جماعت احمدیہ ہالینڈ کے چوالیسویں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء کا کامیاب انعقاد
٭… ’’حضرت مسیح موعودؑ: انسانیت کے نجات دہندہ‘‘ کے مرکزی موضوع پر منعقدہ جلسہ سالانہ میں مختلف روحانی، علمی اور تربیتی موضوعات پر تقاریر کا اہتمام
٭… ڈچ و عربی زبان میں خصوصی اجلاس ٭… جلسہ سالانہ میں ۴۰۱۹؍احباب کی شمولیت
اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ ہالینڈ کو اپنا ۴۴واں جلسہ سالانہ ’’حضرت مسیح موعودؑ: انسانیت کے نجات دہندہ‘‘ کے مرکزی موضوع پر مورخہ یکم تا۳؍مئی ۲۰۲۶ء فیئرہاؤتن، نَن سپیٹ میں منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک
جلسہ سالانہ کا پہلا دن:مورخہ یکم مئی بروز جمعۃ المبارک صبح تقریباً ساڑھے نو بجے رجسٹریشن کا آغاز ہوا۔ ملک بھر سے احباب جماعت گاڑیوں اور ٹرینوں کے ذریعے اس بابرکت جلسہ میں شرکت کے لیے پہنچے۔ شاملین جلسہ میں ایک بڑی تعداد ان احباب کی بھی تھی جو حال ہی میں پاکستان سے ہالینڈ آئے ہیں۔

تقریباً ساڑھے گیارہ بجے مکرم ہبۃ النور فرحاخن صاحب امیر جماعت احمدیہ ہالینڈ نے مکرم نعیم احمد وڑائچ صاحب مبلغ انچارج اور مکرم چودھری مبشر احمد صاحب افسر جلسہ سالانہ کے ہمراہ جلسہ کے انتظامات کا جائزہ لیا۔ دوپہر بارہ بجے شاملین جلسہ کے لیے کھانے کا انتظام کیا گیا۔
جلسہ سالانہ کا باقاعدہ آغاز دوپہر ایک بجے پرچم کشائی کی تقریب سے ہوا۔ مکرم امیر صاحب نے لوائے احمدیت لہرایا جبکہ مبلغ انچارج صاحب نے قومی پرچم بلند کیا۔

بعد ازاں مبلغ انچارج صاحب نے نماز جمعہ اور نماز عصر پڑھائیں۔ اس کے بعد شاملین جلسہ نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا خطبہ جمعہ براہ راست جلسہ گاہ میں سنا۔
بعد ازاں احباب جماعت نے مختلف شعبہ جات کے سٹالز کا دورہ کیا جن میں شعبہ اشاعت کا بک سٹال، کھانے کے سٹالز، ہیومینٹی فرسٹ، انصار اللہ، شعبہ رشتہ ناطہ، شعبہ امور خارجہ اور دیگر شعبہ جات کے سٹالز شامل تھے۔
جلسہ کا پہلا اجلاس تقریباً چار بجے تلاوت قرآن کریم اور نظم سے شروع ہوا۔ بعد ازاں مکرم امیر صاحب نے اپنی تقریر میں ہالینڈ میں جماعت احمدیہ کی ترقیات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ہالینڈ کی پہلی مسجد، مسجد مبارک، کے قیام کو ستر سال مکمل ہوچکے ہیں جو لجنہ اماء اللہ کے چندوں سے تعمیر ہوئی تھی۔ آپ نے خلفائے کرام کے حوالے سے مختلف تاریخی پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی۔ اس کے بعد مبلغ انچارج صاحب نے ’’ہستیٔ باری تعالیٰ‘‘ کے موضوع پر تقریر کی۔

بعد ازاں ہالینڈ مسجد فنڈ کے حوالے سے احباب جماعت کو معلومات فراہم کی گئیں اور اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تلقین کی گئی۔ آخر پر اعلانات کیے گئے اور دعا کے ساتھ اجلاس کا اختتام ہوا۔
شام سات بجے شاملین جلسہ کی خدمت میں شام کا کھانا پیش کیا گیا۔
آٹھ بجے کے قریب شعبہ تبلیغ کے زیر اہتمام ایک تبلیغی پروگرام منعقد کیا گیا جس کا موضوع ’’قرآن کریم اور سائنس‘‘ تھا۔ اس موقع پر شعبہ تبلیغ کی طرف سے ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا۔ تقریباً ساڑھے آٹھ بجے شعبہ وقف نو کے زیر اہتمام ایک پروگرام منعقد ہوا جس میں وقف نو کی اہمیت اور اس کی ذمہ داریوں کے حوالے سے تقاریر کی گئیں۔ مبلغین سلسلہ نے اس موضوع پر حاضرین کو چند ایک نصائح کیں۔
نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی، چند ضروری اعلانات اور دعا کے ساتھ جلسہ کے پہلے دن کا اختتام ہوا۔
جلسہ سالانہ کا دوسرا دن:جلسہ سالانہ ہالینڈ کے دوسرے دن کا آغاز نماز تہجد، فجر اور درس سے ہوا اور نو بجے ناشتہ پیش کیا گیا۔
اجلاس کی کارروائی صبح گیارہ بجے مکرم حامد کریم محمود صاحب مربی سلسلہ کی زیرصدارت تلاوت قرآن کریم اور نظم سے شروع ہوئی۔ بعد ازاں ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں:’’موجودہ دور میں ہستیٔ باری تعالیٰ کا ثبوت‘‘ از مکرم عطاء القیوم عارف صاحب نیشنل سیکرٹری تربیت، ’’مالی قربانی کی اہمیت‘‘ از خاکسار (مبلغ سلسلہ) اور ایک نظم کے بعد ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کے ثبوت‘‘ از مکرم مرتاض احمد صاحب۔آخر پر اعلانات کیے گئے اور اجلاس کا اختتام ہوا۔
دوپہر ایک بجے شاملین جلسہ کے لیے کھانے کا انتظام کیا گیا۔بعد ازاں دوپہر دو بجے شعبہ تبلیغ کے زیر اہتمام ایک نمائش کا انعقاد کیا گیا۔ اس موقع پر ’’اسلام کا مستقبل‘‘ کے عنوان سے ایک پریزنٹیشن بھی پیش کی گئی۔
اس کے بعد حاضرین جلسہ نے جامعہ احمدیہ یوکے کی گیارھویں سالانہ تقریب تقسیم اسناد میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا فارغ التحصیل ہونے والے مربیان سلسلہ سے خطاب براہ راست سنا جس کے بعد نماز نماز ظہر و عصر ادا کی گئیں۔
ڈچ اجلاس:نمازوں کے بعد ڈچ زبان میں ایک اجلاس منعقد ہوا۔ تلاوت قرآن کریم کے بعد مکرم امیر صاحب نے تمام مہمانوں کو خوش آمدید کہا اور جماعت احمدیہ کا تعارف پیش کیا۔ اس کے بعد مکرم طاہر اوفرفور صاحب نے ’’امن، محبت اور عدل کے فروغ‘‘ پر، مکرم مومن فان ستین صاحب نے ’’اسلام امن کا مذہب ہے‘‘ پر اور مکرم عبد الحق کمپئر صاحب نے ’’تشدد اور انتہا پسندی کا انکار‘‘ کے موضوعات پر تقاریر کیں۔ مہمانان کرام کے اظہار تاثرات کے بعد ان کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا گیا۔
اس کے بعد عربی بولنے والے احباب کے لیے عربی زبان میں ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ مکرم ایمن اودے صاحب نے اس موقع پر جماعت احمدیہ کا تعارف پیش کیا اور مہمانان کی خدمت میں عشائیہ پیش کیا گیا۔
رات ساڑھے آٹھ بجے ایک سیمینار منعقد ہوا جس میں شعبہ تعلیم و تربیت اور صنعت و تجارت نے اپنے اپنے شعبہ جات کے حوالے سے تعارف اور رپورٹس پیش کیں۔ ساڑھے نو بجے نماز مغرب و عشاء کی ادائیگی کے بعد چند ضروری اعلانات کے ساتھ دوسرے دن کی کارروائی اختتام پذیر ہوئی۔
پروگرام جلسہ گاہ مستورات: مکرمہ امۃ القیوم مظفر صاحبہ صدر لجنہ اماءاللہ ہالینڈ تحریر کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جلسہ سالانہ ہالینڈ کے دوسرے روز مستورات کو اپنا علیحدہ اجلاس منعقد کرنے کی توفیق ملی۔
اجلاس مستورات کا آغاز مکرمہ بشریٰ حمید صاحبہ سابقہ صدر لجنہ اماءاللہ کی زیر صدارت تلاوت قرآن کریم اور نظم سے ہوا۔ اس کے بعد ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا عفو و درگزر‘‘ از مکرمہ عطیہ ندیم صاحبہ سیکرٹری اشاعت، ’’صحبت صالحین کے ذرائع‘‘ از مکرمہ شمیم مظہر صاحبہ نائب صدر و نیشنل سیکرٹری تعلیم، حضرت مسیح موعودؑ کے ایک عربی قصیدہ کے بعد مکرمہ فوقیہ عرفان صاحبہ نے اپنی بیعت کے ایمان افروز واقعات ’’میرا احمدیت کا سفر‘‘ کے موضوع پر بیان کيے۔ صدر اجلاس نے ’’خلافت اور ہمارا عہد بیعت‘‘ کے موضوع پر اختتامی تقریر کی۔ دعا کے بعد لجنہ و ناصرات نےڈچ، اردو، پنجابی، عربی اور انگریزی زبانوں میں ترانے پیش کیے۔
