اُسوۂ رسول ﷺ کی روشنی میں فتح و نصرت کے مواقع پرعفوو درگزر
حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں اور دوسرے لوگوں پر بکلّی فتح پاکر اور ان کو اپنی تلوار کے نیچے دیکھ کر پھر ان کا گناہ بخش دیا۔ اور صرف انہیں چند لوگوں کو سزا دی جن کو سزا دینے کے لئے حضرت احدیّت کی طرف سے قطعی حکم وارد ہوچکا تھا۔ اور بجز ان ازلی ملعونوں کے ہریک دشمن کا گناہ بخش دیا اور فتح پاکر سب کو لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ (یوسف: ۹۳) کہا
انسانی تاریخ کا گہرا مطالعہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ روزِ اوّل سے ہی طاقت کا حصول اور غلبے کی خواہش انسانی سرشت کا حصہ رہی ہے۔ قدیم زمانے سے فاتح اقوام اپنی قوت کے نشے میں مفتوحین کے ساتھ نہایت سفّاکانہ اور غیر انسانی سلوک کرتی آئی ہیں۔ اپنی ہیبت قائم رکھنے اور بغاوتوں کا سدِباب کرنے کے لیے قتلِ عام، غلامی، خواتین کی بے حرمتی اور اجتماعی سزاؤں کو جائز سمجھا جاتا تھا۔
قدیم آشوری سلطنت (Assyrian Empire) اپنے غیر معمولی مظالم کے لیے بدنام تھی۔ آشوری حکمرانوں کے کتبوں سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شکست خوردہ اقوام کے ہزاروں افراد کو قتل کرتے، بعض کی زندہ کھال کھینچ لیتے اور ان کے سروں کے مینار تعمیر کرتے تھے۔ خود آشوری بادشاہ اشور ناصر پال دوم (۸۵۹-۸۸۳ قبل مسیح) نے اپنے کتبوں میں مخالفین کے سروں کے ڈھیر لگانے، عبرت ناک سزائیں دینے اور نوجوانوں کو زندہ جلانے کا فخر سے ذکر کیا ہے۔
(Assyrian Royal Inscriptions, V: 2 by Albert Kirk Grayson)
یونانی مؤرخ ہیروڈوٹس کے مطابق بعض سیتھیائی (Scythian) قبائل اپنے مقتول دشمنوں کی کھوپڑیوں کو برتنوں کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ (The Histories, Book 4, Ch: 65) مفتوحہ علاقوں کی عورتوں اور بچوں کو غلام اور لونڈی بنانا تقریباً تمام بڑی قدیم سلطنتوں کا معمول تھا۔
منگول فتوحات، خصوصاً چنگیز خان اور اس کے جانشینوں کے دَور میں، وسط ایشیا، خراسان اور بغداد میں بڑے پیمانے پر قتلِ عام ہوا اور مقتولین کے سروں کے مینار تعمیر کیے گئے۔ بعد ازاں تیمور لنگ نے بھی دہلی اور اصفہان سمیت مختلف علاقوں میں ہزاروں کھوپڑیوں کے مینار بنوائے، جن کا ذکر متعدد مسلم اور مغربی مورخین نے کیا ہے۔(https://www.medievalists.net/2025/06/timur-the-lames-pyramids-of-skulls-terror-as-a-medieval-imperial-strategy)
قبل از اسلام مذاہب کی تاریخ بھی بڑی حد تک اسی طرزِعمل کی عکاس ہے۔ توریت میں دشمنوں کے بالمقابل قصاص اور بدلہ کی تعلیم موجود ہے۔ جنگ کی صورت میں دشمن کو مکمل طور پر نیست و نابود کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ مثلاً کتابِ استثناء (باب ۲۰، آیات ۱۶۔۱۷) میں بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا: ’’اُن قوموں کے شہروں میں… کسی جیتی جان کو بچا نہ رکھنا… بلکہ انہیں بالکل نیست و نابود کر دینا۔‘‘
اسی طرح کتابِ سموئیل اول میں حضرت سموئیلؑ کے ذریعے شاہ ساؤل کو حکم دیا گیا: ’’عمالیق کو مار… اُن پر ترس نہ کھا بلکہ مرد اور عورت، بچے اور شیرخوار، گائے بیل اور بھیڑ بکری، اونٹ اور گدھے سب کو قتل کر ڈال۔‘‘ (سموئیل اول، باب ۱۵، آیت ۳)
