مولود کے دن جلسہ کرنا، کوئی تقریب منعقد کرنا منع نہیں ہے
حضرت مسیح موعود ؑ فرماتے ہیں کہ’’ہمیں خود خواہش رہتی ہے کہ کوئی خوش الحان حافظ ہو تو قرآن سنیں۔‘‘ یہ ہے اتباع آنحضرت ﷺکی۔ پھر لکھتے ہیں کہ ’’آنحضرت ﷺ نے ہر ایک کام کا نمونہ دکھلا دیا ہے وہ ہمیں کرنا چاہیے۔ سچے مومن کے واسطے کافی ہے کہ دیکھ لیوے کہ یہ کام آنحضرت ﷺ نے کیا ہے کہ نہیں؟ اگر نہیں کیا تو کرنے کا حکم دیا ہے یا نہیں؟ حضرت ابراہیم ؑ آپؐ کے جدّا مجد تھے اور قابل ِتعظیم تھے۔ کیا وجہ کہ آپ ﷺ نے ان کا مولود نہ کروایا؟‘‘(ملفوظات جلد سوم صفحہ 162)
آنحضرت ﷺ نے ان کی پیدائش کا دن نہیں منایا۔
بہرحال خلاصہ یہ کہ مولود کے دن جلسہ کرنا، کوئی تقریب منعقد کرنا منع نہیں ہے بشرطیکہ اس میں کسی بھی قسم کی بدعات نہ ہوں۔ آنحضرت ﷺ کی سیرت بیان کی جائے۔ اور اس قسم کا(پروگرام)صرف یہی نہیں کہ سال میں ایک دن ہو۔ محبوب کی سیرت جب بیان کرنی ہے تو پھر سارا سال ہی مختلف وقتوں میں جلسے ہو سکتے ہیں اور کرنے چاہئیں اور یہی جماعت احمدیہ کا تعامل رہا ہے، اور یہی جماعت کرتی ہے۔ اس لیے یہ کسی خاص دن کی مناسبت سے نہیں، لیکن اگر کوئی خاص دن مقرر کر بھی لیا جائے اور اس پہ جلسے کیے جائیں اور آنحضرت ﷺ کی سیرت بیان کی جائے بلکہ ہمیشہ سیرت بیان کی جاتی ہے ۔ اگر اس طرح پورے ملک میں اور پوری دنیا میں ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ ہے کہ بدعات شامل نہیں ہونی چاہئیں ۔کسی قسم کے ایسے خیالات نہیں آنے چاہئیں کہ اس مجلس سے ہم نے جوبرکتیں پالی ہیں ان کے بعد ہمیں کوئی اور نیکیاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیساکہ بعضوں کے خیال ہوتے ہیں۔ تو نہ افراط ہو نہ تفریط ہو۔
(خطبہ جمعہ فرمودہ ۱۳؍مارچ ۲۰۰۹ء ۔مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل ۳؍اپریل ۲۰۰۹ء)
مزید پڑھیں: آنحضرت ﷺ کی بلند شان اور مقام ارفع کا ذکر



