متفرق مضامین

غیرمحاربین کے تحفظ کا اسلامی تصوّر

(لئیق احمد مشتاق۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل سُرینام)

غیر محاربین کے تحفظ کے لیے شارع اسلام ﷺ کی ہدایات و فرمودات اتنے واضح، بیّن، مدلل و مفصّل اور یقینی و کامل ہیں کہ انسانی تاریخ ان کی نظیر لانے سے قاصر تھی، ہے اور تا ابد رہے گی

حرب اور جنگ و جدل کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا کہ خود انسان کا زمین پر وجود۔ اس کا آغاز قبل از تاریخ کے قبائلی تصادمات سے ہوا اور ارتقاء آج کے جوہری اور سائبر دور تک پہنچ چکا ہے۔ تاریخ دانوں کے مطابق، جنگیں صرف زمین یا وسائل پر قبضے کا نام نہیں رہیں، بلکہ انہوں نے انسانی تہذیبوں کے عروج و زوال، جغرافیائی حدود، اور ٹیکنالوجی کی ترقی میں اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ جنگ انسان کی تاریخ کا وہ اندوہناک باب ہے جس میں نہ صرف خون کی ندیاں بہائی گئیں بلکہ تہذیبوں کو پروان چڑھانے یا مٹانے کا سبب بھی بنی۔ انسانی تاریخ ایسے بے شمار واقعات سے بھری پڑی ہےکہ انسان نے بے دریغ اپنی ہی جنس کے خون سے زمین کو رنگا اور اپنی ہی جنس کی نسل کشی کی۔

طلوع اسلام سے قبل دنیا میں موجود مذاہب بھی جنگ و جدال کی تعلیمات دنیا کے سامنے پیش کر رہے تھے۔ بطور نمونہ اس اقتباس کا مطالعہ فرمائیں:’’جب تو کسی شہر سے جنگ کرنے کو اس کے نزدیک پہنچے تو پہلے اسے صلح کا پیغام دینا۔ اور اگر وہ تجھ کو صلح کا جواب دے اور اپنے پھاٹک تیرے لیے کھول دے تو وہاں کے سب باشندے تیرے باج گزار بن کرتیری خدمت کریں۔ اور اگر وہ تجھ سے صلح نہ کریں بلکہ تجھ سے لڑنا چاہے تو اس کا محاصرہ کر۔ اور جب خداوند تیرا خدا اسے تیرے قبضے میں کر دے تو وہاں کے ہر مرد کو تلوار سے قتل کر ڈالنا۔ لیکن عورتوں اور بال بچوں اور چوپایوں اور اس شہر کے سب مال اور لوٹ کو اپنے لیے رکھ لینا اور تو اپنے دشمن کی اس لوٹ کوجو خدواند تیرے خدا نے تجھ کو دی ہو کھانا۔ ان سب شہروں کا یہی حال کرنا جو تجھ سے دور ہیں اور ان قوموں کے شہر نہیں ہیں۔ پر ان قوموں کے شہروں میں جن کو خداوند تیرا میراث کے طور پر تجھ کو دیا ہے، کسی ذی نفس کو جیتا نہ بچا رکھنا۔ بلکہ ان کو یعنی حتی اور موری اور کنعانی اور فرزی اور جوی اور اور یبوسی قوموں کو جیسا خداوند تیرے خدا نے تجھ کو حکم ہے بالکل نیست کر دینا۔ تاکہ وہ تم کو اپنے سے مکروہ کام کرنا نہ سکھائیں جو انہوں نے اپنے دیوتاؤں کے لیے کیے ہیں اور یوں تم خداوند اپنے خدا کے خلاف گناہ کرنے لگو۔ جب تُو کسی شہر کو فتح کرنے کے لیے اُس سے جنگ کرے اور مدت تک اُس کا محاصرہ کیے رہے تو اُس کے درختوں کو کلہاڑی سے نہ کاٹ ڈالنا کیونکہ اُن کا پھل تیرے کھانے کے کام میں آئے گا سو تُو اُن کو مت کاٹنا کیونکہ کیا میدان کا درخت انسان ہے کہ تُو اُس کا محاصرہ کرے ؟سو فقط اُن ہی درختوں کو کاٹ کر اُرا دینا جو تیری دانست میں کھانے کے مطلب کے نہ ہوں اور تُو اُس شہر کے مقابل جو تجھ سے جنگ کرتا ہو برجوں کو بنا لینا جب تک وہ سر نہ ہو جائے۔ ‘‘ (استثناء باب ۲۰ آیت ۱۰۔۲۰)

طلوع اسلام سے قبل جنگوں کا رواج اور طریق کار کیسا تھا، روئے زمین پر موجود سب سے سچا کلام اس حقیقت کو ان الفاظ میں بیان فرماتا ہے: اِنَّ الۡمُلُوۡکَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡیَۃً اَفۡسَدُوۡہَا وَجَعَلُوۡۤا اَعِزَّۃَ اَہۡلِہَاۤ اَذِلَّۃً ۚ وَکَذٰلِکَ یَفۡعَلُوۡنَ۔ (النمل:۳۵) جب بادشاہ کسی ملک میں داخل ہوتے ہیں تو اسے تباہ کردیتے ہیں اور اس کے باشندوں میں سے معزز لوگوں کو ذلیل کر دیا کرتے ہیں اور وہ اسی طرح کرتے چلے آئے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تحریر فرماتے ہیں: ’’جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے ہمیشہ لڑائیوں کی وضع اسی طرح پر چلی آئی ہے کہ فتح کرنے والے مغلوب فریق کا مال لوٹ لیتے ہیں بلکہ اُن کے ملک پر بھی قبضہ کر لیتے ہیں۔ آج کل بھی فتح پانے والے بادشاہوں میں یہی رسم جاری ہے مگر قرآن شریف نے ظلم اور زیادتی کی تعلیم نہیں دی۔ ‘‘ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۲۰۳)

عصر حاضر میں مہذب، ترقی یافتہ، انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں اور جنیوا کنونشن کا ڈھنڈورا پیٹنے والوں کا ماضی کتنا سیاہ اور بھیانک ہے درج ذیل تلخ حقائق اس کی وضاحت کرتے ہیں۔