دنیا کے دیگر قدیم مذاہب سے وابستہ تاریخی روایات بھی جنگ اور مفتوح اقوام کے ساتھ اسی نوعیت کے طرزِ عمل کی متعدد مثالیں پیش کرتی ہیں۔
تہذیب یافتہ اقوام کے سیاہ کارنامے
اگر ہم عہدِ جدید پر نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان نے مادی ترقی اور بین الاقوامی قوانین کی تشکیل میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، مگر انسانی سرشت کی درندگی آج بھی پوری شدت سے موجود ہے۔ گذشتہ صدی کی دو عالمی جنگوں نے جو تباہی مچائی، وہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ جاپان کے دو شہروں پر امریکہ کی جانب سے گرائے گئے ایٹم بموں نے لمحوں میں لاکھوں معصوم جانیں نگل لیں، جبکہ ان کے تباہ کن اثرات آج بھی وہاں کے باشندے بھگت رہے ہیں۔
موجودہ دَور میں غزہ اس ظلم و بربریت کی تازہ مثال ہے۔ اگرچہ حماس کےشدت پسندوں کے حملے میں ناجائز طورپر تقریباً ۱۴۰۰؍افراد ہلاک کیے گئے، لیکن اس کے جواب میں اسرائیلی حکومت اور فوج کی جانب سے جس پیمانے پر تباہی اور بربریّت کا مظاہرہ کیا گیا، اس کی مثال تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۳ء سے جاری جنگ میں غزہ کی شہری آبادی شدید جانی، انسانی اور معاشی تباہی سے دوچار ہوئی ہے۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے مطابق جون ۲۰۲۶ء تک ۷۲؍ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق، ایک لاکھ ۷۲؍ہزار سے زائد زخمی اور لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔(https://www.unrwa.org/resources/reports/unrwa-situation-report-227-humanitarian-crisis-gaza-strip-and-occupied-west-bank
اسی طرح عراق، لیبیا اور بعد ازاں شام پر امریکی قیادت میں ہونے والےمغربی حملوں نے ان ممالک کو طویل عدم استحکام، خانہ جنگی، دہشت گردی اور معاشی تباہی کی دلدل میں دھکیل دیا۔ لاکھوں جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ جمہوریت کے نام پر عالمی طاقتوں نے ان خِطوں کے وسائل، خصوصاً تیل، پر اپنا اثر و رسوخ قائم کیا، جبکہ مقامی آبادی مزید غربت اور بدحالی کا شکار ہوئی۔۱۹۹۲ء سے ۱۹۹۵ء تک جاری بوسنیائی جنگ کے دوران بوسنیائی مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر نسلی تطہیر، اجتماعی قتل اور جبری نقل مکانی کی گئی۔ جولائی ۱۹۹۵ء میں سریبرینیتسا (Srebrenica) میں آٹھ ہزار سے زائد مسلمان مردوں اور لڑکوں کا قتلِ عام کیا گیا، جسے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل (ICTY) اور اقوامِ متحدہ نے باقاعدہ ’’نسل کشی‘‘ قرار دیا۔ یہی ان اقوام کا حقیقی چہرہ ہے جو مہذب اور متمدن کہلاتی ہیں۔
ترقی پذیر دنیا میں ظلم و ستم کا تسلسل
ترقی پذیر، خصوصاً افریقی ممالک کی حالیہ تاریخ بھی ظلم و تشدد سے بھری پڑی ہے۔ ۱۹۸۹ء سے ۲۰۰۳ء تک لائبیریا دو خونریز خانہ جنگیوں کی لپیٹ میں رہا، جہاں مختلف مسلّح گروہوں نے قتلِ عام، بچوں کو جبری سپاہی بنانے، خواتین پر جنسی تشدد اور شہری آبادی کو دہشت زدہ کرنے کو جنگی حکمتِ عملی بنایا۔ ان تنازعات میں تقریباً ڈھائی لاکھ افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔
اسی طرح ۱۹۹۱ء سے ۲۰۰۲ء تک جاری رہنے والی سیرالیون کی خانہ جنگی جدید تاریخ کے سفاک ترین تنازعات میں شمار ہوتی ہے، جہاں باغی گروہوں نے ہزاروں شہریوں کو قتل کیا، اجتماعی عصمت دری کی، بچوں کو زبردستی جنگ میں جھونکا اور ہاتھ پاؤں کاٹنے جیسے ہولناک مظالم ڈھائے۔ مزید برآں، جمہوریہ کانگو میں ۱۹۹۰ء کی دہائی کے اواخر سے جاری خونریز تنازعات، جنہیں ’افریقہ کی عالمی جنگ‘ کہا جاتا ہے، آج بھی لاکھوں انسانوں کے لیے ایک مسلسل المیہ بنے ہوئے ہیں۔
رحمۃ للعالمینﷺ کا ظہور اور عفوو درگزر کی لازوال داستانیں
تاریخِ عالم میں ایک ایسا درخشاں دَور بھی آیا جس نے انسانی تاریخ کا رخ ہی بدل کر رکھ دیا۔ اس دَور نے اخلاق و کردار، عدل و انصاف، عفو و درگزر، محبت و اخوّت اور احسان و اکرام کے ایسے بلند معیار قائم کیے کہ نہ اس سے پہلے کوئی مذہب ان کی مثال پیش کر سکا اور نہ بعد کی عظیم ترین تہذیبیں اور حکومتیں۔ نہ کوئی عادل ترین فرمانروا ایسے نمونے قائم کر سکا اور نہ کوئی عظیم فاتح ان کے قریب پہنچ سکا۔ یہ وہ مبارک دَور تھا جب سرورِ عالم، خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰﷺ مبعوث ہوئے۔ آپؐ نے انسانیت کو ایسے ابدی اور لازوال اسوے عطا فرمائے جو قیامت تک رشد و ہدایت کا سرچشمہ رہیں گے۔ محبت و اخوّت، عفو و درگزر اور احسان و اکرام کے ایسے بے مثال مظاہر دنیا نے دیکھے کہ آج بھی اہلِ فکر و دانش ان پر حیران ہیں۔ لاکھوں کروڑوں درود و سلام ہوں اس رحمتِ دو عالم ﷺ پر جنہوں نے اپنے ماننے والوں پر تو بے شمار احسانات فرمائے ہی، اپنے بدترین مخالفین کو بھی اپنی محبت، سخاوت، عفو اور شفقت سے اس طرح نوازا کہ وہ بھی اس فیض سے مالا مال ہو گئے۔
عام انسانی فطرت یہ ہے کہ فتح کے بعد سب سے پہلا خیال دشمن سے انتقام لینے کا آتا ہے۔ اگر کوئی شخص دشمن کی زیادتی کا اتنا ہی بدلہ لے جتنا اس پر کیا گیا ہو تو یہ انصاف ہے، لیکن اگر وہ قدرت و اختیار رکھنے کے باوجود معاف کر دے تو یہ بلند اخلاق کی علامت ہے۔ اس سے بھی بلند تر مقام یہ ہے کہ معاف کرنے کے بعد اسی دشمن پر احسان اور لطف و کرم کی بارش کر دی جائے۔ یہی خلقِ عظیم اسوۂ محمدی ﷺ کا امتیاز ہے، جس کی نظیر انسانی تاریخ میں کہیں اور نہیں ملتی۔ آپؐ کی محبت، احسان، شفقت اور عفو و درگزر نے ایسے لوگوں کے دل بھی بدل دیے جو اپنے سینوں میں نفرت اور عداوت کے پتھر اٹھائے پھرتے تھے، اور آپؐ کی رحمت نے ان سخت دل دشمنوں کو بھی موم کر دیا جو کبھی آپؐ کا چہرۂ انور دیکھنے کے بھی روادار نہ تھے۔
رسولِ اکرم ﷺ کی پوری حیاتِ طیبہ اسی خلقِ عظیم کی عملی تفسیر ہے۔ خواہ مکہ میں کمزوری اور مظلومیت کا دَور ہو، مدینہ میں دفاعی جنگوں کا زمانہ، فتوحات و کامرانیوں کے ایام ہوں یا پورے عرب پر غلبہ حاصل ہونے کے بعد اقتدار و اختیار کا مرحلہ، ہر حال میں آپؐ کی زندگی عفو، رحمت، حلم اور حسنِ سلوک کی روشن داستانوں سے عبارت نظر آتی ہے۔ یہی وہ عظیم امتیاز ہے جس نے آپؐ کو نہ صرف ایک فاتح، بلکہ تاریخِ انسانیت کا سب سے بڑا محسن اور سب سے اعلیٰ اخلاقی راہنما بنا دیا۔
وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا
اسلام نے عدل کی تعلیم دے کر انسان کو انصاف کی راہ دکھائی، مگر اس سے ایک بلند تر مقام پر فائز کرتے ہوئے احسان اور عفو کی تلقین بھی فرمائی۔ تاہم حقیقی عفو وہ ہے جو قوّت و اقتدار کے باوجود اصلاح اور خیرخواہی کی نیت سے کیا جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اور جو شخص معاف کر دے اور اصلاح کرے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ (الشوریٰ:۴۱)
