یورپ (رپورٹس)

جماعت احمدیہ سوئٹزرلینڈ کا ۴۴واں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء

٭… جلسہ سالانہ کا مرکزی موضوع دعوت الی اللہ تھا۔ اسی کی مناسبت سے جلسہ سالانہ کے لیے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ کا خصوصی پیغام موصول ہوا
٭…۱۳۱؍مہمانوں سمیت کُل ۱۰۰۲؍افراد شامل ہوئے

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ سوئٹزرلینڈ کا ۴۴واں جلسہ سالانہ مورخہ ۳ تا ۵؍جولائی ۲۰۲۶ء نورمسجد ویگولٹینگن کے احاطہ میں لگائی گئی مارکیوں اور نورہال میں کامیابی سے منعقد ہوا۔ جلسہ سالانہ کا مرکزی موضوع ’’دعوت الی اللہ‘‘ تھا۔ مکرم شاہد اقبال صاحب افسر جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ نے بتایا کہ جلسہ سالانہ کی تیاری کے سلسلے میں مورخہ ۲۷؍جون سے شروع ہونے والا وقارِ عمل پورا ہفتہ جاری رہا۔ کچھ لوگوں نے وقفِ عارضی کرکے وقار عمل میں حصہ لیا۔ مورخہ ۶؍جولائی کو وائنڈ اپ مکمل ہوا۔ کُل ۷۴؍افراد نے وقار عمل میں خدمت کی توفیق پائی۔

جلسہ کے ایام میں باجماعت نمازِ تہجد وفجر کے بعد درسِ قرآنِ کریم ہوتا رہا۔

جماعتی بُک سٹال، تصویری نمائش اور کھانے پینے کا سٹال لگایا گیا۔ جماعتی روایات کے مطابق لنگر خانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اہتمام بھی رہا۔ جلسہ کی کارروائی کی مختلف زبانوں میں رواں تراجم کی سہولت بھی ہیڈ فونز پر دی گئی۔

جلسہ سالانہ میں ۱۳۱؍مہمانوں سمیت۱۰۰۲؍افراد شامل ہوئے۔ یوٹیوب چینل پر لائیو سٹریمنگ بھی کی گئی جس سے ۶۸۰۰؍افراد مستفید ہوئے۔ جلسہ سالانہ کے انعقاد سے قبل ایک مقامی اخبار Kreuzlingen24.ch نے جلسے کے حوالے سے خبر شائع کی۔ اسی طرح ایک دوسرے مقامی اخبار Thurgauer Zeitungکی ایک صحافی نے جلسے میں شرکت کی اور بعد ازاں جلسہ کے بارے میں ایک مثبت رپورٹ شائع کی، جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد تک جماعت کا تعارف اور اس کا پُرامن پیغام پہنچا۔ الحمدللہ

جلسہ سالانہ سے ایک روز قبل شام کو انتظامات کا معائنہ اور ناظمینِ جلسہ سے مہمانان خصوصی کو متعارف کروایا گیا۔

پہلا روز: پہلے روز نماز جمعہ و عصر کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا براہ ِراست خطبہ جمعہ اجتماعی طور پر دیکھا اور سنا گیا۔

سہ پہر چار بج کر پچیس منٹ پر پرچم کشائی کی تقریب ہوئی جس میں لوائے احمدیت مرکزی نما ئندہ(مکرم مبارک احمد تنویر صاحب مبلغ انچارج جرمنی) جبکہ سوئٹزرلینڈ کا پرچم مکرم ولید طارق تارنتسر صاحب امیر جماعت سوئٹزرلینڈ نے لہرایا۔ پھر مرکزی نمائندہ نے دُعا کروائی۔

ساڑھے چار بجے جلسہ سالانہ کے پہلے اجلاس کی کارروائی کا آغاز محترم امیر صاحب کی صدارت میں مکرم ماہد مسعود مجاہد صاحب کی تلاوت قرآن کریم و جرمن ترجمہ سے ہوا،جبکہ اردو ترجمہ مکرم خواجہ مبارک منور صاحب نے پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم ارباز احمد خان صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پاکیزہ منظوم کلام خوش الحانی سے پڑھا۔

