خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 19؍جون 2026ء
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ میں کمال درجے کا اعتدال پایا جاتا تھا اور ہر خُلق اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر ہوتا تھا۔اور ان اخلاق فاضلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت بھی فی محلّہٖ تھی۔ اور ایثار بھی فی محلّہٖ تھا اور کرم بھی فی محلّہٖ تھا(حضرت مسیح موعودؑ)
جو مال بھی میرے پاس ہوگا مَیں اس کو تم سے ہرگز چھپا نہیں رکھوں گا۔اور جو سوال سے بچے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اسے بچائے گا۔ اور جو دنیا کے مال سے بے نیاز ہونا چاہے گا اللہ تعالیٰ بھی اسے بے نیاز کر دے گا۔اور جو اپنے نفس پر زور ڈال کر صبر کرے گا اللہ تعالیٰ بھی اس کو صبر دے گا۔اور صبر سے بڑھ کر وسیع اور بہتر کسی کو بھی کوئی نعمت نہیں دی گئی (ارشاد نبویﷺ)
انصار میں سے ایک شخص نے کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ خرچ کریں اور خدائے ذوالعرش کی طرف سے فقر سے نہ ڈریں۔ انصاری کی اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اور خوشی آپؐ کے چہرے سے ظاہر ہونے لگی۔ پھر فرمایا: اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے
کھجوروں اور ککڑیوں کے بدلے میں سونے کے زیورات آپؐ نے عطا فرما دیے۔یہ ہے احسن رنگ میں لَوٹانا
مَیں مسلمانوں کا ان کے رشتہ داروں سے بھی زیادہ قریبی ہوں۔اس لیے مومنوں میں سے جو فوت ہو اور وہ قرضہ چھوڑ جائے تو اس کا ادا کرنا میرے ذمے ہے۔اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں پر ہے (ارشاد نبویﷺ)
اگر میرے پاس ان کانٹے دار درختوں کی تعداد میں مال مویشی ہوتے تو مَیں یقیناً ان کو تمہارے درمیان بانٹ دیتا۔ اور تم مجھے کبھی بخیل نہ پاتے۔اور نہ جھوٹا۔اور نہ بزدل (ارشاد نبویﷺ)
’’لوگ کہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہت کے خواہشمند تھے۔ کیا بادشاہوں اور عوام کا ایسا ہی تعلق ہوا کرتا ہے؟ کیا کسی کی طاقت ہوتی ہے کہ بادشاہ کو اِس طرح دھکیلتا ہوا لے جائے اورا س کے گلے میں پٹکہ ڈال کر اس کو گھونٹے؟ اللہ کے رسولوں کے سوایہ نمونہ کون دکھا سکتا ہے۔‘‘ (حضرت مصلح موعودؓ)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوۂ تبوک میں ایک خوبصورت گھوڑا حاصل ہوا جس کی آواز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اچھی لگتی تھی۔ پھر آپؐ سے ایک انصاری نے کہا کہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں !آپؐ یہ گھوڑا مجھے عطا کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارا ہوا
ابو سفیان کہنے لگے :میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ آپؐ کریم ہیں۔مَیں نے آپؐ سے جنگیں کی ہیں اور آپؐ کیا ہی اچھے جنگجو ہیں۔ پھر مَیں نے آپؐ سے صلح کی اور آپؐ کیا ہی اچھے صلح کرنے والے ہیں۔اللہ آپ کو جزائے خیر دے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حنین کے اموالِ غنیمت دیتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے آپؐ مجھے ساری مخلوق سے زیادہ ناپسندیدہ شخصیت تھے۔ پھر آپؐ مجھے ساری مخلوق سے زیادہ محبوب ہو گئے (روایت)
’’آپؐ کے پاس ایک موقع پر بہت سی بھیڑ بکریاں تھیں۔ ایک کافر نے کہا کہ آپ کے پاس اس قدر بھیڑ بکری جمع ہیں کہ قیصر و کسریٰ کے پاس بھی اس قدر نہیں۔ آپؐ نے سب کی سب اس کو بخش دیں۔ وہ اسی وقت ایمان لے آیا کہ نبی کے سوا اَور کوئی اس قسم کی عظیم الشان سخاوت نہیں کر سکتا۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا یہ پہلو قابل غور ہے کہ مخالفین آپؐ اور آپؐ کی جنگوں کے متعلق یہ الزام لگاتے ہیں کہ مسلمان غریب اور مال و دولت سے محروم تھے اس لیے جنگیں شروع کی گئیں۔ اگر اس بات میں تھوڑی سی بھی حقیقت ہوتی تو جنگِ حنین کے اموالِ غنیمت کی تقسیم کچھ اَور طریقے سے ہوتی۔لیکن یہاں تو ہم دیکھتے ہیں کہ مال غنیمت کا ایک بھاری حصہ تالیفِ قلب کے لیے غیروں کو دیا گیا۔ قریش کے امراء کو دیا گیا بلکہ بعض روایات کے مطابق تو سارے کا سارا مال دوسرے لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا
آپؐ نے ھوازن والوں سے لیا ہوا مال واپس کر دیا اور ان لوگوں کو بہت زیادہ عطا فرمایا یہاں تک کہ جو کچھ آپؐ نے انہیں دیا اس کی مالیت لگائی گئی تو وہ پانچ لاکھ درہم کے برابر تھی۔ ابن دحیہ کہتے ہیں یہ سخاوت کی انتہا ہے۔ایسی سخاوت کے بارے میں کبھی سنا نہیں گیا
ھوازن کوصرف آزاد ہی نہیں کیا بلکہ انہیں نئے کپڑے بھی عطا کیے۔ کپڑوں کی خریداری کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو باقاعدہ مکہ بھیجا۔ آپؐ نے تاکیداً فرمایا: فَلَا یَخْرُجُ الْحُرُّ مِنْھُمْ اِلَّا کَاسِیًاکہ ان میں سے کوئی بھی آزاد ہونے والا بغیر لباس کے نہ جائے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک واقعہ حکمت اور اصلاح کا خزانہ ہے
آپؐ کی جُودو سخا کے بےشمار واقعات ہیں۔ انہی میں ہمیں آپؐ کے خُلق کے دوسرے پہلو بھی نظر آتے ہیں۔…جس طرح آپؐ کی تعلیم متوازن ہے آپؐ کا ہر عمل بھی اس کے مطابق متوازن تھا
آنحضرت ﷺ کی بے مثل جُود و سخا
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 19؍جون 2026ء بمطابق 19؍احسان1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جُودو سخا کے حوالے سےاس وقت روایات پیش کروں گا۔
ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مانگا۔ آپؐ نے انہیں دیا۔پھر انہوں نے آپؐ سے مانگا اور آپؐ نے انہیں دیا۔پھر انہوں نے آپؐ سے مانگا اور آپؐ نے انہیں دیا یہاں تک کہ آپؐ کے پاس جو تھا وہ ختم ہوگیا۔ آپؐ نے فرمایا :
جو مال بھی میرے پاس ہوگا مَیں اس کو تم سے ہرگز چھپا نہیں رکھوں گا۔ اور جو سوال سے بچے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اسے بچائے گا۔
ساتھ سوال نہ کرنے کی نصیحت بھی فرما دی۔
اور جو دنیا کے مال سے بے نیاز ہونا چاہے گا اللہ تعالیٰ بھی اسے بے نیاز کر دے گا۔اور جو اپنے نفس پر زور ڈال کر صبر کرے گا اللہ تعالیٰ بھی اس کو صبر دے گا۔اور صبر سے بڑھ کر وسیع اور بہتر کسی کو بھی کوئی نعمت نہیں دی گئی۔
(صحیح البخاری مترجم کتاب الزکاۃ، بَابُ الِاسْتِعْفَافِ عَنِ المَسْأَلَةِ، حدیث 1469 جلد 3 صفحہ 110 شائع کردہ نظارت اشاعت)