رسولِ اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بطورِ خاص عفو و درگزر کا عظیم خلق عطا فرمایا تھا۔ اسی لیے قرآنِ کریم میں آپؐ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: ’’پس اللہ کی رحمت کے باعث تو ان کے لیے نرم ہو گیا، اور اگر تو تُندخو اور سخت دل ہوتا تو وہ تیرے گرد سے منتشر ہو جاتے۔ پس انہیں معاف کر، ان کے لیے بخشش کی دعا کر اور معاملات میں ان سے مشورہ کیا کر۔‘‘(آلِ عمران: ۱۶۰) یہی عظیم وصف سابقہ صحائف میں بھی بیان ہوا ہے، جہاں آنے والے نبی کی یہ علامت ذکر کی گئی کہ وہ سخت مزاج اور تُند خو نہیں ہوگا۔
نبی کریم ﷺ کی مکی زندگی کے تیرہ سال اس حقیقت پر روشن گواہ ہیں کہ آپؐ نے کفارِ مکہ کی شدید ترین اذیتوں، مظالم اور تکالیف کو نہایت صبر، استقامت اور تحمل کے ساتھ برداشت کیا اور اپنے صحابۂ کرامؓ کو بھی صبر اور عفو کی تلقین فرمائی۔ جب اللہ تعالیٰ نے ہجرت کا حکم دیا تو آپﷺ اور آپؐ کے جانثار صحابہؓ نے اپنے آبائی وطن، گھربار، جائیدادوں، کاروبار اور حتیٰ کہ اپنے عزیز و اقارب کو بھی اللہ کی رضا کے لیے چھوڑ دیا اور ایک اجنبی سرزمین میں جا بسے۔ لیکن وہاں بھی دشمن نے چین سے جینے نہ دیا۔ چنانچہ جب ظلم اپنی انتہا کو پہنچ گیا تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں نے دین کے دفاع اور مظلوموں کی حفاظت کے لیے ہتھیار اٹھائے۔ ان دفاعی جنگوں کے دوران بھی دنیا نے رسولِ اکرم ﷺ کی بے مثال رحمت، شفقت، انسان دوستی اور حسنِ سلوک کے ایسے مناظر دیکھے جن کی مثال تاریخِ جنگ میں نہیں ملتی۔
غزوۂ بدر اور اسیرانِ مکہ سے حسن سلوک
بدر کا دن تاریخِ اسلام میں یوم الفرقان کے نام سے معروف ہے۔ یہ پہلا موقع تھا جب رسول اللہ ﷺ اپنے جانی دشمنوں کے سامنے میدانِ جنگ میں صحیح معنوں میں آمنے سامنے ہوئے۔ مسلمانوں کے دلوں میں مکہ کے تیرہ سالہ مظالم تازہ تھے۔ حضرت بلالؓ کی اذیتیں، حضرت یاسرؓ اور حضرت سمیہؓ کی شہادت، اور رسول اللہ ﷺ کی مسلسل توہین و ایذا کسی کے ذہن سے محو نہ ہوئی تھی۔ جنگ میں مسلمانوں نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ ستر کے قریب دشمن کے آدمی ہلاک ہوئے اور تقریباً اتنے ہی قید ہوئے۔
دشمن قیدی اپنے انجام سے خوف زدہ تھے، مگر رحمتِ عالمﷺ نے ان کے ساتھ ایسا کریمانہ سلوک فرمایا کہ وہ حیران رہ گئے۔ آپؐ نے انہیں صحابۂ کرامؓ میں تقسیم کرتے ہوئے ہدایت فرمائی کہ ان کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے۔ چنانچہ صحابہؓ انہیں عمدہ کھانا کھلاتے اور خود کھجوروں پر گزارا کر لیتے تھے۔
اسیرانِ بدر کے بارے میں حضرت عمرؓ کی رائے تھی کہ تمام دشمنانِ اسلام کو قتل کر دیا جائے، جبکہ حضرت ابوبکرؓ نے فدیہ لے کر رہا کرنے کا مشورہ دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کی رائے کو پسند فرمایا اور انتقام لینے کی بجائے چار چار ہزار درہم فدیہ لے کر قیدیوں کو آزاد کر دیا۔ جو فدیہ ادا نہ کر سکتے تھے انہیں بلا معاوضہ چھوڑ دیا گیا، جبکہ لکھنا جاننے والے قیدیوں کا فدیہ یہ مقرر ہوا کہ وہ انصار کے دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھائیں۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، مجلد ۲)
