مجلس انصاراللہ کا عہد اور ذمہ داریاں
آپ کا نام انصار اللہ ہے۔ یعنی نہ صرف آپ انصار ہیں بلکہ آپ انصار اللہ ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے مددگار۔ اللہ تعالیٰ کو تو کسی کی مدد کی ضروت نہیں۔ لیکن اس کی نسبت کی وضاحت سے یہ بتایا گیاہے کہ آپ ہمیشہ اس عہد پر قائم رہیں گے۔ کیونکہ اللہ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ اس پر موت نہیں آتی۔ اس لئے آپ کے عہد پر کبھی موت نہیں آنی چاہئے۔ چونکہ موت سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا، اس لئے انصاراللہ کے معنی یہ ہوں گے کہ جب تک آپ زندہ رہیں گے، اس عہد پر قائم رہیں گے اور اگر آپ مر گئے تو آپ کی اولاد اس عہد کو قائم رکھے گی (حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ)
مجلس انصاراللہ کے ابتدائی دور میں اجلاسات اور پروگراموںمیں کوئی عہد نہیں دہرا یا جاتا تھا۔ ۳۰؍نومبر ۱۹۴۴ء کے ماہانہ اجلاس میںاُس وقت کے قائد عمومی حضرت مولوی عبدالرحیم درد صاحب رضی اللہ عنہ نے انصاراللہ کے اجلاسات میں عہد دہرانے کی تجویز پیش کی۔ چنانچہ اس تجویز کو منظور کرلیا گیا اور اسی اجلاس میںپہلی مرتبہ عہد دہرایا گیا۔ تاریخ انصاراللہ مرکزیہ میں لکھا ہے: نومبر ۱۹۴۴ء تک انصاراللہ کے اجلاس میں کوئی عہد نہیں دہرایا جاتا تھا۔ ۳۰؍نومبر۱۹۴۴ء کے ماہانہ اجلاس میں قائد عمومی مولوی عبدالرحیم صاحب درد نے یہ تجویز پیش کی کہ انصاراللہ کے جلسوں میں عہد دہرانے کا طریق رائج کیاجائے اور اس غرض کے لیے وہ الفاظ مقرر کئے جائیں جو حضرت امیرالمومنین خلیفۃ المسیح الثانی المصلح الموعود نے جلسہ جوبلی کے موقعہ پر لوائے احمدیت لہراتے وقت بطور عہد مقرر فرمائے تھے۔ اس تجویز کو منظور کرلیا گیا اور اسی اجلاس میں پہلی مرتبہ یہ عہد دہرایا گیا۔ عہد کے الفاظ یہ تھے: ’’مَیں اقرار کرتا ہوں کہ جہاںتک میری طاقت اور سمجھ ہے اسلام اور احمدیت کے قیام، اس کی مضبوطی اور اس کی اشاعت کے لیے آخر دم تک کوشش کرتا رہوں گا اور اللہ تعالیٰ کی مدد سے اس امر کے لیے ہر ممکن قربانی پیش کرونگا کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام دوسرے سب دینوں اور سلسلوں پر غالب رہے اور اس کا جھنڈا کبھی سرنگوں نہ ہو بلکہ دوسرے سب جھنڈوں سے اونچا اُڑتارہے۔ اَللّٰھُمَّ آمِیۡن۔ اَللّٰھُمَّ آمِیۡن۔ اَللّٰھُمَّ آمِیۡن۔ رَبَّنَا تَقَبَّلۡ مِنَّا اِنَّکَ اَنۡتَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ۔ ‘‘ (تاریخ انصاراللہ جلد اوّل صفحہ ۶۱۔ شائع کردہ مجلس انصاراللہ مرکزیہ )
عہد کے متعلق مجالس کوہدایت: تاریخ انصاراللہ میں لکھا ہے:حضرت مولوی شیرعلی صاحب صدر مجلس کی طرف سے یہ ہدایت جاری کی گئی کہ جملہ مجالس انصاراللہ اپنے جلسوں اور اجتماعات میں کھڑے ہوکر اس عہد کو دہرایا کریں۔ شروع میں پہلے ایک دفعہ اَشۡھَدُاَنۡ لَّا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاَشۡھَدُاَنَّ مُحَمَّدًاعَبۡدُہٗ وَرَسُولُہٗ کہا جائے، پھر عہد کے الفاظ تین مرتبہ دہرائے جائیں۔ عہد کے الفاظ مجلس کا وہ عہدیدار کہلوائے گا جس نے انصار کا اجلاس طلب کیا ہو۔مثلازعیم، نائب زعیم یا مہتمم اور مرکز میں قائد صاحبان میں سے کوئی یا صدر مجلس۔ (تاریخ انصاراللہ جلد اوّل صفحہ۱۴۳۔ شائع کردہ مجلس انصاراللہ مرکزیہ )
مجلس انصاراللہ کا عہد: کئی سال تک مذکورہ بالا عہد، مجلس کے اجلاسات اور اجتماعات میں دہرایا جاتا رہا۔ یہاں تک کہ ۲۷؍اکتوبر ۱۹۵۶ء کو مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کے موقع پر حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے انصاراللہ کے لیے ایک عہد تجویز فرمایا اور اسے اپنی افتتاحی تقریر سے قبل کہلوایا۔ وہ عہد یہ ہے :
اَشۡھَدُاَنۡ لَّا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَحۡدَہٗ لَا شَرِیۡکَ لَہٗ وَاَشۡھَدُاَنَّ مُحَمَّدًاعَبۡدُہٗ وَرَسُولُہٗ
میں اقرار کرتا ہوں کہ اسلام اوراحمدیت کی مضبوطی اور اشاعت اور نظام خلافت کی حفاظت کے لیے ان شاء اللہ آخر دم تک جدوجہد کر تا رہوں گا اور اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہوں گا۔ نیز مَیں اپنی اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتا رہوں گا۔ ان شاء اللہ (تاریخ انصاراللہ جلد اوّل صفحہ۱۲۲و۱۴۴۔ شائع کردہ مجلس انصاراللہ مرکزیہ۔ مطبوعہ ۱۹۷۸ء)
یہ وہی عہد ہے جو اب تک مجلس انصاراللہ کے اجلاسات، اجتماعات اور دیگر اہم مواقع پرکھڑے ہوکر دہرایا جاتا ہے۔ عہد دہراتے وقت تین بار کلمہ شہادت پڑھا جاتا ہے اس کے بعد ایک بار عہد کے الفاظ دہرائے جاتے ہیں۔
