یورپ (رپورٹس)

جماعت احمدیہ جرمنی کا پچاسواں جلسہ سالانہ ۲۰۲۶ء

٭… اسلام آباد ٹلفورڈ سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے براہ راست دو خطابات

٭… علمائے سلسلہ کی مختلف علمی اور تربیتی موضوعات پر تقاریر

اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ جرمنی کا پچاسواں جلسہ سالانہ مینڈِک (Mendig) شہر میں مورخہ ۴ تا ۶؍ستمبر ۲۰۲۶ء کو منعقد ہوا۔

تیاری: جماعت احمدیہ جرمنی کے جلسہ سالانہ کی تیاری کا کام مینڈِک میں یکم اگست سے شروع ہو گیا تھا۔ اس دوران جلسہ گاہ، ضیافت، رات بسر کرنے کے لیے بڑے پنڈالوں کے علاوہ دیگر ضروریات کے لیے ۱۲۰ خیمہ جات لگائے گئے۔ شاہراہیں بنانے کے علاوہ پندرہ ہزار کاروں کی پارکنگ کے لیے مختلف میدانوں میں بلاکس وائز تقسیم ، لنگر خانہ کی تیاری، پرائیوٹ خیمہ جات کے لیے باپردہ انتظام ،جگہ جگہ واش رومز کی تنصیب کے کام کو حتی الوسع ختم کر لیا گیا۔ جماعتوں میں یہ اطلاع بھجوادی گئی تھی کہ ۲۸؍اگست بروز جمعہ تک جلسہ گاہ کا بیرونی ڈھانچہ کھڑا کردیا جائے گا اور ۲۹؍اگست بروز ہفتہ صبح دس بجے جلسہ گاہ کے اندرونی کام کا آغاز ہو گا۔چنانچہ ۲۹؍اگست کو صبح سے ہی مسیح پاک اور خلافت کے عشاق جلسہ گاہ مینڈک پہنچنا شروع ہو گئے۔ ساڑھے دس بجے ایک دعائیہ تقریب کا آغاز مکرم شعیب عمر صاحب مربی سلسلہ و انچارج دفتر جلسہ سالانہ کی نظامت میں شروع ہوا۔ جنہوں نے مکرم عبداللہ واگس ہاؤزر صاحب نیشنل امیر جماعت جرمنی، مکرم مبارک احمد تنویر صاحب مبلغ انچارج، مکرم عطاءالعلیم صاحب افسر جلسہ سالانہ، مکرم فرید احمد خالد صاحب افسر جلسہ گاہ، مکرم امتیاز احمد شاہین صاحب افسر خدمت خلق و ممبران جلسہ سالانہ بورڈ کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔

تقریب کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا جس کے بعد مکرم امیر صاحب نے اپنی مختصر تقریر میں وقار عمل کی اہمیت بیان کی اور جلسہ کی کامیابی اور حضور انور کی صحت کے لیے دعا کی یاددہانی کروائی۔ بعدازاں افسر جلسہ سالانہ اور ناظم تیاری جلسہ سالانہ مکرم ندیم احمد صاحب نے باری باری اپنی گزارشات پیش کیں۔ مکرم امیر صاحب نے اجتماعی دعا کروائی۔دعا کے بعد حاضرین کی خدمت میں جن کی تعداد ۷۰۰ سے زائد تھی، ریفریشمنٹ پیش کی گئی۔

معائنہ انتظامات: حسب روایت جلسے سے ایک روز قبل جمعرات کی شام مکرم امیر صاحب جماعت جرمنی نے ممبران بورڈ جلسہ سالانہ کے ہمراہ جلسہ سالانہ کے انتظامات کا معائنہ کیا۔ جس کے بعد تقریباً شام ساڑھے آٹھ بجے، مرکزی پنڈال میں اجلاس کی کارروائی زیر صدارت مکرم امیر صاحب شروع ہوئی۔ مکرم فطین احمد صاحب مربی سلسلہ نے سورۃ النحل کی آیات ۴۲ تا ۴۵ کی تلاوت کی اور ان آیات کا اردووجرمن ترجمہ پیش کیا۔ جس کے بعد مکرم امیرصاحب نے اپنی مختصر تقریر میں کارکنان جلسہ سالانہ جنہوں نے گذشتہ دو ہفتے کے دوران بہت جذبے اور اخلاص کے ساتھ جلسہ گاہ کو تیار کرنے میں حصہ لیا، کا تہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

