جماعت احمدیہ سویڈن کے تینتیسویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا کامیاب انعقاد
٭… ’’شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں‘‘ کے مرکزی موضوع پر منعقدہ جلسہ سالانہ میں علمی و روحانی موضوعات پر علمائے کرام کی تقاریر
٭… ۸۴۱؍احباب کی شمولیت ٭… جلسہ سالانہ آن لائن براہ راست سٹریم بھی کیا گیا جس سے ۳۰۰۰؍سے زائد افراد نے استفادہ کیا
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ سویڈن کا ۳۳واں جلسہ سالانہ ’’شرائط بیعت اور احمدی کی ذمہ داریاں‘‘ کے مرکزی موضوع پر ۱۳؍و۱۴؍جون ۲۰۲۶ء کو مسجد ناصر، گوتھن برگ میں کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا۔ جلسہ سے قبل ہی ملک کے مختلف حصوں سے مہمانوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور بعض احباب تقریباً ۱۵۰۰؍کلومیٹر کا سفر طے کرکے جلسہ میں شرکت کے لیے پہنچے۔ حضرت مسیح موعودؑ کے مہمانوں کی خدمت کے لیے قیام و طعام سمیت دیگر تمام انتظامات بخوبی کیے گئے تھے۔

جلسہ کا آغاز پرچم کشائی کی تقریب سے ہوا۔ مکرم مامون الرشید صاحب امیر جماعت احمدیہ سویڈن اور مکرم آغا یحییٰ خان صاحب مبلغ انچارج سویڈن نے بالترتیب لوائے احمدیت اور سویڈش پرچم لہرایا جبکہ مکرم امیر صاحب نے اجتماعی دعا کروائی۔
سوا گیارہ بجے جلسہ کا پہلا اجلاس زیر صدارت مکرم امیر صاحب منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد مکرم امیر صاحب نے اپنے افتتاحی کلمات میں جلسہ سالانہ کے مقاصد اور جلسہ میں شامل ہونے والوں کے لیے حضرت مسیح موعودؑ کی دعاؤں کے حوالے سے بیان کیا۔ بعد ازاں درج ذیل تین تقاریر ہوئیں: ’’آنحضورﷺ پر درود بھیجنے میں مداومت اختیار کرنا‘‘ از مکرم احتشام مقصود ورک صاحب، ’’نمازوں کی پابندی اور تہجد میں شغف‘‘ از مکرم نجیب الرشید صاحب مبلغ سلسلہ گاتھن برگ اور ’’دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا‘‘ از مکرم امیر صاحب۔ یہ اجلاس دوپہرایک بجے ختم ہوا۔
اڑھائی بجے نماز ظہر و عصر کی ادائیگی اور طعام کے وقفہ کے بعد پہلے روز کا دوسرا اجلاس منعقد ہوا جو حسب روایت مکمل طور پر سویڈش زبان میں تھا۔ اس اجلاس کی صدارت مکرم کاشف محمود ورک صاحب مبلغ سلسلہ مالمو نے کی اور اس اجلاس میں متعدد سویڈش مہمانوں نے بھی شرکت کی۔ تلاوت قرآن کریم اور نظم کے بعد مکرم منیر نیازی صاحب سیکرٹری امور خارجیہ نے جماعت احمدیہ کا تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم رضوان الٰہی صاحب صدر مجلس خدام الاحمدیہ سویڈن نے ’’ذکر حبیب۔ حضرت مسیح موعودؑ کے اخلاق فاضلہ‘‘ اور مکرم صدر اجلاس نے ’’جدید دنیا میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ وفادار رہنا‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔ بعد ازاں مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے جماعت کی مہمان نوازی اور خدمت انسانیت کی کوششوں کو سراہا اور ’محبت سب کے لیے، نفرت کسی سے نہیں‘ کے پیغام کو عصر حاضر کی اہم ضرورت قرار دیا۔