عہد میں ایک تبدیلی: امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۲۰۱۴ء میں مجلس انصاراللہ کے موجود عہد میں چھوٹی سی تبدیلی منظور فرمائی ہے۔ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے عہد میں ’’اسلام اور احمدیت‘‘کے الفاظ میں سے لفظ ’اور‘ حذف فرما کر اسے ’’اسلام احمدیت‘‘ کر دیا ہے۔ موجودہ عہد کے الفاظ اس طرح ہیں : میں اقرار کرتا ہوں کہ اسلام احمدیت کی مضبوطی اور اشاعت اور نظام خلافت کی حفاظت کے لیے ان شاء اللہ آخر دم تک جدوجہد کر تا رہوں گا اور اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہوں گا۔ نیز میں اپنی اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتا رہوں گا۔ ان شاءاللّٰہ۔
انصاراللہ کے قیام کی غرض و غایت
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ انصاراللہ کے قیام کی غرض و غایت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’جماعت کی دماغی نمائندگی انصاراللہ کرتے ہیں اوراس کے دل اور ہاتھوں کی نمائندگی خدام الاحمدیہ کرتے ہیں۔ جب کسی قوم کے دماغ، دل اور ہاتھ ٹھیک ہوں تو وہ قوم بھی ٹھیک ہو جاتی ہے۔ پس میں پہلے تو انصاراللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ ان میں سے بہت سے وہ ہیں جو یا صحابی ہیں یا کسی صحابی کے بیٹے ہیں یا کسی صحابی کے شاگرد ہیں، اس لیے جماعت میں نمازوں، دعائوں اور تعلق باللہ کو قائم رکھنا ان کا کام ہے۔ ان کو تہجد، ذکر الٰہی اور مساجد کی آبادی میں اتنا حصہ لینا چاہئے کہ نوجوان ان کو دیکھ کر خود ہی ان باتوں کی طرف مائل ہو جائیں۔ اصل میں تو جوانی کی عمر ہی وہ زمانہ ہے، جس میں تہجد، دعا اور ذکرالٰہی کی طاقت بھی ہوتی ہے اور مزہ بھی ہوتا ہے۔ لیکن عام طور پر جوانی کے زمانہ میں موت اور عاقبت کا خیال کم ہوتا ہے۔ اس و جہ سے نوجوان غافل ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر نوجوانی میں کسی کو یہ توفیق مل جائے تو وہ بہت ہی مبارک وجود ہوتا ہے۔ پس ایک طرف تو میں انصاراللہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے نمونہ سے اپنے بچوں، اپنے ہمسایہ کے بچوں اور اپنے دوستوں کے بچوں کو زندہ کریں۔‘‘(خطاب فرمودہ ۱۸؍ نومبر۱۹۵۵ء بحوالہ سبیل الرشاد جلد اوّل صفحہ۱۹۱)
قمرالانبیاء حضرت مرزا بشیر احمدصاحب رضی اللہ عنہ نے ایک مضمون میں قرآن کریم کی روشنی میں انصاراللہ کی ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’ قرآن شریف سے پتہ لگتا ہے کہ انصاراللہ کی اصطلاح خدا تعالیٰ کی نظر میں انبیاء کے جمالی ظہور کے ساتھ مخصوص تعلق رکھتی ہے۔ اور چونکہ جمال کے ساتھ دین حق کی ایسی تشریح و تبلیغ وابستہ ہے۔ جو ایک پیہم اور مسلسل کوشش کی صورت میں دلائل و براہین کے ذریعہ کی جائے۔ اس لیے انصاراللہ کا اصل کام جمالی رنگ میں ’’تبلیغ‘‘ اور ’’ تربیت‘‘ کے دو لفظوں میں محصور ہوجاتا ہے۔ اور چونکہ تبلیغ و تربیت کا کام ایک طرف تنظیم کو چاہتا ہے۔ اور دوسری طرف مالی قربانی کو۔ اس لیے ہمارے کام کے یہ چار ستون قرار پاتے ہیں :اوّل تبلیغ۔ دوم تعلیم و تربیت۔ سوم تنظیم اور چہارم کام کے واسطے روپے کی فراہمی اور ظاہر ہے کہ جہاں یہ چار چیزیں بصورت احسن میسر آجائیں، وہاں کوئی دنیوی طاقت کسی جماعت کی ترقی کے رستہ میں روک نہیں بن سکتی۔ اور فاصبحوا ظاھرین کا وعدہ پورا ہوکر رہتا ہے۔ (روزنامہ الفضل قادیان دارالامان ۱۴؍اپریل۱۹۴۶ء صفحہ ۶-۷)
اُسی مضمون میں حضرت صاحبزادہ صاحبؓ نے مزید لکھا ہے کہ ’’میں دوستوں سے اپیل کروں گا کہ انصاراللہ کے مقدس کام کو ان چار ستونوں پر کھڑا کرنے کی کوشش کریں… یعنی (۱) تبلیغ (۲)تعلیم وتربیت (۳) تنظیم اور (۴) مالی قربانی۔ اگر وہ ان چار پہلوئوں سے اپنے نظام کو پختہ کرلیںتو ان کے قلعہ کی چاردیواری مکمل ہوجائے گی۔ اورپھر انہیں خدا کے فضل سے کسی مخالف طاقت کا خطرہ نہیں رہے گا۔ بلکہ ہر مخالف طاقت ان کے سامنے مغلوب ہوکر ان کی غلامی کو اپنے لیے باعث فخر خیال کرے گی۔ اے خدا تو اپنی ذرّہ نوازی سے ایسا فضل فرما کہ قبل اس کے کہ ہم اس دنیا کی زندگی کو پورا کرکے تیرے دربار میں حاضر ہوں۔ ہمیں تیرے حضور میں وہ مقام حاصل ہوچکا ہو جو تونے صحابہ کرامؓ کی مقدس جماعت کے متعلق ان پیارے الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ رضی اللّٰہ عنھم ورضواعنہ اے خدا!تُو ایسا ہی کر۔آمین ‘‘(روزنامہ الفضل قادیان دارالامان ۱۴؍اپریل۱۹۴۶ء صفحہ ۷)
انصاراللہ پر عائد ہونے والی ذمہ داریاں