بعد ازاں حضورِانورایدہ اللہ تعالیٰ کے جلسہ سالانہ یوکے ۲۰۲۶ء پر کارکنان سے خطاب کے مختصر کلپ دکھائے گئے جس میں حضورایدہ اللہ تعالیٰ نے کارکنان سے توقعات کا اظہار کیا ہے کہ مہمانوں کی خدمت کس طور پر کرنی ہے۔ دعا ہوئی۔ بعدازاں نماز مغرب و عشاء ادا کی گئیں۔

پہلا روز

مورخہ ۴؍ستمبر بروز جمعۃالمبارک جماعت احمدیہ جرمنی کے پچاسویں جلسہ سالانہ کا پہلا روز تھا۔ رات بھر مہمانوں کی آمد کا سلسلہ وقفہ وقفہ سے جاری رہا جن کی مہمان نوازی کے لیے شعبہ ضیافت نے ایک خیمہ میں لنگر کا انتظام کر رکھا تھا۔ دن کا آغاز صبح چار بج کر پینتالیس منٹ پر نماز تہجد سے ہوا۔ نماز فجر کے بعد مکرم سجیل احمد صاحب مربی سلسلہ نے ’دکھ اور تکالیف کے دوران صبر و صلوٰۃ کی اہمیت‘ کے موضوع پر درس دیا۔

جلسے کے قریب چار پارکنگ ایریاز قائم تھے۔ بارہ بجے دوپہر شعبہ ضیافت کی طرف سے دوپہر کا کھانا شروع کردیا گیا جو نمازِ جمعہ کی اذان تک اور پھر دوبارہ حضورِانورایدہ اللہ کے خطبہ جمعہ کے بعد بھی جاری رہا۔ خطبہ جمعہ میں مبلغ انچارج جرمنی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں آنحضرت ﷺ کے اخلاق فاضلہ کا ذکرکرکے جلسہ پر آنے والے مہمانوں کی چند ذمہ داریوں کا ذکرکیا۔

نماز جمعہ کی ادائیگی کے بعد شرکائے جلسہ نے حضرت امیرالمومنین ایدہ اللہ کا خطبہ جمعہ ایم ٹی اے پرلائیو سنا۔ خطبہ سے قبل مکرم نیشنل امیر صاحب جرمنی نے اعلان کیا کہ حضورایدہ اللہ کے خطبہ جمعہ کے ساتھ ہی جماعت جرمنی کے پچاسویں جلسہ سالانہ کی کارروائی شروع ہوجائے گی۔

اجلاسِ اوّل کے لیے پانچ بجے شام کا وقت مقرر تھا۔ جس سے قبل پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔ مکرم نیشنل امیرصاحب نے جرمنی کا قومی پرچم اور مکرم مبلغ انچارج صاحب نے لوائے احمدیت لہرایا۔ اس موقع پر بڑی دیر تک اسلامی نعرے بلند کیے جاتے رہے۔ پرچم کشائی کے مناظر حاضرینِ جلسہ نے بڑی سکرینوں پر لائیو دیکھے اور نعروں میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر اجتماعی دعا بھی کی گئی۔

اجلاس اول: ٹھیک پانچ بجے افسر جلسہ گاہ مکرم حافظ فرید احمد خالد صاحب نے روسٹرم پر آکر مکرم نصیر احمد قمر صاحب ایڈیشنل وکیل الاشاعت لندن کو اجلاس کی صدارت کرنے کی دعوت دی۔ آپ کے کرسیِ صدارت پر آنے کے بعد اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا،جو مکرم فیصل محمود صاحب نے کی۔ جرمن ترجمہ مکرم مسرور احمد صاحب اور اردو ترجمہ مکرم سید ابرار شاہ صاحب مربی سلسلہ نے پیش کیا۔ جرمن مہمان مقررین کو مختصر تقریر کا موقع فراہم کیا گیا جس میں انہوں نے جماعت کے ساتھ اپنے تعلق کا اظہار کیا۔ صوبہ کے وزیرِ اعلیٰ کا پیغام اہلِ جلسہ کے نام پہنچایا۔ مکرم رانا شیراز احمد صاحب مربی سلسلہ نے در ثمین سے مسیحِ پاک کا شیریں کلام خوش الہانی سے پڑھا۔