جلسہ کے پہلے دن دوسرے اجلاس کے وقت مستورات کا الگ اجلاس محترمہ صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ سویڈن کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں مستورات کی طرف سے درج ذیل عناوین پر تقاریر کی گئیں: بدرسومات کے خلاف جہاد، تکبر ایک روحانی موت، قرآن شریف کے سامنے سر تسلیم خم کرنا۔ اجلاس کی اختتامی تقریر محترم صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ نے کی۔ اجلاس میں مختلف ریجنز کی طرف سے ترانے بھی پیش کیے گئے۔ اس اجلاس میں سویڈن کی پہلی احمدی خاتون محترمہ ڈاکڑ قانتہ صادقہ صاحبہ جنہیں ۱۹۶۷ء میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے ہاتھ پر بیعت کی توفیق ملی تھی نے بھی شمولیت کی۔ آپ نے اپنے اسلام احمدیت میں شمولیت کے سفر کے بارے میں بتایا۔ آپ کو سویڈش زبان میں ترجمہ قرآن کی سعادت بھی نصیب ہوئی ہے۔
شام ساڑھے چھ بجے سوال و جواب کی ایک نشست بھی منعقد ہوئی جس میں مبلغین سلسلہ نے احباب جماعت کے مختلف دینی اور تربیتی سوالات کے جواب دیے۔ نماز مغرب و عشاء اور عشائیہ کے بعد پہلے روز کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔
دوسرے روز کا آغاز نماز فجر، ناشتے اور احباب جماعت کی جلسہ گاہ آمد سے ہوا۔ تیسرا اجلاس صبح دس بجے مکرم مبلغ انچارج صاحب سویڈن کی زیر صدارت تلاوت قرآن کریم و ترجمہ اور نظم سے شروع ہوا۔ بعدازاں ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’گناہ سے نجات کا ذریعہ۔ یقین (معرفت الٰہی)‘‘ از ڈاکٹر تحسین اسلم صاحب، ’’باہمی اخوت و محبت، جماعت میں اتحاد اور حفظ مراتب‘‘ از مکرم انور رشید صاحب صدر مجلس انصار اللہ سویڈن اور ’’انفاق فی سبیل اللہ کی اہمیت و برکات‘‘ از خاکسار (مبلغ سلسلہ لولیو)۔
ظہرانہ اور نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد دو بجے جلسہ کا چوتھا اور اختتامی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ سویڈن نے کی۔ تلاوت قرآن کریم و ترجمہ اور نظم کے بعد ان موضوعات پر تقاریر ہوئیںـ ’’اطاعت اور وفاداری: خلافت کی اطاعت کو برقرار رکھنا‘‘ از مکرم وسیم احمد ظفر صاحب، ’’شناخت اور مقصد: نوجوان احمدیوں کے لیے بیعت کی اہمیت‘‘ از مکرم مصعب رشید صاحب مبلغ سلسلہ سٹاک ہوم اور ’’نفسانی جوشوں سے بچنا (دوسری شرط بیعت)‘‘ از مکرم مبلغ انچارج صاحب سویڈن۔
اختتامی اجلاس کے آخر پر مکرم امیر صاحب نے شاملین جلسہ، مہمان مقررین، کارکنان اور جلسہ انتظامیہ کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں دعا کے ساتھ جلسہ سالانہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ مکرم امیر صاحب نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے امسال ۸۴۱؍احباب و خواتین نے جلسہ میں شرکت کی۔ نیز حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی ازراہ شفقت اجازت سے جلسہ کی لائیو سٹریمنگ بھی کی گئی اور وقفوں کے دوران خصوصی سٹوڈیو پروگرام پیش کیے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ۳۰۰۰؍سے زائد افراد نے آن لائن جلسہ کی کارروائی سے استفادہ کیا۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک
(رپورٹ: رضوان احمد افضل۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)
مزید پڑھیں: لجنہ اماء اللہ و ناصرات الاحمدیہ آسٹریلیا کا چالیسواںنیشنل اجتماع ۲۰۲۶ء




