اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان
۲۰۲۵ء میں سامنےآنے والے تکلیف دہ واقعات سے انتخاب
[تسلسل کے لیے دیکھیں الفضل انٹرنیشنل ۲۰؍اگست۲۰۲۶ء]
ان انتباہوں کو دھمکی گردانتے ہوئے ایک مظلوم و بےبس جماعت کو تحفظ دینے کی بجائےاعلیٰ انتظامیہ نے بعینہٖ یہ خط مقامی انتظامیہ کو بھیج کر ان سے ضروری عمل درآمد کا تقاضا کر دیا۔ اس حکم نامے نے پنجاب اور دیگر علاقوں میں احمدیوں کے خلاف زبردست قانونی کارروائیوں کا دروازہ کھول دیا۔ پولیس نے جماعت احمدیہ مسلمہ کے اراکین کو تھانوں میں طلب کیا اور ان سے اس بات پر زبردستی حلف نامے اور ضمانتی مچلکے لیے کہ وہ نہ تو عید کی نماز ادا کریں گے نہ ہی قربانی یا کوئی بھی ایسی مذہبی رسم ادا کریں گے جو اسلامی رسومات کے مشابہ ہو۔ ان اقدامات میں بغیر کسی بھی قانونی جواز کے جرمانوں اور قید و بند کی ایک خفیہ دھمکی موجود تھی۔اشتعال انگیزی اور انتظامی دباؤ کے اس ہیجان انگیز ماحول میں جماعت احمدیہ کے مرکزی دفتر نے ۲۹؍مئی کو وزیر اعلیٰ پنجاب کو ایک مراسلہ بھیجا جس میں تشدد، ہراسانی اورعید کی ادائیگی کے معاملات میں مداخلت کے متعلق خطرات سے آگاہ کیا۔ اس مراسلے میں آئینی شقوں، قانونی جوازوں اور مختلف عدالتی فیصلوں کا حوالہ دیا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ احمدی ذاتی مکانات اور مساجد میں اپنی عبادت کرنے کا حق رکھتے ہیں اور ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا کہ وہ احمدیوں کے تحفظ کویقینی بنانے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو احکامات جاری کریں۔ یہ مراسلہ ۲؍جون کو پنجاب کی وزارت داخلہ کو بھی بھیجا گیا جس کے فوری بعد ۵؍جون کو اعلیٰ انتظامیہ کو ایک حکم نامہ جاری کیا گیا۔ لیکن اس حکم نامے کا اثر نہ ہونے کے برابر ہوا کیونکہ ۷؍جون کو عید تھی اور عمل درآمد کے لیے درکار وقت انتہائی محدود۔اکثر اضلاع میں یا تو یہ حکم نامہ پہنچا ہی نہیں اور اگر پہنچا تو اسے کوڑے دان کی نذر کر دیا گیا۔اور احمدیوں کے خلاف سخت گیر کارروائیاں عمل میں لائی گئیں۔ پورے پاکستان میں احمدیو ں کی عید کی رسومات کی ادائیگی میں مداخلت کی گئی۔ سرگودھا، فیصل آباد،گوجرانوالہ اور گجرات میں چار احمدیوں اور تین غیر احمدیوں کے خلاف ایسی دفعات کےتحت مقدمات درج کیے گئےجن کی سزا کم سے کم تین سال تک ہو سکتی ہے۔ کم سے کم آٹھ اضلاع میں احمدیوں سے ضمانتی مچلکے لیے گئے جن میں پنجاب میں راولپنڈی، سرگودھا، لاہور،ڈیرہ غازی خان،واہ کینٹ۔ سندھ میں کراچی اورعمرکوٹ اور آزاد کشمیر میں میرپور شامل ہیں۔
