مبارک احمد ظفر صاحب کا مجموعہ نظم ونثر ’’نُور کی مشکیں‘‘
(ڈاکٹر عبدالکریم خالدؔ)
کئی روز ہوئے، یہ عاجز لندن سے آمدہ ایک دیدہ زیب کتاب ’’نُورکی مشکیں‘‘ پر دل و نظر بچھائے ہوئے ہے۔ کتاب کا صوری حسن سنبھالے نہیں سنبھلتا۔ اس پر معنوی اعتبار سے اس کے مندرجات اپنی کوملتا سے دامن دل کھینچتے اورگداز بخشتے ہیں۔ یہ کتاب ہمارے معروف تخلیق کار مکرم مبارک احمد ظفر صاحب کا نتیجہ فکر کا خمیازہ ہے۔کتاب کے آخر میں ان کے مختصر کوائف درج ہیں : ۱۹۶۰ء میں پیدا ہوئے۔ ۱۹۷۶ء میں گورنمنٹ ہائی سکول رسول نگر سے میٹرک کرنے کے بعد چار برس تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں گزارے اور بی اے پاس کیا۔ ۲۰۰۴ء میں برٹش انسٹیٹیوٹ آف ہومیوپیتھی سے ڈی آئی ہوم ( D.I.Hom) کا ڈپلومہ حاصل کیا۔ ۱۹۸۲ء میں زندگی وقف کرنے کی توفیق پائی۔ ۱۹۸۲ء سے ۱۹۹۱ء تک وکالت مال ثانی ربوہ میں خدمت کی توفیق ملی اور ۱۹۹۱ء میں لندن میں تقرر ہوا اور تا ایں وقت ایڈیشنل وکیل المال کے طور پر خدمتِ دین کی توفیق پارہے ہیں۔ انہوں نے اپنے تعارف میں لکھا ہے کہ شاعری کا آغاز ۱۹۸۲ء میں ہوا اور خلفائے احمدیت کی نظرِعنایت سے اس فن کو جِلا ملی۔ اس وقت تک اُن کی پانچ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ ’’صحیفہ عشق‘‘، ’’وفا کے دیپ‘‘ اور ’’قلم دا سورج‘‘ (پنجابی) تو خالص شاعری کی کتابیں ہیں جبکہ ’’تذکرۃ الآباء‘‘ ان کے دادا جان اور والد محترم کے سوانح حیات پر مشتمل کتاب ہے۔ یہ دل پذیر تذکرہ پڑھنے کے لائق ہے۔ ان کے دادا حضرت ڈاکٹر محمد بخش صاحبؓ نے ۱۹۰۲ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دست مبارک پر قبول احمدیّت کی توفیق پائی۔ والد محترم مولوی غلام رسول صاحب نے بھی واقف زندگی کا اعزاز حاصل کیا اور معلّم اصلاح و ارشاد کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ ان کا خاندان تقسیم ہند کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آیا اور دریائے چناب کے کنارے ضلع گوجرانوالہ کی ایک چھوٹی سی بستی رسول نگر میں آباد ہوا جہاں موصوف نے جنم لیا۔

مجھے یاد ہے کہ ان کی پہلی کتاب ’’صحیفہ عشق‘‘ نے انہیں مسندِسخنوری پر بٹھا کر جماعتی حلقوں میں متعارف کرا دیا تھا اور وہ ۲۰۰۸ء کے خلافت جوبلی عالمی مشاعرے میں شاعر کے طور پر شریک ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ ایک تواتر سے ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ کے صفحات کی زینت بنتے رہے اور ایک وسیع حلقہ احباب سے دادِ سخن سمیٹتے رہے۔
مصنّف نے نثراور نظم دونوں پیرایوں میں روحانی اورعلمی جواہرات سے اس کتاب کو آراستہ کیا ہے اور ایسے آب دار نگینے انتخاب کیے ہیں جن کی ضُوباری نظروں کو خیرہ کرتی اور دِل روشن کرتی ہے۔
