خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء
شکر گزاری بیٹھ جانے کا نام نہیں،شکر گزاری عمل میں مزید ترقی چاہتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تقویٰ کے اعلیٰ ترین معیار پر تھے اس لیے آپؐ نے عبد ِشکور ہونے کا بھی اعلیٰ ترین معیار حاصل کیا اور ساتھ ہمیں تلقین فرمائی کہ تم بھی عبد ِشکور بنو۔ اگر اللہ تعالیٰ کے حقیقی عبد ہونے کا حق ادا کرنا ہے توجوں جوں اللہ تعالیٰ تمہارے پر فضل نازل فرماتا ہے اتنا ہی عبادت کے معیار اونچے کرو اور شکر گزاری کرو۔ خداتعالیٰ کے فضلوں کے نتیجہ میں سُستی نہیں ہونی چاہیے بلکہ عبادت اور شکر گزاری میں آگے سے آگے بڑھنا چاہیے۔ پس جب تک ہم اس نسخے پر عمل کریں گے ہم ترقی کی منازل کو طے کرتے جائیں گے انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔ ان شاء اللہ
اگر ہمیں رزق میں برکت کی خواہش ہے تو اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے
جس مقصد کے لیے واقفین نے اپنے آپ کو وقف کیا ہے وہ بہت عظیم مقصد ہے اور عظیم مقصد حاصل کرنے کے لیے عظیم مقصد حاصل کرنے والوں کے نمونے سامنے ہونے چاہئیں۔ ان پر عمل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے تبھی وہ مقصد بھی حاصل ہو سکتا ہے
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجہؓ کے متعلق فرمایا:اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر کوئی بیوی نہیں دی کیونکہ خدیجہ نے مجھے اس وقت قبول کیا جب دوسروں نے میرا انکار کیا اور جب لوگوں نے میرا انکار کیا تو اس نے میری تصدیق کی۔ جب لوگوں نے مجھے مال سے محروم کیا تو اس نے اپنے مال سے میری مدد کی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اسی سے اولاد عطا فرمائی جبکہ دوسری عورتوں سے مجھے اولاد نہیں دی
نبی اکرمﷺ نے حضرت ابوبکرؓ کے متعلق فرمایا: تم لوگوں سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے بلحاظ اپنی صحبت اور بلحاظ مال خرچ کرنے کے ابوبکر ہیں۔ اگر میں نے کسی کو اپنے رب کے سوا جانی دوست بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو بناتا
نبی کریمﷺ نے فرمایا: مال اور قرض کا بدلہ پوری ادائیگی اور تعریف ہے
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلّم کی بے مثال شکر گزاری
خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 07؍اگست2026ء بمطابق 07؍ظہور1405 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)،یوکے
(خطبہ جمعہ کا یہ متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے شکر گزاری کے معیار،
آپؐ کے عمل اور ارشادات کا ذکر جلسہ سے پہلے خطبہ میں مَیں نے کیا تھا۔ اسی ضمن میں آج بھی بیان کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کے شکرکی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپؐ نے
چھوٹی سے چھوٹی بات کی شکر گزاری
کی بھی ہدایت فرمائی۔ چنانچہ حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ اپنے بندے کے اس فعل پر خوش ہوتا ہے کہ جب وہ کوئی لقمہ کھائے تو اس پر اس کی حمد کرے یا کوئی گھونٹ پیے تو اس پر اس کی حمد کرے۔
(صحیح مسلم مترجم كتاب الذكر والدعاء والتوبة والاستغفار باب استحباب حمداللّٰہ تعالیٰ…حدیث 4901(89) جلد نمبر14 صفحہ نمبر 107، نور فاؤنڈیشن)
اسی طرح حضرت عائشہ ؓفرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن گھر میں داخل ہوئے اور روٹی کا ٹکڑا پڑا ہوا دیکھا۔ آپؐ نے روٹی کا ٹکڑا اٹھایا۔ اسے صاف کیا اور کھا لیا اور فرمایا اے عائشہ! قابل احترام چیز کی عزت کیا کرو۔ جب یہ رزق کی نعمت کسی قوم سے چلی جاتی ہے تو پھر انہیں واپس نہیں ملتی۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الاطعمۃ باب النہی عن القاء الطعام، حدیث 3353)
پس یہ آپؐ کا عمل تھا۔ پھر خود بھی بظاہر ہر چھوٹی بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر کرتے تھے۔ اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتے تھے۔ اپنے گھر والوں کو بھی اس کی تلقین فرماتے تھے۔پس
اگر ہمیں رزق میں برکت کی خواہش ہے تو اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت کا شکر ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چچا زاد اُمِّ ہانیؓ بنتِ ابی طالب کے گھر تشریف لے گئے۔ اس وقت آپؐ کو بھوک لگی ہوئی تھی۔ آپؐ نے فرمایا کیا تمہارے پاس کھانا ہے جسے ہم کھائیں؟ انہوں نے عرض کیا۔ سوکھی ہوئی روٹی کے ٹکڑوں کے علاوہ میرے پاس کچھ نہیں ہے اور مجھے شرم آتی ہے کہ میں انہیں آپؐ کی خدمت میں پیش کروں۔ آپؐ نے فرمایا کہ وہی لے آؤ۔ آپؐ نے انہیں پانی میں ڈال کر ٹکڑے ٹکڑے کیا۔ وہ نمک لے آئیں۔ آپؐ نے فرمایا کیا کوئی سالن ہے؟ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! سوائے کچھ سرکے کے اَور کچھ نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا وہی لے آؤ۔ آپؐ نے اسے اپنے کھانے پر انڈیلا اور اس میں سے کھایا اور اللہ عزّوجل کی حمد کی۔ پھر فرمایا سرکہ کیا ہی عمدہ سالن ہے۔ اے اُمِّ ہانیؓ! وہ گھر غریب نہیں ہوتا جس میں سرکہ ہو۔
(المعجم الصغیر للطبرانی مترجم صفحہ 615 تا 616 حدیث 951 شبیر برادرز لاہور 2014ء)
پس یہ تھے آپؐ کے شکر گزاری کے معیار۔ ہم ان ملکوں میں رہتے ہیں۔ بے شمار نعمتوں سے ہم فائدہ اٹھاتے ہیں اور پھر بھی ہم اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری کا حق ادا نہیں کرتے بلکہ بعض دفعہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر شکوے پیدا ہو جاتے ہیں۔ گھر والوں سے شکوے ہوتے ہیں کہ یہ نہیں لے کے آئے، وہ نہیں لے کے آئے۔
