گلدستہ معلومات
حکایتِ مسیح الزماںؑ
ایک نیکی سے دوسری نیکی پیدا ہوتی ہے
حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ ’’ایک نیکی سے دوسری نیکی پیدا ہوتی ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ بد اعمال کا نتیجہ بد اعمال ہوتا ہے۔ اسلام کے لئے خدائے تعالیٰ کا قانون قدرت ہے کہ ایک نیکی سے دوسری نیکی پیدا ہو جاتی ہے۔ مجھے یاد آ یا تذکرۃ الاولیاء میں میں نے پڑھا تھا کہ ایک آتش پرست بڑھا نوے برس کی عمر کا تھا۔ اتفاقاً بارش کی جھڑی جو لگ گئی تو وہ اس جھڑی میں کو ٹھے پر چڑیوں کے لئے دانے ڈال رہا تھا۔ کسی بزرگ نے پاس سے کہا کہ ارے بڈھے! تو کیا کرتا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ بھائی چھ سات روز متواتر بارش ہوتی رہی ہے۔ چڑیوں کو دانہ ڈالتا ہوں۔ اس نے کہا کہ تو عبث حرکت کرتا ہے۔ تو کافر ہے۔ تجھے اجر کہاں؟ بوڑھے نے جواب دیا۔ مجھے اس کا اجر ضرور ملے گا۔ بزرگ صاحب فرماتے ہیں کہ میں حج کو گیا تو دور سے کیا دیکھتا ہوں کہ وہی بوڑھا طواف کر رہا ہے۔ اس کو دیکھ کر مجھے تعجب ہوا اور جب میں آگے بڑھا تو پہلے وہی بولا کیا میرا دانے ڈالنا ضائع گیا یا ان کا عوض ملا ؟
اب خیال کرنا چاہیے کہ اللہ تعالی نےایک کافر کی نیکی کا اجر بھی ضائع نہیں کیا تو کیا مسلمان کی نیکی کا اجر ضائع کردے گا ؟‘‘
(ملفوظات جلد اول صفحہ 63)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزاِس حکایت کو پیش کر کے فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کفر کی حالت میں بھی کی گئی نیکیوں کو کبھی ضائع نہیں کرتا اور ان کا بدلہ دیتا ہے…اللہ تعالیٰ چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو بھی ضائع نہیں کرتا۔ پس جن کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ میں احمدیت قبول کرنے کی توفیق ملی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت کی توفیق ملی، آپ سے براہ راست فیض پانے کی توفیق ملی اور یوں اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق عمل کرکے پہلوں یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے سے ملنے کی توفیق پائی اور اس طرح صحابہ کا درجہ پایا۔ پس یقیناً ان میں نیکی تھی، ان میں اسلام کی گرتی ہوئی حالت دیکھ کر ایک فکر کی کیفیت تھی۔ ان میں خدا تعالیٰ کا قرب پانے کی ایک تڑپ تھی۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی نیکیوں اور ان کی اس تڑپ کی کیفیت کو دیکھتے ہوئے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے، آپ پر ایمان لانے اور پھر اس ایمان پر مضبوط ہوتے چلے جانے کی توفیق عطا فرمائی۔‘‘
(خطبہ جمعہ 9؍ ستمبر 2005ء)
سوال جواب
ملاقات ناصرات الاحمدیہ
٭… ایک ناصرہ نے سوال کیا کہ اگر آپ مجھے صرف ایک نصیحت کریں کہ جو پوری زندگی میرے کام آئے تو وہ کیا ہوگی؟
اس پر حضورِ انور فرمایا کہ ایک نصیحت تو ایک لفظ میں نہیں ہو سکتی۔ نصیحتیں تو ایک سے آگے نئی نصیحت بن جائیں گی۔ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو نہ بھولو۔ تم یہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ مجھے ہر وقت دیکھ رہا ہے۔ مَیں اچھے کام کروں گی تواللہ تعالیٰ مجھے ریوارڈ دے گا۔ بُرے کام کروں گی تواللہ تعالیٰ مجھے سزا بھی دے سکتا ہے۔
اس لیے مَیں نے ہر کام کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لیےکرنا ہے۔ پھر تم نہ کبھی جھوٹ بولو گی اور نہ تم کسی سے لڑو گی۔ جب اللہ کو خوش کرنے کے لیے کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ نے بہت سارے حکم دیے ہیں کہ میری عبادت بھی کرو، میرے بندوں کے حق بھی ادا کرو اور غریبوں کا خیال بھی رکھو۔ اپنے بہن بھائیوں کا خیال بھی رکھو۔ بڑوں کا ادب لحاظ بھی رکھو۔ دین کا علم بھی حاصل کرو۔ یہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ شریف میں بہت ساری باتیں بتائی ہیں۔ چھ سات سو حکم ہیں۔