منظوم کلام کےبعد مکرم مبلغ انچارج صاحب سوئٹزرلینڈ نے جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے ارسال کردہ بابرکت پیغام جو کہ انگریزی زبان میں تھا پڑھا۔ محترم امیر صاحب نے حضورانور کے پیغام کا جرمن ترجمہ پڑھا۔

حضور انور کے پیغام کے بعد مرکزی نمائندہ نے افتتاحی تقریر کی اور دُعا کروائی۔

بعد ازاں مکرم ارسلان احمد صاحب مربی سلسلہ نے ’’قرآنی پیشگوئیاں‘‘ کے موضوع پر جرمن زبان میں تقریر کی۔ اس کے بعد مکرم مبارک ادریس صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے عربی قصیدہ کے چند اشعار خوش الحانی سے پڑھے جس کاجرمن و اُردو ترجمہ مکرم خرم جمال کھوکھر صاحب نے پیش کیا۔ مکرم بشارت احمد انیس صاحب صدر مجلس انصاراللہ سوئٹزرلینڈ نے ’’آنحضرتﷺ کا اندازِ تبلیغ‘‘ کے موضوع پر اُردو زبان میں تقریر کی۔ چند اعلانات کے بعد جلسے کے پہلے روز کی کارروائی اپنے اختتام کو پہنچی۔

دوسرا روز: جلسہ سالانہ کے دوسرے روز کے پہلے اجلاس کی کارروائی کا آغاز صبح پونے گیارہ بجے مکرم فائز احمد خان صاحب نائب مبلغ انچارج و صدر خدام الاحمدیہ سوئٹزرلینڈ کی صدارت میں ڈاکٹر حافظ طاہر ادریس صاحب کی تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ تلاوت کا جرمن ترجمہ مکرم طارق ریاض گورائیہ صاحب جبکہ اُردو ترجمہ مکرم شکیل احمد صاحب نے پیش کیا۔ بعد ازاں مکرم وجیہ اللہ ملک صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پاکیزہ منظوم کلام خوش الحانی سے پڑھا۔

اجلاس کی پہلی تقریر مکرم عطاء الواسع طارق صاحب مبلغ انچارج و نائب صدر جماعتِ احمدیہ اٹلی نے ’’اسمعوا صوت السماء جاء المسیح جاء المسیح‘‘ کے موضوع پر اُردو زبان میں کی۔ پھر مکرم زاہد اسماعیل بٹ صاحب نائب صدر صفِ دوم مجلس انصار اللہ سوئٹزرلینڈ نے ’’حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بنی نوع انسان سے ہمدردی‘‘ کے موضوع پر جرمن زبان میں تقریر کی۔ بعد ازاں مکرم باسل احمد رحمٰن صاحب نے مکرم ہدایت اللہ ہبش صاحب مرحوم آف جرمنی کا جرمن کلام خوش الحانی سے پڑھا۔

اجلاس کی آخری تقریر مکرم عطاءالحق صاحب نے ’’اسلام پر ہونے والے اعتراضات اور اُن کے جوابات‘‘ کے موضوع پر جرمن زبان میں کی۔

بعد ازاں ایک سوئس مہمان مارینہ بروک مَن کو پریذیڈنٹ ایس پے کنٹون تھورگاؤ اور ممبر آف کنٹون پارلیمنٹ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے وقت میں کہ جب دنیا میں تنازعات اور غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو رہا ہے جماعت احمدیہ کی طرف سے مختلف لوگوں کو ایک جگہ جمع کر کے پُر امن، باوقار اور ہمدرد معاشرے کے قیام کے لیے کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔ اعلانات کے بعد وقفہ برائے طعام اور نماز ظہر و عصر ہوا۔