شہنشاہِ ایران’’ قبادِ اوّل‘‘ ساسانی خاندان کا بیسواں حکمران تھا، جس نے نے ۴۸۸ء سے ۵۳۱ء تک حکومت کی۔ قبادکے زمانے میں جب حکومتِ ایران کے ایما پر حیرہ کے بادشاہ منذر نے شام پر چڑھائی کی تو انطاکیہ میں چار سو عیسائی راہبات کو پکڑ کر اپنے بت عزیٰ پر ذبح کر دیا۔ اور جب خسرو پرویز نے سلطنتِ روم کے خلاف اعلانِ جنگ کیا تو اپنی تمام مملکت میں مسیحی رعایا کے کلیسا مسمار کرا دیے اور مسیحیوں کو آتش پرستی پر مجبور کر دیا۔ سینٹ ہلینا اور قسطنطین کے عظیم الشان گرجاگھروں کو آگ لگا کر خاکستر کر دیا۔ نوے ہزار عیسائیوں کو قتل و قید کیا۔ خود ایران میں جب مانی نے اپنے نظریات کا پرچار کیا تو شاہِ ایران بہرام نے ایسی شدید کارروائی کی کہ اس کے ایک ایک ماننے والے کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر قتل کیا اور خود مانی کو گرفتار کر کے اس کی کھال کھنچوا کر اس میں بھس بھروا کر جنڈی سابور کے دروازے پر لٹکا دیا۔ جب رومن شہنشاہ ہرقل کے سفیر صلح کا پیغام لے کر خسرو پرویز کے دربار میں پہنچے تو خسرو نے ان کے رئیس کی کھال کھنچوا ڈالی اور باقی سفیروں کو قید کر دیا۔ (حالتِ جنگ میں انسانی حقوق کی پاسداری اور اسلامی تعلیمات۔ ازمحمد عیسٰی منصوری، مطبوعہ پندرہ روزہ الشریعہ یکم دسمبر ۲۰۰۰ء۔ صفحہ ۱۰)

اسلام سے پہلے عربوں کے نزدیک لڑائی سے زیادہ پسندیدہ اور مرغوب کوئی چیز نہیں تھی۔ عرب میدانِ جنگ کے علاوہ کہیں اور مرنے کو اپنے لیے عار اور ذلت سمجھتے تھے۔ ان کے نزدیک جنگوں کا مقصد قتل و غارت گری، لوٹ مار، اموال پر قبضہ، غلام باندی بنانے کا شوق، حسین لڑکیوں کا حصول، زرخیز علاقوں، باغات، چراگاہوں اور پانی کے چشموں پر قبضہ کرنا ہوتا تھا۔ اسلام سے پہلے عرب میں جتنی بھی بڑی لڑائیاں لڑی گئیں وہ عموماً اپنے تفاخر، غرور اور بڑائی کے اظہار سے شروع ہوئیں۔

تاریخ کے جھروکے سے جھانکنے والے افراد کے لیے ظہور اسلام سے قبل لڑی جانے والی حربِ بسوس، حرب داحس، حرب فجار، حربِ اوس و خزرج کی تفصیل دیکھنا ضروری ہے۔ ان تمام جنگوں میں ایک چیز قدرے مشترک ہے کہ حملے کے وقت محارب اور غیر محارب ظالم و مظلوم کے فرق کے بغیر جنگ کی گئی اور انسانی خون کے دریا بہائے گئے۔ یوں جب برّو بحر میں فساد برپا تھا ایک پاکیزہ و مطہَّر رسول کامل و اکمل دین کے ساتھ اُم القریٰ میں ظاہر ہوا۔ اِنَّ الدِّیۡنَ عِنۡدَ اللّٰہِ الۡاِسۡلَامُ (اٰل عمران:۲۰) کا فرمان ابد الدہر تک اس دین کی حیثیت اس کی عظمت وشان اور اس کے مقام پر گواہ رہے گا۔

اسلام ایک آفاقی اور عالمگیر مذہب ہے۔ اس کی تعلیمات دیگر مذاہب کی طرح محض چند رسوم وعقائد کا مجموعہ نہیں ہیں اور نہ ہی یہ کسی انسان کی اختراع یا اس کے ہاتھوں بنایا ہوا قانون ودستور ہے،بلکہ خالقِ کائنات کا نازل کردہ نظامِ حیات ہے، جس میں ہر شعبہ زندگی کے متعلق انسانیت کے لیے راہنما اصول بتلائے گئے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس کی تعلیمات کو ہر شخص اپنا سکتا ہے، کوئی بھی شخص ان اصول کو اپنا کر اس کے دامن رحمت وعافیت میں جگہ پاسکتا ہے۔ نبی و شارع کاملﷺ نے جو دین پیش کیا وہ صرف اخلاقیات اور عبادات پر ہی مشتمل نہیں بلکہ یہ دین پوری زندگی کا انسانی ضابطہ حیات ہے۔ یہ دین زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے۔

وہ معلّم جہاں جس نے نوع انسان کو آداب زیست سکھائے، اخلاقی، روحانی، سیاسی، عسکری، علمی، فکری اور تمدنی اصلاح کی اُسی شرف ِانسانی کے قییم اور افواج قدوسیاں کے سپہ سالارﷺنے حربی قواعد و ضوابط میں ایسی بنیادی تبدیلیاں کیں اور اس درجہ ان کی اصلاح کی، جنگ کے ایسے اصول وضع فرمائے جو تا ابد زندہ و تابندہ اور عدیم المثال رہیں گے۔ اسلام نے جنگ کی اصلاح و تطہیر کے سلسلہ میں سب سے پہلی اصلاح یہ کی کہ دشمن کو دو طبقوں میں تقسیم کر دیا۔ اہلِ قتال اور غیر اہلِ قتال۔ جنگ کے اس ارفع اور پاکیزہ تصور کے تحت اسلام نے جنگ کا ایک مکمل ضابطہ اور قوانین وضع کیے جس میں جنگ کے آداب، اخلاقی حدود، محاربین جنگ کا ایک مکمل ضابطہ اور قوانین و فرائض، مقاتلین و غیر مقاتلین کا امتیاز، قیدیوں کے حقوق، مفتوح قوموں کے حقوق، نہ صرف تفصیل سے بتائے بلکہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خلفائے راشدین رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اپنے اقوال و افعال سے اعلیٰ نمونے قائم کر کے ہر دور کے لیے عملی نظائر اور مثال بھی قائم فرما دی۔

غیر محاربین کے تحفظ کے لیے شارع اسلام ﷺ کی ہدایات و فرمودات اتنے واضح، بیّن، مدلل و مفصّل اور یقینی و کامل ہیں کہ انسانی تاریخ ان کی نظیر لانے سے قاصر تھی، ہے اور تا ابد رہے گی۔

اسلام میں جنگ و امن کے دوران غیر محاربین (یعنی وہ لوگ جو براہِ راست جنگ میں شامل نہ ہوں) کا تحفظ ایک بنیادی اور اٹل اصول ہے۔ شریعت نے حالتِ جنگ میں بھی عورتوں، بچوں، بوڑھوں، مذہبی راہنماؤں اور عام شہریوں کو قتل یا نقصان پہنچانے سے سختی سے منع کیا ہے۔ غیر محاربین کے تحفظ کے اہم اصول درج ذیل ہیں:

خواتین اور بچوں کی حفاظت: نبی اکرم ﷺ نے حالتِ جنگ میں عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے واضح طور پر منع فرمایا ہے۔

بوڑھے اور بیمار: میدانِ جنگ میں حصہ نہ لینے والے بزرگ، اپاہج اور بیمار افراد پر ہتھیار اٹھانا ممنوع ہے۔

