کہتے ہیں ’’یہ واقعہ ان کی موجودگی میں ڈاکٹر عباداللہ صاحب مرحوم ؓنے مجھے سنایا تھا اور انہوں نے تصدیق کیا تھا۔‘‘
(اصحاب احمد جلد 1صفحہ 143-144)
اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ تحریر فرماتے ہیں کہ ماسٹر اللہ دتا صاحب نے بذریعہ تحریر بیان کیا ہے کہ ’’ایک دفعہ لاہور احمدیہ بلڈنگس میں حضورؑ تشریف فرما تھے کہ شرقپور بھینی سے ایک ضعیف العمر ناتواں شخص مستقیم نام حضور کی خدمت میں زیارت کے لیے آیا۔ احباب کے جھرمٹ میں وہ حضور تک نہ پہنچ سکا اور بلند آواز سے بولا حضور! مَیں تو زیارت کے لیے آیا ہوں۔حضور نے فرمایا بابا جی کو آگے آنے دو۔‘‘بوڑھا آدمی تھا’’لیکن وہ اچھی طرح اٹھ نہ سکا۔اس پر حضور نے فرمایا :بابا جی کو تکلیف ہے اور پھر حضورؑ خود اٹھ کر اس کے پاس آ بیٹھے۔‘‘
(سیرت المہدی جلد 1 صفحہ672 روایت 740)
اسی طرح حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ کی روایت بیان کرتے ہیں کہ ’’جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام معہ چند خدام کے باوا صاحب کا چولہ دیکھنے کے لیے ڈیرہ بابا نانک تشریف لے گئے تو وہاں ایک بَڑ کے درخت کے نیچے کچھ کپڑے بچھا کر جماعت کے لوگ معہ حضور کے بیٹھ گئے۔ مولوی محمد احسن صاحب بھی ہمراہ تھے۔ گاؤں کے لوگ حضور کی خبر سن کر وہاں جمع ہونے لگے تو ان میں سے چند آدمی جو پہلے آئے تھے مولوی محمد احسن صاحب کو مسیح موعود خیال کرکے ان کے ساتھ مصافحہ کر کر کے بیٹھتے گئے۔ تین چار آدمیوں کے مصافحہ کے بعد یہ محسوس کیا گیا کہ ان کو دھوکہ ہوا ہے۔ اس کے بعد مولوی محمد احسن صاحب ہر ایسے شخص کو جو ان کے ساتھ مصافحہ کرتا تھا حضور کی طرف متوجہ کر دیتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ ہیں۔
(سیرت المہدی جلد1 صفحہ 307 روایت 401)
حضرت شیخ عبدالقادر صاحبؓ تحریر کرتے ہیں کہ‘‘آپ کے بڑے بیٹے حضرت مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ
’’والد صاحب نے اپنی عمر ایک مغل کے طور پر نہیں گذاری‘‘رئیس زادے تھے۔مغل تھے۔’’بلکہ فقیر کے طور پر گذاری۔‘‘
قادیان کے کنہیَّا لَعْل صَرَّاف کا یہ بیان ہے کہ ایک دفعہ خود حضرت مرزا صاحب کو بٹالہ جانا تھا۔آپؑ نے مجھے فرمایا کہ یکہ کرا دیا جائے۔ حضورؑ جب نہر پر پہنچے تو آپؑ کویاد آیا کہ کوئی چیز گھر میں رہ گئی ہے۔ یکے والے کو وہاں چھوڑا اور خود پیدل واپس تشریف لائے۔ یکے والے کو پُل پر اَور سواریاں مل گئیں اور وہ بٹالہ روانہ ہوگیا اور مرزا صاحبؑ غالباً پیدل ہی بٹالہ گئے تو مَیں نے یکہ والے کو بلا کر پیٹا اور کہا کہ کمبخت! اگر مرزا نظام دین ہوتے تو خواہ تجھے تین دن وہاں بیٹھنا پڑتا تُو بیٹھتا لیکن چونکہ یہ نیک اور درویش طبع آدمی ہے اس لیے تُو ان کو چھوڑ کر چلا گیا۔’’ بہرحال کہتے ہیں‘‘جب مرزا صاحب کو’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ‘‘اس کا علم ہوا تو آپؑ نے مجھے بلا کر فرمایا ’’وہ میری خاطر کیسے بیٹھا رہتا۔اسے مزدوری مل گئی اور چلا گیا۔‘‘ کیوں تم نے اس پر ظلم کیا۔
(حیات طیبہ صفحہ 15-16)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