بعض مشکلات میں ،تکلیفوں میں ،ضرورتوں میں صبر کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کا انعام دیتا ہے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہمابیان کرتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم ایک سفر میں تھے اور میں ایک منہ زور جوان اونٹ پر سوار تھا جو میرے والد حضرت عمرؓ کا تھا اور وہ مجھے بے بس کرتا اور لوگوں سے آگے بڑھ جاتا۔حضرت عمرؓ اسے ڈانٹتے۔یعنی اس اونٹ پہ سختی کرتے، روکتے، اس کو آواز دیتے اور پیچھے کر دیتے۔ مارتے ہوں گے یا کچھ ڈراتے ہوں گے۔ بہرحال جو بھی طریقہ اونٹوں کو چلانے کا ہوتا ہے اس کے مطابق اس کو کہتے اور وہ اونٹ پیچھے ہو جاتا۔ پھر وہ لوگوں کی سواریوں سے آگے بڑھ جاتا اور حضرت عمرؓ اس کو ڈانٹتے اور اس احترام میں پیچھے کر دیتے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے کوئی سواری یا سوار بڑھنے نہ پائے۔ حضرت عمرؓ کو یہ برداشت نہیں تھا کہ کوئی سواری آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری سے آگے جائے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دیکھ کے حضرت عمر ؓسے فرمایا کہ یہ اونٹ مجھے قیمتاً دے دیں۔ انہوں نے کہا :یا رسول اللہؐ! یہ آپ کا ہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :مجھے یہ فروخت کر دو۔چنانچہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں بیچ دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :عبداللہ بن عمر !یہ اونٹ اب تمہارا ہے۔اس سے جو چاہو کرو۔
(صحیح البخاری مترجم كتاب البيوع باب إذا اشترى شيئا، فوهب … حدیث نمبر 2115 جلد نمبر 4 صفحہ نمبر 86 شائع کردہ نظارت اشاعت)
تحفہ دینے کا یہ بھی ایک عجیب انداز ہے۔آپؐ نے ان پہ واضح کر دیا کہ اونٹ تو جانور ہے۔اگر وہ اس طرح بڑھ جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں۔ اب یہ اونٹ تو میری طرف سے تحفہ دیا گیا ہے اور اگر یہ سواریوں میں آگے بڑھ بھی جائے تو یہی کہا جائے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تحفہ دیا ہوا اونٹ تھا جو آگے بڑھ گیا۔
حضرت جابر بن عبداللہؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مَیں ایک غزوہ میں تھا۔ میرے اونٹ کی رفتار سست ہو گئی اور وہ تھک گیا تو اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے اور فرمایا :جابر! مَیں نے عرض کیا :جی ہاں۔ فرمایا :تمہارا کیا حال ہے؟ مَیں نے کہا :اونٹ چلنے میں سست ہو گیا ہے اور تھک گیا ہے۔اس لیے مَیں پیچھے رہ گیا ہوں۔ تب آپؐ سواری سے اتر کر اپنی کھونٹی سے اونٹ کو کھینچنے لگے پھر فرمایا :سوار ہو جاؤ۔تو مَیں سوار ہوا۔ مَیں نے دیکھا کہ وہ اتنا تیز ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی آگے بڑھنے لگا جس پر مجھے اسے روکنا پڑا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت فرمایا :کیا تم نے نکاح کر لیا ہے؟ مَیں نے عرض کیا:جی ہاں۔ اس کے بعد میں آپؐ نے فرمایا :دیکھو !تم اپنے گھر پہنچنے والے ہی ہو۔جب پہنچو تو عقلمندی سے احتیاط سے کام لینا۔ گھر میں حسن سلوک ہونا چاہیے۔ پھر آپؐ نے فرمایا :کیا تم اپنا یہ اونٹ مجھے بیچو گے؟ مَیں نے کہا :جی ہاں۔تو آپؐ نے وہ مجھ سے ایک اوقیہ چاندی پر خرید لیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے پہلے مدینہ پہنچے اور مَیں اگلی صبح کو پہنچا۔ہم مسجد میں آئے تو مَیں نے آپؐ کو مسجد کے دروازے پر پایا۔ آپؐ نے فرمایا: اب پہنچے ہو؟ مَیں نے کہا :جی ہاں۔ فرمایا:اپنا اونٹ چھوڑ دو اور مسجد میں جا کر دو رکعت نماز پڑھو۔چنانچہ مَیں اندر گیا اور نماز پڑھی۔ حضرت بلالؓ سے آپؐ نے فرمایا :اسے ایک اوقیہ تول کر چاندی دے دو۔ حضرت بلالؓ نے تول کر مجھے دے دی اور تول میں ترازو کو جھکایا۔یعنی اس سے تھوڑا سا زیادہ دیا۔ پھر میں پیٹھ موڑ کرچلا گیا۔آپؐ نے فرمایا :جابر کو میرے پاس آنے کے لیے بلاؤ۔ مَیں نے دل میں کہا اب آپ میرا اونٹ مجھے واپس کر دیں گے اور مجھے اس واپسی سے بڑھ کر اَور کوئی بات ناپسند نہیں کہ آپؐ نے اس کو خریدا ہے۔ اور مجھے واپس کر دیں۔ فرمایا:اپنا اونٹ لے لو اور اس کی قیمت بھی تمہاری ہے۔
(صحیح بخاری مترجم کتاب البیوع باب شراء الدواب … روایت 2097 جلد 4 صفحہ 66تا68 شائع کردہ نظارت اشاعت)
ایک اَور روایت میں یہ بھی ہے کہ حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں:اس کے بعد مَیں ایک یہودی کے پاس سے گزرا اور جب مَیں نے یہ سارا واقعہ اس کو بتایا تو وہ انتہائی متعجب ہو کر کہنے لگا: کیا انہوں نے قیمت بھی واپس کر دی اور اونٹ بھی تمہیں دے دیا؟ مَیں نے کہا :ہاں!اسی طرح ہے۔وہ کہتے ہیں کہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیے گئے اس تحفے میں اتنی برکت پڑی کہ اونٹ عہد نبویؐ اور حضرت ابوبکرؓ کے عہد اور حضرت عمر ؓکے زمانے تک زندہ رہا۔
(نجاح القاری شرح صحیح البخاری جلد16صفحہ22 ،نجاح القاری شرح صحیح بخاری ،جلد16صفحہ34-35مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
آپؐ کے نمونہ،آپؐ کی تربیت اور آپؐ کی قوّت قدسی کا اثر تھا جو سب صحابہؓ پہ تھا۔ حضرت خدیجہؓ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بھی یہ اثر تھا اور اسی وجہ سے آپؓ نے بغیر کسی تنگی کے خوف سے اپنا مال آپؐ کے سپرد کر دیا۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت خدیجہؓ کے پاس تشریف لائے اور آپؐ کچھ متفکر تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے آپؐ سے پوچھا کہ کیا ہوا؟ آپؐ نے فرمایا کہ زمانہ قحط کا ہے۔مجھے تم سے شرم آتی ہے کہ اگر مَیں نے مال خرچ کیا تو تمہارا مال ختم ہو جائے گا۔اور اگر مَیں وہ خرچ نہ کروں تو مَیں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ حضرت خدیجہؓ نے قریش کو بلایا اور ان میں حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی تھے۔ حضرت ابوبکرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت خدیجہؓ نے دینار نکالے اور ان کا ڈھیر لگا دیا یہاں تک کہ مال کی کثرت کی وجہ سے مَیں یہ نہیں دیکھ پا رہا تھا کہ میرے سامنے کون بیٹھا ہے۔ پھر حضرت خدیجہؓ نے کہا تم گواہ رہو یہ سارا مال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔اگر وہ چاہیں تو اسے خرچ کر دیں اور اگر چاہیں تو اسے اپنے پاس رکھ لیں۔ انہوں نے آپؐ کی فکر دور کرنے کے لیے دے دیا کہ ٹھیک ہے آپؐ خرچ کریں۔