قرآن کریم سے پتا چلتا ہے کہ جب انسان چالیس سال کا ہوجاتا ہے تو وہ پختگی کی عمر کو پہنچ جاتا ہے یعنی اُس کے تمام قویٰ ترقی کی منازل طے کرلیتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں اُس کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہوجاتا ہے۔ اُسے اچھے بھلے کی خوب پہچان ہوجاتی ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اُس کے لیے کیا بہتر ہے اور کیا نقصان دہ۔ یہی وجہ ہے کہ اس عمرمیں بالعموم اُس کا رجحان نیکیوں کی طرف بڑھ جاتا ہے اوراُس کی توجہ اعمال صالحہ کی طرف مبذول ہوجاتی ہے۔چنانچہ وہ کوشش کرتا ہے کہ نیکی کے ہر میدان میںسبقت لے جائے اور اپنی ذریت کی اصلاح کی طرف متوجہ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اس طبعی اور فطرتی رجحان کو قرآن شریف میں ان الفظ میں بیان فرمایا ہے: حَتّٰٓی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَ بَلَغَ اَرۡبَعِیۡنَ سَنَۃً قَالَ رَبِّ اَوۡزِعۡنِیۡٓ اَنۡ اَشۡکُرَ نِعۡمَتَکَ الَّتِیۡٓ اَنۡعَمۡتَ عَلَیَّ وَعَلٰی وَالِدَیَّ وَاَنۡ اَعۡمَلَ صَالِحًا تَرۡضٰہُ وَاَصۡلِحۡ لِیۡ فِیۡ ذُرِّیَّتِیۡ اِنِّیۡ تُبۡتُ اِلَیۡکَ وَاِنِّیۡ مِنَ الۡمُسۡلِمِیۡنَ۔(الاحقاف:۱۶) یہاں تک کہ جب وہ اپنی پختگی کی عمر کو پہنچا اور چالیس سال کا ہوگیا تو اس نے کہا اے میرے ربّ! مجھے توفیق عطا کر کہ میں تیری اس نعمت کا شکریہ ادا کرسکوں جو تُونے مجھ پر اور میرے والدین پر کی اور ایسے نیک اعمال بجا لاؤں جن سے تُوراضی ہو اور میرے لیے میری ذرّیت کی بھی اصلاح کردے۔ یقیناً میں تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں اور بلاشبہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں۔
انصاراللہ نام ملنا کوئی معمولی بات نہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی انسان کو اپنا مددگار قرار دے کر اُسے اپنے دین کی خدمت کے لیے منتخب کرلے۔چالیس سال سے زائد عمر کے احمدی مردوں کی اس تنظیم کا نام ’’ انصاراللہ‘‘ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے تجویز فرمایا تھا۔ اس نام کے ساتھ وفاداری، جانثاری، فدائیت اور قربانیوں کی عظیم الشان روایات وابستہ ہیں۔قرآن کریم سے معلوم ہوتاہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی قوم سے انکار کا خطرہ محسوس کیا تو اپنے مخلص ساتھیوں کو یہ کہہ کر آواز دی :’’مَنۡ اَنۡصَارِیۡ اِلَی اللّٰہِ‘‘ یعنی کون ہے جو آج محض اللہ تعالیٰ کی خاطر میرا مددگار بننے کو تیار ہے۔ تب اس آواز کے جواب میں آپؑ کے وفادارمخلصین نے یہ نعرہ بلند کیا :’’نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ‘‘ یعنی ہم ہیں اللہ کے مددگار۔ہم دین کی ترویج وترقی اوراس کی مضبوطی و اشاعت کی خاطر، ہر قسم کی قربانیوں کے لیے تیار ہیں۔ ہم اس راہ میں اپنی جان، اپنا دھن دولت اور اولاد تک قربان کرنے لیے تیار بیٹھے ہیں۔ ہم وعدہ کرتے ہیں کہ اس عہد کو ہمیشہ نبھاتے چلے جائیں گے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے حواریوں کا یہ جواب خداتعالیٰ پر پختہ ایمان کی وجہ سے تھا۔پس انہوں نے اپنے عمل سے ثابت کردکھایا کہ اُس زمانے میں وہی نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ کے حقیقی مصداق تھے۔
اے مسیح محمدی ؐکے درخت وجود کی سرسبز شاخو!اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والے فرستادے کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہم نے بھی نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ کا نعرہ بلند کیا ہے۔ ہم نے بھی خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی جماعت میں شامل ہوکر یہ عہد باندھا ہے کہ ہر حال میں دین کی ترقی ا ور اس کی اشاعت کے لیے کوشاں رہیں گے۔ ہم نے بھی اسلام کی سربلندی اور احمدیت کی ترقی کے لیے انہی روایات کو زندہ کرنے کا عہد کیا ہے جو روایات انصاراللہ نام کے ساتھ وابستہ ہیں۔ہمارے سامنے انصار مدینہ کی وفاداری، ایثار، جاںنثاری اور جذبۂ فدائیت کی زندہ وجاوید مثالیں موجود ہیں۔مدینہ اور اُس کے ارد گرد کا گوشہ گوشہ گواہ ہے کہ انصارِ مدینہ نے نبی کریم ﷺ کے دست مبارک پر بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر جو عہدباندھا تھا اُس عہد کو انہوں کمال وفاداری، جانثاری، فدائیت اور کامل اطاعت کے ساتھ نبھایا۔
جملہ ممبران انصاراللہ اپنے اجلاسات اور ہر اہم پروگرام میں کھڑے ہوکر تین بار کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد اسلام احمدیت کی مضبوطی، اشاعت، نظام خلافت کی حفاظت اور اپنی اولاد کو ہمیشہ خلافت کے ساتھ وابستہ رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔ یہ کوئی معمولی اور عام عہد نہیں ہے کہ اسے دہرا کر انسان آرام اور سکون سے بیٹھ جائے اور یہ سمجھ لے کہ ان الفاظ کو دہراکر اُس نے اپنا فرض پورا کردیا ہے بلکہ اس عہد کو بار بار دہرانے کے نتیجے میں ہمارے اوپر بہت ساری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس زمانے میں ایک کشتی تیار کی ہے۔ آپؑ نے اپنی تعلیم کو وہ کشتی قرار دیا ہے جو اس زمانے کی بلاؤں اور ہلاکت خیز طوفانوں سے بچانے کے لیے تیار کی گئی ہے۔ یہ کشتی دجالیت، دہریت اور مادیت کے ہلاکت خیز طوفانوں سے تبھی بچا سکتی ہے جب اُس پر عمل کیا جائے۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے : ’’سو تم کوشش کرو کہ خدا کے پیارے ہوجاؤ تا تم ہر ایک آفت سے بچائے جاؤ…جو شخص سچے طور پر میری پیروی کرتا ہے اور کوئی خیانت اُس کے اندر نہیں اور نہ کسل اور نہ غفلت ہے اور نہ نیکی کے ساتھ بدی کو جمع رکھتا ہے وہ بچایاجائے گا لیکن وہ جو اس راہ میں سست قدم سے چلتا ہے اور تقویٰ کے راہوں میں پورے طور پر قدم نہیں مارتا یا دنیا پر گرا ہوا ہے وہ اپنے تئیں امتحان میں ڈالتا ہے۔ ‘‘(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹صفحہ ۸۲-۸۳)
ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ایک مرتبہ انصاراللہ کے عہد کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے عہدِ بیعت میں جو شرائط رکھی ہیں اُن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ میرے سے وفااور اطاعت کا، وفاداری، فرمانبرداری اور خلوص کا جو تعلق ہے وہ سب رشتوں سے بڑھ کر ہوگا۔ یہ عہد آپ نے قبول کیا ہے اور یہ عہد آپ انصار کے اجتماع میں دہراتے بھی رہتے ہیں۔ گو ان الفاظ میں نہیں لیکن خلاصہ یہی ہے کہ ہم ہر قربانی کے لیے تیار رہیں گے۔ تو اس لحاظ سے اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم ایسے حواری ہیں جو ان شرائط پر پورا اترتے ہیں ؟ اور اگر ہوں گے تو پھر انصاراللہ کہلانے کے حق دار کہلائیں گے۔ پس حواری ہونے کی اور اس کے نتیجہ میں انصاراللہ ہونے کی یہ وضاحت اور مطلب ہے۔ اگر ہم نے انصاراللہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو یہ کام کرکے دکھانے ہوں گے۔ ہر قربانی کے لیے تیار ہونا ہوگا۔ اپنی اَنائوں کو چھوڑنا ہوگا۔ اپنی سوچوں کو بدلنا ہوگا۔ اپنے آپ کو کامل طور پر اس تعلیم کے مطابق ڈھالنا ہوگا جو اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمائی ہے۔ صرف منہ سے یہ کہہ دینا کہ ہم ایمان لے آئے اور ہم حواریوں میں داخل ہوگئے کہ ہم انصاراللہ ہیں کافی نہیں۔ یہ توقعات حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان حواریوں سے کی تھیں اور انہوں نے انہیں پورا کرنے کی کوشش کی، گو وہ پوری طرح نہیں کرسکے۔ لیکن مسیح محمدی کے جو حواری ہیں، وہ جو نعرہ لگاتے ہیں کہ نَحۡنُ اَنۡصَارُ اللّٰہِ تو ان کا یہ کام ہے کہ کامل طورپر کامل الایمان ہوکر، کامل طورپر وفا شعارہوکر، کامل طور پر اطاعت گزار ہوکر اپنے آپ کو ایسے حواری بناکر دکھائیںجو واقعی طورپر انصاراللہ ہوں اور اس کو سچ کرکے دکھائیں۔‘‘ (الفضل انٹرنیشنل ۴؍مارچ ۲۰۱۱ء صفحہ ۲)
عہد کی حفاظت کا وعدہ: حضرت مصلح موعودرضی اللہ عنہ مجلس انصاراللہ کے عہد کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’ آپ کا نام انصاراللہ ہے۔ یعنی نہ صرف آپ انصار ہیں بلکہ آپ انصاراللہ ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے مددگار۔ اللہ تعالیٰ کو تو کسی کی مدد کی ضروت نہیں۔ لیکن اس کی نسبت کی وضاحت سے یہ بتایا گیاہے کہ آپ ہمیشہ اس عہد پر قائم رہیں گے۔ کیونکہ اللہ ہمیشہ قائم رہنے والا ہے۔ اس پر موت نہیں آتی۔ اس لیے آپ کے عہد پر کبھی موت نہیں آنی چاہئے۔ چونکہ موت سے کوئی انسان بچ نہیں سکتا، اس لیے انصاراللہ کے معنی یہ ہوں گے کہ جب تک آپ زندہ رہیں گے، اس عہد پر قائم رہیں گے اور اگر آپ مر گئے تو آپ کی اولاد اس عہد کو قائم رکھے گی۔ یہی و جہ ہے کہ اس عہد میں یہ بات رکھی گئی ہے کہ ’’ میں اپنی اولاد کو بھی ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے کی تلقین کرتا رہوں گا۔ ‘‘ اور اگر اللہ تعالی ہماری نسلوں کو اس بات کی توفیق دے دے۔ تو پھر کوئی بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں یہ توفیق مل جائے کہ ہم عیسائیوں سے بھی زیادہ عرصہ تک خلافت کو قائم رکھ سکیں۔ خلافت کو زیادہ عرصہ تک قائم رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ تنظیم سلسلہ ایسی مضبوط رہے کہ تبلیغ احمدیت اور تبلیغ اسلام دنیا کے گوشہ گوشہ میں ہوتی رہے جو بغیر خلافت کے نہیں ہو سکتی۔‘‘(خطاب فرمودہ ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۵۶ء بحوالہ سبیل الرشاد جلد اوّل صفحہ ۱۴۳-۱۴۴)
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے انصاراللہ کے ایک اجتماع کے موقع پرانصار کواُن کے عہد کے نتیجہ میں عائد ہونے والی ذمہ داریوں کی طرف متوجہ کرتے ہوئے فرمایا:’’ آپ نے ایک عہد بھی کیا ہے کہ اسلام اور احمدیت کی مضبوطی اور اشاعت کے لیے آخر دم تک کوشش کروں گا۔ نظام خلافت کی حفاظت کے لیے آخر دم تک کوشش کروں گا۔ اپنے بچوں میں بھی یہ روح پھونکنے کی کوشش کروں گا تو یہ عہد جو ہے اس کو معمولی نہ سمجھیں۔ یہ ایک بہت بڑا عہد ہے۔ اللہ تعالیٰ کو گواہ ٹھہرا کر ہم یہ عہد کررہے ہیں اس لیے ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ جو انصاراللہ ہیں اگر آپ نے اپنے اس عہد کو نہ نبھایا، اپنے اس عہد کو نبھانے کے لیے وہ بھر پور کوشش نہ کی جس کی آپ سے توقع کی جاتی ہے تو آئندہ آنے والی نسلیں آپ کو معاف نہیں کریں گی کیونکہ انہوں نے بھی آپ کے نقش قدم پر چلنا ہے۔ جن بچوں کی، جن نوجوانوں کی تربیت آپ نے کرنی ہے وہ آپ کو الزام دیں گی کہ کیوں ہماری تربیت نہیں کی۔ اس لیے یہ یاد رکھیں کہ عہد جو آپ نے کیا ہے اس کو نبھانا آپ کی بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ‘‘ (الفضل انٹرنیشنل ۹؍جنوری ۲۰۰۹ء صفحہ۴ )