مذہبی پیشوا اور عبادت گاہیں: راہبوں، پادریوں اور عبادت میں مصروف افراد کی جان و مال کا تحفظ لازم ہے، اور ان کی عبادت گاہوں کو نقصان پہنچانا گناہ ہے۔

مزدور اور کسان: وہ عام شہری جو اپنے روزگار (کھیتی باڑی، مزدوری) میں مصروف ہوں اور جنگ کا حصہ نہ ہوں، ان کا قتل جائز نہیں۔

سفیر اور قاصد: جنگ کے دوران امن کا پیغام لانے والے یا سفارتی تعلقات رکھنے والے افراد کو مکمل استثنیٰ اور امان حاصل ہوتی ہے۔

اسلام کسی مسلمان کے ہاتھوں غیر مسلم شہریوں کے ساتھ کسی قسم کی ظلم و زیادتی کو ہر گز برداشت نہیں کرتا خواہ اس ظلم و اذیت کا تعلق ہاتھ سے ہو یا زبان سے۔ ظلم کی قباحت و حرمت پر اور دنیا و آخرت میں اس کے درد ناک انجام پر کثرت کے ساتھ آیات اور احادیث موجود ہیں۔

غیر محاربین کے تحفظ کے لیے احکم الالحاکمین کا یہ فرمان روزروشن کی طرح واضح ہے:وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡن۔(البقرہ:۱۹۱) اور اللہ کی راہ میں ان سے قتال کرو جو تم سے قتال کرتے ہیں اور زیادتی نہ کرو۔ یقیناً اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

کتنا روشن واضح اور کامل فرمان الٰہی ہے کہ ہتھیار صرف اور صرف اس کے مقابل اٹھایا جائے جو ہتھیار سے بر سرپیکار ہے۔ اس حد سے بڑھنا اللہ کو پسند نہیں۔

احکام رسولﷺ

عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ أَنَّ امْرَأَةً، وُجِدَتْ فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتُولَةً، فَأَنْكَرَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَتْلَ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ ۔(صحيح مسلم كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ ۔ باب تَحْرِيمِ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ فِي الْحَرْبِ۔ حدیث: ۴۵۴۷) حضرت عبداللہ بن عمروؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کی جنگوں میں سے کسی ایک جنگ میں ایک عورت مقتول پائی گئی تو آپؐ نے عورتوں اور بچوں کے قتل کیے جانے کو ناپسند فرمایا۔

عَنْ رَبَاحِ بْنِ رَبِيعٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ فَرَأَى النَّاسَ مُجْتَمِعِينَ عَلَى شَيْءٍ، فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: انْظُرْ عَلَامَ اجْتَمَعَ هَؤُلَاءِ۔ فَجَاءَ فَقَالَ: عَلَى امْرَأَةٍ قَتِيلٍ، فَقَالَ: مَا كَانَتْ هَذِهِ لِتُقَاتِلَ قَالَ: وَعَلَى الْمُقَدِّمَةِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَبَعَثَ رَجُلًا فَقَالَ: قُلْ لِخَالِدٍ لَا يَقْتُلَنَّ امْرَأَةً وَلَا عَسِيفًا۔ (سنن ابي داود كِتَاب الْجِهَادِباب فِي قَتْلِ النِّسَاءِحدیث: ۲۶۶۹) حضرت رباح بن ربیع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ تھے، آپؐ نے دیکھا کہ لوگ کسی چیز کے پاس اکٹھے ہیں تو ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا: ’’جاؤ دیکھو یہ لوگ کس چیز کے پاس اکٹھے ہیں‘‘وہ دیکھ کر آیا اور اس نے بتایا کہ لوگ ایک مقتول عورت کے پاس اکٹھا ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’یہ تو ایسی نہیں تھی کہ قتال کرے‘‘۔ مقدمۃ الجیش (فوج کے اگلے حصہ) پر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مقرر تھے تو آپﷺ نے ایک شخص سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس کہلا بھیجا کہ وہ ہرگز کسی عورت کو نہ ماریں اور نہ کسی مزدور کو۔

حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: انْطَلِقُوا بِاسْمِ اللّٰهِ وَبِاللّٰهِ وَعَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللّٰهِ، وَلَا تَقْتُلُوا شَيْخًا فَانِيًا وَلَا طِفْلًا وَلَا صَغِيرًا وَلَا امْرَأَةً وَلَا تَغُلُّوا وَضُمُّوا غَنَائِمَكُمْ وَأَصْلِحُوا وَأَحْسِنُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِيْنَ۔(سنن ابي داودكِتَاب الْجِهَادِباب فِي دُعَاءِ الْمُشْرِكِينَ۔ حدیث: ۲۶۱۴) حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (مجاہدین کو رخصت کرتے وقت) فرمایا: ’’تم لوگ اللہ کے نام سے، اللہ کی تائید اور توفیق کے ساتھ، اللہ کے رسول کے دین پر جاؤ، اور بوڑھوں کو جو مرنے والے ہوں نہ مارنا، نہ بچوں کو، نہ چھوٹے لڑکوں کو، اور نہ ہی عورتوں کو، اور غنیمت میں خیانت نہ کرنا، اور غنیمت کے مال کو اکٹھا کر لینا، صلح کرنا اور نیکی کرنا، اللہ نیکی کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے‘‘۔

عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ مَنْ قَتَلَ فِي حَرَمِ اللّٰهِ أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ أَوْ قَتَلَ بِذُحُولِ الْجَاهِلِيَّةِ ۔ (مسند الإمام أحمد مسندالمكثرين من الصحابة مسند عبد اللّٰه بن عمرو بن العاص رضي اللّٰه تعالى عنهما)حضرت عمر بن شعیب ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’بے شک اللہ کے نزدیک بدترین فاسق وہ ہیں جو مسجد حرام میں قتل کرتے ہیں، جو اس کو قتل کرتے ہیں جس نے اس سے جنگ نہیں کی، یا وہ جو جہالت کے بدلے میں قتل کرتے ہیں۔

عَنْ أَبِي شُرَيْحٍ الْعَدَوِيِّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنْ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللّٰهِ تَعَالَى مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ۔ (المستدرك على الصحيحين كِتَابُ الْحُدُودِ۔ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللّٰهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ۔ حدیث نمبر: ۸۲۲۳) حضرت ابو شریح رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ ظالم وہ ہے جو ان لوگوں کو قتل کرے جنہوں نے اس سے جنگ نہیں کی۔

سنہ آٹھ ہجری میں وہ فاتح اعظم دس ہزار قدوسیوں کے جلو میں فاران کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہوا تو آپ ﷺ کی زبان اظہر سے نکلے ہوئے یہ الفاظ غیر محاربین کے تحفظ کی زندہ اور ابدی مثال بن گئے: قَالَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ۔ (صحيح مسلم كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ باب فَتْحِ مَكَّةَ۔ حدیث: ترقیم عبدالباقی: ۱۷۸۰ ترقیم شاملہ: ۴۶۲۴) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو کوئی ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو جائےاس کو امان دی جاتی ہے اور جو ہتھیار ڈال دے اس کو بھی امان ہے اور جوشخص اپنا دروازہ بند کر لے اس کو بھی امان دی جاتی ہے۔ ‘‘