اجلاس مستورات: جلسہ سالانہ کے دوسرے روز مستورات کے جلسہ گاہ میں پونے گیارہ بجے اجلاسِ مستورات کی کارروائی کا آغاز محترمہ ڈاکٹر زیتون قاضی صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ سوئٹزرلینڈ کی صدارت میں مکرمہ عظمیٰ کمال صاحبہ کی تلاوت ِقرآن کریم مع اُردو و جرمن ترجمہ سے ہوا۔ پھر مکرمہ قرۃ العین باجوہ صاحبہ نے حضرت مصلح موعودؓ کا پاکیزہ منظوم کلام خوش الحانی سے پڑھا۔

مکرمہ فارینہ نعمان مبشر صاحبہ سیکرٹری مال لجنہ اماءاللہ سوئٹزرلینڈ نے ’’عصرِ حاضر میں افرادِ جماعت کو جماعت سے جوڑنے کی ضرورت اور ذرائع‘‘ کے موضوع پر اُردو زبان میں تقریر کی۔ مکرمہ ثمرہ خان صاحبہ سیکرٹری وقفِ جدید و تحریکِ جدید لجنہ اماء اللہ سوئٹزرلینڈنے ’’جدید دَور میں ڈپریشن: اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حل‘‘ کے موضوع پر جرمن زبان میں تقریر کی۔ پھر مکرمہ فزا احمد صاحبہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاکیزہ منظوم کلام سے چند اشعار خوش الحانی سے پڑھے۔ مکرمہ سمیرا چودھری صاحبہ سیکرٹری تربیت لجنہ اماءاللہ سوئٹزرلینڈنے ’’خود احتسابی، نفس اور خواہشات کے درمیان جنگ‘‘ کے موضوع پر اُردو زبان میں تقریر کی۔ آخری تقریر مکرمہ صالحہ چودھری صاحبہ نائب معاونہ صدر وواقفاتِ نو نے ’’خدا پر ایمان اور اس کی الٰہی رحمت کا پیغام، نجات کا واحد راستہ‘‘ کے موضوع پر جرمن زبان میں کی۔ لجنہ اماء اللہ کے شعبہ ترجمانی نے تمام تقاریر کا جرمن اور انگلش رواں ترجمہ کیا۔

تقاریر کے بعد محترمہ صدر صاحبہ لجنہ اماء اللہ نے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والی طالبات میں اعزازی اسناد و انعامات تقسیم کیے۔ اس موقع پر سوئٹزرلینڈ کی پہلی حافظہ عزیزہ عیشا خان صاحبہ کو صدر صاحبہ نے قرآن کریم کا دَور ختم کرنے پر میڈل دیا۔

آخر میں لجنہ و ناصرات نے مختلف زبانوں (اُردو، عربی،فرنچ) میں ترانے پیش کیے۔ چند اعلانات کے بعد قریباً ایک بجے مستورات کا اجلاس اپنے اختتام کو پہنچا۔

تیسرا اجلاس: وقفے کے بعد ساڑھے تین بجے جلسہ سالانہ کے تیسرے اجلاس کی کارروائی کا آغاز مکرم مبلغ انچارج صاحب جماعتِ احمدیہ اٹلی کی صدارت میں مکرم قاسم احمدخاں صاحب کی تلاوتِ قرآنِ کریم و جرمن ترجمہ سے ہوا۔ تلاوت کا اُردو ترجمہ مکرم محمد بشیر صاحب نے پیش کیا۔ مکرم رانا سکندر فاروق صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کا پاکیزہ منظوم کلام خوش الحانی سے پڑھا۔