اسلام احمدیت کی مضبوطی اور اشاعت :مجلس انصاراللہ کا ممبر ہونے کی حیثیت سے ہر ناصر کی ایک ذمہ داری یہ بیان ہوئی ہے کہ ہم دین اسلام کی ترویج و اشاعت کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے تیار رہیںاورہر گزرتے دن کے ساتھ ان معیاروں کو بڑھاتے رہیں۔ تعلق باللہ میں ترقی کر یں اور اپنے زیر اثر لوگوں کے لیے بہترین نمونہ بنیں۔جماعت احمدیہ کے قیام کے عظیم الشان مقصد کو پورا کرنے کے لیے ہمارا عہد ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ دین اسلام کو دنیا بھر میں غالب کرنے کے لیے جس قسم کی قربانی کا مطالبہ کیا جائے ہم نہ صرف خود اُس کے لیے تیار ہوں بلکہ اپنے اہل وعیال اور اولاد کو بھی اس کے لیے تیار کرنے کی کوشش کرتے رہیں تاکہ اشاعت و ترقی ٔ اسلام کی عظیم الشان مہم کبھی اور کسی وقت رکنے نہ پائے۔ اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کے تمام افراد کی یہ ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ بنی نوع کی بھلائی، خیرخواہی، ہمدردی اوراُن کی اصلاح کے لیے ہر وقت تیار اور کوشاں رہیں اور اس فرض کی ادائیگی میں کبھی سستی نہ دکھائیں : کُنۡتُمۡ خَیۡرَ اُمَّۃٍ اُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ تَنۡھَوۡنَ عَنِ المُنۡکَرِ وَ تُؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ۔ (آل عمران:۱۱۱)تم بہترین امّت ہو جو تمام انسانوں کے فائدہ کے لیے نکالی گئی ہو۔ تم اچھی باتوں کا حکم دیتے ہو اور بُری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان لاتے ہو۔ایک مرتبہ حضرت نبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا :فَوَاللّٰہُ لَأَنۡ یَّھۡدِیَ اللّٰہُ بِکَ رَجُلًا وَّاحِدً خَیۡرٌ لَّکَ مِنۡ أَنۡ یَّکُوۡنَ لَکَ حُمۡرُ النَّعَمِ (صحیح البخاری کتاب المغازی بَاب ۳۸:غَزوَۃُ خَیبَرَحدیث:۴۲۱۰) اللہ کی قسم!تمہارے ذریعہ اللہ ایک شخص کو بھی راہ راست پر لے آئے تو یہ امر تمہارے لیے سرخ اونٹ مل جانے سے بہتر ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے دل میں اشاعت دین کاجو بحر بے کنار موجزن تھا، اُس کا ذکر کرتے ہوئے آپؑ فرماتے ہیں : ’’ہمارے اختیار میں ہوتو ہم فقیروں کی طرح گھر بگھر پھر کر خدا تعالیٰ کے سچے دین کی اشاعت کریں اور اس ہلاک کرنے والے شرک اور کفر سے جو دنیا میں پھیلا ہوا ہے لوگوں کو بچالیں۔ اگر خدا تعالیٰ ہمیں انگریزی زبان سکھادے تو ہم خود پھر کر اور دورہ کرکے تبلیغ کریں اور اسی تبلیغ میں زندگی ختم کردیں خواہ مارے ہی جاویں۔ ‘‘(ملفوظات جلد سوم صفحہ ۹۰۔ ایڈیشن۲۰۲۲ء)
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے ا نصار کو ان کی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایاہے:’’پس آپ کا نام انصاراللہ اس لیے رکھا گیا ہے کہ جہاں تک ہو سکے آپ دین کی خدمت کی طرف توجہ کریں۔ اور یہ توجہ مالی لحاظ سے بھی ہوتی ہے اور دینی لحاظ سے بھی ہوتی ہے۔ دینی لحاظ سے بھی آپ لوگوں کا فرض ہے کہ عبادت میں زیادہ سے زیادہ وقت صَرف کریں۔ اور دین کا چرچا زیادہ سے زیادہ کریں۔ تا کہ آپ کو دیکھ کر آپ کی اولادوں میں بھی نیکی پیدا ہو جائے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قرآن کریم میں یہی خوبی بیان کی گئی ہے کہ آپ اپنے اہل و عیال کو ہمیشہ نماز وغیرہ کی تلقین کرتے رہتے تھے۔ یہی اصل خدمت آپ لوگوں کی ہے۔ آپ خود بھی نماز اور ذکر الٰہی کی طرف توجہ کریں اور اپنی اولادوں کو بھی نماز اور ذکر الٰہی کی طرف توجہ دلاتے رہیں۔ جب تک جماعت میں یہ روح پیدا رہے اور لوگوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے فرشتوں کا تعلق قائم رہے اور اپنے اپنے درجہ کے مطابق کلام الٰہی ان پر نازل ہوتا رہے۔ اسی وقت تک جماعت زندہ رہتی ہے۔ کیونکہ اس میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو خدا تعالیٰ کی آواز سن کر اسے لوگوں تک پہنچاتے ہیں۔ اور جب یہ چیز مٹ جاتی ہے اور لوگ خدا تعالیٰ سے بے تعلق ہو جاتے ہیں، تو اس وقت قومیں بھی مرنے لگ جاتی ہیں۔ پس آپ لوگوں کو ہمیشہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اپنی اولادوں کو بھی ذکر الٰہی کی تلقین کرتے رہنا چاہئے۔‘‘(خطاب فرمودہ یکم نومبر ۱۹۵۸ء بحوالہ سبیل الرشاد جلد اوّل صفحہ۱۳۵، ۱۳۶)