عن عائشة قالت: وُجِدَ في قائم سيف رسول اللّٰهﷺ كتابان:إِنَّ أَشدَّ الناس عُتوًّا: رجلٌ ضربَ غيرَ ضاربِه، ورجلٌ قتلَ غيرَ قاتلِه، ورجلٌ تولَّى غيرَ أهل نِعمَتِه، فمن فعلَ ذلك فقد كفَرَ باللّٰه ورسولِه، ولا يُقبل منه صَرْفٌ ولا عَدْلٌ۔(المستدرك على الصحيحين كِتَابُ الْحُدُودِ أَعْتَى النَّاسِ عَلَى اللّٰهِ مَنْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ حدیث: ۸۲۲۲) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ کی تلوار کے دستے میں دو تحریریں پائی گئیں:’’بےشک لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش وہ ہے جو اسے مارے جس نے اسے نہیں مارا، اور وہ جو اسے قتل کرے جس نے (اس کے کسی عزیز کو) قتل نہیں کیا، اور وہ جو اپنے محسنوں کو چھوڑ کر دوسروں سے وفاداری کا رشتہ جوڑے، تو جس نے ایسا کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا، اور اس کا کوئی نفل یا فرض عمل قبول نہیں کیا جائے گا۔ ‘‘

اکابرین امت کے اقوال

حضرت یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان کی قیادت میں شام کی طرف لشکر بھیجا ، اور روانگی کے وقت انہیں نصیحت فرمائی: إِنَّكَ سَتَجِدُ قَوْمًا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ لِلّٰهِ، فَذَرْهُمْ وَمَا زَعَمُوا أَنَّهُمْ حَبَسُوا أَنْفُسَهُمْ لَهُ… وَإِنِّي مُوصِيكَ بِعَشْرٍ: لَا تَقْتُلَنَّ امْرَأَةً، وَلَا صَبِيًّا، وَلَا كَبِيرًا هَرِمًا، وَلَا تَقْطَعَنَّ شَجَرًا مُثْمِرًا، وَلَا تُخَرِّبَنَّ عَامِرًا، وَلَا تَعْقِرَنَّ شَاةً، وَلَا بَعِيرًا إِلَّا لِمَأْكَلَةٍ، وَلَا تَحْرِقَنَّ نَحْلًا، وَلَا تُغَرِّقَنَّهُ، وَلَا تَغْلُلْ، وَلَا تَجْبُنْ۔(موطا امام مالك رواية يحييٰ، كِتَابُ الْجِهَادِبَابُ النَّهْيِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ فِي الْغَزْوِحدیث: ۹۶۸)فرمایا:’’تم ایسے لوگوں کو پاؤ گے جو اپنے آپ کو خدا کے لیے وقف کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس لیے انہیں ان کے دعوے پر چھوڑ دو… اور میں تمہیں دس باتوں کا حکم دیتا ہوں: عورت کو قتل نہ کرنا، نہ کسی بچے کو، نہ کسی بوڑھے کو، اور کسی پھلدار درخت کو مت کاٹنا، کسی بستی کو نہ اجاڑنا۔ کوئی پھلدار درخت نہ کاٹنا، کھانے کی ضرورت کے سوا کسی بھیڑ یا اونٹ کو ذبح نہ کرنا۔ غذادری نہ کرنا اور بزدلی نہ دکھانا۔ ‘‘

حضرت سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شام کی طرف اسلامی لشکر کو روانہ کرتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ أُوصِيكُمْ بِتَقْوَى اللّٰهِ عَزَّ وَجَلَّ، اغْزُوا فِي سَبِيلِ اللّٰهِ، قَاتِلُوا مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ؛ فَإِنَّ اللّٰهَ نَاصِرٌ دِينَهُ، وَلَا تَغُلُّوا وَلَا تَغْدِرُوا وَلَا تَجْبُنُوا وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ، وَلَا تُغْرِقُنَّ نَخْلًا وَلَا تَحْرِقُنَّهَا، وَلَا تَعْقِرُوا بَهِيمَةً وَلَا شَجَرَةً تُثْمِرُ وَلَا تَهْدِمُوا بَيْعَةً ۔ (شرح مشكل الآثارالطحاوي۔ أبو جعفر الطحاوي بَابُ بَيَانِ مُشْكِلِ مَا رُوِيَ عَنْ رَسُولِ اللهِ – صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – فِي قَطْعِ الْمُسْلِمِينَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَتَحْرِيقِهَا، وَفِي السَّبَبِ الَّذِي فِيهِ نَزَلَتْ: مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَى أُصُولِهَا) یعنی:’’میں تمہیں اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی نصیحت کرتا ہوں، خدا کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو خدا کے منکر ہیں، کیونکہ خدا اپنے دین کی مدد فرمائے گا۔ غبن نہ کرو، خیانت نہ کرو، بزدل نہ بنو، زمین میں فساد نہ کرو، کھجور کے درختوں کو نہ جلاؤ، کسی جانور کو بلاوجہ ذبح نہ کرنا، کسی پھل دار درخت کو نہ گرانا، اور کسی معبد خانے کو منہدم نہ کرنا۔ ‘‘

عن ابن عباس: وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ يقول: لَا تَقْتُلُوا النِّسَاءَ وَلَا الصِّبْيَانَ وَلَا الشَّيْخَ الْكَبِيرَ وَلَا مَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ وكفَّ يَده، فإن فَعلتم هذا فَقَدَ اعْتَدَيْتُمْ۔ (تفسیر طبری، جلد ۳۔ صفحہ۵۶۳۔ مکتبہ شاملہ)حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۃ البقرۃ کی آیت کی تفسیر میں بیان فرماتے ہیں:عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو قتل نہ کرو یا جو تمہارے پاس صلح لے کر آئے اور وہ اپنے ہاتھ کو لڑائی سے روکے، کیونکہ اگر تم نے ایسا کیا تو یقیناً تم نے زیادتی کی۔

عن يحيى بن يحيى الغساني، قال: كتبتُ إلى عمر بن عبد العزيز أسألهُ عن قوله:وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ، قال: فكتب إليّ: إِنَّ ذَلِكَ فِي النِّسَاءِ وَالذُّرِّيَّةِ وَمَنْ لَمْ يَنْصِبْ لَكَ الْحَرَبَ مِنْهُمْ۔ (تفسیر طبری، جلد ۳۔ صفحہ۵۶۲۔ مکتبہ شاملہ) یحییٰ بن یحییٰ غسانی سے روایت ہے کہ میں نے عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا اور ان سے اس آیت کے بارے میں پوچھا: ’’اوراللہ کے راستے میں ان سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں، لیکن حد سے تجاوز نہ کرو بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔‘‘ انہوں نے جواب دیا: ’’یہ عورتوں، بچوں اور ان میں سے اُن لوگوں کے بارے میں ہے جنہوں نے آپ کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائے۔ ‘‘