(تفسیر کبیر امام رازی جلد 16 جزء 31-32صفحہ 198۔ تفسیر سورۃ الضحیٰ زیر آیت 8، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2004ء)
حضرت عمر بن خطابؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے کچھ مانگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میرے پاس اس وقت کچھ نہیں ہے۔تم میرے نام سے ضرورت کی چیزیں خرید لو۔ جب میرے پاس کچھ آئے گا تو مَیں اسے ادا کر دوں گا۔ اس پر حضرت عمر ؓنے عرض کی کہ یا رسول اللہؐ !آپؐ اسے پہلے دے چکے ہیں اور جو آپؐ کی استطاعت میں نہیں اس کا اللہ تعالیٰ نے آپ کو ذمہ دار نہیں قرار ٹھہرایا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر ؓکی بات ناپسند فرمائی تو
انصار میں سے ایک شخص نے کہا :یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! آپ خرچ کریں اور خدائے ذوالعرش کی طرف سے فقر سے نہ ڈریں۔ انصاری کی اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبسم فرمایا اور خوشی آپؐ کے چہرے سے ظاہر ہونے لگی۔ پھر فرمایا: اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے۔
(شمائل النبی ﷺ صفحہ 148-149باب ما جاء فی خلق رسول اللہ ﷺ حدیث 340، نور فاؤنڈیشن ربوہ)
حضرت ابو ہریرہ ؓکہتے تھے کہ اہلِ صُفَّہ مسلمانوں کے مہمان ہوتے۔نہ گھر بار تھا کہ وہاں جا کر آرام کرتے اور نہ کوئی ایسا تھا کہ جس کے پاس جا کر وہ رہتے۔ جب آپؐ کے پاس کوئی صدقہ آتا تو آپؐ ان کو بھیج دیتے اور خود اس میں سے کچھ نہ لیتے۔ ویسے بھی صدقہ آپؐ لیتے نہیں تھے کیونکہ حرام تھا۔ وہ صدقہ دوسروں، غریبوں کے لیے تھا۔ اور جب آپؐ کے پاس کوئی ہدیہ آتا تو پھر آپؐ اہل صفہ کو بلا بھیجتے اور تحفہ جب آتا تو اس میں سے خود بھی کچھ لیتے اور اس میں سے ان کو بھی دیتے۔
(صحیح البخاری مترجم کتاب الرقاق حدیث نمبر 6452 جلد15 صفحہ222 شائع کردہ نظارت اشاعت)
جُود و سخا کے ساتھ آپؐ کے ہمدردی اور تربیت کے بھی کیا اعلیٰ معیار تھے۔
اس بارے میں ایک روایت میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ ؓبیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک بدو نے آکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی ضرورت سے متعلق سوال کیا۔ راوی ہیں عکرمہ۔کہتے ہیں کہ میرے خیال میں وہ دیت کے معاملہ میں مدد مانگنے کے لیے آیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ عطا فرمایا۔ پھر آپؐ نے فرمایا :کیا مَیں تم سے حسن سلوک سے پیش آیا ہوں ؟ اس پر اس بدو نے کہا :نہیں!آپؐ نے میرے سے اچھا سلوک نہیں کیا۔بعض مسلمانوں نے غصے میں آکر اس کی طرف لپکنے کا ارادہ کیا، پکڑنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اشارے سے روک دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر گھر تشریف لے گئے اور آپؐ نے اس بدو کو گھر بلایا اور اسے فرمایا تُو ہمارے پاس آیا اور تُو نے ہم سے مانگا اور ہم نے تجھے عطا کیا اور تُو نے وہ کہا جو تم نے کہا۔ تمہیں پتا ہے تم نے کیا کہا کہ مَیں نے انصاف نہیں کیا۔ پھر رسول اللہؐ نے اسےگھر سے مزید عطا فرمایا۔ پھر آپؐ نے فرمایا :کیا اب مَیں نے تیرے ساتھ حسن سلوک کیا ہے؟ بدو نے کہا :جی ہاں۔ اللہ تعالیٰ آپؐ کے گھر والوں اور قبیلے والوں کو بہترین جزا عطا فرمائے۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ تم ہمارے پاس آئے اور ہم سے مانگا تو ہم نے تمہیں عطا کیا۔لیکن تمہارے جی میں جو آیا وہ تم نے بغیر سوچے سمجھے کہہ دیا اور میرے صحابہؓ کے دل میں تمہاری اس بات سے تمہارے متعلق کچھ غصہ پایا جاتا ہے۔ پس اب تم جب باہر جاؤ تو ان کے سامنے وہ بیان کر دینا جو تم نے میرے سامنے بیان کیا ہے تاکہ جو ان کے سینوں میں ہے وہ جاتا رہے۔یعنی اب اس نے کہا تھا کہ آپؐ نے انصاف کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ جب وہ بدو آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارا یہ ساتھی ہمارے پاس آیا اور ہم سے اس نے مانگا تو ہم نے اسے عطا کیا اور جو اس کے جی میں آیا وہ اس نے کہہ دیا۔ ہم نے اسے بلایا اور مزید عطا کیا۔اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اب خوش ہو گیا ہے۔کیا ایسا ہی ہے؟ اس بدو نے جواب دیا کہ جی ہاں !اور اللہ آپؐ کو ،گھر اور قبیلے والوں کی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے۔ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :میری اور اس بدو کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کی اونٹنی ہو اور وہ بدک کربھاگ جائے اور لوگ اس کے پیچھے دوڑیں جس سے وہ اونٹنی مزید بدک جائے۔اس پر اونٹنی کا مالک کہے کہ مجھے اور میری اونٹنی کو چھوڑ دو کیونکہ مَیں اس کے ساتھ زیادہ نرمی کے ساتھ سلوک کرنے والا ہوں اور اس کا زیادہ علم رکھتا ہوں کس طرح اونٹنی کو پکڑنا ہے۔ تم اس کے پیچھے دوڑو گے تو وہ اَور بِد کے گی۔ پھر اونٹنی کامالک اس کی طرف متوجہ ہوا اور اس کے لیے کچھ گھاس لے کر اسے اپنی طرف بلایا۔ہاتھ میں گھاس پکڑا اور اونٹنی کی طرف آیا یہاں تک کہ وہ اس کی طرف آ جائے اور اس پر کجاوہ ڈال کر سوار ہو جائے۔ آپؐ نے فرمایا :گھاس کھانے کی طرف اونٹنی آتی ہے۔وہ اس کو دیکھ کے آئے گی اور جب قریب آئے گی تو وہ کجاوہ ڈال دے گا۔ پھر فرمایا کہ
اگر مَیں اس وقت تمہاری بات مان لیتا جب تم لوگوں نے کہا تھا کہ اس بدّو پہ سختی کرو جب اس بدّو نے سخت کلمات کہے تھے اور تمہیں اس پر سختی کرنے دیتا تو وہ آگ میں داخل ہو جاتا۔ لیکن میں نے اسے بچا لیا اور اب وہ خوش بھی ہو گیا ہے۔
(مجمع الزوائد جلد 8 صفحہ 413-414 کتاب علامات النبوۃ باب فی حسن خلقہ و حیائہ حدیث نمبر 14193، دار الکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)
یہ آپؐ کے دینے کے انداز تھے۔ گھر میں بھی لے گئے۔گھر سے جا کے دیا۔ باہر لا کے بھی دے سکتے تھے لیکن دکھا دیا کہ دیکھو !میرے گھر میں بھی کوئی ایسے عیش و عشرت کے سامان نہیں ہیں لیکن جو ہے وہ مَیں تمہیں دے رہا ہوں اور اس بدو کی بھی تسلی ہو گئی۔