ہمارے پیارے امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’ہر ناصر، ہر شخص جو مجلس انصاراللہ کا ممبر ہے اسلام کی مضبوطی اور احمدیت پر سچے دل سے قائم ہونے کی کوشش کرے۔ اور اسلام کی مضبوطی کے لیے کوشش اپنے علم اور طاقت سے نہیں ہوسکتی۔ اسلام اللہ تعالیٰ کا بھیجا ہوا دین ہے اور تعلیم کے لحاظ سے کامل اور مکمل دین ہے۔ اس میں کسی انسان نے تو کوئی اور مضبوطی پیدا نہیں کرنی ہے۔ ہاں اپنے آپ کو اس سے مضبوط تعلق پیدا کرنے کے لیے کوشش کی ضرورت ہے تاکہ اس کامل اور مکمل دین کا ہم مضبوط حصہ بن سکیں۔ اور یہ بات خدا تعالیٰ سے تعلق کے بغیر پیدا نہیں ہوسکتی۔ اس کے لیے ہر احمدی کو کوشش کرنی چاہئے اور انصاراللہ کے معیار سب سے اعلیٰ ہونے چاہئیں۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تعلق نہ ہو جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے خود ہمیں حکم دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر درود اور سلام بھیجو، اس کی طرف توجہ دو۔ پس یہ بہت ضروری چیز ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بیعت میں آنے کا حق ادا کرنا ہے۔ جب یہ حق قائم ہوگا تو تبھی احمدیت پر ہم سچے دل سے قائم ہوں گے۔ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے تکمیل اشاعت اسلام کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیجا ہے اور احمدیت پر سچے دل سے قائم ہونا تبھی ثابت ہوگا جب ہم اشاعت اسلام اور تبلیغ اسلام میں بھرپور حصہ لیتے ہوئے اپنے آپ کو انصاراللہ ثابت کریں گے۔ ‘‘(الفضل انٹرنیشنل ۲۱تا۲۷؍اکتوبر۲۰۱۶ء صفحہ۵۔ خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍ستمبر ۲۰۱۶ء)
خلافت سے محبت اور دین کی خدمت: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ انصار کو خلافت کی اہمیت اور اس کی حفاظت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں:’’آپ نے انصار کا نام قبول کیا ہے تو اُن(صحابہؓ۔ناقل) جیسی محبت بھی پیدا کریں۔ آپ کے نام کی نسبت خدا تعالیٰ سے ہے اور خدا تعالیٰ ہمیشہ رہنے والا ہے۔ اس لیے تمہیں بھی چاہئے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ انصار کے نام کو ہمیشہ کے لیے قائم رکھو اور ہمیشہ دین کی خدمت میں لگے رہو۔ کیونکہ اگر خلافت قائم رہے گی تو اس کو انصار کی بھی ضرورت ہو گی۔ خدام کی بھی ضرورت ہو گی اور اطفال کی بھی ضرورت ہو گی۔ ورنہ اکیلا آدمی کوئی کام نہیں کر سکتا۔ اکیلا نبی کوئی کام نہیں کر سکتا۔ دیکھو حضرت مسیح علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حواری دیئے ہوئے تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے صحابہؓ کی جماعت دی۔ اسی طرح اگر خلافت قائم رہے گی تو ضروری ہے کہ اطفال الاحمدیہ۔ خدام الاحمدیہ اور انصاراللہ بھی قائم رہیںاور جب یہ ساری تنظیمیں قائم رہیں گی تو خلافت بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے قائم رہے گی۔ ‘‘(سبیل الرشاد جلد اوّل صفحہ ۱۲۱۔شائع کردہ مجلس انصاراللہ )
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:’’آپ نے، انصار نے اپنے عہد میں ایک عہد یہ بھی کیایا دوسرے لفظوں میں اس ذمہ داری کو نبھانے کا، اٹھانے کا وعدہ اور اعلان کیا کہ خلافت احمدیہ سے وفا کا تعلق اور اس کی حفاظت کے لیے کوشش کریں گے۔ یہ کوشش کس طرح ہوگی ؟ یہ کوشش تبھی ہوگی جب انصار خلافت کے کاموں اور پروگراموں کو آگے بڑھانے کے لیے اس کے مددگار بنیں گے اور یہ تبھی ہوسکتا ہے جب انصار اپنے آپ کو خلیفہ وقت کی باتوں کے سننے کی طرف متوجہ رکھیں گے اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس زمانے میں ایم ٹی اے کی نعمت بھی عطا فرمائی ہے جس کے ذریعہ کہیں دُور بیٹھے ہوئے ان باتوں کو سنا جاسکتا ہے۔ پس انصاراللہ کو اپنے آپ کو اس کے ساتھ جوڑنے کی ضرورت ہے۔ ‘‘(الفضل انٹرنیشنل ۲۱تا۲۷؍اکتوبر۲۰۱۶ء صفحہ۵۔ خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍ستمبر ۲۰۱۶ء)
اپنی اولاد کو خلافت سے وابستہ کرنا: انصاراللہ کی ایک اہم ذمہ داری یہ ہے کہ ہم ابراہیمی نمونہ کو اپنا کر خود اپنے آپ کو اور اپنی اولادوں کو خدا کی راہ میں ہمیشہ وقف رکھیں اور اپنی اولادوں کی اس رنگ میں تربیت کریں کہ نسل در نسل ہم میں خدمت دین کا فریضہ ادا کرنے والے پیدا ہوتے چلے جائیں۔ہم دنیا بھر میں اسلام کے غالب آنے کے لیے اور ہماری نسلوں میں ہزاروں پشتوں تک دین کا بوجھ اٹھانے والے پیدا ہونے اور ہوتے چلے جانے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور دردوالحاح سے دعائیں کریں اور ان دعائوں سے کبھی غافل نہ ہوں۔
