کلام حضرت مسیح موعود ؑ

قانونِ خدا

(فارسی منظوم کلام حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام)

لیک از بد قسمتی چشمت نماند بُت پرستی آخرت چُوں بُت نشاند
لیکن بد قسمتی ہے کہ تیری آنکھ ہی نہ رہی۔اور بت پرستی نے آخر کار تجھے بھی بت کی طرح بٹھادیا


عقل در اسرارِ حق بس نارساست آنچه گه گه می رسد هم از خداست
خدائی اسرار سمجھنے میں عقل بہت کمزور ہے جو بات گاہ گاہ اسے مل جاتی ہے وہ بھی خدا ہی کی طرف سے ہے


گر خرد پاکیزہ رائے آورد آں نہ از خود ہم ز جائے آورد
اگر عقل (کبھی) کوئی عمدہ رائے دیتی بھی ہے تو وہ اس کی اپنی خوبی نہیں۔بلکہ وہیں سے لاتی ہے


تو به عقلِ خویش در کبرِ شدید ما فدائے آنکه او عقل آفرید
تو اپنی عقل پر نازاں ہو کر سخت متکبر ہو گیا ہے اور ہم اس پر فدا ہیں جس نے خود عقل کو پیدا کیا


در قیاساتِ تہی جانت اسیر جانِ ما قربانِ علمِ آں بصیر
تیری جان خالی خولی قیاسوں میں گرفتار ہے۔مگر ہماری جان اس بینا خدا کے علم پر قربان ہے


نیک دل با نیکواں دارد سرے بر گُہر تُف میزند بد گوہرے
نیک دل انسان نیکوں سے تعلق رکھتا ہے اور بد گو ہر آدمی موتی پر تھوکتا ہے


هست بر اسرار اسرارِ دگر تا کجا تازد خرِ فکر و نظر
ان بھیدوں پر اور بھید چھائے ہوئے ہیں۔عقل و فکر کا گدھا کہاں تک دوڑے گا


ایں چراغِ مُرده از زورِ ہوا چوں رہِ باریک بنماید ترا
حرص کی شدت سے یہ ٹمٹماتا ہوا چراغ کس طرح تجھے باریک راہ دکھا سکتا ہے؟


وحیٔ یزدانی ز ره آگه کند تا بمنزل نور را همره کند
خدا کی وحی تجھے راستے سے آگاہ کرتی ہے اور منزل پر پہنچنے تک نور کو تیرے ساتھ کر دیتی ہے


ما فتادہ بے ہنر در جسم و جاں حمق باشد دم زنی با آں یگاں
ہمارے جسم اور جان میں کوئی ہنر نہیں ہے اس لاشریک کے مقابلہ پر دم مارنا حماقت ہے


چیست دیں خود را فنا انگاشتن واز سرِ ہستی قدم برداشتن
دین کیا ہے؟ اپنے تئیں فنا سمجھنا اور اپنی ہستی سے بالکل الگ ہو جانا


چوں بیفتی با دو صد درد و نفیر کس ہمے خیزد که گردد دست گیر
جب تو گر پڑتا ہے اور چیختا اور چلاتا ہے تو کوئی نہ کوئی ضرور اٹھتا ہے تا کہ تیرا ہاتھ پکڑے

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد اول صفحہ ۱۷۱تا ۱۷۲، بحوالہ درثمین فارسی صفحہ ۹۶-۹۷)

مزید پڑھیں: الا! اے کمر بستہ بر افترا

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button