پھر مُرور زمانہ سے اس کامل و اکمل تعلیم پر ذاتی خیالات و بدعات کی دبیز تہ جمتی چلی گئی اور تیرہ صدیاں تاریکی میں بیت گئیں یہاں تک کہ رحمت الٰہی نے جوش مارا اور اصدق الصادقین کے پیشگوئیوں کے موافق چودھویں صدی کے شروع میں دین کو زندہ کرنے اور شریعت کو قائم کرنے کے لیے باغ ملت میں ایک گل رعنا کھلا، جس نے جنگ و جدال کی بجائے صلح و امن کا سفید جھنڈا کُل عالم میں بلند کیا۔

امام آخر الزمان علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں: ’’نصاری وغیرہ سے جو خدا نے محبت کرنے سے ممانعت فرمائی تو اس سے یہ نہ سمجھو کہ وہ نیکی اور احسان اور ہمدردی کرنے سےتمہیں منع کرتا ہے۔ نہیں بلکہ جن لوگوں نے تمہارے قتل کرنے کے لیے لڑائیاں نہیں کیں اور تمہیں تمہارے وطنوں سے نہیں نکالا وہ اگر چہ عیسائی ہوں یا یہودی ہوں بےشک ان پر احسان کرو۔ ان سے ہمدردی کرو۔ انصاف کرو کہ خدا ایسے لوگوں سے پیار کرتا ہے۔ ‘‘(نور القرآن نمبر ۲، روحانی خزائن جلد ۹ صفحہ ۴۳۵)

وہ امام صادق اور حکم عدل فرماتا ہے: ’’ قرآن شریف نے تو اس امر کی بڑی وضاحت کر دی ہے کہ جنہوں نے تلوار سے مقابلہ کیا ان کا مقابلہ تلوار سے کیا جاوے اور جو لوگ الگ رہتے ہیں اور انہوں نے ایسی جنگوں میں کوئی حصہ نہیں لیا ان سے تم بھی جنگ مت کرو بلکہ ان سے بے شک احسان کرو اور ان کے معاملات میں عدل کیا کرو۔ چنانچہ فرماتا ہے کہ لَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ۔ (الممتحنہ:۹)‘‘(ملفوظات جلد ۱۰ صفحہ ۱۶۵، ایڈیشن۲۰۲۲ء)

سلطان حرف و حکمت اپنی معرکہ آراء تصنیف چشمہ معرفت میں بیان فرماتے ہیں: ’’…اس سے ظاہر ہے کہ جنگ صرف جرائم پیشہ لوگوں کے لیے تھا کہ مسلمانوں کو قتل کرتے تھے یا امن عامہ میں خلل ڈالتے تھے اور چوری ڈاکہ میں مشغول رہتے تھے اور یہ جنگ بحیثیت با دشاہ ہونے کے تھانہ بحیثیت رسالت جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ۔( البقرہ:۱۹۱) ( ترجمہ ) تم خدا کے راہ میں ان لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں یعنی دوسروں سےکچھ غرض نہ رکھو اور زیادتی مت کرو۔ خدا ز یادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۲۴۳)

پھر اسی تصنیف لطیف میں تحریر فرماتے ہیں:’’اب ظاہر ہے کہ قرآن شریف یہی بیان کرتا ہے کہ مسلمانوں کو لڑائی کا اُس وقت گیا تھا جب وہ ناحق قتل کئے جاتے تھے اور خدا تعالیٰ کی نظر میں حکم دیا مظلوم ٹھیر چکے تھے اور ایسی حالت میں دو صورتیں تھیں یا تو خدا کافروں کی تلوار سے اُس کو فنا کر دیتا اور یا مقابلہ کی اجازت دیتا اور وہ بھی اس شرط سے کہ آپ اُن کی مدد کرتا کیونکہ اُن میں جنگ کی طاقت ہی نہیں تھی۔ اور پھر ایک اور آیت ہے جس میں خدا نے اس اجازت کے ساتھ ایک اور قید بھی لگا دی ہے اور وہ آیت سیپارہ دوم سورۃ البقرۃ میں ہے اور اس آیت کا ماحصل یہ ہے کہ جو لوگ تمہیں قتل کرنے کے لیے آتے ہیں اُن کا دفع شر کے لیے مقابلہ تو کرو مگر کچھ زیادتی نہ کرو اور وہ آیت یہ ہے وَقَاتِلُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ الَّذِیۡنَ یُقَاتِلُوۡنَکُمۡ وَلَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ(البقرہ: ۱۹۱) یعنی خدا کی راہ میں اُن لوگوں کے ساتھ لڑو جو لڑنے میں سبقت کرتے ہیں اور تم پر چڑھ چڑھ کے آتے ہیں مگر اُن پر زیادتی نہ کرو اور تحقیقاً یا د رکھو کہ خدا زیادتی کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اور پھر خدا تعالیٰ نے قرآن شریف پارہ اٹھائیس سورۃالممتحنہ میں فرمایا ہے لَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ۔ (الممتحنہ:۹) ترجمہ۔ یعنی جن لوگوں نے تمہارے دین کو نابود کرنے کی غرض سے تمہارے قتل کرنے کے لیے چڑھائی نہیں کی اور تمہیں اپنے وطن سے نہیں نکالا خدا تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ تم اُن سے احسان کرو اور اپنے مال کا کوئی حصہ اُن کو دے دو اور معاملات میں اُن سے انصاف کا برتاؤ کرو اور خدا اُن لوگوں سے پیار کرتا ہے جو اپنے دشمنوں سے بھی احسان اور مروت اور انصاف سے پیش آتے ہیں خاص کر ایسے دشمن جو بہت بہت دکھ دے چکے ہوں۔