’’ہر ایک شخص تہجد میں اٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملاویں۔ہر ایک قسم کی خدا کو ناراض کرنے والی باتوں سے توبہ کریں۔توبہ سے یہ مراد ہے کہ ان تمام بد کاریوں اور خدا کی نارضامندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی کریں اور آگے قدم رکھیں اور تقویٰ اختیار کریں۔ اخلاق کی تہذیب کریں۔ اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے۔ عادات انسانی کو شائستہ کریں۔ غضب نہ ہو۔ تواضع اور انکساری اس کی جگہ لے۔ اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو۔‘‘
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 192 ایڈیشن 2022ء)
یہ آپؑ نے مختلف باتوں کی جماعت کو نصیحت فرمائی۔
پھر آپؑ فرماتے ہیں:
’’اہل تقویٰ کے لیے یہ شرط تھی کہ وہ غربت اور مسکینی میں اپنی زندگی بسر کرے۔ یہ ایک تقویٰ کی شاخ ہے‘‘ غربت اور مسکینی میں زندگی بسر کرنا یہ تقویٰ کی شاخ ہے’’جس کے ذریعہ ہمیں غضب ناجائز کا مقابلہ کرنا ہے۔ بڑے بڑے عارف اور صدیقوں کے لیے آخری اور کڑی منزل غضب سے ہی بچنا ہے۔
عُجب و پِنْدَار غضب سے پیدا ہوتا ہے اور ایسا ہی کبھی خود غضب عُجب وپِندار کا نتیجہ ہوتاہے کیونکہ غضب اس وقت ہوگا جب انسان اپنے نفس کو دوسرے پر ترجیح دیتا ہے۔
مَیں نہیں چاہتا کہ میری جماعت والے آپس میں ایک دوسرے کو چھوٹا یا بڑا سمجھیں یا ایک دوسرے پر غرور کریں یا نظرِاستخفاف سے دیکھیں۔ خدا جانتا ہے کہ بڑا کون ہے یا چھوٹا کون ہے۔ یہ ایک قسم کی تحقیر ہے اور جس کے اندرحقارت ہے۔ ڈر ہے کہ یہ حقارت بیج کی طرح بڑھے اور اس کی ہلاکت کا باعث ہو جاوے۔ بعض آدمی بڑوں کو مل کر بڑے ادب سے پیش آتے ہیں لیکن بڑا وہ ہے جو مسکین کی بات کو مسکینی سے سنے۔ اس کی دلجوئی کرے۔ اس کی بات کی عزّت کرے کوئی چڑ کی بات منہ پرنہ لاوے کہ جس سے دکھ پہنچے۔
خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَلَا تَنَابَزُوۡا بِالۡاَلۡقَابِ ؕ بِئۡسَ الِاسۡمُ الۡفُسُوۡقُ بَعۡدَ الۡاِیۡمَانِ ۚ وَمَنۡ لَّمۡ یَتُبۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ( الحجرات:12) اس کا مطلب یہ ہے کہ اور ایک دوسرے کو بُرے ناموں سے نہ پکارو۔ ایمان کے بعد یہ فسق کا داغ بہت بُرا داغ ہے۔ جس نے توبہ نہ کی تو یہی لوگ ظالم ہیں۔ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ ‘‘تم ایک دوسرے کے چڑ کے نام نہ ڈالو۔ یہ فعل فُسّاق و فُجّار کا ہے۔ جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جب تک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہو گا۔
اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔ جب کُل ایک ہی چشمہ سے پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔ مکرم و معظّم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہو سکتا۔ خدا کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔
اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْط اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ ( الحجرات:14) اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز وہی ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔ اللہ یقیناًبہت علم رکھنے والا، بہت خبر رکھنے والا ہے۔
(ملفوظات جلد 1 صفحہ 30-31 ایڈیشن 2022ء)
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی طور پر عاجزی اور انکسار پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بیعت میں آ کر ہم حقیقی اسلام کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں اور اس کا حق ادا کرنے والے ہوں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 29؍مئی 2026ء