حضرت رُبَیِّعْ بنتِ مُعَوِّذْ بنِ عَفْرَاءؓبیان کرتی ہیں کہ میرے والد معوذ بن عفراء نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاع تازہ کھجوریں دے کر بھیجا جس کے اوپر چھوٹی چھوٹی ککڑیاں رکھی ہوئی تھیں، تریں تھیں۔اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ککڑی پسند فرماتے تھے۔ اسی وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین سے زیورات آ چکے تھے۔ آپؐ نے ان زیوروں میں سے اپنی ایک مٹھی بھر کر مجھے عطا فرما دیا۔ دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے میری ہتھیلی بھر زیور یا سونا عطا فرمایا اور پھر فرمایا کہ اسے پہن لو۔
(مجمع الزوائد کتاب علاماۃ النبوہ باب فی جودہ ﷺ جلد8 صفحہ 410 حدیث14182-14183دارالکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)
کھجوروں اور ککڑیوں کے بدلے میں سونے کے زیورات آپؐ نے عطا فرمادیے۔ یہ ہے احسن رنگ میں لَوٹانا۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی ایسے شخص کا جنازہ آتا جس پر قرضہ ہوتا تو آپؐ پوچھتے آیا اس نے اپنا قرضہ چکانے کے لیے کچھ مال چھوڑا ہے؟ اگر لوگ کہتے ہاں تو آپؐ اس پر نماز جنازہ پڑھتے ورنہ مسلمانوں سے کہتے تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ جب اللہ نے آپؐ کو فتوحات دیں تو آپؐ نے فرمایا :
مَیں مسلمانوں کا ان کے رشتہ داروں سے بھی زیادہ قریبی ہوں۔اس لیے مومنوں میں سے جو فوت ہو اور وہ قرضہ چھوڑ جائے تو اس کا ادا کرنا میرے ذمے ہے۔اور جو کوئی مال چھوڑ جائے تو وہ اس کے وارثوں پر ہے۔
(صحیح البخاری مترجم کتاب الکفالۃ، بَابُ الدین حدیث 2298 جلد 4 صفحہ 280 شائع کردہ نظارت اشاعت)
قرضہ ہے تو اسے مَیں ادا کروں گا۔لیکن اگر وراثت میں مال چھوڑا ہے تو پھر وہ وارثوں کا ہے۔
عبد اللہ ھَوْزَنِی نے بیان کیا۔مَیں حضرت بلال ؓسے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے موذن ہیں حلب کے مقام پر ملا۔مَیں نے کہا اے بلال! مجھے بتائیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خرچ کس طرح ہوتا تھا؟ انہوں نے کہا کہ آپؐ کے پاس کچھ نہیں ہوتا تھا۔مَیں ہی آپؐ کی طرف سے انتظام کرتا تھا۔ جب آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اس وقت سے جب سے مَیں نے بیعت کی مَیں ہی انتظام کرتا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی۔ جب آپؐ کے پاس کوئی مسلمان آتا اور آپؐ دیکھتے کہ اس کے پاس لباس نہیں ہے تو آپؐ مجھے حکم دیتے۔مَیں جاتا اور قرض لے کر اس کے لیے چادر خریدتا اور اسے پہناتا اور اسے کھانا کھلاتا یہاں تک کہ مشرکین میں سے ایک آدمی مجھے ملا اور اس نے کہا کہ اے بلال! میرے پاس مال کی فراخی ہے۔تم صرف مجھ سے قرض لیا کرو۔ پھر مَیں ایسا ہی کرتا رہا۔ کہتے ہیں ایک دن مَیں نے وضو کیا پھر میں اذان دینے کے لیے کھڑا ہوا تو وہی مشرک تاجروں کی جماعت کے ساتھ آ پہنچا۔ جب اس نے مجھے دیکھا تو کہنے لگا :اے حبشی! مَیں نے کہا:جی۔ اس نے میری طرف کراہت سے دیکھا اور مجھے سخت الفاظ سے مخاطب کیا۔ مجھے کہنے لگا :کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے درمیان اور مہینے کے درمیان کتنے دن باقی ہیں؟ یعنی قرض لینے کا جو معاہدہ کیا تھا بتایا تھا کہ فلاں تاریخ تک ادا کر دوں گا یا ایک مہینے میں ادا کر دوں گا۔ تو اس نے کہا کہ تمہیں پتہ ہے کتنے دن باقی رہ گئے ہیں؟ حضرت بلالؓ کہتے ہیں کہ مَیں نے کہا کہ مجھے پتہ ہے وہ قریب ہے۔قریب ہی دن آگئے ہیں۔تو اس نے کہا :تیرے اور اس کے درمیان صرف چار دن باقی ہیں۔ یہ قرضہ ادا کرنے کا جو دن شرط مقرر ہوئی ہے اس میں صرف چار دن باقی ہیں۔اور جو تمہارے ذمے ہے اس کی وجہ سے مَیں تمہیں پکڑوں گا اور تمہیں دوبارہ اس حالت میں لوٹا دوں گا کہ تو بھیڑ بکریاں چرائے گا جیسا کہ تُو اس سے پہلے تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ میرے دل میں وہ حالت پیدا ہوئی جو لوگوں کے دل میں ہوتی ہے۔حضرت بلالؓ کہتے ہیں بڑی رِقّت کی حالت پیدا ہو گئی یہاں تک کہ مَیں نے عشاء کی نماز پڑھی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کے پاس واپس تشریف لائے۔مَیں نے آپؐ کے پاس آنے کے لیے اجازت چاہی۔ آپؐ نے مجھے اجازت دی۔رات کو میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گیاتو مَیں نے کہا یا رسول اللہؐ!میرا باپ اور ماں آپ پر قربان ہوں۔وہ مشرک جس سے مَیں قرض لیتا تھا اس نے مجھے یہ یہ کہا ہے اور آپؐ کے پاس وہ نہیں ہے جو آپؐ میری طرف سے ادا کر سکیں کیونکہ آپؐ کہتے تھے کہ فلاں کو لے دو، فلاں کو لے دو اور مَیں آپ کے لیے قرض لے کے دیتا تھا تو اب نہ آپؐ کے پاس ہے اور نہ میرے پاس ہے اور وہ مجھے ذلیل کرنے والا ہے۔ مجھے اجازت دیجئے کہ مَیں ان قبائل میں سے کسی قبیلے کی طرف جو مسلمان ہو گئے ہیں چلا جاؤں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا فرما دے جو میری طرف سے ادا ہو جائے۔ کہتے ہیں مَیں نکلا یہاں تک کہ مَیں اپنے گھر پہنچا۔وہاں سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کے مَیں گھر آیا۔اپنی تلوار اور اپنی تھیلی اور اپنی جوتی اور اپنی ڈھال اپنے سر کے پاس رکھی کہ صبح اٹھتے ہی جب پہلی صبح پھوٹھتی تو مَیں یہاں سے روانہ ہو جاؤں گا۔یہ مَیں نے ارادہ کیا۔ کہتے ہیں کہ صبح ایک آدمی دوڑتا ہوا مجھے بلا رہا تھا کہ اے بلال! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ۔ کہتے ہیں مَیں چلا اور بجائے سفر کرنے کے جب آپؐ نے بلایا تو مَیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو دیکھا کہ چار اونٹنیاں سامان سے لدی ہوئی تھیں۔ مَیں نے جانے کی اجازت چاہی کہ یا رسول اللہؐ! مَیں اب سفر پہ جا رہا ہوں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا :خوش ہو جاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے تمہاری ادائیگی کا سامان کر دیاہے۔ پھر فرمایا:کیا تم نے چار بٹھائی ہوئی اونٹنیاں نہیں دیکھیں؟ مَیں نے کہا کیوں نہیں دیکھیں۔ آپؐ نے فرمایا: ان کی گردنیں اور جو کچھ ان پر ہے وہ تمہارے لیے ہے۔ یعنی وہ اونٹنیاں بھی تمہاری ہیں اور ان پہ جو مال ہے وہ بھی تمہارا ہے۔ ان پر کپڑے ہیں اور غلّہ ہے جو فدک کے رئیس نے مجھے تحفۃًبھیجی ہیں۔ ان کولے لو اور اپنا قرضہ ادا کرو۔ حضرت بلالؓ کہتے ہیں کہ مَیں نے ایسا ہی کیا۔پھر مَیں مسجد کی طرف گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔ مَیں نے آپؐ کو سلام کیا۔