آج کی پہلی تقریر اردو میں مکرم مبلغ انچارج صاحب نے ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قناعت اورشکرگزاری‘‘ کے موضوع پر کی۔ آپ کی تقریرکے بعد تین نوجوانوں مرزا رضوان احمد، نعمان احمد داؤد اور مصباح الرحمٰن ثاقب نے کورس کی صورت میں نظم پڑھی۔ دوسرے مقرر مکرم فرہاد احمد ملک صاحب مربی سلسلہ تھے۔ آپ نے جرمن زبان میں ’’قرآنِ کریم روزمرہ زندگی کے لیے ہدایت و راہنمائی‘‘ کے موضوع پر تقریرکی۔ شام سات بج کر دس منٹ پر پہلے اجلاس کی کارروائی ختم ہوئی اور کھانے کا وقفہ تھا۔

شام کو مہمانوں کی تعداد اندازے سے زیادہ ہوگئی اور تازہ آلو گوشت کے ساتھ ساتھ دوپہر کی پکی ہوئی دال بھی انہیں پیش کی گئی جسے مسیح کے مہمانوں نے خوش دلی کے ساتھ تناول کیا۔ بعد ازاں نمازِ مغرب و عشاء ادا کی گئیں۔ اس طرح جلسہ سالانہ جرمنی کا پہلا روز اختتام پذیر ہوا۔

دوسرا روز

حسبِ پروگرام جلسہ سالانہ کے دوسرے روز کا آغازبھی صبح پونے پانچ بجے باجماعت نمازِ تہجد سے ہوا۔ نماز کے بعد مکرم وجاہت احمد صاحب مربی سلسلہ نے ’’صبرکی حقیقت اوراس سے حاصل ہونے والا پھل‘‘ کے عنوان سے درس دیا۔

دوسرے روز کا پہلا اجلاس صبح ساڑھے دس بجے مکرم طاہر محمود عابد صاحب صدرو مشنری انچارج گنی کناکری کی صدارت میں شروع ہوا۔ تلاوتِ قرآنِ کریم کرنے کی سعادت چودھری سعادت احمد سوہل صاحب کے حصہ میں آئی جس کا جرمن ترجمہ مکرم احتشام حسن احمد صاحب اور اردو ترجمہ مکرم محمد اکرم بیگ صاحب نے پیش کیا۔ مکرم خرم شہزاد صاحب نے درثمین سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منظوم کلام خوش الہانی سے پڑھا۔ آج کی پہلی تقریر جرمن زبان میں مکرم طارق احمد ظفر صاحب مربی سلسلہ واستاد جامعہ احمدیہ جرمنی نے کی۔ آپ کی تقریر کا عنوان تھا ’’بچوں کی تربیت میں والدین کا مثالی کردار‘‘۔ پھر حضرت مصلح موعودؓ کا کلام میاں دانش تسنیم صاحب نے پیش کیا۔ مکرم مرزا نصیر احمد صاحب مربی سلسلہ و استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ نے اردو زبان میں ’’صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اطاعت کے نمونے اور ان کے ثمرات‘‘ کے عنوان پر تقریر کی۔ صبح کے اجلاس میں وقفہ وقفہ سے جرمن مہمانوں کو بھی مختصر تقریر کا موقع فراہم کیا گیا۔

بعدازاں حضور انورایدہ اللہ کا خواتین سے خطاب ہوا جس کے بعد نماز ظہر و عصر ادا کی گئیں۔ پھر کھانے کا وقفہ ہوا۔

شام کا اجلاس ساڑھے پانچ بجے زیرِصدارت مکرم عبداللہ واگس ہاؤزر صاحب امیر جماعت احمدیہ جرمنی شروع ہوا۔ تلاوتِ قرآن کریم کرنے کی سعادت مکرم دانیال احمد داؤد صاحب کے حصہ میں آئی۔ جرمن ترجمہ طلحہ وڑائچ صاحب اور اردو ترجمہ سفیر احمد نجم صاحب نے پیش کیا۔ اردو نظم راحیل احمد صاحب کی آواز میں سامعین جلسہ نے سنی۔ ایڈیشنل وکیل اشاعت لندن مولانا نصیر احمد قمر صاحب نے ’’حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ کی قبولیت دعا کے واقعات‘‘ کے عنوان سے تقریر کی۔ جس کے بعد اردو نظم مکرم عبدالحفیظ صاحب نے خوش الہانی سے پڑھی۔ اجلاس کے دوسرے مقرر مکرم چنگیز وارلی صاحب ایڈیشنل سیکرٹری تربیت برائے نو مبائعین تھے۔ آپ کی تقریر کا عنوان تھا ’’ایک احمدی کا عمدہ کردار خاموش تبلیغ کا سبب بن سکتا ہے‘‘۔ اجلاس کی کارروائی ساڑھے سات بجے شام تک جاری رہی۔