حضرت مصلح موعودؓ نے ان ناشکری کرنے والوں کانقشہ اور صحابہؓ کی شکر گزاری کا نقشہ بڑے مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ تمہارے جسم پر کبھی پھٹا ہوا کپڑا ہو تو تم رونے لگ جاتے ہو اور کہتے ہو کہ ہماری قسمت کیسی پھوٹ گئی کہ ہمیں پہننے کے لیے پھٹا ہوا کپڑا ملا مگر صحابہ ؓکو پھٹا ہوا کپڑا ملتا تو ان کا سر اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جاتا۔ ان کی زبان اس کے احسان کے ذکر سے تر ہو جاتی اور وہ کہتے کتنا اچھا کپڑا ہے جو ہمارے خدا نے ہمیں دیا۔ انہیں اگر سوکھی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا چار دن کے بعد ملتا تو خوشی سے ان کی آنکھوں میں چمک پیدا ہو جاتی اور وہ کہتے الحمدللہ۔ خدا نے ہمیں اپنے انعام سے نوازا ہے۔ آپؓ افراد جماعت کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ یہی وجہ ہے کہ انہیں جو فائدہ سوکھی روٹی کے ٹکڑوں نے دیا وہ تمہیں پلاؤ اور قورمہ بھی نہیں دیتے۔ آج جسے پلاؤ ملتا ہے وہ پلاؤ تو کھاتا جاتا ہے مگر ساتھ ہی اس میں حسرت ہوتی ہے کہ پلاؤ کے ساتھ زردہ بھی ہوتا۔ جسے پلاؤ اور زردہ میسر آئے وہ بھی خون کے آنسو روتا ہے اور کہتا ہے کہ زردے کے ساتھ فِرنی بھی ہوتی۔ جسے دال ملتی ہے وہ گوشت کے لیے روتا ہے۔ جسے گوشت ملتا ہے وہ چاولوں کے لیے تڑپتا ہے۔جسے چار روٹیاں کھانے کو ملیں۔ اس طرح آپؓ نے تفصیل بیان کی ہے۔ بہرحال آپؓ فرماتے ہیں لیکن ان صحابہؓ کا کیا حال تھا وہاں روکھی سوکھی روٹی کا ٹکڑا بھی ملتا تو صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہم تو اس ٹکڑے کے بھی مستحق نہ تھے یہ تو خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے یہ ٹکڑا ہمیں عنایت کیا۔ نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ وہ روکھی روٹی کا ٹکڑا ان کے انگ لگ جاتا تھا۔ ان کے اندر علو ّہمتی پیدا کرتا تھا۔ بلند ہمتی پیدا ہوتی تھی۔ ان کے جذبۂ شکر گزاری کو اور بھی بڑھا دیتا تھا۔ فتح مکہ کے دن جس دن عرب کا مقامِ امارت ختم ہوا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم دس ہزار قدوسیوںکے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے۔ مکہ کے بڑے بڑے اسنادین جن کی ساری زندگی اسلام کی دشمنی میں گزری تھی گردن جھکائے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپؐ نے ان کے سامنے یہ اعلان کیا کہ جاؤ میں تمہیں کچھ نہیں کہتا۔ تم سب میری طرف سے آزاد ہو۔بہرحال یہ اعلان کرنے کے بعد آپؐ حضرت اُمِّ ہانیؓ کے گھر تشریف لے گئے اور اُمِّ ہانیؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی چچا زاد بہن تھیں۔ جیسے کہ بیان ہوا ہے کہ آپؐ نے فرمایا کھانے کو کچھ ہے؟ انہوں نے کہا کھانے کو تو کچھ نہیں، جس طرح ابھی بیان ہوا ہے، اگر میرے پاس ہوتا تو میں خود کھلا دیتی سوائے ایک سوکھی روٹی کے جو کئی دن سے پڑی ہوئی ہے۔ تو آپؐ نے کہا اچھا وہی لے آؤ۔ جب وہ روٹی خدمت میں لے کر آئیں تو آپؐ نے کہا یہ بڑی اچھی روٹی ہے اور تم یونہی افسردہ ہو رہی ہو کہ میرے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں۔ پھر وہ پانی لے کے آئیں۔ آپؐ نے روٹی کو پانی میں بھگویا۔ اس کے بعد فرمایا سالن ہے؟ انہوں نے کہا سالن کہاں سے آنا تھا، میرے پاس تو روٹی بھی نہیں تھی۔ اگر ہوتا تو پہلے نہ میں لے آتی۔ تھوڑا سا سرکہ میرے پاس پڑا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا اچھا سالن ہے۔ وہ اس سرکہ کو لے آئیں جیسا کہ ابھی بیان ہوا ہے اور آپؐ نے بھگوئی اور اس کو کھانے لگ گئے۔ آپؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرکے کو بھی خدا کی نعمت سمجھا اور سوکھی روٹی اس سے کھا کر اس کے فضل کا شکر ادا کیا۔ پس درحقیقت ہاضمہ انسان کی بشاشت سے پیدا ہوتا ہے جو دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اگر خوشی سے ایک معمولی چیز بھی کھائی جائے تو بہت زیادہ قوت پیدا کر دیتی ہے لیکن اگر رنج سے اچھی سے اچھی چیز بھی کھائی جائے وہ انسان کے اندر کوئی قوت پیدا نہیں کرتی۔ آپؓ فرما تے ہیں کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہمیں زیادہ چیزیں ملنی چاہئیں اور کم ملی ہیں مگر وہ صحابہؓ ہر چیز کے متعلق یہ سمجھتے تھے کہ کم ملنی چاہئیں تھیں مگر زیادہ ملیں۔ ان کی شکر گزاری کا طریق یہ تھا کہ تھوڑا سا بھی ملتا تو کہتے یہ بھی بہت زیادہ ہے۔ اس وجہ سے ان کی ایک ایک روٹی بھی انہیں فائدہ پہنچا دیتی تھی جو تمہیں دس دس روٹیاں بھی فائدہ نہیں پہنچاتیں۔ پھر آپؓ نےفرمایا کہ یہ اس لیے ہے کہ تم میں سے بعض نے ابھی تک ایمان کی حلاوت نہیں چکھی۔ تمہارے دل اس حقیقت سے قطعی طور پر بے خبر ہیں کہ تمہیں خدا نے ایک عظیم الشان روحانی کام کے لیے پیدا کیا ہے اور جسے خدا روحانی انقلاب اور تغیر کے لیے پیدا کرے اس کے مقابلے میں دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی ہیچ ہے مگر بجائے اس کے کہ تم اپنے مقام کو سمجھو اور اپنے فرائض کا صحیح احساس پیدا کرو۔ تم نہایت ادنیٰ اور ذلیل چھوٹی چھوٹی باتوں کی طرف متوجہ ہو جاتے ہو اور کہتے ہو مجھے یہ نہیں ملا مجھے وہ نہیں ملا۔ جب تک تمہارے اندر یہ احساس پیدا نہیں ہوتا کہ تمہیں خدا نے کس غرض کے لیے پیدا کیا ہے اور جب تک تم اپنے درجے کو نہ پہچانو اس وقت تک تم نے کام کیا کرنا ہے۔ تم کو خدا نے اس مقام پر کھڑا کیا ہے کہ تمہارا دل خوشی کی لہروں سے ہر وقت پُر رہنا چاہیے اور تمہارے اندر ہر وقت بیداری اور ہوشیاری نظر آنی چاہیے۔ اگر یہ چیز تمہارے اندر پیدا ہو جائے تو فوری طور پر تم میں ایسی قوت پیدا ہو جائے گی کہ قلیل سے قلیل خوراک بھی تمہیں کام کرنے کے قابل بنا دے گی۔
( ماخوذ از عمل کے بغیر کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی،انوارالعلوم جلد 18 صفحہ 475 تا 479)(اسد الغابہ جلد7 صفحہ393 دارالکتب العلمیۃ)
پس یہ نسخہ ہے جسے عمومی طور پر تو ہر احمدی کو، جن کے کم وسائل ہیں ان کو بھی لیکن خاص طور پر واقفینِ زندگی کو اپنی شکر گزاری کے معیار بڑھانے کے لیے استعمال کرنا چاہیے۔