آپؐ نے فرمایا :جو معاملہ تمہیں درپیش تھا اس کا کیا بنا؟ مَیں نے کہا :ہر چیز جس کی ادائیگی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ تھی اللہ تعالیٰ نے اس کی ادائیگی کر دی اور کوئی ادائیگی باقی نہیں رہی۔ آپؐ نے پوچھا :کیا کچھ باقی بچا ہے؟ مَیں نے کہا جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا :دیکھو !تم مجھے اس مال سے راحت دلاؤ یعنی کہ جو بچا ہے اس سے بھی راحت دلاؤ اور اس کو غریبوں پر خرچ کر دو کیونکہ مَیں اپنے گھر والوں کے پاس نہیں جاؤں گا جب تک کہ تم اس کو دے کر مجھے راحت نہ پہنچاؤ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء پڑھی مجھے بلایا اور فرمایا :اس کا کیا کیا جو تمہیں درپیش تھا؟ یعنی جو مال باقی بچ گیا تھا۔تقسیم کے لیے کہا تھا اس کا کیا ہوا؟ حضرت بلال ؓکہتے ہیں: مَیں نے عرض کیا کہ کوئی ہمارے پاس لینے کے لیے آیا ہی نہیں۔ وہ میرے پاس اسی طرح پڑا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات مسجد میں ہی گزاری۔ آپؐ نے کہا اچھا پھر مَیں بھی گھر نہیں جاؤں گا مسجد میں ہی رہوں گا۔ اگلے دن آپؐ نے جب عشاء کی نماز پڑھی آپؐ نے مجھے بلایا اور فرمایا :جو تمہیں درپیش ہے اس کا کیا بنا؟ وہ کہتے ہیں مَیں نے عرض کیا؛ اے اللہ کے رسولؐ! اللہ نے آپؐ کو اس کی طرف سے راحت پہنچا دی ہے۔ آپؐ نے اللہ کی بڑائی اور اس کی حمد بیان کی۔ یعنی مال تقسیم ہو گیا ہے۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کی بڑائی اور اس کی حمد کی اس ڈر سے کہ آپؐ کی وفات آ جائے اور وہ مال آپؐ کے پاس ہو۔ حضرت بلالؓ کہتے ہیں کہ پھر مَیں آپ کے پیچھے پیچھے گیا یہاں تک کہ آپؐ اپنی ازواجِ مطہرات کے پاس گئے اور ہر ایک کو سلام کیا۔پھر آپؐ اس جگہ آ گئے جہاں آپؐ نے رات گزارنی تھی۔
(سنن ابی داؤد، كِتَاب الْخَرَاجِ…، بَابٌ فِي الْإِمَامِ يَقْبَلُ هَدَايَا الْمُشْرِكِينَ، حدیث 3055)
حضرت ام سُنْبُلہؓ بیان کرتی ہیں کہ مَیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ لے کر حاضر ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواجِ مطہرات نے اسے لینے سے انکار کر دیا اور کہا ہم ہدیہ قبول نہیں کرتیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: امّ سُنْبُلہ کا ہدیہ قبول کرو کیونکہ وہ ہمارے دیہات والوں میں سے ہے اور ہم اس کے شہر والوں میں سے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہدیہ قبول فرمایا اور انہیں فلاں فلاں وادی عطا فرمائی۔ (اسد الغابہ جلد7صفحہ336دارالکتب العلمیۃ1994ء) یعنی وہ ہدیہ بھی لیا اور پھر اس کوتحفے کے طور پر ایک پورا علاقہ دے دیا جیسا کہ پہلے بھی بیان ہوا ہے
آپؐ تھوڑے تحفے کے بدلے میں بھی بے انتہا نوازا کرتے تھے۔
حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زبیر ؓکو جہاں تک ان کا گھوڑا پہنچ سکے زمین بطور جاگیر دینے کا حکم فرمایا کہ ٹھیک ہے اپنے گھوڑے کو دوڑاؤ اور جہاں پہنچ کے وہ رک جائے وہ سارا علاقہ تمہارا ہے۔ فتوحات کے بعد بڑا وسیع علاقہ آگیا تھا۔ تو انہوں نے اپنا گھوڑا دوڑایا یہاں تک کہ وہ کھڑا ہو گیا، ایک جگہ آ کے رک گیا۔ جب وہ رک گیا تو کچھ اَور چاہتے تھے کہ وہ بھی مل جائے تو انہوں نے ہاتھ میں جو کوڑا تھا وہ پھینکا۔ وہ کافی دُور تک گیا تو آپؐ نے فرمایا:اسے اس حد تک زمین دے دو جہاں تک اس کا کوڑا پہنچ گیا ہے۔ یعنی کہ جہاں تک اس نے گھوڑے سے وہ کوڑا پھینکا تھا وہاں تک زمین اس کو دے دو۔
(سنن ابو داؤد کتاب الخراج … باب في إقطاع الأرضين حدیث 3072)
حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جا رہے تھے۔آپؐ کے ساتھ اَور لوگ بھی تھے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب آپؐ حنین سے واپس تشریف لا رہے تھے۔ بعض بدوی لوگ راستے ہی میں آپؐ سے لپٹ گئے اور آپؐ سے مانگنے لگے۔ انہوں نے آپؐ کو اتنا مجبور کیا کہ آپؐ کو ایک ببول کے درخت کی طرف ہٹنا پڑا جس سے آپؐ کی چادر درخت میں اٹک گئی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہر گئے اور بعض روایتوں میں یہ بھی ہے کہ جب چادر اٹک گئی تو انہوں نے کھینچنی شروع کی تو آپؐ کی گردن پہ نشان بھی پڑ گئے۔ آپؐ نے فرمایا:میری چادر دے دو۔اور
اگر میرے پاس ان کانٹے دار درختوں کی تعداد میں مال مویشی ہوتے تو مَیں یقیناً ان کو تمہارے درمیان بانٹ دیتا۔اور تم مجھے کبھی بخیل نہ پاتے۔اور نہ جھوٹا۔اور نہ بزدل۔
( صحیح بخاری مترجم کتاب الجہاد و السیر، باب الشجاعۃ فی الحرب والجبن حدیث2821، جلد 5 صفحہ 185 نظارت اشاعت ربوہ،الؤلؤالمکنون سیرت انسائیکلو پیڈیا جلد9صفحہ352-353 مکتبہ دارالسلام الریاض)
اس واقعے کو بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے لکھا ہے کہ فتح مکہ اور غزوہ حنین ’’سے فارغ ہونے کے بعد وہ اموال جو مغلوب دشمنوں کے جرمانوں اور میدانِ جنگ میں چھوڑی ہوئی چیزوں سے جمع ہوئے تھے حسبِ دستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اسلامی لشکر میں تقسیم کرنے تھے لیکن اس موقع پر آپ نے بجائے ان اموال کو مسلمانوں میں تقسیم کرنے کے مکہ اور اِردگرد کے لوگوں میں تقسیم کر دیا۔ ان لوگوں کے اندر ابھی ایمان تو پیدا نہیں ہوا تھا۔ بہت سے توا بھی کافر ہی تھے اور جو مسلمان تھے وہ بھی نئے نئے مسلمان ہوئے تھے۔ یہ ان کے لیے بالکل نئی چیز تھی کہ ایک قوم اپنا مال دوسرے لوگوں میں بانٹ رہی ہے۔ اِس مال کی تقسیم سے بجائے ان کے دل میں نیکی اور تقویٰ پیدا ہونےکے حرص اَور بھی بڑھ گئی ‘‘ان کی۔ ’’انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گرد جمگھٹا ڈال لیا اور مزید مطالبات کے ساتھ آپ کو تنگ کرنا شروع کیا۔ یہاں تک کہ دھکیلتے ہوئےوہ آپ کو ایک درخت تک لے گئے اورایک شخص نے تو آپؐ کی چادر جو آپ کے کندھوں پر رکھی ہوئی تھی پکڑ کر اِس طرح مروڑنی شروع کی کہ آپ کا سانس رکنے لگا۔ آپؐ نے فرمایا :
اے لوگو !اگر میرے پاس کچھ اَور ہوتا تو مَیں وہ بھی تمہیں دے دیتا۔ تم مجھے کبھی بخیل یا بزدل نہیں پاؤ گے۔
پھر آپؐ اپنی اونٹنی کے پاس گئے اور اس کا ایک بال توڑا اور اسے اونچا کیا اور فرمایا:اے لوگو! مجھے تمہارے مالوں میں سے اِس بال کے برابر بھی ضرورت نہیں سوائے اس پانچویں حصہ کے جو عرب کے قانون کے مطابق حکومت کا حصہ ہے اور وہ پانچواں حصہ بھی مَیں اپنی ذات پر خرچ نہیں کرتا بلکہ وہ بھی تمہیں لوگوں کے کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے۔ اور یاد رکھو کہ خیانت کرنے والا انسان قیامت کے دن خدا کے حضور اس خیانت کی وجہ سے ذلیل ہو گا۔