اور پھر ایک جگہ فرماتا ہے یعنی پارہ دہم سورۂ تو بہ میں۔ وَاِنۡ اَحَدٌ مِّنَ الۡمُشۡرِکِیۡنَ اسۡتَجَارَکَ فَاَجِرۡہُ حَتّٰی یَسۡمَعَ کَلٰمَ اللّٰہِ ثُمَّ اَبۡلِغۡہُ مَاۡمَنَہٗ ؕ ذٰلِکَ بِاَنَّہُمۡ قَوۡمٌ لَّا یَعۡلَمُوۡنَ۔ (التوبۃ:۶) یعنی اگر لڑائی کے ایام میں کوئی شخص مشرکوں میں سے خدا کے کلام کو سننا چاہے تو اُس کو پناہ دے دو جب تک کہ وہ خدا کے کلام کو سن لے اور پھر اس کو اپنے امن کی جگہ میں پہنچادو کیونکہ وہ ایک جاہل قوم ہے اور نہیں جانتے کہ وہ کس سے لڑائی کر رہے ہیں۔ اور پھر سورہ حج پارہ سترہ میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعۡضَہُمۡ بِبَعۡضٍ لَّہُدِّمَتۡ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلَوٰتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذۡکَرُ فِیۡہَا اسۡمُ اللّٰہِ کَثِیۡرًا۔ (الحج:۴۱) (ترجمہ ) یعنی اگر خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہ ہوتی کہ بعض کو بعض کے ساتھ دفع کرتا تو ظلم کی نوبت یہاں تک پہنچتی کہ گوشہ گزینوں کے خلوت خانے ڈھائے جاتے اور عیسائیوں کے گرجے مسمار کئے جاتے اور یہودیوں کے معبد نابود کئے جاتے اور مسلمانوں کی مسجدیں جہاں کثرت سے ذکر خدا ہوتا ہے منہدم کی جاتیں۔ اس جگہ خدا تعالیٰ یہ ظاہر فرماتا ہے کہ ان تمام عبادت خانوں کا میں ہی حامی ہوں اور اسلام کا فرض ہے کہ اگر مثلاً کسی عیسائی ملک پر قبضہ کرے تو اُن کے عبادت خانوں سے کچھ تعرض نہ کرے اور منع کر دے کہ اُن کے گرجے مسمار نہ کئے جائیں اور یہی ہدایت احادیث نبویہ سے مفہوم ہوتی ہے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جبکہ کوئی اسلامی سپہ سالار کسی قوم کے مقابلہ کے لیے۔ مامور ہوتا تھا تو اُس کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے عبادت خانوں اور فقراء کے خلوت خانوں سے تعرض نہ کرے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کس قدر تعصب کے طریقوں سے دور ہے کہ وہ عیسائیوں کے گر جاؤں اور یہودیوں کے معبدوں کا ایسا ہی حامی ہے جیسا کہ مساجد کا حامی ہے ہاں البتہ اس خدا نے جو اسلام کا بانی ہے یہ نہیں چاہا کہ اسلام دشمنوں کے حملوں سے فنا ہو جائے بلکہ اس نے دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے اور حفاظت خود اختیاری کے طور پر مقابلہ کرنے کا اذن دے دیا ہے۔ ‘‘ ( چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد ۲۳صفحہ ۳۹۲۔ ۳۹۴)

حضرت حکیم الامت مولوی نورالدین خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: لَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ۔ اِنَّمَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَاَخۡرَجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ وَظٰہَرُوۡا عَلٰۤی اِخۡرَاجِکُمۡ اَنۡ تَوَلَّوۡہُمۡ ۚ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ۔ (الممتحنہ: ۹ و ۱۰) ترجمہ۔ اللہ تم کو ان لوگوں سے نہیں روکتا جو تم سے لڑے نہیں دین کے مقدمہ میں اور نہ تم کو نکالا تمہارے گھروں سے کہ تم ان کے ساتھ احسان کرو۔ اور ان کے حق میں انصاف کرو۔ بے شک اللہ پسند کرتا ہے عدل وانصاف کرنے والوں کو۔ ‘‘

تفسیر۔ جو لوگ تم سے مذہبی عداوت پر نہیں لڑتے۔ اور نہ انہوں نے تم کو جلا وطن کیا۔ ان سے سلوک اور انصاف کے برتاؤ سے اللہ تعالیٰ کبھی منع نہیں کرتا۔ بلکہ ایسے منصف تو اللہ تعالیٰ کو محبوب و پیارے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو ان لوگوں کی محبت و دوستی سے تم کو منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے مذہبی جنگ کی اور اسلام کے باعث تم سے لڑے اور تم کو جلا وطن کیا۔ اور تمہاری جلا وطنی میں تمہارے دشمنوں کے مددگار ہوئے۔ اور جو ایسے دشمنوں سے پیار کریں وہی ظالم ہیں۔

تارک اسلام آریہ کے اس اعتراض کے جواب میں کہ قرآن کہتا ہے ’’مشرک اور کافر نا پاک ہیں ان سے دوستی مت لگاؤ۔‘‘ فرمایا ’’منو دھیا نمبر ۲ شلوک نمبر ۱۳۔ جو شخص وید کے احکام کو بذریعہ علم منطق سمجھ کر وید شاستر کی توہین کرتا ہے۔ وہ ناستک یعنی کافر ہے۔ اس کو سادہ لوگ اپنی منڈلی سے باہر کردیں۔ کافر کا لفظ بعینہٖ مطبوع نول کشور میں ہے۔ پھر ستیارتھ پرکاش سملاس نمبر ۱۰ صفحہ ۳۵۲ فقرہ نمبر ۶ میں ہے کبھی ناستک، شهوت پرست، دغا باز، دروغ گو، خودغرض، فریبی، حیله باز وغیرہ بُرے آدمیوں کی صحبت نہ کرے۔ آیت (اہل کمال ) یعنی جو سچ بولنے والا دھرماتما اور دوسروں کی بہبودی جن کو عزیز ہے ہمیشہ ان کی صحبت کرنے کا نام سریشٹ آچار ( پاکیزہ چلن ) ہے۔

ستیارتھ سملاس صفحہ ۶ ستیارتھ صفحہ ۲۱۱ فقره ۵۳ – منو ۷۔ ۱۹۵، ۱۹۶۔ دشمن کو چاروں طرف محاصرہ کر کے رکھے اور اس کے ملک کو تکلیف پہنچا کر چارہ خوراک۔ پانی اور ہیزم کو تلف و خراب کر دیوے۔ دشمن کے تالاب شہر کی فصیل اور کھائی کو توڑ پھوڑ دیوے۔ رات کے وقت ان کو خوف دیوے اور فتح پانے کی تجاویز کرے او نادان ! کیا نا پاک اور بےایمان اور منکر سے پاک اور ایماندار اور حق کے ماننے والے دلی تعلق پیدا کر سکتے ہیں؟ چیت را میوں، اگھوریوں، ناستکوں سے اب تجھے تعلق ہو سکتا ہے اور کیا سعید وشقی۔ برے بھلے۔ دیوا سرین سنگرام ( جنگ ) چاہیے۔ یا باہم پریم۔ اے سچائی سے دانستہ دشمنی کر نیوالے فلاح سے کوسوں بھاگنے والے! کبھی تو غور سے کام لے کیا یہ تیرے اعتراض کچھ بھی راستی اپنے اندر رکھتے ہیں۔ اور اظہار حق کے لیے ایک اور آیت جو تمہارے اعتراض کی بیخ کنی کر دے تجھ کو سناتا ہوں۔

لَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ لَمۡ یُقَاتِلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَلَمۡ یُخۡرِجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ۔ اِنَّمَا یَنۡہٰٮکُمُ اللّٰہُ عَنِ الَّذِیۡنَ قٰتَلُوۡکُمۡ فِی الدِّیۡنِ وَاَخۡرَجُوۡکُمۡ مِّنۡ دِیَارِکُمۡ وَظٰہَرُوۡا عَلٰۤی اِخۡرَاجِکُمۡ اَنۡ تَوَلَّوۡہُمۡ ۚ وَمَنۡ یَّتَوَلَّہُمۡ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الظّٰلِمُوۡنَ۔