اس کی بہت ضرورت ہے اور اسی طرح اپنے بیوی بچوں میں بھی اس کا زیادہ سے زیادہ احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ
جس مقصد کے لیے واقفین نے اپنے آپ کو وقف کیا ہے وہ بہت عظیم مقصد ہے اور عظیم مقصد حاصل کرنے کے لیے عظیم مقصد حاصل کرنے والوں کے نمونےسامنے ہونے چاہئیں۔ ان پر عمل کرنے کی کوشش ہونی چاہیے تبھی وہ مقصد بھی حاصل ہو سکتا ہے۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہؓ کی خدمت پر شکر گزاری کے ساتھ انہیں کس قدر دعاؤں سے نوازتے تھے اس بارے میں ابو قتادہؓ سے ایک روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے خطاب فرمایا اور ارشاد کیا کہ تم اپنی ساری شام اور ساری رات چلو گے اور کل ان شاء اللہ پانی تک پہنچ جاؤ گے،کسی سفر میں تھے، لوگ اس طرح چلے کہ کوئی کسی کی طرف متوجہ نہ ہوا۔ حضرت ابوقتادہ ؓکہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلتے جاتے تھے یہاں تک کہ آدھی رات گزر گئی اور مَیں آپؐ کے پہلو میں تھا۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونگھ آئی تو آپؐ اپنی سواری پر ایک طرف جھک گئے۔ میں آپؐ کے پاس گیا، میں نے آپؐ کو جگائے بغیر سہارا دیا یہاں تک کہ آپؐ ٹھیک ہو کر اپنی سواری پر بیٹھ گئے۔ پھر آپؐ چلتے گئے یہاں تک کہ اکثر رات گزر گئی۔ آپؐ پھر اونگھ کے باعث اپنی سواری پر جھک گئے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے پھر آپؐ کو بغیر جگائے سہارا دیا یہاں تک کہ آپؐ پھر اپنی سواری پر ٹھیک ہو کر بیٹھ گئے۔ کہتے ہیں پھر اسی طرح چلتے رہے یہاں تک کہ سحر کا آخری حصہ آگیا۔ تو آپؐ پہلی دونوں مرتبہ سے زیادہ جھک گئے یہاں تک کہ قریب تھا کہ آپؐ مڑ کر گر نہ جائیں۔ میں آپؐ کے پاس پہنچا اور آپؐ کو سہارا دیا۔ چنانچہ آپؐ نے سر اٹھایا اور فرمایا کون ہے؟ میں نے عرض کیا ابوقتادہ۔ آپؐ نے فرمایا کہ تم کب سے یوں میرے ساتھ چل رہے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ رات سے میں آپؐ کے ساتھ چل رہا ہوں۔
آپؐ نے فرمایا اللہ تمہاری حفاظت کرے جس طرح تم نے اس کے نبی کی حفاظت کی ہے۔
(صحیح مسلم مترجم كتاب الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الصَّلَاةِ باب قضاء الصلوۃ…حدیث 1091(311) جلد نمبر 3 صفحہ نمبر 165 – 166 نور فاؤنڈیشن)
آپؐ نے انتہائی شکر گزاری کا اظہار فرمایا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے شکر گزاری کے معیار کا کیا اسوہ ہمارے سامنے رکھا۔
ایک روایت میں آتا ہے۔ حضرت ابو امامہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے رب عزوجل نے میرے سامنے مکے کی وادی کو سونا بنا دینے کی پیشکش کی تو میں نے عرض کیا کہ اے میرے ربّ! نہیں۔ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ایک دن بھوکا رہوں اور ایک دن سیر رہوں، اچھی طرح کھاؤں تاکہ جب مَیں سیر ہوں تو تیری حمد و ثنا کروں اور تیرا شکر ادا کر وں اور جب مَیں بھوکا ہوں تو تیری بارگاہ میں عاجزی سے گڑگڑاؤں اور تجھ سے دعا کروں۔
(کتاب اخلاق النبیﷺ و آدابہ از ابن حیان الاصبہانی صفحہ 224 دارالکتاب العربی 1986ء)
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانی نوش فرماتے تو برتن سے ہٹ کر تین سانسوں میں پیتے تھے۔ ایک ہی سانس میں سارا گلاس نہیں پی لیتے تھے بلکہ تین سانسوں میں پانی پیتے تھے۔ ہر سانس پر اللہ کی حمد کرتے تھے اور آخری سانس کے بعد اللہ کا شکر ادا فرماتے تھے۔
(کتاب اخلاق النبیﷺ و آدابہ از ابن حیان الاصبہانی صفحہ 191 دارالکتاب العربی 1986ء)
جیسے آپؐ نے فرمایا ہے کہ پانی کا گھونٹ بھی لو تو شکر کرو، اس کی حمد کرو۔ یہ ہے پانی پینے کا طریقہ۔ شکرگزاری کے ساتھ یہ صحت کے لیے بھی ضروری ہے کہ بجائے ایک دم پینے کے آہستہ آہستہ رک کے پینا چاہیے۔
بخاری میں حضرت ابو ہریرہ ؓکی ایک لمبی روایت ہے۔ کہتے ہیں کہ اللہ کی ہی قَسم ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ مَیں اپنے کلیجے کو سہارا دینے کے لیے زمین سے لگا رہتا تھا اور کبھی تو بھوک کے مارے اپنے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتا تھا۔ ایک دن کی بات نہیں کئی دنوں کی بات ہے۔ کہتے ہیں ایک دن میں لوگوں کے راستے پر بیٹھ گیا۔ جہاں سے وہ لوگ آتے تھے۔ بہت بری حالت تھی۔ وہاں سے حضرت ابوبکرؓ گزرے۔ میں نے ان سے اللہ کی کتاب قرآن کریم کی غریبوں کاخیال رکھنے کے بارے میں، نہ مانگنے والوں کے بارے میں، بھوکے لوگوں کے بارے میں ایک آیت پوچھی تو انہوں نے مجھے اس کا مطلب سمجھایا اور چلے گئے اور اس کے بعد پھر حضرت عمرؓ گزرے۔ انہوں نے بھی اسی طرح مجھے اس کا مطلب بتایا اور چلے گئے۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس سے گزرے اور جب آپؐ نے مجھے دیکھا تو آپؐ مسکرائے اور میرے نفس کی جو کیفیت تھی، میرے چہرے کی جو حالت تھی وہ سمجھ گئے۔ فرمایا: ابوھِر، اباھِر۔ میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہؐ! آپؐ نے فرمایا میرے پیچھے آ جاؤ۔ آپؐ گھر چلے گئے۔ میں آپؐ کے پیچھے پیچھے چلا۔ آپؐ اندر گئے اور مجھے بھی اندر جانے کی اجازت دی۔ آپؐ کے کمرے میں اندر ایک دودھ کا پیالہ پڑا تھا ۔گھر والوں سے پوچھا کہاں سے آیا ہے؟ انہوں نے بتایا کسی طرف سے تحفہ آیا ہے۔بہرحال فرمایا: ابوھِر، اباھِر۔ میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہؐ۔ آپؐ نے فرمایا: اہلِ صُفَّہ کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس لے آؤ۔ یہ وہ لوگ تھے جو اکثر بھوکے ہی رہتے تھے اور ہر وقت وہاں باہر ہی بیٹھے رہتے تھے۔ لوگ ان کو کھانا وغیرہ اپنے ہاں لے جا کے کھلا دیا کرتے تھے۔ بہرحال آپؐ نے ان کو بلایا۔ کہتے ہیں مجھے ان کا یہ بلانا برا لگا۔ میں نے کہا اہل صُفَّہ کے سامنے یہ اتنا سا دودھ کیا چیز ہے؟ میں زیادہ حقدار تھا کہ میں اس دودھ سے کچھ پیتا کہ جس سے مجھ میں طاقت آتی اور اگر وہ آگئے اور آپؐ نے مجھے حکم دیا کہ ان کو دو تو مجھے دینا ہی ہوگا اور پھر مجھے تو امید نہیں ہے کہ اس دودھ سے مجھ تک کچھ پہنچے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی فرمانبرداری سے کچھ چارہ نہ تھا۔ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ آخر میں ان کے پاس آیا اور ان کو بلایا۔ وہ اہلِ صُفَّہ چلے آئے اور اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ آپؐ نے فرمایا اباھِر، ابوہریرہ۔ میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہؐ۔ فرمایا یہ لو اور ان کو دو۔کہتے ہیں میں نے وہ پیالہ لیا۔ ایک آدمی کو دیتا وہ پیتا یہاں تک کہ وہ سیر ہو جاتا۔ پھر دوسرا تیسرا اس طرح پیتے جاتے۔ یہاں تک کہ آخر میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا اور وہ لوگ جو بیٹھے تھے سب سیر ہو چکے تھے۔ انہوں نے اچھی طرح دودھ پی لیا تھا۔ آپؐ نے وہ پیالہ لیا اور اسے اپنے ہاتھ پر رکھا تو میری طرف دیکھا اور مسکرائے اور فرمایا ابوہریرہ۔ میں نے کہا حاضر ہوں یا رسول اللہؐ۔ آپؐ نے فرمایا میں اور تم باقی رہ گئے ہیں۔ میں نے کہا یارسول اللہ! آپؐ نے سچ فرمایا۔ آپؐ نے فرمایا بیٹھ جاؤ اور پیو۔ میں بیٹھ گیا اور میں نے پینا شروع کیا۔ آپؐ نے فرمایا اَور پیو۔ میں نے اَور پیا۔ آپؐ یہی فرماتے رہے اَور پیو۔ میں نے اتنا پیا کہ آخر میں نے کہا اب نہیں۔ اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے میں اب اس کے لیے کوئی راستہ نہیں پاتا جس میں اس کو اتاروں۔ بالکل پیٹ بھر گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا مجھے دکھاؤ تومیں نے پیالہ آپؐ کو دے دیا۔ آپؐ نے پہلے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا حالانکہ بھوک آپؐ کو بھی تھی۔ آپؐ نے اللہ تعالیٰ کا پہلے شکر ادا کیا اور اللہ کا نام لیا اور وہ بچا ہوا دودھ پی لیا۔(صحیح البخاری کتاب الرقاق باب کیف کان عیش النبیﷺ… حدیث6452 مترجم جلد 15 صفحہ 220 تا 223 شائع کردہ نظارت اشاعت) تو یہ آپؐ کی شکر گزاری تھی اور اس شکر گزاری کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے برکت بھی ایسی ڈالی کہ سب صحابہؓ نے بھی پی لیا اور آپؐ نے بھی اپنی بھوک اس سے مٹائی۔
حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس پر کوئی احسان کیا جائے وہ اس کا بدلہ دے اور جس میں یہ طاقت نہ ہو وہ اس احسان کا لوگوں کے سامنے ذکر کرے کیونکہ جو شخص ذکر کرتا ہے وہ شکر ادا کرتا ہے اور جو شخص بناوٹی طور پر اپنے آپ کو بڑائی کا حامل خیال کرتا ہے حالانکہ وہ بڑائی اسے حاصل نہیں تو وہ اس شخص کی مانند ہے جس نے جھوٹ کے دو لباس پہنے ہوئے ہیں یعنی سر سے پاؤں تک جھوٹا ہے۔
(مسند الامام احمد بن حنبل، مسند عائشہ جلد 8 صفحہ 142-143 حدیث 25100 عالم الکتب)
روایت میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ماموں اَسْوَد بن وَھْب بن عبد ِمَنَاف بن زُہرہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے میرے ماموں! اندر تشریف لاؤ۔ وہ اندر آئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اپنی چادر بچھا دی۔ فرمایا اس پر بیٹھ جائیں کیونکہ ماموں باپ کے قائم مقام ہوتا ہے۔ اے ماموں! جس شخص پر کوئی احسان کیا جائے اور وہ اس کا شکریہ ادا نہ کرے تو کم از کم اس احسان کا ذکر ہی کر دے کیونکہ جب وہ اس کا ذکر کرتا ہے تو گویا اس نے شکر ادا کر دیا۔
(السیرۃ الحلبیہ جلد 2 صفحہ 313دارلکتب العلمیۃ 2008ء)
اور شکر کے اس پہلو کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی سیرت میں ہم کس طرح دیکھتے ہیں۔
بہت سارے واقعات ہیں۔ ہمیشہ اپنے محسنوں کو آپؐ نے یاد کیا اور ہر موقع پر ان کا ذکر کرتے رہے۔ مثلاً حضرت خدیجہؓ جو آپؐ کی زوجہ محترمہ تھیں جنہوں نے قدم قدم پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدردانی کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے حسنِ سلوک کیا۔ وہ مکہ کی مالدار خاتون تھیں۔ جب ان کی شادی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوئی تو انہوں نے اپنا سارا مال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں رکھ دیا کہ جس طرح چاہیں آپؐ استعمال فرمائیں۔
پھر دعویٰ نبوت کے بعد ہر تکلیف اور ہر مشکل میں پورے اخلاص و وفا کے ساتھ آپؐ کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں یہاں تک کہ دس نبوی میں ان کی وفات ہو گئی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اس وفاشعار بیوی کے احسانوں کو اپنے آخری دم تک یاد رکھا اور ہمیشہ ان کی نیکیوں کا تذکرہ فرماتے رہے۔ اتنا تذکرہ فرماتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری ازواجِ مطہرات کو رشک آتا۔ چنانچہ حضرت عائشہ بیان فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت خدیجہؓ کا ذکر فرماتے تو ان کی تعریف کرتے اور بہت اچھی تعریف فرماتے۔ ایک دن مجھے غیرت آگئی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ آپؐ کیا اس بڑھیا کا ذکر کرتے رہتے ہیں حالانکہ اللہ عزوجل نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے بہتر بیویاں عطا فرما دی ہیں۔ اس پر
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اس سے بہتر کوئی بیوی نہیں دی کیونکہ خدیجہ نے مجھے اس وقت قبول کیا جب دوسروں نے میرا انکار کیا اور جب لوگوں نے میرا انکار کیا تو اس نے میری تصدیق کی۔ جب لوگوں نے مجھے مال سے محروم کیا تو اس نے اپنے مال سے میری مدد کی اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اسی سے اولاد عطا فرمائی جبکہ دوسری عورتوں سے مجھے اولاد نہیں دی۔
(مسند الامام احمد بن حنبل،مسند عائشہ جلد8 صفحہ204 حدیث25376 عالم الکتب1998ء)