آپؓ نے یہ واقعہ بیان کر کے تبصرہ کرتے ہوئے آگے یہ لکھا ہوا ہے کہ لوگ کہتے ہیں ’’کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بادشاہت کے خواہشمند تھے۔ کیا بادشاہوں اور عوام کا ایسا ہی تعلق ہوا کرتا ہے؟ کیا کسی کی طاقت ہوتی ہے کہ بادشاہ کو اِس طرح دھکیلتا ہوا لے جائے اورا س کے گلے میں پٹکہ ڈال کر اس کو گھونٹے؟ اللہ کے رسولوں کے سوایہ نمونہ کون دکھا سکتا ہے۔‘‘
(دیباچہ تفسیر القرآن، انوارالعلوم جلد20 صفحہ357-358)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو غزوۂ تبوک میں ایک خوبصورت گھوڑا حاصل ہوا جس کی آواز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت اچھی لگتی تھی۔ پھر آپؐ سے ایک انصاری نے کہا کہ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں !آپؐ یہ گھوڑا مجھے عطا کر دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ تمہارا ہوا۔
(شرف المصطفیٰ ، الجزء 3 صفحہ 299، جامع ابواب ما کان للنبی ﷺ من الازواج و الامتاع، فصل: ذكر خيل رسول الله ﷺ،حدیث 1040۔ دار البشائر الاسلامیۃ ، طبع اول 2003ء)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس بیماری میں جس میں آپؐ کی وفات ہوئی فرمایا: اے عائشہ !سونے کا کیا بنا؟ وہ سونے کے پانچ یا سات یا آٹھ نو سکّے آپؐ کی خدمت میں لے کر آئیں جو گھر میں موجود تھے۔ آپؐ نے ان کو اپنے ہاتھ میں الٹتے ہوئے فرمایا :
محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کے بارے میں کیا گمان ہوگا کہ وہ اللہ سے ملے اور یہ سونا اس کے پاس ہو۔ اے عائشہ !انہیں خرچ کر دو۔ یعنی یہ بانٹ دو۔
(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 53، مسند عائشہؓ حدیث 24726، عالم الکتب بیروت 1998ء)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ اپنے گھر میں آ کرپوچھا کہ ہمارے گھر میں کیا ہے؟ عائشہ ؓنے دو اشرفیاں نکال کر دیں اور کہا کہ یہی ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہتھیلی پر رکھ لیں اور کہا کہ
کیا حال ہے اس نبی کا جو پیچھے دو اشرفیاں چھوڑ جائے اور پھر اسی وقت تقسیم کر دیں۔‘‘
(ملفوظات جلد 9 صفحہ 281، ایڈیشن 2022ء)
حُنَین کے اموالِ غنیمت کی تفصیل
میں بیان ہوا ہے کہ وہاں مال غنیمت میں چھ ہزار (6000)غلام اور لونڈیاں ملیں۔ بعض روایات میں آٹھ ہزار(8000) بھی بیان کیا جاتا ہے۔ چوبیس ہزار (24000)اونٹ ملے۔چالیس ہزار (40000)سے زائد بھیڑ بکریاں۔ اور چار ہزار(4000) اوقیہ چاندی جو قریباً چار سو نوّے (490)کلو گرام بنتی ہے۔ ایک اوقیہ ساڑھے دس تو لے کے برابر ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالِ غنیمت تقسیم کرنے کی ابتدا کی تو آغاز تالیف قلبی سے کیا۔ یہ عرب کے بڑے لوگ تھے اور اپنے اپنے قبیلوں میں شرف و بزرگی کا مقام رکھتے تھے۔ آپؐ نے ان کو مانوس کرنے کے لیے عطایا دیے۔ آپؐ نے ان میں سے کسی کو ایک سواونٹ دیے، کسی کو پچاس اونٹ دیے، چاندی اور غلام اس کے علاوہ تھے۔ ابو سفیان بن حرب کو ایک سواونٹ دیے۔ ابو سفیان جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چاندی کا ڈھیر لگا ہوا دیکھ کر کہنے لگے یا رسول اللہؐ! آپ تو قریش میں سب سے زیادہ مالدار ہو گئے ہیں تو آپؐ مسکرا دیے اور ابو سفیان کو چالیس اوقیہ چاندی اور ایک سواونٹ دیے۔ ابو سفیان نے کہا :میرے بیٹے یزید کو بھی عطا فرمائیں۔ آپؐ نے ان کے لیے بھی چالیس اوقیہ چاندی اور سو اونٹ دیے جانے کا ارشاد فرمایا۔ یہ یزید ابو سفیان کا بیٹا تھا۔ بد نامِ زمانہ یزید جس کے متعلق کہا جاتا ہے وہ بیٹا نہیںوہ ابو سفیان کا پوتا تھا۔یعنی وہ حضرت معاویہ کا بیٹا تھا۔ بہرحال ابو سفیان کہنے لگے یا رسول اللہ ؐ!میرے دوسرے بیٹے معاویہ کو بھی کچھ دیں۔ آپؐ نے ان کے لیے بھی چالیس اوقیہ چاندی اور سو اونٹ دینے کا ارشاد فرمایا۔ اس پر
ابو سفیان کہنے لگے :میرے ماں باپ آپؐ پر قربان۔ آپؐ کریم ہیں۔مَیں نے آپؐ سے جنگیں کی ہیں اور آپؐ کیا ہی اچھے جنگجو ہیں۔ پھر مَیں نے آپؐ سے صلح کی اور آپؐ کیا ہی اچھے صلح کرنے والے ہیں۔اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔
(شرح العلامۃ الزرقانی جلد 4صفحہ18-19،سبل الھدیٰ جلد5 صفحہ396،دائرہ معارف سیرت محمد رسول اللہﷺجلد9 صفحہ289 بزم اقبال لاہور،غزوہ حنین از باشمیل صفحہ273-274،غزوہ حنین از باشمیل صفحہ217،فرہنگ سیرت زیرلفظ اوقیہ صفحہ 49)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بخشش و عطا سے فیضیاب ہونے والوں میں سے مکہ کا ایک سردار صَفْوَان بن اُمَیَّہ بھی تھا۔
یہ وہی صفوان تھا جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ حنین کے لیے زرہیں اور ہتھیار مستعار لیے تھے اور یہ مشرک ہونے کی حالت میں ہی غزوۂ حنین میں بھی شامل ہوا تھا۔ لیکن اسی جنگ میں اس کے دل کی کایا پلٹنے لگی اور جب مالِ غنیمت کی تقسیم کا وقت آیا تو آپؐ نے اس کو سو اونٹ عطا فرمائے اور صحیح مسلم کی روایت کے مطابق تین سو اونٹ عطا فرمائے۔
ایک اَور روایت ہے کہ انہی دنوں میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گھاٹی سے گزرے جس میں مالِ غنیمت کے اونٹ اور بکریاں تھیں اور وہ وادی ان اونٹوںاور بکریوں سے بھری ہوئی تھی۔
صفوان اس قدر مال دیکھ کر حیرت زدہ ہو کر دیکھنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو وَہْب! یہ صفوان کی کنیت تھی۔اس گھاٹی نے تجھے تعجب میں ڈال دیا ہے؟ اس نے کہا:جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا:یہ سارا مال تمہارا ہوا۔تم لے لو۔ صفوان نے بے ساختہ کہا کہ مَیں گواہی دیتا ہوں کہ آپؐ اللہ کے نبی ہیں کیونکہ اس طرح کی عطا کوئی نبی ہی کر سکتا ہے۔
ایک دوسری روایت کے مطابق صفوان بن امیہ خود بیان کرتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے حنین کے اموالِ غنیمت دیتے رہے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے آپؐ مجھے ساری مخلوق سے زیادہ ناپسندیدہ شخصیت تھے۔ پھر آپؐ مجھے ساری مخلوق سے زیادہ محبوب ہو گئے۔
الغرض آپؐ مختلف سرداران عرب کو عطا فرماتے رہے ان سب کی تعداد پچاس سے زائد بیان کی جاتی ہے۔