ایک چیز یاد رکھو کہ مَیں نے اللہ کو خوش کرنا ہے، تو باقی کام جو ہیں وہ بیچ میں ہی آ جائیں گے۔ ایک دفعہ کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا کہ کیا کام مَیں کروں اور کیا نہ کروں، تمہاری طرح ہی سوال کیا ہوگا، آپؑ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سب کچھ کرو۔ جب تم اللہ میاں سے ڈرو گی تو اللہ پر یقین ہوگا، تو تم کوئی غلط کام کرو گی ہی نہیں اور جب نہیں کرو گی توتمہاری زندگی اچھی ہو جائے گی۔
سکارف سے complex کا شکار نہیں ہونا
٭… ایک ناصرہ نے عرض کیا کہ میرے سکول میں کوئی بھی ایسی لڑکی نہیں جو سکارف لیتی ہو، بعض دفعہ انسان complex کا شکار ہو جاتا ہے۔ پیارے حضور! اس حالت میں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
اس پر حضورِ انور نے احساسِ کمتری سے بچتے ہوئے ایمان میں مضبوطی، خود اعتمادی اور اپنی اسلامی شناخت پر فخر کے ساتھ قائم رہنے کی تلقین کرتے ہوئےفرمایا کہcomplex کا شکار کیوں ہوتے ہو؟ مَیں نے پہلے بھی بتایا، تم کہو کہ ہم نے ساری دنیا کو اسلام کا پیغام پہنچانا ہے اور اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ ہمیں اپنے ایمان میں strong ہونا چاہیے۔
پھر حضورِ انور نے ہم عمروں کے دباؤ، تمسخر اورتضحیک سے مرعوب ہونے کے بجائے ثابت قدم رہنے اور جرأت و اعتماد کے ساتھ اپنا دینی موقف پیش کرنے کی ضروت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ اس لیےcomplexمیں آنے کی ضرورت ہی کوئی نہیں۔ اگر کوئی تمہیں bullyبھی کرتا ہے تو تم ان کو جواب دے دیا کرو کہ ہم تو ٹھیک ہیں اور تم غلط ہو۔ ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ احمدی مسلمان کو دنیا کو لیڈ کرنا ہے۔ دنیا سے ڈرنا نہیں ہے۔ اس لیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔
اسی طرح حضورِ انور نے سکارف کے حوالے سے حالات اور تعلیمی ضوابط کو ملحوظ رکھتے ہوئے حکمت اور اعتدال کے ساتھ عمل کرنے کی بابت راہنمائی فر مائی کہ سکول میں اگر تم سکارف نہیں بھی پہنتی، تو کوئی بات نہیں۔ باہر آ کے تم پہن لیا کرو۔ اگر سکول میں یونیفارم ہے، ٹیچر تمہیں کہتا ہے یا سکول کا ڈسپلن تمہیں کہتا ہے۔
اس پر ناصرہ نے عرض کیا کہ وہ سکول میں سکارف پہنتی ہے۔ یہ سماعت فرما کر حضورِ انور نے گذشتہ سلسلۂ کلام کو جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ اچھا! سکول میں اگر تمہیں منع ہو تو ٹھیک ہے، اُتارا بھی جا سکتا ہے۔
مزید برآں حضورِ انور نے حجاب اختیار کرنے کی صورت میں مضبوط کردار، حیا اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو مقدّم رکھنے کی اہمیت کو اُجاگر کرتے ہوئے فرمایا کہ لیکن اگر پہنتی ہو تو بڑی اچھی بات ہے، پھر تو تمہیں مضبوط کریکٹر ہونا چاہیے، پھر دکھاؤ کہ یہ میرا کریکٹر ہے۔ مَیں تم لوگوں کو خوش نہیں کررہی، بلکہ مَیں تو اپنے اللہ میاں کو خوش کر رہی ہوں، جو کہتا ہے کہ modest لباس ہونا چاہیے۔ تو modesty میراایک کریکٹر ہے۔ تم کہتی ہو کہ بُری بات ہے اور مَیں کہتی ہوں اچھی بات ہے۔
جواب کےآخر پر حضورِ انور نے حضرت مریم علیہا السلام کے پاکیزہ نمونے کو بطور دلیل پیش کرتے ہوئے حجاب کی اہمیت واضح کرنے اور مؤثر انداز میں اپنے موقف کا دفاع کرنے کی بابت تاکید فرمائی کہ کہو کہ تم لوگ عیسائی یہاں اب تو عیسائیت کو بھول رہے ہو، تو عیسائی مریم علیہا السلام کی تصویر دکھاتے ہیں، تو انہوں نے کیوں سر پر سکارف اوڑھا ہوا ہے؟ تم کہا کرو کہ تمہاری تو Maryجو ہے وہ تو خود سکارف پہن کے پھرتی ہے، تو مجھے کیا کہتی ہو؟ یہ کہہ دیں کہ مَیں تو اس کی نقل کر رہی ہوں، لیکن تم اس کی نقل نہیں کر رہی۔
(الفضل انٹرنیشنل 9؍جولائی 2026ء)