اَنۡ تَبَرُّوۡہُمۡ وَتُقۡسِطُوۡۤا اِلَیۡہِمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الۡمُقۡسِطِیۡنَ۔ احسان کرو تم ان سے اور انصاف کرو طرف ان کے تحقیق اللہ دوست رکھتا ہے انصاف کرنے والوں کو۔

یہ آیت کسی بے قابو مجذوب کا قول نہیں ہے۔ نہ کسی فلسفی کا خام خیال ہے بلکہ یہ اس شخص کا فرمودہ ہے جو ایسی سلطنت کا بادشاہ تھا جو اتنی قدرت رکھتی تھی اور جس کا انتظام ایسا عمدہ تھا کہ جیسے اصول کو چاہتی نافذ کر سکتی تھی۔ اورفرقوں اور اشخاص نے دین میں بھی اور سیاست مدن میں بھی مذہبی آزادی بخشنے کی ترغیب دی ہے مگر اس کے عمل درآمد کی تاکید صرف اس وقت تک کی ہے جب تک وہ خود بے قابو اور کمزور رہے ہیں لیکن شارع اسلام نے مذہبی آزادی کی ترغیب ہی نہیں دی بلکہ اُس کو احکام شریعت میں داخل کر دیا ہے۔ رسولؐ اللہ نے بنی حارث اور بنی نجران کے بڑے اسقف اور اساقفہ کو اور اُن کے مریدوں اور راہبوں کو بایں مضمون لکھا۔ کہ ہر چیز قلیل و کثیر جس حیثیت سے اب تمہارے کنائس اور خانقاہوں میں ہے۔ اُسی حیثیت سے وہ تمہارے پاس باقی رہے گی اور تم اسے اسی طرح کام میں لاؤ جس طرح اب لاتےہو۔ خود خداوند عالم اور اس کا رسول عہد کرتا ہے کہ کوئی اُسْقُفِ اعظم اپنی عملداری سے اور کوئی راہب اپنی خانقاہ سے اور کوئی اسقف اپنے عہدے سے برخاست نہ کیا جاوے گا۔ اور ان کی حکومت اور حقوق میں کچھ تغیر و تبدل نہ کیا جائے گا اور نہ اس بات میں کچھ تغیر کیا جاوے گا جو اُن میں مرسوم و مروج ہو اور جب تک وہ صلح و تدین کو اپنا شعار رکھیں گے اُن پر کسی قسم کا جَور نہ کیا جاوے گا نہ وہ کسی پر جو رو ظلم کرنے پائیں گے۔

جس زمانہ میں آنحضرتؐ مبعوث ہوئے اُس زمانہ میں مختلف قوموں کے باہمی فرائض کو کوئی جانتا بھی نہ تھا کہ ایک قوم کو دوسری قوم سے کیا سلوک کرنا چاہیے۔ جب مختلف قومیں یا قبیلے باہم لڑتے بھڑتے تھے تو نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ ضعیف آدمی تہ تیغ بےدریغ کئے جاتے اور بے گناہ لونڈی غلام بنائے جاتے اور قوم فاتح قوم مفتوح کے معبودوں یعنی بتوں کو لوٹ لے جاتی تھی۔ تیرہ سو برس کے عرصے میں رومیوں نے ایک ایسا سلسلہ قوانین اختراع کیا تھا۔ جو وسیع بھی تھا اور مضامین عالیہ سے مملو بھی تھا۔ مگر اُس اخلاق اور اُس انسانیت و مروت کو جو ایک قوم کو دوسری قوم سے کرنی چاہیے۔ رومی خاک بھی نہیں سمجھتے تھے۔ وہ فقط اس غرض سے لڑائیاں لڑتے تھے کہ گردو نواح کی قوموں کو مغلوب و مقہور کریں۔ اُن کے نزدیک عہد و پیمان کا نقض کر دینا کچھ بڑی بات نہ تھی بلکہ مصالح وقت پر مبنی تھی۔

دین مسیحی کے جاری ہونے سے بھی ان خیالات میں کچھ تغیر و تبدل نہ ہوا۔ عیسائیوں کے زمانے میں بھی لڑائی میں وہی بے رحمیاں اور وہی قتل اور لوٹ مار ہوتی تھی جو رومیوں کے عہد میں ہوتی تھی اور فاتحین مفتوحین کو بلا تکلف لونڈی غلام بنا ڈالتے تھے اور عہد و پیمان کر کے پھر توڑ ڈالنا بے ایمان سرداران فوج کی رائے پر موقوف تھا۔

الغرض دین مسیحی نے قومی اخلاق کا کچھ تصفیہ نہ کیا۔ اس زمانہ کے محققین مسیحی نے اس قومی اخلاق کے فقدان کو اپنے دین میں ایک نقص عظیم نہیں قرار دیا ہے۔ حالانکہ یہ نقص اس وجہ سے پیدا ہوا تھا کہ ان کا دین ناقص اور ناتمام چھوڑ دیا گیا تھا۔

مذہب پروٹسٹنٹ نے جب فروغ پایا تب بھی علمائے مسیحی کی مذہبی تعدی میں کچھ فرق نہ آیا۔ ہا لم صاحب اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ ’’اس مہذب دین ( پروٹسٹنٹ ) کے مختلف شعبوں اور فرقوں سے اعظم معاصی، یہ معصیت سرزد ہوئی کہ بندگانِ خدا پر دین میں جبر وا کراہ کرتے ہیں۔ اور یہ گناہ ایسا ہے کہ ہر ایک ایماندار آدمی جتنی زیادہ کتب کی سیر کرتا ہے۔ اتنی ہی اس کو ان سے کدورت اور نفرت ہوتی جاتی ہے۔ ‘‘

الغرض عیسائیوں کے جدید فرقوں میں باہم یا کلیسائے روم سے اعتقاداتِ مذہبی میں کیسا ہی اختلاف عظیم ہو۔ مگر اس باب خاص میں وہ سب متفق الرائے ہیں کہ جو قو میں دین مسیحی کے دائرہ سے باہر ہیں۔ اُن سے کوئی سلسلہ مواجب و حقوق مشترکہ کا قائم رکھنا یا کسی قسم کا فرض اُن کی نسبت بجالانا حرام مطلق ہے برخلاف دین ِمسیحی کے یہ بات اسلام کی طینت میں داخل نہیں کہ اور اہل مذاہب سے کنارہ کشی اختیار کرے۔ اس زمانۂ جاہلیت میں جبکہ نصف دنیا پر اخلاقی اور تمدنی تاریکی چھائی ہوئی تھی۔ آنحضرتؐ نے وہ اصول تمام بنی آدم کی مساوات کے تعلیم فرمائے جن کی قدر اور مذہبوں میں بہت کم کی جاتی تھی۔ چنانچہ وہ لائق مؤرخ ( ہا لم صاحب ) جس کا قول ہم نے پہلے نقل کیا ہے لکھتا ہے کہ ’’ دین اسلام بندگانِ خدا پر عرض کیا گیا مگر کبھی ان سے جبراًً نہیں قبول کرایا گیا۔ اور جس شخص نے اس دین کو بطیب خاطر قبول کیا اس کو وہی حقوق بخشے گئے۔ جو قوم فاتح کے تھے۔ اور اس دین نے مغلوب قوموں کو ان شرائط سے بری کر دیا جو ابتدائے خلقتِ عالم سے پیغمبر اسلام کے زمانہ تک ہر ایک فاتح نے مفتوحین پر قائم کئے تھے۔ ‘‘ ہم اس امر کا قطعی انکار کرتے ہیں کہ اسلام نے کبھی لوگوں کو زبردستی مسلمان کرنا چاہا ہو۔ بلکہ اسلام نے فقط اپنی ذات کی حفاظت کے لیے تلوار پکڑی اور اسی غرض سے شمشیر بکف رہا۔ (حقائق الفرقان جلد چہارم صفحہ ۷۲تا۷۵)