(صحیح مسلم کتاب الفضائل ،باب فی سخائہ ﷺ حدیث نمبر 2313،دائرہ معارف سیرت محمد رسول اللہ ﷺ جلد9 صفحہ236-237بزم اقبال لاہور،شرح زرقانی جلد4 صفحہ21دارالکتب العلمیۃ،الؤلؤالمکنون سیرت انسائیکلو پیڈیا جلد9صفحہ341مکتبہ دارالسلام الریاض،سبل الھدیٰ جلد5 صفحہ396دارالکتب العلمیۃ)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام بیان فرماتے ہیں :
’’آپؐ کے پاس ایک موقع پر بہت سی بھیڑ بکریاں تھیں۔ ایک کافر نے کہا کہ آپ کے پاس اس قدر بھیڑ بکری جمع ہیں کہ قیصر و کسریٰ کے پاس بھی اس قدر نہیں۔ آپؐ نے سب کی سب اس کو بخش دیں وہ اسی وقت ایمان لے آیا کہ نبی کے سوا اَور کوئی اس قسم کی عظیم الشان سخاوت نہیں کر سکتا۔‘‘
(ملفوظات جلد 2 صفحہ 425 ایڈیشن 2022ء)
بہرحال اس کے بعدآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زید بن ثابتؓ کو باقی لوگوں کے بلانے کا ارشاد فرمایا اور مالِ غنیمت میں جو باقی مال بچ گیا تھا وہ ان میں تقسیم فرمایا اور ہر ایک کے حصے میں چار اونٹ یا چالیس بکریاں آئیں اور یوں آپؐ نے وہ مالِ غنیمت جو ابھی تک کا سب سے زیادہ مال تھا سارے کا سارا لوگوں میں تقسیم فرما دیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا یہ پہلو قابل غور ہے کہ مخالفین آپؐ اور آپؐ کی جنگوں کے متعلق یہ الزام لگاتے ہیں کہ مسلمان غریب اور مال و دولت سے محروم تھے اس لیے جنگیں شروع کی گئیں۔ اگر اس بات میں تھوڑی سی بھی حقیقت ہوتی تو جنگِ حنین کے اموالِ غنیمت کی تقسیم کچھ اَور طریقے سے ہوتی۔لیکن یہاں تو ہم دیکھتے ہیں کہ مالِ غنیمت کا ایک بھاری حصہ تالیفِ قلب کے لیے غیروں کو دیا گیا۔ قریش کے امراء کو دیا گیا بلکہ بعض روایات کے مطابق تو سارے کا سارا مال دوسرے لوگوں میں تقسیم کر دیا گیا۔
(شرح زرقانی جلد4 صفحہ27دارالکتب العلمیۃ بیروت، غزوہ حنین از باشمیل صفحہ270،دائرہ معارف سیرت محمد رسول اللہﷺ جلد 9 صفحہ 289، 322-323،ماخوذ از سیرت النبیؐ از شبلی نعمانی حصہ اول صفحہ 396 ، حصہ چہارم صفحہ 247 مکتبہ اسلامیہ 2012ء)
گو اس میں کچھ اَور مصالح بھی ہوں گی ،مصلحتیں ہوں گی۔لیکن یہ تو دنیا نے دیکھ لیا کہ آپؐ نے اپنے لیے کچھ بھی نہ رکھا بلکہ اپنے جاںنثار اور وفادار ساتھیوں یعنی انصارِ مدینہ کو بھی اس مالِ غنیمت میں سے کچھ نہ دیا یا بہت کم دیا۔
غزوۂ حنین کے دن ایک عورت آئی تو اس نے چند اشعار پڑھے جن میں اس نے قبیلہ ھوازن میں آپؐ کی رضاعت کے دنوں کا ذکر کیا۔ پس
آپؐ نے ھوازن والوں سے لیا ہوا مال واپس کر دیا اور ان لوگوں کو بہت زیادہ عطا فرمایا یہاں تک کہ جو کچھ آپؐ نے انہیں دیا اس کی مالیت لگائی گئی تو وہ پانچ لاکھ درہم کے برابر تھی۔ ابن دِحیہ کہتے ہیں یہ سخاوت کی انتہا ہے۔ایسی سخاوت کے بارے میں کبھی سنا نہیں گیا۔
(سبل الھدیٰٰ والرشاد جلد 7 صفحہ 51 دارالکتب العلمیۃ1993ء)
جب ھَوازِن کے نمائندے مسلمان ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے آپؐ سے درخواست کی کہ ان کے مال اور ان کے قیدی ان کو واپس کر دیے جائیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور فرمایا:سچی بات مجھے بہت پسندیدہ ہے۔ دو باتوں میں سے ایک اختیار کر لو۔ قیدی واپس لے لو یا مال۔اور مَیں نے تو جِعْرَانَہ میں ان کا انتظار کیا تھا۔اور فی الواقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب طائف سے لوٹے تو دس سے کچھ زائد راتیں ان کا انتظار کرتے رہے کہ وہ آئیں اور اپنے مال اور قیدیوں کامطالبہ کریں۔ جب انہیں اچھی طرح معلوم ہو گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں واپس دینے کے نہیں مگر دو میں سے ایک شے دیں گے تو انہوں نے کہا پھر ہم اپنے قیدی ہی لے لیں گے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں میں کھڑے ہوئے اور اللہ کی تعریف کی جو اس کے شایان ہے۔پھر آپؐ نے فرمایا:تمہارے یہ بھائی ہمارے پاس توبہ کر کے آئے ہیں اور مَیں نے مناسب سمجھا کہ ان کے قیدی انہیں واپس کردوں۔ پس جو شخص تم میں سے خوشی سے واپس کرنا چاہے تو واپس کر دے اور جو تم میں سے یہ چاہے کہ وہ اپنے حصے پر ہی قائم رہے تو وہ بھی واپس کر دے ہم اس کو اس کا حصہ غنیمت سے جو اللہ ہمیں بعد میں دے گا دے دیں گے۔ لوگوں نے کہا :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر ہم نے اپنی خوشی سے یہ قیدی یوں ہی دے دیے۔ ہمیں کوئی حصے کی ضرورت نہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمیں پتہ نہیں کہ تم میں سے کس نے اس کی اجازت دی ہے اور کس نے نہیں دی۔ تم لَوٹ جاؤ اور تمہارے سردار تمہارا فیصلہ ہمارے سامنے پیش کریں۔ اس پر لوگ چلے گئے۔ یہاں آپؐ نے بڑی احتیاط کی کہ اپنے سرداروں کو بھیجو۔ان کے ذریعے بتاؤ کہ تم واقعی قیدی واپس کر رہے ہو۔ اور ان کے سربراہوں نے ان سے گفتگو کی۔پھر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لَوٹ کر آئے اور انہوں نے آپؐ کو بتایا کہ
سب لوگوں نے خوشی سے مانا ہے اور اجازت دی ہے کہ قیدی واپس کر دیے جائیں اور یوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر کسی معاوضے کے ھوازن کے قیدی آزاد کیے۔
( صحیح البخاری مترجم کتاب الوکالۃ بَابُ إِذَا وَهَبَ شَيْئًا لِوَكِيلٍ …حدیث نمبر 2307-2308 جلد 4 صفحہ 292تا 294شائع کردہ نظارت اشاعت)
انہیں صرف آزاد ہی نہیں کیا بلکہ انہیں نئے کپڑے بھی عطا کیے۔ کپڑوں کی خریداری کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو باقاعدہ مکہ بھیجا۔آپؐ نے تاکیداً فرمایا: فَلَا یَخْرُجُ الْحُرُّ مِنْھُمْ اِلَّا کَاسِیًاکہ ان میں سے کوئی بھی آزاد ہونے والا بغیرلباس کے نہ جائے۔
(السیرۃ الحلبیہ جلد 03 صفحہ 181 دارالکتب العلمیۃ بیروت)
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس غزوۂ حنین کے دن لوگ آئے اور مانگنے لگے۔ آپؐ نے انہیں اپنی بکری، بھیڑ اور اونٹوں میں سے مال دیا یہاں تک کہ کچھ باقی نہ رہا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم کیا چاہتے ہو؟ کیا تم چاہتے ہو کہ میں بخیل بن جاؤں؟ واللہ ! مَیں نہ بخیل ہوں۔نہ ڈرپوک۔اور نہ جھوٹ بولنے والا۔
(سبل الھدیٰٰ و الرشاد جلد 7 صفحہ 53دار الکتب العلمیۃ بیروت 1993ء)
