خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ مذاکرات پیر کی سہ پہر شروع ہوئے۔ صحافیوں کے سوال پر انہوں نے معاہدے کے لیے کسی حتمی مہلت کی تصدیق بھی نہیں کی۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جنگ نہیں بلکہ معاہدہ چاہتے ہیں کیونکہ جنگ میں بے شمار جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران پر ایک متوقع بڑا حملہ روک دیا گیا تاکہ آبنائے ہرمز کی بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق مذاکرات میں پیش رفت کی امید برقرار رہے۔
٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر ممالک نے آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔ انہوں نے ایران پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد معاہدہ کرے۔ ٹرمپ کے مطابق ان کی حکومت کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے، خواہ اس کے لیے وقتی طور پر ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑے۔ آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی توانائی منڈیاں متاثر ہوئی ہیں، جبکہ مہنگائی اور معاشی دباؤ نے تنازعے کے جلد حل کی ضرورت مزید بڑھا دی ہے۔
٭…ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان اور پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے خطے کی تازہ صورتِ حال اور سفارتی کوششوں پر تبادلۂ خیال کیا۔ ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات آخری مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ یہ مذاکرات ایک نئے بحری راستے پر اتفاقِ رائے کے لیے ہیں، نہ کہ آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کے فیصلے کے لیے۔ دوسری جانب اسرائیل نے امریکہ کے ساتھ قریبی سیکیورٹی اور انٹیلیجنس تعاون جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے۔
٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر مجوزہ نئے فوجی حملے فی الحال موخر کر دیے گئے ہیں کیونکہ ان کے بقول ایک سفارتی معاہدے کی جانب پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے روکنے کا فیصلہ اس شرط سے مشروط ہے کہ معاہدہ جلد طے پا جائے۔ ٹرمپ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھولنا اور ایران کے جوہری خطرے کا خاتمہ شامل ہے۔ دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا کہ کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا، جبکہ سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔
٭…ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ تہران نے امریکہ سے نئے حملے نہ کرنے کی درخواست کی تھی۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی مہر کے مطابق فوجی حکام نے ٹرمپ کے بیان کو ‘‘ایک اور جھوٹ’’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی مسلح افواج ہائی الرٹ ہیں اور ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ادھر فارس نیوز کے مطابق ایرانی مذاکراتی ٹیم کے قریبی ذرائع نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھے گا، آبنائے ہرمز بند رہے گی۔ ایران کا مؤقف ہے کہ وہ کسی بھی نئی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
٭…روسی دارالحکومت ماسکو کے میئر سرگئی سوبیانن نے ایک اطالوی ریسٹورنٹ کے باہر ہونے والے بم دھماکے کو ‘‘سفاک دہشت گردانہ حملہ’’ قرار دیا ہے۔ اس دھماکے میں تین افراد ہلاک جبکہ کم از کم ۲۱؍ زخمی ہوئے۔ روسی میڈیا کے مطابق مبینہ خاتون حملہ آور دھماکا خیز مواد ریسٹورنٹ کے اندر لے جانا چاہتی تھی، مگر سکیورٹی اہلکاروں نے اسے روک دیا، جس کے فوراً بعد دھماکا ہو گیا۔ حکام نے تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ابھی تک کسی گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی اور نہ ہی روسی حکام نے اس واقعے کو یوکرین جنگ سے جوڑا ہے۔
٭…پاکستان میں براڈ پیک پر برفانی تودے کی زد میں آ کر جاں بحق ہونے والے معروف نیپالی نژاد برطانوی کوہ پیما نرمل پرجا کی لاش امدادی ٹیموں نے تقریباً ۵,۷۰۰؍میٹر کی بلندی سے برآمد کر لی ہے۔ الپائن کلب آف پاکستان کے مطابق اب تک سات کوہ پیماؤں کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ مزید تین کی لاشوں کا بھی سراغ لگا لیا گیا ہے۔ تاہم دشوار گزار پہاڑی علاقے اور خراب موسم کے باعث لاشوں کو نیچے منتقل کرنا انتہائی مشکل مرحلہ ہے۔ نرمل پرجا دس رکنی بین الاقوامی مہم کی قیادت کر رہے تھے، جو براڈ پیک سر کرنے کے دوران برفانی تودے کی زد میں آ گئی تھی۔
٭…یورپ کے مختلف ممالک میں جنگلاتی آگ کا سلسلہ جاری ہے، تاہم صورتحال ہر ملک میں مختلف ہے۔ یونان میں تیز ہواؤں کے باعث آگ ایتھنز کے نواحی علاقوں تک پھیل گئی ہے، جس پر مزید آبادیوں کو خالی کرایا جا رہا ہے۔ تقریباً ۵۰۰؍ فائر فائٹرز اور ۲۳؍ طیارے آگ بجھانے میں مصروف ہیں۔ فرانس میں اگرچہ ۴۲۰؍ مربع کلومیٹر رقبہ جل چکا ہے اور لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے، لیکن آگ مزید نہیں پھیل رہی۔ سپین میں بھی کئی مقامات پر آگ پر جزوی قابو پا لیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی، بڑھتے درجۂ حرارت اور خشک سالی جنگلاتی آگ کے بڑھتے ہوئے خطرات کی بڑی وجوہات ہیں۔




