تعارف کتاب

’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ کی تشریح(از حضرت حافظ سید مختار احمد صاحب شاہجہانپوری رضی اللہ عنہ)

(اواب سعد حیات)

تعارف کتب صحابہ کرامؓ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام(قسط ۸۰)

اس مختصر رسالہ میں مصنف نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کو پیش کرکے دعویٰ نبوت کی حقیقت اور تفصیل بیان کی ہے

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی حضرت حافظ سید مختار صاحب رضی اللہ عنہ تھے جو شاہجہانپور، اترپردیش، انڈیا کے ایک ممتاز سادات گھرانے میں پیدا ہوئے اور ۱۸۹۲ء میں امامِ زمانہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ کی بیعت کی سعادت پائی۔آپؓ ایک جیّد عالم تھےجو اردو ادب میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔ علمائے سلسلہ اکثر اپنی تصانیف کی طباعت سے قبل نوک پلک آپؓ سے درست کرواتےتھے۔ ایک راوی بتاتے ہیں کہ آپؓ کی میز پرمسوّدات کا ڈھیر لگا ہوتا۔ اور اسی طرح حضرت حافظ صاحبؓ  کی محفل علم و حکمت کا گویا دربار تھا۔ قرآن، حدیث، فقہ، تفسیر، تصوف، منطق اور فلسفہ، ہر موضوع پر بات ہورہی ہوتی تھی۔

آپؓ اردو کے قادرالکلام شاعر تھے۔ آپؓ کا کلام سلسلے کے رسالوں اور اخباروں میں شائع ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ غیرمطبوعہ کلام کہیں زیادہ تھا۔ ایک دفعہ کسی نے درخواست کی کہ آپؓ ان سب کو اکٹھا کر کے دیوان کی صورت میں شائع کیوں نہیں کر دیتے؟ جواب میں فرمایا کہ میرے دیوان سے سلسلے کے کام زیادہ اہم ہیں۔

اس روایت کی تائید نئی دہلی سے تخلیق کار پبلیشرز کی شائع کردہ کتاب ’’سخنوران شاہجہانپور۔ ایک تذکرہ ‘‘ سے بھی ہوتی ہے جس میں کتاب کے مصنف مبارک شمیم نےحضرت حافظ مختار صاحبؓ  کا بھی تذکرہ کیا ہے ۔آپؓ کے خاندانی اور ذاتی تعارف اور نمونہ کلام کے علاوہ لکھا کہ ’’ جماعت احمدیہ میں داخل ہوکر شعر و شاعری قریب قریب ختم کردی تھی۔ صرف تلامذہ کی راہنمائی فرماتے تھے۔…حضرت مختار کا زیادہ وقت کتب بینی میں اور مخالفین جماعت کے اعتراضات کی تردید میں گزرتا تھا۔ بعد تقسیم ہند پاکستان ہجرت کرگئے۔…‘‘(صفحہ ۲۱۲)

حضرت حافظ صاحبؓ  کو احمدیت کی تبلیغ میں غیر معمولی انہماک تھا۔ کھانے پینے اور دیگر ضروریات سے لاپرواہ ہوکرخدمت دین میں ہمہ تن مستغرق ہو جانے کی یہ کیفیت آخر دم تک قائم رہی۔ حضرت حافظ مختار شاہجہانپوری صاحبؓ ۸؍جنوری ۱۹۶۹ء کو اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے۔

جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکا، حضرت حافظ مختار صاحبؓ  کا مطبوعہ کام بہت تھوڑا ہے۔ الحق نامی چند ٹریکٹس کے علاوہ مذکورہ بالا کتاب میسّر ہے جو محض چالیس صفحات کی ہے اور اس کی قیمت طبع اوّل میں چارآنے تھی۔ کاتب کی لکھائی میں تیار ہونے والی یہ کتاب نقوش پریس۔ اردو بازار لاہور سے شائع ہوئی۔ اس کے طابع و ناشر حکیم عبداللطیف شاہد تھے۔

یہ زیرِ نظر کتاب بھی تبلیغی مقاصد کے لیے نظر آتی ہے کیونکہ مصنف نے آغاز کیا ہے کہ رسالہ ’’ایک غلطی کاازالہ‘‘ جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے، غلطی کا ازالہ کرنے کی غرض سے لکھا گیا تھا اور وہ غلطی یہ تھی کہ کسی معترض نے ایک احمدی کے سامنے حضرت اقدسؑ کے دعویٰ نبوت و رسالت کرنے پر اعتراض کیا تھا اور اس احمدی نے ناواقفیت کی وجہ سے اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دے دیا یعنی یہ کہہ دیا تھا کہ حضورؑ نے ایسا دعویٰ کبھی نہیں کیا جبکہ یہ جواب سراسر خلاف حقیقت تھا کیونکہ حضورؑ نے نبوت تشریعیہ مستقلہ یا نبوت غیرتشریعیہ مستقلہ کا دعویٰ تو بے شک نہیں کیا تھا لیکن نبوت غیر تشریعیہ غیر مستقلہ ظلیہ کا دعویٰ تو ضرور کیا تھا۔ پس ضروری ہوگیا کہ حضرت اقدسؑ اس احمدی کے اس جواب کا کہ ’’حضورؑ نے نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا ہے‘‘ ازالہ فرما کر صحیح جواب ’’کہ کس قسم کی نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا ہے اور کس قسم کی نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا ہے‘‘ شائع فرمادیں تا اس غلط جواب دینے والے ناواقف احمدی کی طرح اگر کچھ اور ناواقف بھی اس غلطی میں مبتلا ہوں کہ حضورؑ نے نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا ہے تو وہ بھی اس غلط فہمی سے نجات پائیں اور حضورؑ کے دعویٰ نبوت و رسالت فرمانے سے واقف ہوجائیں۔