اس پہلو سے ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جُود و سخا بھی بے محل نہیں ہوا کرتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آپؐ مانگنے والوں کو دیا کرتے تھے اور کبھی انکار نہیں فرماتے تھے لیکن کبھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مانگنے والوں کو حکیمانہ انداز میں روکا بھی ہے اور اس میں کئی مصالح کارفرما ہوا کرتے تھے۔
مثلاً ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اموال تقسیم فرما رہے تھے اور لوگوں کو دیے جا رہے تھے اور ایک شخص کو نظر انداز فرما رہے تھے اور اس کو کچھ نہیں دیا۔ حضرت سعد بن وقاصؓ بیان کرتے ہیں کہ وہ شخص مجھے ان دوسرے لوگوں سے زیادہ پسند تھا۔ مَیں چاہتا تھا کہ بجائے دوسروں کے اس کو ملے تو مَیں نے کہا یا رسول اللہؐ! آپ نے فلاں کو کیوں چھوڑ دیا؟ بخدا! مَیں تو اسے مومن سمجھتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا مسلم۔ حضرت سعدؓ کہتے ہیں کہ مَیں اس پر تھوڑی دیر خاموش رہا۔پھر جو کچھ مَیں اس کے متعلق جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کیا اور مَیں نے پھر اپنی بات دہرائی اور عرض کیا آپؐ نے فلاں کو چھوڑ دیا ہے۔بخدا !مَیں تو اسے مومن ہی سمجھتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا: یا مسلم۔ پھر جو کچھ مَیں اس کے متعلق جانتا تھا اس نے مجھے مجبور کیا اور مَیں نے اپنی بات دہرائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا۔اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اے سعد! مَیں ایک شخص کو دیتا ہوں مبادہ کہ اللہ تعالیٰ اسے آگ میں نہ گرا دے حالانکہ وہ دوسرا شخص مجھے اس سے زیادہ پیارا ہوتا ہے۔
(صحیح البخاری مترجم كتاب الايمان باب اذا لم يكن الاسلام … حدیث نمبر 27 جلد 1 صفحہ 68-69)
تم ٹھیک کہتے ہو لیکن اس میں اَور بھی مصلحتیں ہوتی ہیں۔اسی وجہ سے مَیں دیتا ہوں تاکہ ان کے ایمان تھوڑے سے مضبوط ہو جائیں۔ بعض لوگ تحفے لے کے یا دنیاوی فائدہ اٹھا کر ہی اپنے ایمان پہ قائم ہوتے ہیں جس طرح بہت ساری مثالیں پہلے پیش کی گئی ہیں۔
حضرت زین العابدین سید ولی اللہ شاہ صاحبؓ اس کی شرح میں لکھتے ہیں کہ مُؤْمِنًا اور مُسْلِمًا۔ امام بخاری اس میں جو حدیث لائے ہیں اس سے انہوں نے ایمان اور اسلام کے درمیان اصل فرق کو واضح کیا ہے۔ یعنی ایمان باطنی کیفیت کا نام ہے جبکہ اسلام کا تعلق ظاہر سے ہے۔اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ادب سکھلایا ہے کہ کسی کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہیے۔ اندرونے کا علم یقینا ًاللہ تعالیٰ ہی کو ہے جس صحابی کو آپؐ نے دینا مناسب نہ سمجھا وہ حضرت جُعَیل بن سُرَاقَہ ؓ مخلص مہاجر تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان سے محبت رکھتے تھے مگر باوجود اس کے آپؐ نے حضرت سعدؓ کے بار بار زور دینے پر انہیں یہ ادب سکھلایااور اس فرق کو ملحوظ رکھنے کی تعلیم دی جو درحقیقت ایمان اور اسلام کے درمیان ہے۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کمزور لوگوں کا بھی خیال رکھنے کی تعلیم دی ہے تا ایسا نہ ہو کہ وہ اپنی کمزوری کی وجہ سے ٹھوکر کھائیں۔ ایک کمزور پودا جس نگرانی کا محتاج ہوتا ہے بڑا درخت اس قدر محتاج نہیں ہوتا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے ایمان کو ٹھوکر سے بچانے کے لیے ذرا ذرا سی بات کا خیال رکھا۔ اس امر میں بعض نادان لوگ بہت غلط رویّہ اختیار کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ ایک ٹھوکر کھانے والے انسان کو ہر ایسے امرسے بچائے رکھیں جو ٹھوکر کا موجب ہوتا ہے وہ خود اس کی ٹھوکر کا باعث بن جاتے ہیں اور بجائے مشفقانہ رویّہ اختیار کرنے کے ان کمزوروں کے ایمان پر علی الاعلان حملہ کرتے ہیں۔ یہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے اور اس طرح ان کو اَور دھکا دے دیتے ہیں۔ کمزور ایمان اَور زیادہ پیچھے ہٹ جاتا ہے۔ پس یہ چیز ہمیں یاد رکھنی چاہیے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس امر میں اس قدر احتیاط سے کام لیتے کہ دوسرے کے سامنے کسی کے ایمان کی خاص طور پر تعریف کرنے سے بھی منع فرماتے تھے۔ نہ صرف اس لیے کہ بعض وقت منہ پر تعریف کرنا اس شخص کے لیے نقصان کا موجب ہوتا ہے جس کی تعریف کی جاتی ہے بلکہ ایک قسم کے مقابلے سے بعض وقت گویا دوسرے کے ایمان اور رویّے پر بھی حملہ ہوتا ہے۔ آپؐ نے اس ایک واقعہ میں چار سبق سکھلائے ہیں۔ شاہ صاحبؓ لکھتے ہیں کہ چار سبق یہ ہیں کہ اسلام و ایمان میں فرق کہ اسلام لانے میں اور ایمان لانے میں کیا فرق ہے۔ ایک ظاہری چیز ہے، ایک دل کا معاملہ ہے۔ نمبر دو یہ ہے کہ الفاظ کا بر محل استعمال کرنا کہ کس طرح موقع پر کون سا لفظ استعمال کرنا ہے۔ پھر تیسری چیز یہ ہے کہ مؤلفة القلوب کا خیال رکھنا۔یعنی تالیف قلب کے حساب سے دیکھنا کہ کس سے کس کو کیا فائدہ ہوتا ہے۔ چوتھی بات یہ ہے کسی کی بےسوچے سمجھے ایسے طور سے تعریف نہ کرنا کہ دوسروں کے ایمان یا رویے پر حملہ ہو۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا ایک ایک واقعہ حکمت اور اصلاح کا خزانہ ہے۔
(ماخوذ ازصحیح البخاری مترجم جلد 1 صفحہ 70 شائع کردہ نظارت اشاعت )
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق فاضلہ کا بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ
ان میں کمال درجے کا اعتدال پایا جاتا تھا اور ہر خلق اپنے اپنے محل اور موقع پر ظاہر ہوتا تھا۔اور ان اخلاق فاضلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سخاوت بھی فی محلّہٖ تھی۔ موقع محل کے حساب سے تھی۔اور ایثار بھی فی محلّہٖ تھا اور کرم بھی فی محلّہٖ تھا۔
( ماخوذ از براہین احمدیہ حصہ سوم،روحانی خزائن جلد 01 صفحہ 194، 195 )
آپؐ کی جودو سخا کے بےشمار واقعات ہیں۔ انہی میں ہمیں آپؐ کے خُلق کے دوسرے پہلو بھی نظر آتے ہیں۔
بہرحال
جس طرح آپؐ کی تعلیم متوازن ہے آپؐ کا ہر عمل بھی اس کے مطابق متوازن تھا۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی آپؐ کی سیرت کے ہر پہلو پر غور کرنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپؐ کے اسوہ پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی زندگیوں کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہم چلانے والے ہوں۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 12؍جون2026ء