اس اجلاس کی پہلی تقریر مکرم فہیم احمد خاں صاحب مربی سلسلہ نے ’’فَفِرُّوْا اِلَی اللّٰہِ‘‘ کے موضوع پر جرمن زبان میں کی۔ جرمن تقریر کے بعد مکرم مبلغ انچارج صاحب سوئٹزرلینڈ نے ’’نماز اطمینان قلب کا ذریعہ‘‘ کے موضوع پر اُردو زبان میں تقریر کی۔ بعد ازاں مکرم عظیم شاہ کمال صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پاکیزہ منظوم کلام خوش الحانی سے پڑھا۔ اس کے بعد مکرم عبدالوہاب طیّب صاحب مربی سلسلہ و نیشنل سیکرٹری تربیت نے ’’قبولیتِ احمدیت کے ایمان افروز واقعات‘‘کے موضوع پر اُردو زبان میں تقریر کی۔ اس اجلاس کی آخری تقریر مکرم طارق ہبش صاحب استاد جامعہ احمدیہ جرمنی نے ’’ڈیجیٹل دَور میں تکمیل اشاعت ِہدایت‘‘ کے موضوع پر جرمن زبان میں کی۔

تیسرا اور آخری روز: چوتھے اجلاس کی کارروائی کا آغاز صبح پونے گیارہ بجے مکرم مبلغ انچارج صاحب سوئٹزرلینڈکی صدارت میں مکرم وسیم شاہ صاحب کی تلاوتِ قرآنِ کریم و اُردو ترجمہ سے ہوا۔ تلاوت کا جرمن ترجمہ مکرم محمد احمد اوپلیگر صاحب نے پیش کیا۔ بعد ازاں مکرم شیراز شریف صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پاکیزہ منظوم کلام خوش الحانی سے پڑھا۔ منظوم کلام کےبعد مکرم صدر صاحب مجلس خدام الاحمدیہ سوئٹزرلینڈ نے ’’حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعوتِ الی اللہ کے متعلق نصائح اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ کے موضوع پر اُردو زبان میں تقریر کی۔

بعد ازاں مکرم شرجیل خالد صاحب مربی سلسلہ جماعت احمدیہ جرمنی نے ’’خلافت کے زیرِ سایہ عالمگیر وحدت کا قیام‘‘ کے موضوع پر جرمن زبان میں تقریر کی۔ اس کے بعد مکرم منیر احمد کھوکھر صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پاکیزہ منظوم کلام خوش الحانی سے پڑھا۔ آخر پر مکرم امیر صاحب سوئٹزرلینڈ نے ’’سوئٹزرلینڈ کے باشندوں کو اسلام کی ضرورت کیوں ہے؟‘‘کے موضوع پر جرمن زبان میں تقریر کی۔ اس کے بعد وقفہ برائے طعام اور نماز ظہر و عصر ہوا۔

پانچواں اور اختتامی اجلاس: کارروائی کا آغاز مرکزی نمائندہ کی صدارت میں مکرم ارسلان احمد صاحب مربی سلسلہ کی تلاوتِ قرآنِ کریم مع اُردو ترجمہ سے ہوا۔تلاوت کا جرمن ترجمہ مکرم جری اللہ ملک صاحب نے پیش کیا۔ بعد ازاں مکرم عمیر احمد صاحب نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا پاکیزہ منظوم کلام خوش الحانی سے پڑھا۔

مکرم قاسم احمد خاں صاحب نیشنل سیکرٹری تعلیم نے تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طلبہ کے نام پڑھے اور صدر اجلاس نے ان میں اعزازی اسناد اور میڈلز تقسیم کیے۔ پھر مکرم عبدالوہاب طیب صاحب مربی سلسلہ نے جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ کے موقع پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی طرف سے موصولہ بابرکت پیغام پڑھ کر سنایا۔

مرکزی نمائندہ نے جلسہ کی اختتامی تقریر کے آغاز میں حضورِ انور ایدہ اللہ تعالیٰ کے انگریزی پیغام کا اُردو ترجمہ پیش کیا۔ آپ نے اپنی تقریر میں اپنی زندگیوں میں توحید کے قیام، تعلق باللہ، تقویٰ کے اعلیٰ معیاروں کی طرف سفر اور سورت فاتحہ میں بیان کی گئی صفاتِ الہٰیہ کو اپناتے ہوئے انسانی رشتوں اور تعلقات کو منشاء الٰہی کے مطابق نبھانے کی طرف توجہ دلائی۔ آخر پر دعا سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ کامیابی سے اپنے اختتام کوپہنچا۔