۲۰؍اضلاع میں نماز عید کی ادائیگی پر پابندی لگا دی گئی۔ بعض علاقوں میں احمدیوں کے اکٹھا ہونے پر ہی مکمل پابندی عائد کر دی گئی۔ بعض علاقوں میں نماز عید کی ادائیگی کے اوقات تبدیل کیے گئے۔ کئی جگہ نمازیوں کو زیر حراست لے لیا گیا، سوالات کیے گئے اور کئی جگہ احمدیوں کو تھانے تک لے جایا گیا۔ قربانی پر پابندیاں تو انتہائی سنگین تھیں۔ ۲۰۲۵ء میں ملک بھر میں ۱۵۲؍ایسے واقعات کی اطلاع ملی جہاں پر احمدیوں کو زبردستی قربانی سےروکا گیا۔کچھ واقعات میں پولیس نے براہ راست مداخلت کی،کئی مقامات پر قربانی کے جانوروں کو ضبط کر لیا گیا، کچھ جگہوں پر مقدمات درج کیے گئے، کہیں پر احمدیوں کو پولیس کی موجودگی میں شدت پسند گروہوں کی جانب سے تحقیر و ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا تو کہیں تشدد اور قانونی مقدمات کی دھمکیوں کا۔
۲۰۲۵ء میں احمدیوں کی جانب سے عید کی ادائیگی کے حق کو تحفظ دینے کی بجائے اسے امن عامہ کے لیے ایک خطرے کے طور پر دیکھا گیا۔ شدت پسندوں کے دباؤ کے سامنے ریاستی اداروں کا ڈھیر ہو جانا، احمدیوں کے خلاف سخت گیر رویّہ اپنانا، اور ذاتی مذہبی عبادت کو مجرمانہ عمل قرار دیا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ کیسے مذہبی مقاطعہ کی پالیسی نافذالعمل ہے اور کیسے بار بار عید کی رسومات کی ادائیگی ریاست کی جانب سے جبر پر مبنی پابندیوں کے اطلاق کا محرک بن جاتی ہے۔
ربوہ میں احمدیہ مسجد پر اسلحے سے حملے کے نتیجے میں آٹھ افراد زخمی
۱۰؍اکتوبر کو جماعت احمدیہ کے مرکز ربوہ ضلع چنیوٹ میں مسجد بیت المہدی پر ایک مسلح حملہ آور نے گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔یہ حملہ نماز جمعہ کی ادائیگی سے کچھ دیر قبل کیا گیا جس کے نتیجے میں آٹھ احمدی شدید زخمی ہو گئے۔
مصدقہ اطلاعات کے مطابق حملہ آور صبح کے وقت اپنی گاڑی میں آیا اور گاڑی کو گول بازار میں مسجد کے قریب ہی کھڑا کیا۔ اور پھر تقریباً ایک بجکر تئیس منٹ پر اس نے مسجد کے باہر صدر دروازے کے سامنے ڈیوٹی پر مامور افراد پر گولیاں برسا دیں جس کے نتیجے میں ڈیوٹی پر مامور چار احمدی نوجوان زخمی ہو گئے۔ جب دوسری حفاظتی چوکی پر موجود نوجوان اس کی طرف بڑھے تو اس حملہ آور نے انہیں بھی نشانہ بنایا۔جس کے نتیجے میں اس نے دو مزید احمدی نوجوانوں کو بھی زخمی کردیا۔ اسی اثناء میں اس حملہ آور پر جوابی فائرنگ کی گئی جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گیا۔ پولیس نے اس حملہ آورکی نعش کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ بم کو ناکارہ بنانے والے ادارے نے اس حملہ آور کی گاڑی کا معائنہ کیا اور پھر پولیس نے اس گاڑی کو بھی اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس صورتحال کے باعث مسجد میں موجود نمازیوں کو باحفاظت مسجد سے نکال لیا گیا۔اس حملہ آور کی شناخت شعیب بن ضیغم کے نام سے ہوئی جو کہ راجن پور کا رہائشی تھا لیکن اس کا عارضی پتہ لاہور کے علاقے کا تھا۔ اس حملے کے بعد انتظامیہ نے مسجد بیت المہدی سے ملحقہ راستوں کو بند کر دیا۔ پولیس کی بھاری نفری کو وہاں تعینات کر دیا گیا اور اس میں ریسکیو ۱۱۲۲ کا عملہ بھی شامل تھا۔ ڈپٹی کمشنر،ڈی پی او، اور اسسٹنٹ کمشنر نے جائے وقوعہ کا معائنہ کیا۔ اور انتظامیہ کی جانب سے رسمی تحقیقات اور قانونی کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا۔ طبی امداد فراہم کرنے والوں کی جانب سے بتایا گیا کہ ایک احمدی خادم کو چہرے، پیٹ اور ٹانگ پر گولیاں لگیں۔ایک دوسرے کو بازو، پیٹ اور جبڑے پر گولیاں لگیں۔ تیسرے کو پیٹ اور دونوں ٹانگوں پر گولیاں لگیں۔ چوتھے کو ٹانگ پر گولی لگی۔ دو افراد کو ٹانگوں پر گولیاں لگیں۔ اس کے علاوہ دو احمدی نوجوانوں کو معمولی زخم آئے۔ تمام زخمیوں کو فضل عمر ہسپتال ربوہ لے جایا گیا جہاں پر یہ لوگ کئی دن تک زیر علاج رہے۔ اس حملے کے بعد مذہبی اثر ورسوخ رکھنے والے افراد نے سرعام اس حملے پر سوالات اٹھانے شروع کر دیے اور جماعت احمدیہ پر ہی اس حملے کا الزام لگادیا۔ تحریک ختم نبوت کے امیر مولوی الیاس چنیوٹی نے اپنی ایک ویڈیومیں کہا کہ اس حملہ آور کی عمر اورانداز عام دہشتگردوں کے برعکس دکھائی دیتا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے کہا کہ اس کے ساتھی ڈی پی او سے ملے ہیں او راس بات کا تقاضا کیا ہے کہ وہ تحقیقات کریں کہ آیا احمدیوں نے خود ہی تو کسی کو اس کام کے لیے تعینات نہیں کیا؟ یہ سب بیانات اس موقع پر دیے گئے جب احمدیوں کی مسجد پر حملہ کیا گیا۔ ان کے لوگ زخمی ہوئے اور انہیں ہسپتال میں بھرتی کرنا پڑا اور مسجد کوبھی حفاظتی نقطہ نگاہ سے خالی کروانا پڑا۔
ربوہ ایک محصور شہر
مسجد بیت المہدی پر حملے کو ربوہ پر عرصہ دراز سے ہونے والے ظلم و جبر کے تناظر میں دیکھنا ہو گا۔ ربوہ (جس کا نام زبردستی تبدیل کرکے چناب نگر کر دیا گیا ہے) جو کہ جماعت احمدیہ پاکستان کا مرکز ہے اور اس میں بالحاظ آبادی احمدی سب سے زیادہ ہیں کبھی بھی احمدیوں کے لیے محفوظ مقام نہیں رہا۔ آبادی زیادہ ہونے یا مرکزی دفاتر کی موجودگی کبھی احمدیوں کو ظلم وستم اور ریاستی غنڈہ گردی سے محفوظ نہیں رکھ سکی۔ اس کے برعکس ربوہ ایک ایسا مقام بن چکا ہے جہاں پر احمدیوں کے خلاف ظلم و ستم کے تسلسل اور اس کی گہرائی کا باآسانی مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔
دسمبر ۱۹۸۹ء میں ربوہ کے تھانے میں FIR No. ۳۶۷/۸۹ ایک ایف آئی آر تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔ج کے تحت درج کی گئی۔ یہ ایف آئی آر کسی فرد واحد کے خلاف درج نہیں کی گئی بلکہ اس میں پورے کے پورے شہر میں کسی بھی مذہبی عمل کو مجرمانہ سرگرمی قرار دے کر ساری احمدی آبادی کو ظلم وستم کے سیلاب کی نظر کر دیا گیا۔ ۱۹؍سال کے بعد ایک بار پھر سے اسی بربریت کو دہرایا گیا۔ ۸؍جون ۲۰۰۸ء کو پولیس نے تھانہ ربوہ میں ایک ایف آئی آر نمبر۰۸/۲۵۴ تعزیرات پاکستان کی دفعات ۲۹۸۔ج، ۲۸۵ اور ۳۳۷-H2 کے تحت درج کی۔ ایف آئی آر میں درج کیا گیا کہ ربوہ اور اس کے گر دو نواح میں جماعت احمدیہ نے ا پنے مذہبی تہوار کے موقع پر تزئین و ا ٓرائش کر کے ایک مجرمانہ سرگرمی کو انجام دیاہے۔ اس موقع پر ایک احمدی محمد یونس کو حراست میں لے لیا گیا اور ایک ماہ بعد ضمانت پر رہا کیا گیا۔