غزوۂ بنو مصطلق کے قیدیوں سے حسنِ سلوک
غزوۂ بنو مصطلق ۵ ہجری میں پیش آیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائی اور بڑی تعداد میں قیدی ہاتھ آئے۔ ان میں قبیلے کے سردار کی بیٹی حضرت جویریہ بنت الحارثؓ بھی شامل تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں آزاد فرما کر نکاح کا پیغام دیا، جسے انہوں نے قبول کر لیا۔ جب صحابۂکرامؓ کو اس مبارک رشتے کی اطلاع ملی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ کے سسرال والے ہمارے غلام کیسے رہ سکتے ہیں؟ چنانچہ تمام صحابہؓ نے اپنے حصے کے تمام قیدی بلا معاوضہ آزاد کر دیے۔ اس عظیم حسنِ سلوک نے بنو مصطلق کے دل جیت لیے اور پورا قبیلہ اسلام لے آیا۔
یہود کی بار بار عہد شکنی کے باوجود عفو و درگزر
ہجرت کے بعد رسول اللہ ﷺ نے یہودی قبائل کے ساتھ میثاقِ مدینہ کے ذریعے انہیں مذہبی آزادی اور شہری حقوق عطا کرتے ہوئے ایک مشترکہ ریاست قائم کی۔ تاہم بدر کے بعد بنو قینقاع نے عہد شکنی اور سازشوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یہود سے امن اور صلح کی تمام کوششیں مسترد ہونے پر رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ فرمایا۔ شکست کے بعد، عرب کے مروّجہ دستور کے برعکس، آپﷺ نے عبداللہ بن اُبی کے اصرار پر ان کی جانیں بخش دیں اور انہیں اپنے اموال کے ساتھ مدینہ چھوڑنے کی اجازت دے دی، حالانکہ اس جرم کی سزا اس وقت کے عربی معاشرے اور یہودی شریعت دونوں میں موت سمجھی جاتی تھی۔(السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، مجلد ۲)
بعد ازاں بنو نضیر نے رسول اللہ ﷺ کے قتل کی سازش کی۔ محاصرے کے بعد جب انہوں نے ہتھیار ڈال دیے تو آپؐ نے انتقام لینے کے بجائے ان کی جانیں بخش دیں اور دس دن کی مہلت دی کہ اپنا سامان لے کر جہاں چاہیں چلے جائیں۔ روایات کے مطابق وہ اپنے گھروں کی شہتیریں تک نکال کر مدینہ سے روانہ ہوئے۔(صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب حدیث بنی النضیر)
مدینہ سے نکلنے کے بعد بھی یہود نے خیبر میں جمع ہو کر مسلمانوں کے خلاف سازشیں جاری رکھیں اور غزوۂ خندق میں مشرکین کی مالی اور عسکری مدد کی۔ اس کے باوجود جب خیبر فتح ہوا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں جلا وطن کرنے کی بجائے ان کی درخواست پر آدھی پیداوار کے عوض زمینیں انہی کے پاس رہنے دیں تاکہ ان کا معاشی نظام برقرار رہے۔( صحیح البخاری، کتاب المزارعۃ) یہ عفو و درگزر اور رحم کا ایسا بے مثال نمونہ تھا جس کی مثال فاتحین کی تاریخ میں بہت کم ملتی ہے۔
غزوہ حنین /بنوہوازن کے قیدی
غزوۂ حنین میں بنو ہوازن کو شکست ہوئی اور مسلمانوں کے ہاتھ بڑی تعداد میں قیدی اور مالِ غنیمت آیا۔ تاہم رحمتِ عالم ﷺ نے فتح کے فوراً بعد مال تقسیم کرنے کی بجائے اس امید پر انتظار فرمایا کہ شاید بنو ہوازن توبہ کر کےمعافی کے خواستگار ہوں۔ سترہ روز تک وہ نہ آئے تو مالِ غنیمت اور قیدی تقسیم کر دیے گئے۔