(رپورٹ:صباح الدین بٹ۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

٭…٭…٭

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا جلسہ سالانہ سوئٹزرلینڈ ۲۰۲۶ء کے موقع پر بصیرت افروز پیغام (اردو مفہوم)

پیارے احبابِ جماعت احمدیہ سوئٹزرلینڈ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے اس بات پر بہت خوشی ہے کہ آپ ۳، ۴ اور ۵؍جولائی ۲۰۲۶ء کو اپنے سالانہ جلسہ سالانہ کا انعقاد ’’دعوتِ الی اللہ‘‘ یعنی ’’لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلانا‘‘کے موضوع پر کر رہے ہیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کے اس جلسے کو عظیم کامیابی سے نوازے اور تمام شرکا بےشمار برکات حاصل کریں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت میں شامل ہونے کے بعد، جلسہ سالانہ ایک ایسا منفرد اور بابرکت اجتماع ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں عطا فرمایا ہے۔ یہ جماعت کے افراد کو موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا مزید قرب حاصل کریں، اپنے دینی علم میں اضافہ کریں، اپنی زندگیوں کی اصلاح کریں، دنیاوی مشاغل اور غفلتوں سے اپنے آپ کو محفوظ رکھیں، محبت، اخوّت اور بھائی چارے کے رشتوں کو مضبوط بنائیں، اور دنیا بھر میں اسلام کا پیغام پھیلانے کے اپنے عہد کی تجدید کریں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اس جلسہ کو معمولی انسانی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلاءِ کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لیے قومیں طیارکی ہیں۔ جو عنقریب اس میں آملیں گی۔ کیونکہ یہ اس قادر کا فعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔‘‘(اشتہار ۷؍دسمبر ۱۸۹۲ء، مجموعہ اشتہارات جلد ۱ صفحہ ۳۶۱، ایڈیشن ۲۰۱۹ء)

پس حضرت مسیح موعودؑ نے ہمیں اسلام کی سچی تعلیمات کو پوری دنیا میں پھیلانے کی نہایت اہم ذمہ داری سونپی ہے۔ اگر ہر احمدی مرد و عورت اپنی اس ذمہ داری کی اہمیت کو پوری طرح سمجھے، اس کا صحیح ادراک حاصل کرے، اور اخلاص کے ساتھ اپنے فرائض ادا کرے، تو اسلام کی تعلیمات کی حقیقی تصویر اور خوبصورتی بے شمار لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔

یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے خود آنحضرت ﷺ کو بھی اسلام کا پیغام پہنچانے کا حکم فرمایا تھا اور آپ ﷺ نے اپنی پوری زندگی نہایت وفاداری، اخلاص اور مسلسل کوشش کے ساتھ اس فریضۂ تبلیغ کو انجام دیا۔ جیسا کہ ہم قرآنِ کریم میں پڑھتے ہیں:یٰۤاَیُّہَا الرَّسُوۡلُ بَلِّغۡ مَاۤ اُنۡزِلَ اِلَیۡکَ مِنۡ رَّبِّکَ ؕ وَاِنۡ لَّمۡ تَفۡعَلۡ فَمَا بَلَّغۡتَ رِسَالَتَہٗ ؕ وَاللّٰہُ یَعۡصِمُکَ مِنَ النَّاسِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یَہۡدِی الۡقَوۡمَ الۡکٰفِرِیۡنَ۔اے رسول! اچھی طرح پہنچا دے جو تیرے ربّ کی طرف سے تیری طرف اتارا گیا ہے۔ اور اگر تُو نے ایسا نہ کیا تو گویا تُو نے اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا۔ اور اللہ تجھے لوگوں سے بچائے گا۔ یقیناً اللہ کافر قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ (المائدہ:۶۸)