بحیثیت ممبر انصاراللہ ہر ناصر کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ نعمت خلافت کی دل وجان سے قدر کرے اور اپنی نسلوں کی تربیت کی خاطر ابراہیمی نمونے کو اپناکر اپنے اعلیٰ نمونے اپنی نسلوں کے سامنے پیش کرے۔ جب وہ خود اطاعت کے اعلیٰ معیار قائم کرے گا اور اسلام احمدیت کے پودے کی آبیاری کے لیے اپنی جان، مال، وقت اور عزت کی قربانی کے لیے ہر دم تیار ہوگا اور خلافت علیٰ منہاج النبوۃ کے ساتھ دلی وابستگی کا اظہار کررہا ہوگا تو اس کے ان عملی نمونوں کو دیکھ کر اس کی اولاد در اولاد کے دلوں میں بھی خلافت سے محبت وعقیدت کی فصلیں پروان چڑھیں گی۔ قبل ازیں سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ممبران انصاراللہ سے مخاطب ہوتے ہوئے اُنہیںاُن کے عہد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے خلافت کے ساتھ وابستہ ہونے اور خاص طورپر ایم ٹی اے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے آپ کو خلافت سے جوڑنے کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’اسی طرح یہ بھی عہد کیا کہ اولادوں کو بھی خلافت سے جوڑیں گے تو علاوہ اَور باقی تربیتی باتوں کے اپنی اولادوں کو بھی اس ذریعہ سے خلافت کے ساتھ جوڑدیں تاکہ نسلاً بعد نسلٍ یہ وفاؤں کے سلسلے چلتے رہیں اور قائم رہیں تاکہ خدمت اسلام اور اشاعت اسلام کا کام ہمیشہ جاری رہے۔ کیونکہ اشاعت اسلام کاکام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد آپ کے ہی اعلان کے مطابق قدرت ثانیہ کے ذریعہ سے ہونا ہے جو نظام خلافت ہے۔ پس اس کے لیے ہر قربانی کے عہد پر نظر رکھیں۔ یہ عہد آپ نے کیا کہ ہر قربانی آپ کریں گے تو اس پر نظر رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ ‘‘ (الفضل انٹرنیشنل ۲۱تا۲۷؍اکتوبر۲۰۱۶ء صفحہ۵۔ خطبہ جمعہ فرمودہ ۳۰؍ستمبر ۲۰۱۶ء)
پس ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہماری نسلوں کا خادم دین ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ ہم خود نعمت خلافت کی کس حد تک قدر کرنے والے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف خلافت کے ساتھ وابستہ رہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ خلیفہ وقت کے خطبات کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’آپ سے میں توقع رکھتا ہوں کہ آپ اپنی نئی نسلوں کو خطبات باقاعدہ سنوایا کریں یا پڑھایا کریں یا سمجھایا کریں کہ خلیفہ وقت کے یہ خطبات جو اس دور میں دیئے جارہے ہیں یہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والی نئی ایجادات کے سہارے بیک وقت ساری دنیا میں پھیل رہے ہیں اور ساری دنیا کی جماعتیں ان کو براہ راست سنتی اور فائدہ اٹھاتی اور ایک قوم بن رہی ہیں اور امت واحدہ بنانے کے سامان پیدا ہورہے ہیں …سب اگر خلیفہ وقت کی نصیحتوں کو براہ راست سنیں گے تو سب کی تربیت ایک رنگ میں ہوگی۔ وہ سارے ایک قوم بن جائیں گے خواہ ظاہری طور پر ان کی قوموں کا فرق ہی کیوں نہ ہو … وہ ایسے روحانی وجود بنیں گے جو خدا کی نگاہ میں مقبول ٹھہریں گے کیونکہ وہ قرآن کریم کی روشنی میں تربیت پارہے ہوں گے۔ قرآن کریم کے نور سے حصہ لے رہے ہوں گے … اپنی اولاد کو خطبات سنانے کا انتظام کریں … اپنی اولادوں کو ہمیشہ خطبات سے جوڑدیں، اگر آپ یہ کریں گے تو ان پر بہت بڑا احسان کریں گے۔ اپنی آئندہ نسلوںکے ایمان کی حفاظت کرنے والے ہوں گے ان کو غیروں کے حملے سے بچانے والے ہوں گے۔ ان کے اخلاق کی حفاظت کرنے والے ہوں گے۔ ‘‘ (روزنامہ الفضل ربوہ ۳۰؍اگست ۲۰۰۸ء صفحہ۲)
انصار ہونے کی علامت، خلافت کی ہمیشہ ہمیش حفاظت : حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ۲۶؍اکتوبر ۱۹۵۶ ء کو مجلس انصاراللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع کی افتتاحی تقریب سے خطاب کے دوران فرمایا: ۱۔’’یاد رکھو تمہارا نام انصاراللہ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے مددگار۔ گویاتمہیں اللہ تعالیٰ کے نام کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ ازلی اور ابدی ہے۔ اس لیے تم کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ ابدیت کے مظہر ہو جائو۔ تم اپنے انصار ہونے کی علامت یعنی خلافت کو ہمیشہ ہمیش کے لیے قائم رکھتے چلے جائواور کوشش کرو کہ یہ کام نسلاً بعد نسل چلتا چلا جاوے اور اس کے دو ذریعے ہو سکتے ہیں۔ ایک ذریعہ تو یہ ہے کہ اپنی اولاد کی صحیح تربیت کی جائے اور اس میں خلافت کی محبت قائم کی جائے۔‘‘(سبیل الرشاد جلد اوّل صفحہ۱۱۴-۱۱۵۔مطبع ضیاء الاسلام پریس )
۲۔ ’’اگر تم حقیقی انصاراللہ بن جائو اور خداتعالیٰ سے تعلق پیدا کر لو تو تمہارے اندر خلافت بھی دائمی طور پر رہے گی … اگر تم نے خلافت کے نظام کو توڑ دیا تو تمہاری کوئی حیثیت باقی نہیں رہے گی اور تمہیں دشمن کھا جائے گا۔ لیکن اگر تم نے خلافت کو قائم رکھا تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں تباہ نہیں کرسکے گی۔ تم دیکھ لو ہماری جماعت کتنی غریب ہے لیکن خلافت کی وجہ سے اسے بڑی حیثیت حاصل ہے اور اس نے وہ کام کیا ہے جو دنیا کے دوسرے مسلمان نہیں کرسکے۔‘‘ (سبیل الرشاد جلد اوّل صفحہ۱۱۶۔مطبع ضیا ء الاسلام پریس )