آپؐ نے تمام عمر اُن کی خدمات کو یاد رکھا اور ہمیشہ شکر گزاری کا اظہار فرماتے رہے۔
اسی طرح اپنے دوستوں کا جنہوں نے جس طرح بھی آپؐ کی مدد کی بڑا شکر گزاری سے اظہار کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عمرؓ اور حضرت ابوبکرؓ کے درمیان اختلاف ہوا اور اس کی اطلاع جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپؐ نے دوسروں کو حضرت ابوبکرؓ کے بڑے بڑے احسانات یاد دلائے اور صحابہؓ کو انہیں ایذا نہ دینے کی تلقین فرمائی۔ جب دونوں معاملہ لے کر آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے۔ دونوں کو احساس ہوا۔حضرت ابوبکر ؓبھی کہیں مَیں نے حضرت عمر پر زیادتی کی ہے،میں معافی چاہتا ہوں۔ حضرت عمرؓ نے کہا میں نے زیادتی کی ہے معافی چاہتا ہوں۔ بہرحال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کی باتوں پر غور نہیں کیا بلکہ ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ انہوں نے کیوں حضرت ابوبکرؓ سے بحث کی ہے اور پھر آپؐ نے فرمایا: ابوبکر! اللہ آپ کی پردہ پوشی فرمائے اور درگزر فرمائے۔ پھر حضرت عمرؓ بھی نادم ہوئے اور حضرت ابوبکرؓ کے گھر پر آئے اور جب یہ دونوں بیٹھے ہوئے تھے تو آپؐ نے فرمایا کہ اے لوگو! اللہ نے مجھے تمہاری طرف مبعوث کیا اور تم نے کہا تُو جھوٹا ہے اور ابوبکر نے کہا سچا ہے اور انہوں نے اپنی جان اور مال سے میرے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا تو کیا تم میرے ساتھی میرے لیے چھوڑو گے بھی یا نہیں۔ آپؐ نے دو دفعہ فرمایا۔ پھر اس کے بعد حضرت ابوبکر ؓکو کبھی تکلیف نہیں دی گئی۔ ہمیشہ آپؓ کا خیال رکھا جاتا تھا۔
(صحیح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ باب قول النبی ﷺ: لو كنت متخذا خليلا حدیث3661 مترجم جلد 7 صفحہ 153 -154 شائع کردہ نظارت اشاعت)
حضرت ابو سعید خدریؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: اللہ نے ایک بندے کو اختیار دیا ہے کہ دنیا کو پسند کرے یا اس نعمت کو پسند کرے جو اللہ کے پاس ہے تو اس بندے نے وہ نعمت پسند کی جو اللہ کے پاس ہے۔ ابو سعیدؓ کہتے ہیں یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ رو پڑے اور ہم نے ان کے رونے پر تعجب کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو ایک ایسے بندے کا ذکر فرما رہے ہیں جس کو اختیار دیا گیا ہے اور حضرت ابوبکر ؓسن کر رو پڑے ہیں۔ درحقیقت اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے جنہیں اختیار دیا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ ہم صحابہ میں سب سے زیادہ اس بات کا علم رکھنے والے تھے اس لیے آپؓ رو پڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
تم لوگوں سے مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والے بلحاظ اپنی صحبت اور بلحاظ مال خرچ کرنے کے ابوبکر ہیں۔ اگر میں نے کسی کو اپنے رب کے سوا جانی دوست بنانا ہوتا تو میں ابوبکر کو بناتا۔
(صحیح البخاری کتاب فضائل اصحاب النبیﷺ باب قول النبیﷺسدواالابواب …حدیث 3654 مترجم جلد 7 صفحہ 149-150 شائع کردہ نظارت اشاعت)
اب حضرت ابوبکرؓ کے رونے کی وجہ یہ تھی کہ اس بات کو سن کے ان کو خیال آگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے پاس بلانا چاہتا ہے۔
جب مسلمانوں پر مکہ میں طرح طرح کے مصائب ڈھائے گئے تو انہوں نے خدا تعالیٰ کے اذن سے حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ اس وقت شاہ حبشہ نے ان کو اپنے ملک میں پناہ دی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بادشاہ نجاشی کے اس احسان کو ہمیشہ یاد رکھا اور ہر موقع پر آپؐ نے اس احسان کی شکر گزاری کا اظہار اپنے اقوال و افعال سے فرمایا۔ چنانچہ جب نجاشی کا وفد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے استقبال کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپؐ کے صحابہؓ نے عرض کی یا رسول اللہ ہم کافی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا: انہوں نے ہمارے ساتھیوں کو بڑے اکرام سے رکھا تھا، بڑی عزت کی تھی اور میں پسند کرتا ہوں کہ ان کے اس احسان کا بدلہ خود اتاروں۔
(السیرۃ النبویہ لابن کثیر جلد 2 صفحہ31مکتبہ دارالمعرفہ)
پھر آپؐ نے اسی شکرگزاری کے جذبے کے تحت بادشاہ کا جنازہ غائب بھی پڑھا تھا۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب نجاشی کی وفات کی خبر ملی تو آپؐ نے اس کی نماز جنازہ غائب ادا کی اور صحابہؓ نے آپؐ کے پیچھے صفیں بنائیںاور آپؐ نے اس میں چار تکبیریں کہیں۔
(مسند الامام احمد بن حنبل، مسند ابی ہریرۃ جلد 3 صفحہ 551 حدیث 9644 عالم الکتب)
انصار کے عمل پر آپؐ کی شکر گزاری کا اظہار
ایک روایت میں یوں ملتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کے تیرھویں سال ہجرت سے قبل مدینہ سے ستّر لوگوں نے بیعت کی۔ حضورؐ کی ہجرت سے قبل نبوت کے تیرھویں سال مدینہ سے ستر لوگوں نے حضورؐ کے ہاتھ پر بیعت کی اور عہد کیا کہ جب حضورؐ مدینہ تشریف لائیں گے تو ہم اپنی جانوں کی طرح حضورؐ کی حفاظت کریں گے۔ اس موقع پر ایک انصاری صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ! مدینہ کے یہود کے ساتھ ہمارے پرانے تعلقات ہیں۔ آپؐ کا ساتھ دینے سے وہ منقطع ہو جائیں گے۔ ایسا نہ ہو کہ جب اللہ آپؐ کو غلبہ دے تو آپؐ ہمیں چھوڑ دیں اور مکہ واپس آ جائیں۔ حضورؐ نے فرمایا: نہیں نہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔ تمہارا خون میرا خون ہوگا۔ تمہارے دوست میرے دوست اور تمہارے دشمن میرے دشمن۔
(السیرۃ النبویہ لابن ہشام صفحہ 315 دارالکتب العلمیۃ 2001ء)(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد3 صفحہ201 مکتبہ دارالکتب العلمیۃ بیروت)
حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بیت الخلاء میں گئے تو میں نے آپؐ کے لیے وضو کا پانی رکھا۔ آپؐ نے پوچھا یہ کس نے رکھا ہے تو آپؓ نےبتایا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دعا دی کہ اَللّٰھُمَّ فَقِّھْہُ فِی الدِّیْنِ۔ اے اللہ! اسے دین کی سمجھ دے۔(صحیح البخاری مترجم کتاب الوضوء باب وضع الماء عند الخلاء حدیث 143 جلد 1 صفحہ 233 شائع کردہ نظارت اشاعت)معمولی سے کام پر بھی آپؐ شکرگزاری کا اظہار فرماتے تھے۔
ایک روایت ہے کہ غزوۂ خیبر کے بعد راستے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شادی حضرت صفیؓہ سے ہوئی۔ شادی والی رات حضرت ابو ایوبؓ خالد بن زیدؓ نے رات بھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خیمہ کے باہر پہرا دیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح بیدار ہوئے اور دیکھا کہ ابو ایوبؓ باہر پہرا دے رہے ہیں تو ان سے پوچھا اے ابوایوب! خیریت تو ہے کیا بات ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے آپؐ کے بارے میں اس عورت سے خدشہ محسوس ہوا کہ کہیں یہ آپؐ کو نقصان نہ پہنچائے کیونکہ جنگِ خیبر میں آپؐ نے اس کے باپ اور اس کے خاوند اور اس کے لوگوں کو ہلاک کر دیا اور اس نے نیا نیا اسلام قبول کیا ہے۔ اس لیے مجھے اس کی طرف سے آپؐ کے متعلق خوف پیدا ہوا۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ ان کا یہ اخلاص دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی کہ اے اللہ تو ابو ایوب کی اسی طرح حفاظت فرما جس طرح اس نے رات بھر میری حفاظت کی۔
(الروض الأنف جلد4صفحہ85،أبوایوب یحرس الرسول لیلۃ … دارالکتب العلمیۃ)
مُطْعِم بن عَدِی وہ شخص تھا جس نے قریش کا ظالمانہ صحیفہ چاک کیا تھا اور طائف سے واپسی پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی پناہ میں لے کر مکہ میں داخل کیا تھا۔ چنانچہ جب بدر کے قیدی آپؐ کے سامنے آئے تو آپؐ نے مطعم کے احسانات کا ذکر فرمایا۔ روایت میں ہے کہ محمد بن جُبَیر نے اپنے باپ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے قیدیوں کی نسبت فرمایا۔ اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتے اور مجھ سے ان ناپاک لوگوں کے متعلق سفارش کرتے تو میں ان کی خاطر ان کو چھوڑ دیتا۔
(صحیح البخاری مترجم کتاب فرض الخمس باب ما من النبی ﷺعلى الأسارى… حدیث3139 جلد 5 صفحہ 487 – 488 شائع کردہ نظارت اشاعت)(السیرۃالحلبیۃ جلد1 صفحہ507و487 مکتبہ دارالکتب العلمیۃ)
حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بھی اس واقعہ کو لکھا ہے اور یہ واقعہ لکھنے کے بعد لکھا ہے کہ مطعم پکا مشرک تھا اور اسی حالت میں مرا لیکن طبیعت میں شرافت کا مادہ تھا۔ چنانچہ قریش کا ظالمانہ صحیفہ جس کی وجہ سے مسلمان شعب ابی طالب میں محصور تھے، اسے مطعم نے ہی چاک کیا تھا اور جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے واپس آئے تو اس وقت بھی مطعم نے ہی آپؐ کو اپنی پناہ میں لے کر مکہ میں داخل کیا تھا۔ یہ اسی احسان کی یاد تھی جس سے متاثر ہو کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ الفاظ فرمائے۔ دراصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ ایک نمایاں خصوصیت تھی کہ جب کبھی کوئی شخص آپؐ کے ساتھ ذرا سا بھی نیک سلوک کرتا تو آپؐ اس کے احسان کو کبھی فراموش نہیں کرتے تھے اور آپ ؐکی ہمیشہ یہ خواہش رہتی تھی کہ آپؐ کو اس کے احسان کا عملی شکریہ ادا کرنے کا موقع ملتا رہے اور یہ نہیں تھا کہ دنیا داروں کی طرح جب آپؐ ایک دفعہ کسی کے احسان کے جواب میں نیک سلوک کر لیتے تو پھر کہنے لگ جاتے کہ بس اب احسان کا بدلہ اتر گیا ہے بلکہ آپؐ ہمیشہ تمام زندگی اس کا احسان اتارنے کی کوشش فرماتے یا ذکر کرتے۔
(مأخوذ ازسیرت خاتم النبیینﷺ صفحہ365-366)
عبداللہ بن ابی رَبِیعہ مَخْزُومی اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب حنین کے غزوہ کے لیے تشریف لے گئے تو ان سے تیس یا چالیس ہزار قرض لیا گیا اور جب حنین سے واپس تشریف لائے تو اس کو ادا کر دیا۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے تمہارے اہل میں اور مال میں برکت ڈالے۔
مال اور قرض کا بدلہ پوری ادائیگی اور تعریف ہے۔
یعنی قرض دینے والے کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے۔
(سنن ابن ماجہ کتاب الصدقات باب حسن القضاء حدیث2424)
حضرت عمرو بن اَخْطَبؓ بیان کرتے ہیں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی طلب فرمایا۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک برتن میں پانی لایا۔اس میں ایک بال تھا۔ میں نے وہ بال نکال دیا۔ معمولی سی بات ہے۔ اور وہ برتن رسول اللہ ﷺکو پیش کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اَللّٰھُمَّ جَمِّلْہُ۔ کہ اے اللہ اسے خوبصورت بنا دے۔
کوئی معمولی سا بھی موقع نہیں ہوتا تھا جو آپؐ شکریہ ادا نہ کرتے ہوں۔
راوی کہتے ہیں کہ میں نے بعد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کا ان پہ اثر دیکھا کہ انہوں نے ترانوے برس کی عمر پائی اور ان کے سر اور داڑھی میں کوئی بھی بال سفید نہیں تھا۔
(مسند الامام احمدبن حنبل،مسند عمرو بن اخطب ابو زید جلد 7صفحہ 600حدیث23271 عالم الکتب1998ء)
اسی طرح قتادہ سے ایک روایت ہے۔ انہوں نے کہا میں نے حضرت انسؓ سے سنا انہوں نے کہا حضرت اُمّ سُلَیْمؓ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا۔ انس آپؐ کا خادم ہے۔ آپؐ نے انس کے لیے دعا کی کہ اے اللہ! اس کے مال اور اولاد کو بڑھا دے اور جو تُو نے اسے عطا کیا ہے اس میں اس کے لیے برکت دے۔
(صحیح البخاری مترجم کتاب الدعوات باب قول اللہ تبارک و تعالیٰ وصل علیھم …حدیث 6334 جلد 15 صفحہ 59 نظارت اشاعت)
اس دعا کے پورا ہونے کا ذکر یوں ملتا ہے کہ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قَسم! یقینا ًمیرا مال بہت زیادہ ہے اور میری اولاد اور میری اولاد کی اولاد کی تعداد آج قریباً سَو تک پہنچتی ہے۔
