ہمارا سب سے پہلا فرض دعوت الی اللہ ہے(قسط اول)
(خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمودہ ۱۵؍اگست ۱۹۳۰ء)
حضرت مصلح موعودؓ کے بیان فرمودہ اس خطبہ جمعہ میں حضورؓ نے احباب جماعت کو دعوت الی اللہ کرنے کی نصیحت فرمائی ہے۔ قارئین کے استفادے کے لیے یہ خطبہ شائع کیا جاتا ہے۔(ادارہ)
کیا یہ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ دنیا کی اصلاح کیلئے اپنا ایک مأمور بھیجے مگر اُس کی تعلیم کو چھپانا لوگوں کی بھلائی کے لئے ضروری ہو اور اُسے پھیلانا مُضِرّ ہو۔ اگر یہ صورت تھی تو خدا تعالیٰ کو مأمور بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ جو شخص یہ خیال کرتا ہے وہ سخت غلطی میں پڑا ہوا ہے اور روحانی بیماری میں مبتلاء ہے جتنی جلدی ہو سکے اسے اس کا علاج کرنا چاہئے
انسان کتنی ہی احتیاط سے کوئی بات کرے پھر بھی میں نے دیکھا ہے کہ بعض لوگوں کو اس کے متعلق غلط فہمی ہو جاتی ہے اور جب تک متواتر تفصیل اور وضاحت سے بات نہ سمجھائی جائے بہت سے لوگ اس کے سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ میں نے پچھلے دنوں میں اور اتفاق یہ ہے کہ پچھلے ہی جمعہ کے خطبہ میں اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ہمارے احباب اُن مصائب میں جو عام مسلمانوں پر پڑتے ہیں اور جو خواہ ہماری جماعت سے تعلق رکھتے ہوں یا نہ رکھتے ہوں ایسا ہمدردانہ رویہ اختیار کریں جو دوسرے مسلمانوں کی راہنمائی کا موجب ہو اور مسلمانوں میں ایسی تحریکِ اتحاد کی رَو چل پڑے جس کے ماتحت وہ مشترک امور میں اپنے اختلافات بُھول کر ایک دوسرے کی تائید اور تقویت کے لئے تیار ہو جائیں۔ میں مسلمانوں کے تفرقہ اور شِقاق کو دیکھتے ہوئے ایک عرصہ سے یہ نصیحت کرتا آیا ہوں اور اتفاق ایسا ہؤا کہ پچھلے جمعہ خطبہ اسی پر پڑھا لیکن ساتھ ہی یہ کہتا چلا آیا ہوں کہ یہ امر ہمارے لئے دوسرے درجے پر ہے۔

اصل فرض جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ہمارے ذمہ لگایا گیا ہے وہ اشاعتِ اسلام اور تبلیغ احمدیت ہے
اور جب تک مشترکہ امور میں اتحاد کا کام ہمارے اِس فرض میں روک نہیں بنتا،جب تک یہ کام ہماری قوتوں کو کمزور نہیں کرتا اور جب تک یہ کام ہمارے ارادوں کو اصل فرض سے جُدا نہیں کرتا اُس وقت تک ہم ہر طاقت و قوت اور ہر ذریعہ اس کے کامیاب بنانے کے لئے خرچ کرنے کو تیار ہیں لیکن اگر ایسا ہو کہ اس کام میں حصہ لینا ہمارے اصل مقصد میں روک ہو جائے، ہمارے اصل فرض میں کمزوری پیدا کر دے تو ہم اس کا خیال چھوڑ دیں گے اور اصل کام کو جو خدا تعالیٰ نے مقرر کیا ہے مقدّم کر لیں گے۔ مگر باوجود اس کے کہ متواتر میں نے اس طرف توجہ دلائی ہے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض جماعتیں اور بعض افراد اِس حقیقت کو نہیں سمجھ سکے۔