تقسیم کے اگلے ہی دن بنو ہوازن کا وفد حاضر ہوا اور عرض کیایارسول اللہؐ! ہم توبہ کر کے ایمان لے آئے ہیں، مہربانی فرما کر ہمارے قیدی اور مال ہمیں واپس کر دیں۔ بعض روایات کے مطابق آپؐ کی رضاعی والدہ حضرت حلیمہؓ کے خاندان کے افراد نے بھی رحم کی درخواست کی۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تقسیم سے پہلے فیصلہ میرے اختیار میں تھا، لیکن اب قیدی اور مال صحابہؓ کی ملکیت بن چکے ہیں، اس لیے ان کی رضا ضروری ہے۔ پھر آپؐ نے انہیں اختیار دیا کہ یا قیدی واپس لے لیں یا مال، کیونکہ دونوں ایک ساتھ واپس کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے قیدیوں کو واپس لینے کو ترجیح دی۔
رسول اللہ ﷺ نے صحابۂ کرامؓ کو جمع کر کے فرمایا: ’’یہ تمہارے بھائی توبہ کر کے ایمان لے آئے ہیں۔ اگر تم خوشی سے اپنے قیدی واپس کر دو تو یہ تمہارا احسان ہوگا، اور اگر کوئی اپنے حق سے دستبردار نہ ہونا چاہے تو میں آئندہ مالِ غنیمت سے اس کا بدل ادا کر دوں گا۔یہ سنتے ہی تمام صحابہؓ نے بخوشی اپنے حصے کے قیدی واپس کر دیے، اور اس طرح تقریباً چھ ہزار قیدی، غلام اور لونڈیاں بلا معاوضہ آزاد کر دی گئیں۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب المغازی)
رسول اللہﷺ کی ذات پر حملوں کے باوجود عفو و درگزر کے بے مثال نمونے
دوسروں پر ہونے والے مظالم کو معاف کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے، لیکن اپنی ذات پر ہونے والی زیادتیوں سے درگزر کرنا اعلیٰ ترین اخلاق کی علامت ہے۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے کسی سے انتقام نہیں لیا۔ (صحیح مسلم، کتاب الفضائل)آپؐ کو نعوذ باللہ قتل کرنے کے لیے متعدد حملے کیے گئے، مگر آپؐ نے ذاتی انتقام کی بجائے ہمیشہ عفو و درگزر کا راستہ اختیار فرمایا۔
غزوۂ خیبر کے بعد ایک یہودی عورت نے آپؐ کو زہرآلود گوشت پیش کیا۔ جرم ثابت ہونے کے باوجود آپؐ نے اسے معاف فرما دیا۔ صحابہؓ نے اسے قتل کرنے کی اجازت چاہی تو آپؐ نے فرمایا: نہیں۔(بخاری، کتاب الہبۃ، باب قبول الہدیۃ من المشرکین)
غزوۂ ذات الرقاع میں غورث بن حارث نے آپؐ کو سوتے ہوئے قتل کرنے کی غرض سے تلوار کھینچ لی، لیکن اللہ تعالیٰ کے رعب سے اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔ اس موقع پر بھی رسول اللہ ﷺ نے اسے معاف کر دیا۔( صحیح البخاری، کتاب المغازی، باب غزوة ذات الرقاع)
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ قریش کے اسّی مسلح افراد جبلِ تنعیم سے اتر کر نمازِ فجر کے وقت رسول اللہ ﷺ اور صحابہؓ پر اچانک حملہ کرنے آئے تاکہ آپؐ کو شہید کر دیں، مگر وہ گرفتار کر لیے گئے۔ اس کے باوجود رسول اللہ ﷺ نے سب کو معاف کر کے آزاد فرما دیا۔ (سنن الترمذی، کتاب تفسیر القرآن، باب من سورۃ الفتح)
ایک مرتبہ ایک یہودی نے سلام کی بجائے ’’اَلسَّامُ عَلَیْکَ‘‘ (تم پر ہلاکت ہو) کہا۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ہمیں اجازت دی جائے کہ اسے قتل کر دیں، مگر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:نہیں، اسے قتل نہ کرو۔(بخاری، کتاب استتابۃ المرتدین، باب اذا عرض الذمی او غیرہ بسب النبی)
فتح مکہ۔ فاتحانہ اقتدار میں عفو و کرم کی درخشاں مثال