چنانچہ اس غرض سے حضورؑ نے رسالہ ’’ ایک غلطی کا ازالہ‘‘ تحریر فرمایا اور حضورؑ کی یہ غرض اس رسالہ کے مضامین عالیہ ہی سے نہیں بلکہ نام سے بھی بوجہ احسن ظاہر ہے۔نیز مشہور اورمسلّمہ قاعدہ کے مطابق جب آپؑ اپنے دعویٰ نبوت کے انکار کو ایک غلطی قرار دے رہے ہیں تو ثابت یہی ہے کہ آپؑ نے دعویٰ نبوت و رسالت کیا تھا۔

حضورؑ نے یہ رسالہ ان الفاظ سے شروع کیا ہے’’ہماری جماعت میں سے بعض صاحب جو ہمارے دعوے اور دلائل سے کم واقفیت رکھتے ہیں جن کو نہ بغور کتابیں دیکھنے کا اتفاق ہوا اور نہ وہ ایک معقول مدت تک صحبت میں رہ کر اپنے معلومات کو تکمیل کرسکے۔ وہ بعض حالات میں مخالفین کے کسی اعتراض پر ایسا جواب دیتے ہیں کہ جو سراسر واقعہ کے خلاف ہوتا ہے۔ اس لیے باوجود اہل حق ہونے کے ان کو ندامت اٹھانی پڑتی ہے۔‘‘ (ایک غلطی کا ازالہ، روحانی خزائن جلد ۱۸ صفحہ ۲۰۶)

مصنف لکھتے ہیں کہ یہ تمہید پکار رہی ہے کہ اس کے بعد کسی ایسے امر کا ذکر کیا جائےگا جو واقعۃً سلسلہ عالیہ احمدیہ کے واضح موقف کے خلاف بلکہ سلسلہ کے لیے موجب ندامت و نقصان ہے ، ناواقف یا نہایت کم معلومات رکھنے والے احمدی کی زبان سے بھی اس طرح کے عقیدہ کی گنجائش نہ ہو۔

اگلا پیراگراف بتاتا ہے کہ اس تمہید کے بعد وہ کونسا امر ہے جسے حضورؑ نے ایک غلطی قرار دیتے ہوئے اس کا ازالہ فرمایا ہے۔ فرمایا: ’’چنانچہ چند روز ہوئے کہ ایک صاحب پر ایک مخالف کی طرف سے یہ اعتراض پیش ہوا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا گیا حالانکہ ایسا جواب دینا صحیح نہیں ہے۔…‘‘ (ایضاً)

مصنف لکھتے ہیں کہ اس عبارت سے ظاہر ہوگیا کہ حضورؑ نے جس امر کو تمہید میں سراسر واقعہ کے خلاف اور اہل حق کے لیے سراسر موجبِ ندامت قرار دیا اور جماعت کو اس کے ضررو نقصان سے آگاہ و محفوظ کرنے کےلیے ایک مخصوص رسالہ شائع فرمانا ضروری خیال فرمایا وہ امر ایک ناواقف احمدی کا کسی معترض کا جواب دیتے ہوئے یہ کہہ دینا تھا کہ حضرت اقدسؑ نے نبوت و رسالت کا دعویٰ نہیں کیا ہے۔

پس حضورؑ کے دعویٰ نبوت سے انکار والے جواب کو سراسر خلاف واقعہ قرار دینا اور اسے اہل حق کے لیے موجب ندامت بتانا اور تمہید کے بعد والی عبارت میں اصل اور صحیح جواب لکھ دینا ، واضح ترین پیغام ہے کہ آپؑ کا دعویٰ نبوت کا تھا۔ اور اس کے برخلاف عقیدہ رکھنا لغو و باطل ٹھہرے گا۔

اس مختصر رسالہ میں مصنف نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اقتباسات کو پیش کرکے دعویٰ نبوت کی حقیقت اور تفصیل بیان کی ہے۔ نیز کھول کر لکھا ہے کہ جس طرح مسئلہ حیات مسیحؑ بعد میں وفات مسیحؑ کی طرف چلا گیا تھا۔ اسی طرح نبوت کے معاملہ کو بھی سمجھا اور پرکھا جاسکتا ہے۔ کیونکہ دونوں مسئلوں میں ابتدائی خیال رسمی اور مروج عقیدہ کی بنیاد پر تھا اور آخری خیال اللہ تعالیٰ کے علم عطا ہونے پر۔

مصنف نے کتاب کے آخر پر لکھا کہ ’’ پس جب دونوں مسئلوں میں اختلاف کی حالت ایک سی ہے تو ایک میں اختلاف کو موجب ہتک نہ سمجھنا اور دوسرے کو موجب ہتک بنانا بالکل ہی بے معنی بات ہے۔ اور حقیقت الامر یہی ہے کہ جس طرح مسئلہ حیات عیسیٰ کا اختلاف موجب ہتک نہیں ہے بالکل اسی طرح مسئلہ نبوت و رسالت کا اختلاف بھی موجب ہتک نہیں ہے۔

اللہ تعالیٰ صحیح راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔…‘‘(صفحہ ۴۰)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: مبارک احمد ظفر صاحب کا مجموعہ نظم ونثر ’’نُور کی مشکیں‘‘

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button