آج دوپہر کے وقفہ کے دوران احمدیہ لائیرز ایسوسی ایشن نے ایک سیمینار کا اہتمام کر رکھا تھا جس پر بعض سیاست دانوں کو بطور خاص مدعو کیا گیا تھا۔ احمدی نوجوانوں اور وکلاء کی طرف سے سیاست دانوں سے حالاتِ حاضرہ سے متعلق سوالات کیے گئے۔ جوابات دینے والوں میں صوبے کے وزیراعلیٰ بھی شامل تھے۔ احمدی نوجوانوں نے اس سیمینار میں بھرپورشرکت کی۔

نماز مغرب وعشاء کی ادائیگی کے ساتھ دوسرے دن کا اختتام ہوا۔

تیسرا و آخری روز

اتوار کی صبح نمازِ تہجد اور نماز فجر کے بعد حسب معمول درس ہوا جو مکرم اعجاز احمد جنجوعہ صاحب مربی سلسلہ نے ’’معاشرے میں پھیلی برائیوں کا حل نماز میں ہے‘‘ کے موضوع پر دیا۔

صبح کا اجلاس مکرم مرزا نصیراحمد صاحب مربی سلسلہ و استاد جامعہ احمدیہ یوکے کی صدارت میں ساڑھےدس بجے شروع ہوا۔ حافظ عطاءالرزاق بھٹی صاحب نے قرآنِ پاک کی تلاوت کی جس کا جرمن اور اردو ترجمہ بالترتیب صالح احمد صاحب اور مظفر احمد صاحب نے پیش کیا۔ نظم پڑھنے کی سعادت مکرم محمد رفیق شاکر صاحب کے حصہ میں آئی۔

آج کے پہلے مقرر مکرم عبدالرفیق صاحب صدرقضا بورڈ جرمنی تھے جنہوں نے ’’طلاق و خلع اسلامی تعلیمات کی روشنی میں‘‘ کے موضوع پر جرمن زبان میں تقریر کی۔ فاتح احمد عزیز، جری اللہ راجپوت اورثمر بٹ صاحبان نے مل کرعربی قصیدہ پیش کیا۔ مکرم سید حسن بخاری صاحب مربی سلسلہ و انچارج رشین ڈیسک جرمنی نے اردو زبان میں تقریر کی۔ آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بلند شان اور صداقت پر دلائل دیے۔ پھر ایک جرمن ترانہ فلپ لوکا شاہد صاحب اور ٹورسٹن خلیل صاحب اور ٹوبیاس یوسف پریمییر صاحب نے مل کر پیش کیا۔

آج کے آخری مقرر مکرم امیر صاحب جماعت احمدیہ جرمنی تھے جن کی تقریر کا عنوان تھا ’’نظام نو‘‘۔ آپ نے موجودہ عالمی نظام کی خرابیاں بیان کرنے کے بعد اس کے خاتمہ اور اس کی جگہ انصاف پرمبنی نئے نظام کی ضرورت پر زور دیا۔ مکرم امیر صاحب کی تقریر جرمن زبان میں تھی۔ بعض صوبائی اور مرکزی سطح کے سیاسی لیڈروں کے ویڈیو پیغامات بھی اس اجلاس کے دوران دکھائے گئے۔ مکرم امیر صاحب کی تقریر کے ساتھ تیسرے روز کا پہلا اور جلسہ سالانہ کا چوتھا اجلاس اختتام پذیر ہوا اور کھانے کا وقفہ تھا۔ نماز ظہر و عصر کی ادائیگی کے بعد ساڑھے چار بجے جلسہ سالانہ کا اختتامی خطاب اسلام آباد ٹلفورڈ سے نشرکیا گیا۔

خاکسار جلسہ سالانہ کی رپورٹنگ میں تعاون کرنے والے مکرم ایاز ملک صاحب مربی سلسلہ، مکرم اویس ملک صاحب مربی سلسلہ اور مکرم فہیم احمد بھٹی صاحب مربی سلسلہ کا شکریہ ادا کرتا ہے جن کا تعاون کام میں آسانی پیدا کرنے کا موجب بنا اور خبریں بروقت آن لائن جاری کرنے میں کامیاب رہے۔ الحمدللہ

(رپورٹ:عرفان احمد خان۔ نمائندہ الفضل انٹرنیشنل)

مزید پڑھیں: جماعت احمدیہ ڈنمارک کی ماہ جنوری تا جون ۲۰۲۶ء میں تبلیغی مساعی

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button