فتح مکہ اسلامی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے۔ ۸ ہجری میں رسول اللہ ﷺ اسی سرزمین میں انتہائی عاجزی کے ساتھ داخل ہوئے، جہاں سے کبھی آپ کو اپنی جان بچاتے ہوئے ہجرت کرنا پڑی تھی۔ آپؐ دس ہزار جان نثار صحابہ کے ساتھ اس قدر انکساری سے شہر میں داخل ہوئے کہ آپؐ کا سر مبارک اونٹ کے کوہان سے لگ رہا تھا۔ قریش اپنے مظالم کو یاد کر کے خوف زدہ کھڑے تھے اور رحمت کی امید لگائے ہوئے تھے۔ یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے آپؐ کے راستوں میں کانٹے بچھائے، پتھر برسائے، اونٹ کی اوجھڑیاں آپؐ کی پشت مبارک پر رکھیں، قتل کی سازشیں کیں اور برسوں آپؐ کو ایذا پہنچاتے رہے۔ آج وہی سب آپؐ کے سامنے مجرم بنے کھڑے تھے۔ مگر رحمتِ عالم ﷺ نے انتقام لینے کے بجائے فرمایا:’’لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ، اِذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ‘‘آج تم پر کوئی گرفت نہیں، جاؤ تم سب آزاد ہو۔
تاریخِ انسانیت میں کسی فاتح کی زندگی میں عفو و درگزر کی اس سے عظیم مثال نہیں ملتی۔ آج تک کوئی فاتح اپنے بدترین دشمنوں کے ساتھ ایسا کریمانہ سلوک نہ کر سکا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن ہشام، مجلد ۲)
حضرت حمزہؓ کے قاتل کو معاف فرمانا
حضرت حمزہؓ رسول اللہ ﷺ کے نہایت محبوب چچا تھے۔ غزوۂ اُحد میں ان کی المناک شہادت نے آپؐ کو گہرے رنج میں مبتلا کر دیا۔ فتح مکہ کے بعد ان کا قاتل وحشی طائف چلا گیا۔بعد میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی کا طلبگار ہوا۔ آپؐ نے صرف اتنا دریافت فرمایا: ’’کیا تم ہی نے حمزہؓ کو قتل کیا تھا؟‘‘ اس کے اقرار پر آپؐ کی آنکھیں نم ہو گئیں، مگر اس کے باوجود اسے معاف فرما دیا اور صرف یہ فرمایا کہ اگر ممکن ہو تو میرے سامنے کم آیا کرو تاکہ مجھے حمزہؓ کی یاد نہ آئے۔ (بخاری، کتاب المغازی، باب قتل حمزۃ بن عبدالمطلبؓ)
ابو جہل کے بیٹے عکرمہ کو امان
ابو جہل اور اس کا بیٹا عکرمہ اسلام کے بدترین دشمنوں میں شمار ہوتے تھے۔ فتح مکہ کے بعد عکرمہ اپنے جرائم کے خوف سے یمن بھاگ گیا۔ اس کی اہلیہ اسلام قبول کر چکی تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے لیے امان حاصل کی اور یمن جاکر اسے واپس آنے پر آمادہ کیا۔ حاضر ہو کر عکرمہ نے دریافت کیا:کیا واقعی آپ نے مجھے امان دی ہے؟آپﷺ نے فرمایا:ہاں! تمہیں امان دی گئی ہے۔یہ سن کر عکرمہ نے فوراً کلمۂ شہادت پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔ (السیرۃ الحلبیۃ، لعلامہ ابوالفرج نورالدین، ذکر فتح مکہ شرفہا اللّٰہ تعالیٰ)
اپنی بیٹی کے قاتل کو بھی معاف فرما دیا
ہبار بن الاسود نے ہجرت کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینبؓ پر نیزے سے حملہ کیا تھا، جس سے وہ اونٹ سے گر گئیں، ان کا حمل ضائع ہو گیا اور بعد میں یہی زخم ان کی وفات کا سبب بنا۔ فتح مکہ کے وقت وہ فرار ہو گیا، مگر بعد میں مدینہ آ کر معافی کا طالب ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف اسے معاف فرمایا بلکہ ارشاد فرمایا: ہبار! میں نے تجھے معاف کیا۔ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تجھے اسلام قبول کرنے کی توفیق دی۔(سیرت الحلبیہ،جلد ۳)
ہند کے ساتھ حسنِ سلوک