۱۹۲۷ء میں مَیں نے جب یہ تحریک کی تو خبر آئی تھی کہ بعض جماعتیں اور بعض افراد تبلیغِ احمدیت میں کمزوری دکھا رہے ہیں۔ بعض لوگوں کے دلوں میں یہ وسوسہ پیدا ہو رہا ہے کہ اگر ہم تبلیغِ احمدیت کریں گے تو لوگ ہمارے ساتھ نہیں ملیں گے۔ حالانکہ اگر لوگ مشترکہ امور میں اِس لئے ہمارے ساتھ نہیں ملتے کہ ہم اپنے مذہب کو پھیلاتے اور اپنے عقائد کی تبلیغ کرتے ہیں تو ایسے لوگوں سے ہمیں اتحاد کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اہلحدیث سے کبھی یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ ہم سے اتحاد کے لئے اپنے عقائد چھوڑ دیں اور ان کی تبلیغ نہ کریں نہ کبھی ہم حنفیوں سے یہ کہتے ہیں کہ وہ اپنے عقائد چھوڑ کر اتحاد میں شریک ہوں۔ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں اگر حنفی اپنے عقائد کی تبلیغ کریں اور ثابت کریں کہ جو عقائد ان کے ہیں وہ درست ہیں۔ نہ صرف ہم اس کے خلاف نہیں ہوں گے بلکہ ان کے دلائل بشاشت سے سننے کے لئے تیار ہیں۔ اسی طرح ہم اہلحدیث سے یہ نہیں کہتے کہ اپنا کوئی عقیدہ چُھپائیں یا اُسے پھیلائیں نہیں اگر وہ پہلے سے بھی زیادہ زور کے ساتھ اپنے عقائد کی اشاعت کریں بشرطیکہ ضِدّ اور تعصب سے کام نہ لیں گالی گلوچ نہ کریں تو نہ صرف ہمیں ان پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا بلکہ خوشی سے ان کی مجالس میں جا کر باتیں سننے کے لئے تیار ہیں۔ پس ہم کسی فرقہ سے یہ نہیں کہتے کہ وہ اپنے مذہب کی تبلیغ چھوڑ دے یا اپنے عقائد کو چُھپائے اس لئے اگر کوئی قوم اشارۃ ًبھی ہم سے یہ مطالبہ کرے کہ ہم تبلیغِ احمدیت چھوڑ دیں تو ہم ایسے لوگوں سے اتحاد کی کوئی پرواہ نہیں کریں گے۔
اگر مذہب میں دخل اندازی کے معنے اتحاد ہیں تو اس اتحاد کو ہم نے مدت سے چھوڑا ہوا ہے۔
ہم تو اتحاد کی تعریف ہی یہ کرتے ہیں کہ اس میں مذہب کا تعلق نہیں ہو گا بلکہ یہ تمدنی، سیاسی اور ملکی اتحاد ہے۔ اس اتحاد میں ہم شریک ہونا چاہتے اور دوسروں کو شریک کرنا چاہتے ہیں ورنہ
ہم کسی ایسے سمجھوتے کو لعنت سمجھتے ہیں جس میں سچائی کو چُھپانے کا اقرار کرنا پڑے۔ ہم دوسروں کے لئے بھی پسند نہیں کرتے کہ وہ اپنے عقائد چُھپائیں کُجا یہ کہ اپنے عقائد چُھپائیں۔
حتیّٰ کہ مجھ سے اگر اہلحدیث آ کر کہیں کہ ہم اپنے عقائد کی تبلیغ چھوڑ دیں گے آؤ ہم سے اتحاد کر لو تو خواہ مجھے وہ اپنے عقائد چھوڑنے کے لئے نہ کہیں تو بھی مَیں ان سے کہوں گا مَیں تم سے اتحاد کے لئے تیار نہیں ہوں۔ جب تم نے اپنے بزرگوں سے وفاداری نہ کی تو ہم سے کیا کرو گے۔ پس جبکہ میں کسی مخالف سے بھی یہ امید نہیں کرتا کہ وہ اتحاد کی خاطر اپنے عقائد چھوڑ دے تو مَیں اپنی جماعت کو کس طرح کہہ سکتا ہوں کہ وہ اپنے عقائد کی تبلیغ نہ کرے۔ مگر باوجود اِس قدر وضاحت کے ساتھ بیان کر دینے کے
بعض لوگوں کو دھوکا لگا ہے کہ اتحاد کی خاطرتبلیغ نہیں کرنی چاہئے۔ ایسا شخص بے حد کمزوری دکھاتا اور بڑی اصلاح کا محتاج ہے اسے چاہئے توبہ کرے اور اس قسم کے خیال کو دل سے نکال دے۔
اگر ہم دوسرے فرقوں کے ساتھ باوجود اِس کے کہ وہ اپنے عقائد کی تبلیغ کریں اتحاد کے لئے تیار ہیں تو ان کا کیا بِگڑتا ہے اگر ہم باوجود اپنے عقائد کی تبلیغ کے ان کے ساتھ اتحاد کریں۔ پس کسی جگہ کی جماعت کو اس بارے میں کمزوری نہیں دکھانی چاہئے بلکہ
تبلیغِ احمدیت اسی زور سے بلکہ پہلے سے بھی زیادہ زور سے کرنی چاہئے ۔
بھلا غور تو کرو ہم مذہب کو کس طرح چُھپا سکتے ہیں