میں افرادِ جماعت کو تبلیغ کے حوالے سے اُن کی ذمہ داریوں کی مسلسل یاددہانی کرواتا رہا ہوں۔ ایک گذشتہ خطبہ میں مَیں نے احبابِ جماعت کو یوں یاددہانی کروائی تھی کہ ہمارے سے اگر پوچھا جائے گا تو صرف اتنا جو اللہ تعالیٰ نے ہم سے پوچھنا ہے کہ کیا ہم نے پیغام پہنچایا؟ یا پھر کیوں ہم نے اپنا تبلیغ کا فریضہ ادا نہیں کیا؟ اور کیوں اللہ تعالیٰ کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے نہیں کیا؟…تمہارا کام تبلیغ کرنا ہے۔ پیغام پہنچانا ہے۔ حق کا پیغام دنیا کے ہر شخص تک پہنچانا ہے۔ اسلام کی خوبیوں اور خوبصورت تعلیم کو دوسروں پر ظاہر کرنا ہے۔ وہ کئے جاؤ۔ (خطبہ جمعہ فرمودہ ۸؍ستمبر۲۰۱۷ء)

میں نے جماعت کے افراد کو یہ بھی نصیحت کی تھی کہ اسلام کی سچائی کو پھیلائیں اور اس کے پُر امن پیغام کو دنیا کے کونے کونے تک پھیلائیں۔ پس لوگ قبول کریں یا نہ کریں، ہمیں اپنے عزم میں کبھی بھی سست نہیں ہونا چاہيے تا کہ دنیا کے ہر ملک کے ہرشخص تک اسلام کا پیغام پہنچ جائے۔ یہی وہ کام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمارے سپرد فرمایا ہے۔ (اختتامی خطاب جلسہ سالانہ بیلجیم ۲۰۱۸ء)

لہٰذا آپ کو چاہیے کہ ہر احمدی کو ایک فعال داعی الی اللہ بننے کی ترغیب دیں اور سوئٹزرلینڈ کے تمام لوگوں تک اسلام احمدیت کا پُرامن، محبت بھرا اور حقیقی پیغام پہنچانے کے لیے ایک دانشمندانہ اور جامع حکمتِ عملی ترتیب دیں۔ اللہ تعالیٰ اس عظیم اور بابرکت کوشش میں آپ کو ہر طرح کی کامیابی عطا فرمائے۔

میں آپ کو تلقین کرتا ہوں کہ خلافتِ احمدیہ کے بابرکت اور الٰہی نظام کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔ یاد رکھیں کہ جس محبت، وفاداری اور اطاعت کے رشتے کا عہد ہم نے حضرت مسیح موعودؑ کی بیعت کرتے وقت کیا تھا، اسی عزم، اخلاص اور وابستگی کے ساتھ ہمیں وقت کے خلیفہ سے بھی اپنا تعلق قائم رکھنا چاہیے، کیونکہ خلافتِ احمدیہ حضرت مسیح موعودؑ کی روحانی جانشین ہے۔

آپ کو چاہیے کہ باقاعدگی سے ایم ٹی اے دیکھیں اور اپنے اہلِ خانہ، خصوصاً اپنے بچوں کو بھی اس کی ترغیب دیں۔ بالخصوص میرے خطباتِ جمعہ باقاعدگی سے سنیں اور دیگر اجتماعات اور مواقع پر میری نصائح اور ارشادات کو بھی توجہ سے سنیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔

آخر پر میری اللہ سے دعا ہےکہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس جلسہ سے بھرپور فائدہ اٹھانے اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اللہ تعالیٰ آپ کی زندگیوں میں ایسا حقیقی انقلاب پیدا فرمائے جو تقویٰ، نیک اعمال، اعلیٰ اخلاق، اور اسلام اور انسانیت کی خدمت میں پہلے سے بڑھ کر ترقی کا ذریعہ بنے۔ اللہ آپ سب پر اپنا فضل کرے۔

مزید پڑھیں: لکسمبرگ میں تبلیغ ڈے کا کامیاب انعقاد

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button