۳۔ ’’یہ سب برکت جو ہمیں ملی ہے محض حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے طفیل ملی ہے۔ اب آپ لوگوں کا کام ہے کہ اپنی ساری زندگی آپ کے لائے ہوئے پیغام کی خدمت میں لگادیں اور کوشش کریں کہ آپ کے بعد آپ کی اولاد، پھر اس کی اولاد اور پھر اس کی اولاد بلکہ آپ کی آئندہ ہزاروں سال تک کی نسلیں اس کی خدمت میں لگی رہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خلافت کو قائم رکھیں۔ ‘‘(سبیل الرشاد جلد اوّل صفحہ ۱۱۹۔ شائع کردہ مجلس انصاراللہ )
سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’آپ کا ایک بہت بڑا کام جیسا کہ آپ کے عہد میں بھی ہے، خلافت کی حفاظت کرنا ہے۔ دعائیں کرتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کے فرائض کی مکمل ادائیگی کرتے ہوئے اپنے اور اپنے بیوی بچوں میں خلافت کی مکمل اطاعت کی روح پیدا کریں۔ اس جذبے کو بڑھائیں، سطحی نظر سے نہ دیکھیں کہ مومنین کی جماعت سے انعام کا وعدہ ہے۔ ان الفاظ پر غور کریں کہ کن سے خلافت کا وعدہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی اس انعام کے جاری رہنے کا وعدہ ہے اور انشاءاللہ تعالیٰ یہ جاری رہے گا اور ضرور جاری رہے گا لیکن جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا کہ اپنے معیار ایسے بلند کریں جو ایک حقیقی مومن کے ہونے چاہئیں تاکہ آپ بھی انہی لوگوں کی صف میں شامل رہیں جن سے اس انعام کا وعدہ ہے۔‘‘ (سبیل الرشاد جلد چہارم صفحہ۲۲۷۔ ناشر مجلس انصاراللہ۔ مطبوعہ جولائی۲۰۱۴ء )
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز انصاراللہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ۱۔’’انصاراللہ کو عبادت کا حق ادا کرنے والا ہونا چاہئے جو ایک انتہائی ضروری اور اہم چیز ہے۔ اس کے لیے انسان کی پیدائش کی گئی۔ انسان کی پیدائش کا مقصد ہی عبادت ہے۔ تو جو عبادت کا حق ادا نہیں کرتے وہ پھر انصاراللہ کیسے کہلاسکتے ہیں …ایسے لوگ تو مومن نہیں ہوسکتے اور نہ ہی ایسے لوگ انصاراللہ کہلا سکتے ہیں۔‘‘(الفضل انٹرنیشنل ۴؍مارچ ۲۰۱۱ء صفحہ ۱۲)
۲۔ ’’جب انصاراللہ کا نام اپنے ساتھ لگایا ہے تو سب سے پہلا اور بڑا اور اہم تقاضا انصاراللہ بننے کا یہی ہے کہ اس کی عباد ت کے معیار قائم کئے جائیں … انصاراللہ نے اپنے تعلق باللہ کے ساتھ ساتھ نوجوانوں اور بچوں کے لیے بھی نمونہ بننا ہے اور اگر انصاراللہ میں نمازوں کے بارے میں سستیاں ہوتی رہیں یا ان میں سے ایک بڑا حصہ سستی دکھاتا رہے یا اگر اکثریت نہ سہی مگر ایک حصہ سستی دکھاتا رہے تو جہاں وہ نماز کے اہم فریضہ پر توجہ نہ دے کر اپنے اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق میں کمی کررہے ہوں گے وہاں وہ ایک مذہبی فریضہ پر پوری طرح عمل نہ کرکے ایک ایسا جرم کررہے ہوں گے جو مذہبی جرم ہے۔ نماز ایک ایسا فریضہ ہے جس کا ادا کرنا بہت ضروری ہے۔ ‘‘ (انصارالدین برطانیہ۔ نومبر، دسمبر ۲۰۱۱ء صفحہ ۲۱)
۳۔ ’’پس … انصاراللہ کے الفاظ پر غور کریں، اس عہد پر غور کریں جو آپ اپنے اجلاسوں اور اجتماعوں میں پڑھتے ہیں۔ آج آپ سے تلوار چلانے کا مطالبہ نہیں کیا جارہا، جنگ میں اپنے آپ کو جھونکنے کا مطالبہ نہیں کیا جارہا، توپوں اور گولوں کے سامنے کھڑے ہونے کا مطالبہ نہیں کیا جارہا۔ مطالبہ ہے تو یہ ہے کہ اللہ کے حقوق ادا کرو، اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرو۔ اپنی عبادتوں کے وہ نمونے قائم کرو جو خدا کے لیے بھی مثال بن جائیں اور اطفال کے لیے بھی مثال بن جائیں، وہ تمہاری بیویوں کے لیے بھی مثال بن جائیں اور تمہاری بچیوں کے لیے بھی مثال بن جائیں۔ تمہاری مالی قربانیاں بھی ایسی ہوں جن کے نمونے سے دوسرے بھی فائدہ اُٹھائیں۔ ‘‘(سبیل الرشاد جلد چہارم صفحہ۲۲۶۔شائع کردہ مجلس انصاراللہ۔ مطبوعہ جولائی ۲۰۱۴ء )
پس ہمارا عہد ہم سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہم نہ صرف غلبۂ اسلام کی خاطر اپنی جانی ومالی قربانیوں کے معیار بڑھاتے رہیں بلکہ عبادت الٰہی کے اعلیٰ معیار قائم کریں۔تعلق باللہ میں ترقی کرتے ہوئے خدا نمائی کے وصف سے متصف ہوں۔ ابراہیمی نمونہ اپناتے ہوئے اپنے آپ کونہ صرف اللہ تعالیٰ کی راہ میں ہمیشہ وقف رکھیں بلکہ اپنی اولاد کو اس راہ میں وقف رکھنے کے لیے بھرپور کوشش کریں اور دعاؤں سے کام لیں۔ خلافت حقہ اسلامیہ احمدیہ کی حفاظت کے لیے ہر قربانی کے لیے ہمیشہ تیار رہیںنیزاپنی اولاد کے دلوں میں بھی خلافت کی محبت جاگزین کردیں تاکہ خلافت سے محبت، اخلاص اور وفا کے سلسلے ہماری نسلوں تک محیط ہوجائیں۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
جو اُس سے عہد دہرایا ہوا ہے
مری نسلوں کا سرمایہ ہوا ہے
ہر ایک نعمت ملی ہے اس کے صدقے
اسی سے فیض سب پایا ہوا ہے
(روزنامہ الفضل ربوہ ۲۳؍نومبر ۲۰۰۹ء)
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ہم زمین غزلوں کی تلاش اور کمپیوٹر پر بیٹھنا