ربوہ میں کھلے عام اورخصوصاً مذہبی بنیاد پر جان لیوا تشدد کے واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ ۱۲؍اگست ۲۰۲۲ء کے دن ربوہ کے بس سٹیشن پر ۶۰؍سال کے ایک احمدی نصیر احمد کو ایک شدت پسند نے چاقو سے حملہ کر کے شہید کردیا۔ اس حملہ آور نے ان سے تقاضا کیا تھا کہ وہ ایک مخصوص شدت پسند جماعت کے حق میں نعرے بازی کریں۔ جس سے انکار پر وہ اپنی جان گنوا بیٹھے۔ یہ حملہ دن دیہاڑے اور کھلے عام کیا گیا۔ وہ حملہ آور مقتول کو نہیں جانتا تھا اور اس نے حملہ صرف اورصرف مذہبی بنیاد پر کیا۔ اس حملے نے اس بات کو واضح کر دیا کہ جماعت کے خلاف نفرت انگیزی اور کھلے عام اشتعال انگیزی کے ماحول میں اپنے ہی شہر کے اندر ظاہری اکثریت بھی احمدیوں کو محفوظ نہیں رکھ سکتی۔
ریاستی ادارے خود ہی ربوہ میں احمدیوں کے خلاف ہر قسم کے ظلم و ستم میں ملوث ہیں۔ ۲۰۱۲ء میں ایک سکول ٹیچر اور مقامی عہدیدار عبد القدوس صاحب ربوہ تھانہ کی پولیس کی جانب سے ایک ناجائز اور لمبی غیر قانونی حراست سے رہائی کے فوری بعد ہی وفات پا گئے۔ انہیں ایک ماہ تک پولیس نے کسی مقدمے کے بغیر اپنی حراست میں رکھا اور انہیں شدید جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ اس واقعے کی سنگین نوعیت کے باوجود احتساب کا عمل نہ ہونے کے برابر ہوا اور نہ ہی کسی اعلیٰ عہدیدار سے کوئی باز پرس ہوئی۔
دسمبر ۲۰۱۶ء میں ادارہ برائے انسداد دہشتگردی پنجاب نے ربوہ میں جماعت کے دفاتر اور پرنٹنگ پریس پر مسلح نفری کے ساتھ چھاپہ مارا۔ یہ لوگ بغیر کسی عدالتی حکم نامے کے وہاں آئے،کارکنان پر تشدد کیا، کارکنان کو صرف احمدی ہونے کی بنیاد پر گرفتار کیا، املاک کو اپنے قبضے میں لے لیا اور وہاں موجود لوگوں پر احمدیت مخالف اور دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیے۔ اس واقعے نے عیاں کر دیا کہ جماعت احمدیہ کے مرکزی دفاتر بھی ریاستی بربریت سے محفوظ نہیں ہیں۔
ان حالات کے پیش نظر مسجد بیت المہدی پر ہونے والے حملے کو ایک انفرادی واقعہ شمار نہیں کیا جا سکتا۔ بلکہ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ کس طرح سے ریاست کی جانب سے ربوہ کو اجتماعی مجرمانہ سرگرمیوں، اجتماعی تشدد،امتیازی قانونی اور انتظامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ۱۰؍اکتوبر ۲۰۲۵ء کا واقعہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ کیسے ایک ایسے شہر میں جو کہ جماعت احمدیہ کے ساتھ منسوب ہے احمدی جان لیوا تشدد، اشتعال انگیزی اور ریاست کی جانب سے عدم تحفظ کا شکار ہیں۔