مستشرقین کی آرا

فرانسیسی محقق اورانٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC) کے سابق اعلیٰ عہدیدار ڈاکٹر مارسیل بوازار (Marcel A. Boisard) اپنی کتاب Humanism in Islam میں اسلامی قوانینِ جنگ کے تحت غیر محاربین (سویلینز) کے تحفظ اور جنگی ضوابط پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’Armed conflicts must also be conducted with propriety: Muslim teaching has developed extremely precise and inhibitive rules for the safety of non-combatants, humane treatment of the vanquished, and protection of the civilian population living in occupied territory.‘‘( Humanism in Islam. Marcel A. Boisard)

خلاصہ:’’مسلح تنازعات بھی شائستگی کے ساتھ لڑے جانے چاہئیں۔ اسلامی تعلیمات نے غیر محاربین کی سلامتی، مغلوب فریق کے ساتھ انسانیت پر مبنی سلوک ، اور مقبوضہ علاقے میں رہائش پذیر عام شہریوں کے تحفظ کے لیے انتہائی واضح دقیق اور مؤثر اصول وضع کیے ہیں۔ ‘‘

ان کی کتاب کا یہی اقتباس اور جائزہ ریڈ کراس کے اپنے آفیشل جنرل International Review of the Red Cross (جلد ۲۰، شمارہ ۲۱۵) کے صفحہ ۱۰۰ پر بھی بعینہٖ شائع کیا گیا ہے۔

برطانوی مصنف اسٹینلے لین پول (Stanley Lane-Poole) اپنی کتاب The Speeches and Table Talk of the Prophet Mohammad کے دیباچے میں رقمطراز ہے: ’’The day of Mohammad’s greatest triumph over his enemies was also the day of his grandest victory over himself. He freely forgave the Koreysh… and gave an amnesty to the whole population of Mekka… no house was robbed, no women insulted.‘‘ (The Speeches and Table Talk of the Prophet Mohammad by Stanley Lane-Poole.Page xlvii -47)

خلاصہ:’’محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے اپنے دشمنوں پر سب سے بڑی فتح کا دن، درحقیقت ان کی اپنی ذات پر بھی سب سے عظیم فتح کا دن تھا۔ آپؐ نے قریش کو کھلے دل سے معاف کر دیا… اور مکہ کی پوری آبادی کو عام معافی عطا فرمائی… نہ کسی گھر میں لوٹ مار ہوئی اور نہ ہی کسی خاتون کی بے حرمتی کی گئی۔ ‘‘

حرف آخر

ہم ہوئے خیر اُمم تجھ سے ہی اے خیر رسل

ترے بڑھنے سے قدم آگے بڑھایا ہم نے

خالق کائنات نے اپنے عبد کامل ﷺکی پیشگوئیوں کے مطابق اس عہد میں اس کے ظلِ کاملؑ  کو مبعوث فرمایا۔ اُس امام صادق علیہ الصلوٰۃ والسلام نے نہ صرف دلائل و براہین سے اسلام کی حقانیت وصداقت کو ثابت کیا بلکہ کُل عالم کو ’’پیغام صلح‘‘ بھی دیا۔ اُس کی رحلت کے بعد اس کے جانشین اس کے خلفاء اس مقدس مشن کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آج صرف خلافت حقہ اسلامیہ ہی ہے جو ظلمتوں کی یورش میں روشنی کا ضمیر بن کر چمک رہی ہے۔ ایک کے بعد دوسرا خلیفہ خداداد بصیرت اور نہایت عمیق نظر سے عالمی سطح کی سیاسی کشمکش کا تجزیہ فرما کر اس کا حل پیش کرتا چلا آرہا ہے۔ ’’نظام نَو‘‘ہو یا’’امن کا پیغام اور ایک حرفِ انتباہ ‘‘،’’خلیج کا بحران اور نظام جہانِ نو ‘‘ ہو کہ ’’عالمی بحران اور امن کی راہ‘‘ عالمی اور بین الاقوامی سطح کے تمام مسائل کا حقیقی، منصفانہ اور بہترین حل ان فرمودات و تحریرات میں موجود ہے۔ اور کھول کر بتایا کہ دنیا کا پائیدار امن، بنی نو ع انسان کی حقیقی آزادی اور خوشحالی کا راستہ صرف اور صرف اسلام کا پیش کردہ نظام عدل ہی ہے۔

اسلام کا قانونِ جنگ جسے اصطلاحِ شرع میں ’’جہادفی سبیل اللہ ‘‘ کے نام سے موسوم کیا گیا ہےکچھ تو خود نام نہاد مسلمانوں کی بداطواریوں، اوچھی ونامناسب حرکات وسکنات، اور ہوش سے زیادہ جوش وجذباتیت کے اظہار، دوسری جانب اعدائے اسلام کی سازشوں، افواہوں اور غلط پروپیگنڈوں اور ان کی جانب سے اس کی غلط توضیح وتشریح اس کے حقیقی مفہوم کو پردۂ خفا میں رکھنے کی وجہ سےمعاشرہ کی اصلاح، امنِ عامہ کے قیام اور دنیاسے ظلم وسفاکیت اور فساد و بگاڑ کے دور کرنے میں اس کا حقیقی اور بامعنی کردار نگاہوں سے اوجھل ہوتا جارہا ہے۔ ذرائع ابلاغ اور پروپیگنڈے کے اس دور میں ایک احمدی مسلمان کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مختلف ذرائع تشہیر کے ذریعے اسلامی احکام وتعلیمات کے روشن اور تابناک پہلوؤں کا اظہار کرتا رہے، تاکہ رفتارِ زمانہ اور خود مسلمانوں کی غفلت اور نادانی کے نتیجے میں اسلامی تعلیمات کی خوبیوں پر گردوغبار کی جو دبیز تہ جم چکی ہے اس کی صفائی ہو اور اسلامی تعلیمات کا حقیقی، روشن وتابناک چہرہ دنیاکے سامنے آئے۔

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: جنگی حالات میں ایفائے عہدکے متعلق اسلامی تعلیمات اور رسول اللہ ﷺکانمونہ

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button