تبلیغی نمائش:شعبہ تبلیغ کو جلسہ سالانہ کے مبارک ایام میں ’’انسان کی حقیقت: خدا کی تلاش‘‘ کے عنوان پر ایک معلوماتی خصوصی نمائش لگانے کی توفیق ملی اورنمائش کا دورہ کرنے والی مستورات کو اس بارے ویڈیو اور تصاویر کے ذریعے معلومات دی جاتی رہیں۔
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں دعائیہ خطوط:جلسہ سالانہ ہالینڈ کے سٹال پر۳۰۲؍ممبرات لجنہ اماءاللہ اور ۵۴؍ناصرات نے حضور انور کی خدمت میں دعائیہ خطوط تحریر کیے۔
ہالینڈ مسجد فنڈ: جلسہ سالانہ کے بابرکت موقع پر ممبرات نے حسب توفیق ہالینڈ مسجد فنڈ کے ليے زیورات اور نقد کی صورت میں عطیات پیش کرنے کی توفیق پائی۔ فالحمدللہ علیٰ ذالک
انٹیگریشن پروگرام: ہالینڈ میں نئی آنے والی ممبرات کی راہنمائی اور سہولت کے لیے جلسہ سالانہ کے دوسرے روز ایک معلوماتی پروگرام منعقد کیا گیا۔ اس میں یورپ میں رہتے ہوئے اپنی دینی و اخلاقی تربیت کے ساتھ بچوں کی تربیت، جماعت سے مضبوط تعلق، اسائلم کیمپس سے متعلق مسائل، اعلیٰ تعلیم کے حصول، وقت کے بہترین استعمال اور مقامی زبان سیکھنے کی اہمیت کی طرف توجہ دلائی گئی۔ آخر پر شرکاء کے سوالات کے جواب بھی دیے گئے۔
Meet & Greet:شعبہ رشتہ ناطہ کے تعاون سے ’میٹ اینڈ گریٹ‘ کا پروگرام جلسے کے دوسرے اور تیسرے دن ترتیب دیا گیا جس میں درخواست گزاروں کی ترجیحات اور معیار کے مطابق مناسب رشتوں کی تجاویز سے راہنمائی کی گئی۔
بازار و سٹالز: بیرونی احاطہ میں بازار لگایا گیا جہاں کھانے پینے کی اشیاء اور خواتین کے ملبوسات دستیاب تھے۔
جلسہ سالانہ کا تیسرا دن:جلسہ سالانہ کے تیسرے دن کا آغاز بھی نماز تہجد، نماز فجر اور درس حدیث سے ہوا۔ صبح نو بجے شاملین جلسہ کے لیے ناشتے کا انتظام کیا گیا۔
تیسرے دن کے پہلے اجلاس کا آغاز صبح گیارہ بجے مکرم چودھری مبشر احمد صاحب افسر جلسہ سالانہ کی زیر صدارت تلاوت قرآن کریم اور نظم سے ہوا۔ بعدازاں ان موضوعات پر تقاریر ہوئیں: ’’نماز کی فلاسفی‘‘ از مکرم سفیر احمد صدیقی صاحب (مبلغ سلسلہ)، ’’بچوں کی تربیت احسن رنگ میں کس طرح کی جا سکتی ہے؟‘‘ از مکرم سعید احمد جٹ صاحب (مبلغ سلسلہ) اور ’’خلافت اور ہماری ذمہ داریاں‘‘ از مکرم حامد کریم محمود صاحب (مبلغ سلسلہ)۔ چند اعلانات کے بعد اجلاس کا اختتام ہوا جس کے بعد دوپہر کے کھانے کا وقفہ ہوا جس دوران شاملین جلسہ نے مختلف شعبہ جات کے سٹالز کا دورہ کیا۔ تقریباً تین بجے دوپہر نماز ظہر و عصر ادا کی گئیں۔
اختتامی اجلاس:نمازوں کے بعد جلسہ سالانہ کے اختتامی اجلاس کا آغاز مکرم امیر صاحب کی زیر صدارت تلاوت قرآن کریم اور نظم سے ہوا۔ بعد ازاں مبلغ انچارج صاحب نے تقریر کی۔ اس کے بعد مکرم امیر صاحب نے اپنی اختتامی تقریر میں بچوں کی تربیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی، ہیومینٹی فرسٹ ہالینڈ کے منصوبہ جات کا ذکر کیا اور حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی دعاؤں کی تحریک کے حوالہ سے یاددہانی کروائی۔ آخر پر مبلغ انچارج صاحب نے اختتامی دعا کروائی۔
جلسہ پر مستورات کی حاضری ۱۳۹۷؍رہی جبکہ اس جلسہ سالانہ کی کل حاضری ۴۰۱۹؍رہی۔ الحمدللہ
جلسہ کے اختتام کے بعد خدام نے وقار عمل میں حصہ لیا۔
(رپورٹ:عدیل باسم۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)