اگر اپنے مذہب کو ہم سچا سمجھتے ہیں تو ہمارا فرض ہے کہ پورے زور کے ساتھ اس کی طرف لوگوں کو بُلائیں اور اسے قبول کرنے کی دعوت دیں یہ ان کے ساتھ خیر خواہی ہے نہ کہ دشمنی۔
اور
اگر ہم اپنے مذہب کو سچا سمجھ کر دوسروں سے چُھپاتے ہیں تو ان پر ظلم کرتے ہیں
لیکن اگر دنیا کی نجات ، مسلمانوں کی ترقی اس میں ہے کہ احمدیت کو چھوڑ دیا جائے تو پھر ہم اِس میں رہ کر لوگوں پر ظلم کرتے ہیں۔
کیا یہ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ دنیا کی اصلاح کیلئے اپنا ایک مأمور بھیجے مگر اُس کی تعلیم کو چھپانا لوگوں کی بھلائی کے لئے ضروری ہو اور اُسے پھیلانا مُضِرّ ہو۔ اگر یہ صورت تھی تو خدا تعالیٰ کو مأمور بھیجنے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ جو شخص یہ خیال کرتا ہے وہ سخت غلطی میں پڑا ہوا ہے اور روحانی بیماری میں مبتلاء ہے جتنی جلدی ہو سکے اسے اس کا علاج کرنا چاہئے۔
اور یاد رکھنا چاہئے جس طرح آج سے پہلے ہمارے تبلیغی جلسے ہوتے رہے وفاتِ مسیح علیہ السلام اور ختمِ نبوت پر وعظ ہوتے تھے اسی طرح آج بھی اور آئندہ بھی ہونے چاہئیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ہمارے مخالف حیاتِ مسیح کا ذکر نہ کریںوہ حیاتِ مسیح کے ثبوت میں جو دلائل رکھتے ہیں بڑی خوشی سے پیش کریں ہم وفاتِ مسیح کا ثبوت دیں گے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ وہ یہ نہ کہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور وہ کہیں کہ ہم یہ نہ کہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں تو ایک دوسرے کے لئے اتحاد کا دروازہ بند کرتے ہیں۔ ہر ایک کے لئے اپنے عقائد پیش کرنے کا دروازہ کھلا ہے۔ ہم اہلحدیثوں سے اتحاد کے لئے یہ مطالبہ نہیں کرتے کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سچا سمجھیں تب اُن سے مشترکہ امور میںمتحد ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح اہلحدیثوں کو یہ مطالبہ نہیں کرنا چاہئے کہ جب تک حدیثوں کو سب پر مقدّم نہ کیا جائے گا اتحاد نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح حنفیوں کو یہ مطالبہ نہیں کرنا چاہئے کہ اہل حدیث سینہ پر ہاتھ نہ باندھیں۔ اسی طرح اہلحدیث یہ نہ کہیں کہ حنفی رفع یدین کریں تب اتحاد ہو سکتا ہے۔ اگر سیاسی اور مُلکی صلح اور اتحاد کے لئے یہ شرطیں ضروری ہوں تو بتاؤ اسلام کا کیا باقی رہ جائے گا۔ یہ صلح نہیں ہو گی بلکہ مذہب کو بگاڑنے والی بات ہو گی۔
ہر ایک کا حق ہے جو چاہے عقیدہ رکھے اور جہاں چاہے بیان کرے۔
وہ لوگ جو ہمارے ساتھ ملکی اتحاد کرنے کے لئے تیار ہیں اور وہ اخبار جو اِس مقصد کے لئے ہمارے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں وہ
اگر ہمارے خلاف ایسے مضامین شائع نہ کریں جس میں گالی گلوچ ہو، تضحیک ہو، ہتک ہو، بلکہ وہ علمی طور پر حیاتِ مسیح ثابت کریں تو ہم اس پر ذرہ بھی بُرا نہیں منائیں گے۔
اسی طرح اگر وہ اس قسم کے مضامین شائع کریں کہ نبوت بند ہو گئی ہے رسول کریم ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا تو ہمیں اس پر کوئی افسوس نہیں ہو گا بشرطیکہ وہ گالی گلوچ سے کام نہ لیں۔
ان کا حق ہے کہ اپنے عقائد بیان کریں اور ہمارا حق ہے کہ ہم اپنے عقائد پیش کریں۔
(جاری ہے)