ابوسفیان کی اہلیہ ہند بنت عتبہ اسلام کی صفِ اوّل کی دشمن تھی۔ غزوۂ اُحد میں اسی نے حضرت حمزہؓ کی میت کی بےحرمتی کی تھی۔ فتح مکہ کے بعد وہ نقاب اوڑھ کر عورتوں کی بیعت میں حاضر ہوئی۔ گفتگو کے دوران رسول اللہ ﷺ نے اسے پہچان لیا اور فرمایا:کیا تم ابوسفیان کی بیوی ہند ہو؟ اس نے عرض کیا: یارسول اللہؐ! اب میں دل سے مسلمان ہو چکی ہوں، میرے گذشتہ جرائم سے درگزر فرمائیں۔آپؐ نے اسے معاف فرما دیا۔ آپﷺ کے عفو و کرم نے اس کے دل کی دنیا بدل دی اور وہ اسلام کی مخلص خادمہ بن گئی۔
فتح مکہ کے موقع پر معاف کیے جانے والے یہ چند افراد محض مثال ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے عفو و کرم سے سینکڑوں دل بدل گئے اور بے شمار سابقہ دشمن اسلام کے وفادار سپاہی بن گئے۔ ان میں ابوسفیان، صفوان بن امیّہ، حویرث بن نقیذ، سہیل بن عمرو، عبد اللہ بن ابی سرح اور زہیر جیسے افراد شامل تھے۔ ثمامہ بن اثال جیسے سرکش سرداروں کو بھی آپﷺ نے معاف فرمایا، منافقین کے سردار کے ساتھ بھی آخر دم تک حلم، شفقت اور درگزر کا معاملہ فرمایا۔
دفاعی جنگوں کے دوران رسول خدا ﷺ کے اعلیٰ ترین اخلاق اور عفو و درگزر کے بے مثل نمونوں کی تعریف اسلام کے اشد ترین مخالف بھی کرنے پر مجبور ہیں۔مشہور مستشرق Sir William Muir لکھتا ہے: اپنی طاقت کے عروج پر بھی آپ منصف اور معتدل رہے۔ آپ اپنے اُن دشمنوں سے نرمی میں ذرہ بھی کمی نہ کرتے جو آپ کے دعاوی کو بخوشی قبول کرلیتے۔ مکہ والوں کی طویل اور سرکش ایذارسانیاں اس بات پر منتج ہونی چاہئے تھیں کہ فاتح مکہ اپنے غیظ و غضب میں آگ اور خون کی ہولی کھیلتا۔ لیکن محمد(ﷺ) نے چند مجرموں کے علاوہ عام معافی کا اعلان کردیا اور ماضی کی تمام تلخ یادوں کو یکسر بھلا دیا۔ ان کے تمام استہزا، گستاخیوں اور ظلم وستم کے باوجود آپ نے اپنے سخت ترین مخالفین سے بھی احسان کا سلوک کیا۔ مدینہ میں عبداللہ اور دیگر منحرف ساتھی جو کہ سالہا سال سے آپ کے منصوبوں میں روکیں ڈالتے اور آ پ کی حاکمیت میں مزاحم ہوتے رہے، ان سے درگزر کرنا بھی ایک روشن مثال ہے۔ اسی طرح وہ نرمی جو آپ نے اُن قبائل سے برتی جو آپ کے سامنے سرنگوں تھے۔ اور قبل ازیں جو فتوحات میں بھی شدید مخالف رہے تھے، ان سے بھی نرمی کا سلوک فرمایا۔ (The Life of Mahomet by William Muir, Vol.IV: pp.305-307)
حسینان عالم ہوئے شرمگیں
جو دیکھا وہ حسن اور وہ نورِ جبیں
پھر اس پر وہ اخلاق اکمل تریں
کہ دشمن بھی کہنے لگے آفریں
زہے خلقِ کامل، زہے حُسنِ تام
علیک الصلوۃ علیک السلام
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں اور دوسرے لوگوں پر بکلی فتح پاکر اور ان کو اپنی تلوار کے نیچے دیکھ کر پھر ان کا گناہ بخش دیا۔ اور صرف انہیں چند لوگوں کو سزا دی جن کو سزا دینے کے لئے حضرت احدیّت کی طرف سے قطعی حکم وارد ہوچکا تھا۔ اور بجز ان ازلی ملعونوں کے ہریک دشمن کا گناہ بخش دیا اور فتح پاکر سب کو لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ (یوسف: ۹۳) کہا۔ اور اس عفو تقصیر کی وجہ سے کہ جو مخالفوں کی نظر میں ایک امر محال معلوم ہوتا تھا اور اپنی شرارتوں پر نظر کرنے سے وہ اپنے تئیں اپنے مخالف کے ہاتھ میں دیکھ کر مقتول خیال کرتے تھے۔ ہزاروں انسانوں نے ایک ساعت میں دین اسلام قبول کرلیا۔(براہین احمدیہ۔ حصہ سوم۔ روحانی خزائن جلد۱صفحہ۲۸۶-۲۸۷ بقیہ حاشیہ نمبر ۱۱)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: حکایات ایثار و قربانی