(صحیح مسلم مترجم کتاب فضائل الصحابہ باب من فضائل انس بن مالکؓ جلد13 صفحہ 124 حدیث 4517(143)مطبوعہ نور فاؤنڈیشن)
پھر آپؐ نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔ یہ حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص پر کوئی احسان کیا گیا۔ پھر اس نے اس کا ذکر کیا تو اس نے اس کا شکر ادا کر دیا اور جس نے اس کو چھپایا تو اس نے اس کی ناشکری کی۔
(سنن ابی داؤدکتاب الادب باب فی شکر المعروف حدیث4814)
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم تحفہ قبول فرماتے اور اس کا بدلہ بھی دیتے تھے۔
(سنن ابی داؤد کتاب البیوع باب فی قبول الھدایاحدیث3536)
حضرت جابر بن عبداللہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص کوکوئی تحفہ دیا جائے۔ اگر اس کی استطاعت ہو تو اس تحفہ کا بدلہ دے اور اگر استطاعت نہ ہو تو تحفہ دینے والے کی تعریف کرے کیونکہ جس نے اس کی تعریف کی اس نے شکریہ ادا کر دیا اور جس نے اس کو چھپایا تو اس نے ناشکری کی۔
(سنن ابی داؤد کتاب الادب باب فی شکر المعروف حدیث4813)
یہ ہیں وہ بنیادی اخلاق جو معاشرے میں محبت اور رواداری پیدا کرنے کے لیے بہت ضروری ہیں۔
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک بدوی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک اونٹنی تحفةً پیش کی تو آپؐ نے اسے اس کے بدلہ میں چھ اونٹنیاں دیں۔
(جامع الترمذی أَبْوَابُ الْمَنَاقِبِ بَابٌ فِي ثَقِيفٍ وَبَنِي حَنِيفَةَ حدیث 3945)
حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپؐ سے مانگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نصف وسق غلہ ادھار لے کر دیا یعنی تقریبا ًکوئی اسّی کلو کے قریب۔ پھر ادھار دینے والا شخص اس کا تقاضا کرنے آیا تو آپؐ نے اسے ایک وسق عطا فرمایا اور فرمایا نصف اس کے قرض کی ادائیگی کے طور پر اور نصف اس کے لیےشکر گزاری کے طور پر بطور تحفہ ہے۔
(الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ لقاضی عیاضصفحہ 77-78دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)
حضرت ابو ھِنْدؓ سے روایت ہے کہ تمیم بن اوس الدَّارِی شام سے مدینہ کی طرف قندیلیں، زیتون کا تیل اور بٹی ہوئی رسیاں لائے۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو اتفاق سے وہ جمعہ کی رات تھی۔ انہوں نے اپنے غلام کو حکم دیا۔ اس نے رسیاں تیار کیں۔ مسجد نبوی میں قندیلیں لٹکائیں، روشنیاں، لیمپ تھے ان میں تیل ڈالا، ان میں بتی رکھ دی اور جب سورج غروب ہوا تو تمیم نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ انہیں روشن کر دو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ مسجد ان چراغوں سے روشن ہو رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور فرمایا یہ کس نے کیا ہے؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐتمیم داری نے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دعا دی اور فرمایا تم نے تو اسلام کو منور کر دیا ہے۔ اللہ دنیا اور آخرت میں تمہیں منور کرے اور پھر فرمایا اگر میری کوئی بیٹی ہوتی تو میں تمہارا نکاح اس سے کر دیتا یعنی اس کے اس فعل کو اتنا سراہا کہ انہوں نے مسجد کو روشن کیا۔
(الجامع لاحکام القرآن( تفسیرالقرطبی) جلد2صفحہ 2205-2206 زیر آیت فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ دارابن حزم)(الطبقات الکبریٰ جلد 7 صفحہ 286 مکتبہ دارالکتب العلمیۃ)
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم رات کو نماز میں اتنا کھڑا رہتے تھے کہ آپؐ کے پاؤں پھٹ جاتے تھے۔ یہ دیکھ کر حضرت عائشہؓ نے کہا یا رسول اللہ ؐ! آپؐ ایسا کیوں کرتے ہیں حالانکہ اللہ نے آپ کو پہلے بھی گناہوں سے محفوظ رکھا ہے اور بعد میں بھی۔ آپؐ نے فرمایا کیا مجھے پسند نہیں کہ شکر گزار بندہ ہو جاؤں۔ یہاں لکھا ہے کہ جب آپؐ کاجسم فربہ ہوا۔ ہو سکتا ہے کہ جب کھڑے ہوتے ہوئے ٹانگوں میں کوئی تکلیف ہوتی تو بہرحال آپؐ بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے لیکن بیٹھ کر نماز پڑھتے ہوئے قیام یعنی سورت فاتحہ اور سورتیں تو بیٹھ کے (تلاوت) کر لیتے تھے لیکن جب رکوع کرنا چاہتے تو پھر کھڑے ہو جاتے اور پھر رکوع کرتے تھے۔
(صحیح البخاری مترجم کتاب تفسیر …بَابُ قَوْلِهِ ‘‘لِيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ ’’ حدیث 4837 جلد 12 صفحہ 83 شائع کردہ نظارت اشاعت)
عَطآء روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابنِ عمر اور عبید اللہ بن عمر کے ساتھ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضرت ابن عمرؓ نے اُمّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کی کہ مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی عجیب ترین بات بتائیں جو آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں دیکھی ہو۔ اس پر حضرت عائشہ ؓآپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یاد سے بیتاب ہو کر رو پڑیں اور کہنے لگیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا ہی نرالی ہوتی تھی۔ کہتی ہیں ایک دفعہ کاذکر ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات میرے پاس تشریف لائے، میرے ساتھ بستر میں لیٹے۔ آپؐ نے فرمایا اے عائشہ! کیا آج کی رات تُو مجھے اجازت دیتی ہے کہ میں اپنے رب کی عبادت کر لوں؟ میں نے کہا خدا کی قسم! مجھے تو آپؐ کی خواہش کا احترام اور آپؐ کا قرب پسند ہے۔ میری طرف سے آپؐ کو اجازت ہے۔ تب آپؐ اٹھے اور مشکیزے سے وضو کیا۔ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور نماز میں اس قدر وئے کہ آپؐ کے آنسوآپؐ کے سینے پر گرنے لگے۔ نماز کے بعد آپؐ دائیں طرف ٹیک لگا کر اس طرح بیٹھ گئے کہ آپؐ کا دایاں ہاتھ آپؐ کے دائیں رخسار کے نیچے تھا اور پھر رونا شروع کر دیا یہاں تک کہ آپؐ کے آنسو زمین پر ٹپکنے لگے حتّٰی کہ فجر کی اذان دینے کے بعد بلالؓ آئے۔ جب انہوں نے آپؐ کو اس طرح گریہ و زاری کرتے ہوئے دیکھا تو کہنے لگے یا رسول اللہؐ ! آپ اتنا کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ آپؐ کے گذشتہ اور آئندہ ہونے والے سارے گناہ بخش چکا ہے۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں اور میں کیوں نہ روؤں کہ آج رات میرے رب نے یہ آیات نازل کی ہیں اور وہ اٰل عمران کی یہ آیات ہیں اِنَّ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِ وَاخۡتِلَافِ الَّیۡلِ وَالنَّہَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ۔ الَّذِیۡنَ یَذۡکُرُوۡنَ اللّٰہَ قِیٰمًا وَّقُعُوۡدًا وَّعَلٰی جُنُوۡبِہِمۡ وَیَتَفَکَّرُوۡنَ فِیۡ خَلۡقِ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرۡضِۚ رَبَّنَا مَا خَلَقۡتَ ہٰذَا بَاطِلًاۚ سُبۡحٰنَکَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران:191-192) اس کا ترجمہ یہ ہے کہ یقینا ًآسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے ادلنے بدلنے میں صاحبِ عقل لوگوں کے لیے نشانیاں ہیں۔وہ لوگ جو اللہ کو یاد کرتے ہیں کھڑے ہوئے بھی اور بیٹھے ہوئے بھی اور اپنے پہلوؤں کے بل بھی اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غوروفکر کرتے رہتے ہیں۔ اور بےساختہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ! تُو نے ہرگز یہ بے مقصد پیدا نہیں کیا۔ پاک ہے تُو۔ پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
(تفسیرروح البیان۔ زیر تفسیر سورۂ آل عمران آیت نمبر191-192جلد 2 صفحہ 150 دارالکتب العلمیۃ 2003 ء) (اخلاق النبی ﷺ و آدابہ۔صفحہ 408-409، ذکر فعلہ فی لیلتہ، و فی فراشتہ …۔ حدیث 553۔ داراللؤلؤۃ۔ قاہرہ۔ 2016ء)
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان آیتوں کو پڑھنے کے بعد فرمایا کہ اس شخص کے لیے ہلاکت ہے جو یہ آیات پڑھتا ہے مگر ان پر غور و فکر نہیں کرتا۔
(روح المعانی۔ زیر تفسیر سورۂ آل عمران آیت نمبر191-192 جلد 4 صفحہ 499-500 دار احیاء التراث 1999ء)
حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’عربی کے الفاظ یہ ہیں اَلَا اَکُوْن عَبْدًا شَکُوْرًا۔‘‘ آپؐ کی شکر گزاری کے بارے میں جو حدیث تھی فرمایا کہ’’اے عائشہؓ! کیا خدا کا ہی کام ہے کہ وہ محسن بنے۔ بندے کا کام نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے؟اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسے انسان بھی باوجود ان تمام قربانیوں کے جو آپ نے کیں،باوجود جذباتِ محبت کی اس فراوانی کے جو آپ خدا تعالیٰ کے متعلق رکھتے تھے پھر بھی اس بات کے محتاج تھے کہ راتوں کو اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور اتنی اتنی دیر کھڑے رہتے کہ آپ کے پاؤں سوج جاتے، دن کو عبادت کرتے اور اپنی زندگی کو زیادہ سے زیادہ خداتعالیٰ سے ملنے کے قابل بناتے تو اَور کون انسان ہے جو اپنے آپ کو ان ذمہ داریوں سے مستغنی قرار دے سکے۔‘‘
(قیام پاکستان اور ہماری ذمہ داریاں،انوارالعلوم جلد 19 صفحہ 439 – 440 )
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام بھی اس بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نمازوں میں اس قدر روتے اور قیام کرتے کہ آپؐ کے پاؤں پر ورم ہو جاتا۔ صحابہؓ نے عرض کی کہ خدا تعالیٰ نے آپؐ کے تمام گناہ بخش دیئے ہیں پھر اس قدر مشقت اور رونے کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا کیا میں خدا کا شکر گذار بندہ نہ ہوں۔‘‘
(ملفوظات حضرت مسیح موعودؑ جلد 6صفحہ 231 )
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حالت ہم سب سے تقاضا کرتی ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کاشکر گزار ہوتے ہوئے اپنی شکر گزاری کو انتہا تک پہنچائیں۔ شکر گزاری بیٹھ جانے کا نام نہیں،شکر گزاری عمل میں مزید ترقی چاہتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تقویٰ کے اعلیٰ ترین معیار پر تھے اس لیے آپؐ نے عبد ِشکور ہونے کا بھی اعلیٰ ترین معیار حاصل کیا اور ساتھ ہمیں تلقین فرمائی کہ تم بھی عبد ِشکور بنو۔ اگر اللہ تعالیٰ کے حقیقی عبد ہونے کا حق ادا کرنا ہے تو جوں جوں اللہ تعالیٰ تمہارے پر فضل نازل فرماتا ہے اتنا ہی عبادت کے معیار اونچے کرو اور شکر گزاری کرو۔ خداتعالیٰ کے فضلوں کے نتیجہ میں سستی نہیں ہونی چاہیے بلکہ عبادت اور شکر گزاری میں آگے سے آگے بڑھنا چاہیے۔پس جب تک ہم اس نسخے پر عمل کریں گے ہم ترقی کی منازل کو طے کرتے جائیں گے انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی۔ ان شاء اللہ۔
حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی وضاحت میں آگے ایک جگہ یہ بھی فرمایا کہ نادان ہے وہ شخص جس نے کہا ’’کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ‘‘۔ فارسی کا مصرع ہے کہ تیرے کرم ہی ہیں جنہوں نے مجھے گستاخ بنا دیا ہے۔ شاعر اللہ کو یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کرم نے مجھے گستاخ بنا دیا۔ بجائے اس کے شکر گزار بنتا گستاخ بن گیا۔ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتے یہ تو غلط کہتا ہے وہ اور سرکش نہیں بنایا کرتے بلکہ اَور زیادہ شکر گزار اور فرمانبردار بناتے ہیں۔
پس تم لوگ پہلے کی نسبت زیادہ شکر گزار بن جاؤ کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ(ابراہیم: 8) کہ جو کچھ تمہیں دیا گیا ہے اگر تم ان پر شکر ادا کرو گے تو تمہیں اَور زیادہ دوں گا۔
(ماخوذ از خطبات محمود جلد5 صفحہ361-362)
اللہ تعالیٰ ہمیں حقیقی شکر گزار بنائے۔ حقیقی عابد بنائے۔ ہم ہمیشہ اس کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بنتے رہیں۔
٭…٭…٭



