ہنسنامنع ہے!
بھلا آدمی
ایک امیر آدمی کا مکان سڑک کے کنارے پر کھڑا تھا۔ اس نے اپنےنئے نوکر سے کہا کہ مکان خوب صاف کرنا۔ مگر کوڑا کرکٹ بھلے آدمی کو دیکھ کر ڈالنا۔
نئے نوکر نے جب ایک راہگیر دو شالہ اوڑھ کر نکلا تو تمام کوڑا اس پر ڈال دیا ۔ وہ ناراض ہو کر مالک مکان کے پاس گیا۔ اور نوکر کی شکایت کی ۔
مالک نوکر پر خفا ہوا ۔ تب نوکر نے کہا ۔ آپ نے ہی تو کہا تھا کہ بھلے آدمی کو دیکھ کر پھینکنا ۔ اب ان سے زیادہ بھلا آدمی کون ہو سکتا ہے؟
خوف
ایک دفعہ چلتی ٹیکسی میں پیچھے بیٹھے ہوئے مسافر نے ڈرائیور سے کچھ پوچھنے کے لیے اُس کا کندھا تھپتھپایا۔
ڈرائیور زور سے چیخا اور گاڑی کا کنٹرول کھوبیٹھا۔ گاڑی فٹ پاتھ پہ چڑھ گئی۔
ایک دکان سے چند فٹ کے فاصلے پہ جب گاڑی رکی تو دونوں کی جان میں جان آئی۔ مسافر نے کہا، معاف کیجیے آپ کا کندھا دباتے ہوئے مجھے احساس نہیں تھا کہ آپ اتناڈر جائیں گے۔ میںمعذرت خواہ ہوں۔
ڈرائیور نے کہا ایسامت کہیے بلکہ معافی مجھے مانگنی چاہیے۔ پچھلے بیس سال سے ڈرائیونگ کررہا ہوں۔ لیکن یہ واقعہ پہلی بار ہوا ہے۔ میں بہت محتاط ڈرائیور ہوں۔ میں نے نوکری بدلی ہے۔ اصل میں آج ٹیکسی چلانے کا میرا پہلا دن ہے۔ اس سے پہلے میں 22 سال تک مُردہ خانے کی وین چلاتا رہا ہوں۔
کنجوس
ایک پروفیسر ریسٹورنٹ میں گیا اور صرف روٹی آرڈر کی۔
ویٹر نے روٹی لاکر پروفیسر کو دی اورپروفیسر خالی پلیٹ میں روٹی ڈبو کر کھانے لگا۔
ویٹر حیران ہو کر : سر! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ پلیٹ تو خالی ہے؟
پروفيسر : میں ریاضی کا استاد ہوں اور میں نے دال فرض (suppose) کی ہوئی ہے۔
سائیکل
سلیم نے پرانی موٹرسائیکل کو دس دس اور پچاس پچاس کے نوٹوں سے سجایا ہوا تھا۔
کلیم نے پوچھا:یہ کیا کر رہے ہو؟
کلیم: مجھے مکینک نے کہا تھا کہ اس پر پیسے لگاؤ یہ ٹھیک ہوجائےگی۔
چھینک
ریاض چھینک روکنے کے لیےطرح طرح کے منہ بنا رہا تھا۔
فیاض: بھائی آپ چھینک کیوں نہیں لیتے؟
ریاض نے کہا: بھائی میری بیوی نے کہا تھا کہ جب تمہیں چھینک آئے تو سمجھو کہ میں بلا رہی ہوں۔
فیاض: تو اِس میں پریشانی کی کیا بات ہے؟
ریاض: میری بیوی مر چکی ہے۔
٭…٭…٭