کتاب کے صدر دروازے پر پیارے آقا حضورانورایّدہ اللہ تعالیٰ کہ یہ کلمات دعائیہ تبرک کے طور پر درج ہیں: ’’اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرمائے۔ پڑھنے والوں کے دلوں کو اس نُور سے منوّر فرمائے۔‘‘ مرزا مسرور احمد۔
کتاب سرورکونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے نام معنون کی گئی ہے۔ اگلے ہی صفحے پر درودِ ابراہیمی کا طغرا نسب ہے ۔کتاب کے تعارف میں اس کے نام ’’ نور کی مشکیں‘‘ کی وجہ تسمیہ بیان کی گئی ہے۔ اگلے قدم پر حصّہ اوّل کے طور پر حُبِّ رسولﷺ اور عشقِ محمدﷺ کا دَر کھلتا ہے۔ جس میں نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ مبارکہ کے کئی پہلو نظرنواز ہوتے ہیں۔ آپﷺ کی شان اور سیرت کو آپﷺ کے عاشقِ صادق حضرت مہدی معہود کے الفاظ میں بیان کیا جائے تو رنگ کچھ اَور نکھر جاتا ہے۔ درود شریف کی برکات کے حوالے سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کہ چیدہ چیدہ اقتباسات ازدیادِ ایمان اورنُور کی فراوانی کا باعث بنتے ہیں۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت درود شریف کا ثمر ہے اور اسی وسیلے سے ہم خدا تعالیٰ کی محبت کے اہل ہو سکتے ہیں۔ چند ایک عنوانات کی ذیل میں موضوعات کو سلیقے سے ترتیب دیا گیا ہے اور صحابہ کرامؓ کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت، حضرت مسیح موعودؑ کی آپؐ سے اور آپؐ کی آل اولاد سے محبت کو بیان کیا ہے اوراسی تسلسل میں درود شریف کی اہمیت وبرکات اور خلفائے احمدیت کے درُود کی اہمیت کے بارے میں ارشادات کا ذکرِ جمیل ہے۔
اس ذیل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اثر انگیز اور وجد آفریں اقتباسات دِلوں میں عجب کیفیت پیدا کرتے ہیں۔
اِس مرحلہِ جاں سوز اور پیرایہ دل گداز سے گزر کر ہم سخن کی وادی میں قدم رکھتے ہیں۔ جہاں موضوع وہی ہے۔ اسے منظوم نذرانہ عقیدت کا نام دیا ہے۔
بیانِ حُسن کا حُسنِ بیان دیکھیے :
حمدِ خُدا کے ساتھ کروں بات آپؐ کی
اوقات میری کیا کہ کہوں نعت آپؐ کی
نظمیہ حصّے میں تقریباً ساری نظمیں نعت کے ذیل میں آتی ہیں۔ بارگاہِ رِسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں قرینے سے گل ہائے عقیدت پیش کیے گئے ہیں۔ نعت ایک ایسی صنف ہے جو موضوعی ہونے کے ناتے کسی مخصوص ہیئت کی پابند نہیں۔ شعرا نے اس ذیل میں غزل، قصیدہ، مثنوی اوردیگر صنفی ہئیتوں میں مدحتِ رسولؐ کا ایسا چمن آباد کیا ہے جس کے رنگ بہ رنگ پھولوں کی مہکار دل و جاں میں اترتی چلی جاتی ہے۔ زیادہ تر غزل کے آہنگ میں نعت لکھی ہے تاہم قطعہ، ترکیب بند، مثنوی اور مسدّس کے طرز کو بھی اختیار کیا ہے۔ انہوں نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے سیرت اور خُلقِ نبویؐ کے مضامین کو پیشِ نظر رکھا ہے اور مستند حوالوں کی روشنی میں اپنا بیانیہ ترتیب دیا ہے۔ یہ دراصل اُس چشمہ اصفیٰ سے سیرابی کا فیضان ہے جس نے معتقدات کے روایتی سانچوں کو ہی تبدیل نہیں کیا بلکہ عشقِ رسولؐ اور حُبِّ محمدؐ کے پیمانوں کو بھی بدل ڈالا۔ حقیقت آشنائی پیدا کرکے مہدیِ دوران حضرت مسیح موعودؑ نے سخن سرائی کی بھی سمت نمائی کی اور فرسودہ عقائد اور توہمّات کی بیخ کنی کرکے صداقت کی تخم ریزی کی۔ شاعرسیرت کے اُن پہلوؤں کو چُنتے ہیں جو براہ راست آپؐ کے حُسنِ خلق اوراسوہِ حسنہ سے تعلّق رکھتے ہیں۔ ان کے شعروں میں گداز، فراواں عشق اور جذبے کی تاثیر رَچی ہوئی محسوس کی جا سکتی ہے۔
نہیں فکرِ دنیا وآخرت، مجھے عشق ہے تیری ذات سے
جو سکونِ قلب عطا کرے، وہ تو جام ہے ترے ذکر کا
جو متاعِِِِ لوح وقلم بنا جو نصیبِ جاں میں لکھا گیا
وہ صحیفہ عشق ووفا کا ہے، وہ کلام ہے ترے ذکر کا
اِن اشعار کا حُسن اس رنگِ تغزل سے دوچند ہوجاتا ہے جس سے مصروں میں مترنم کیفیت جنم لیتی ہے۔ یہ اشعار زبان پر آتے ہی ایک سحر انگیز گنگناہٹ کا احساس پیدا کرتے ہیں۔ گلاب کی طرح مہکتے اشعار مشامِ جاں کو معطّر کیے دیتے ہیں :
چاند تاروں میں عکسِ جمال آپؐ کا
پُھول کلیوں نے خوشبو ہے لی آپؐ سے
بارگاہِ الٰہی میں سب سے حسیں
بندگی کی روایت چلی آپؐ سے
٭…٭…٭
آپؐ ہی وجہِ تخلیق ارض وسما
آپؐ ہی ابتدا آپؐ ہی انتہا
آپؐ فخرِرسل خاتم الانبیا
راہبر آپؐ ہیں آپؐ ہی مقتدا
رات کو دِن کو بھی اور شام و سحر
میرے لاکھوں درود و سلام آپؐ پر
٭…٭…٭
سُنا ہے میں نے جہاں ذکر اس کا کرتے ہیں
فرشتے نُور کی مشکیں لیے اُترتے ہیں
٭…٭…٭
ہو جاتا ہے سینے میں بھی خوش رنگ سویرا
بجنے لگے جب دِل میں گجر صلِّ علیٰ کا
٭…٭…٭
کیا ایک گنہگار کہے نعت نبیؐ کی
تعریف سے بالا ہے بہت ذات نبیؐ کی
ہر ایک نبی نے ہے لیا فیض انہیں سے
اور آج بھی جاری ہیں عنایات نبیؐ کی
٭…٭…٭
آپؐ کی مُہرِنبوت کا ہے اِک یہ بھی کمال
پا گیا رتبہ نبی کا مردِ فارس قادیاں
آلِ نبیؐ کے بارے میں اشعار ہیں:
میں ہرغم بھول جاتا ہوں غمِ عاشور آنے پر
مری آلِ محمدؐ سے عقیدت کا تقاضا ہے
’’نُور کی مشکیں‘‘ کتاب میں مبارک احمد ظفر کا پنجابی کلام بھی شامل ہے۔ ’’سندیسہ‘‘ کے عنوان سے ایک آزاد نظم بھی اپنی چَھب دکھا رہی ہے۔اس نظم کا مختصراقتباس تتمے کے طور یہاں درج کیا جاتا ہے۔ اس امید اور دعا کے ساتھ کہ ربِّ کریم اس مخلصانہ سعیِ جمیل کو قبول فرمائے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بے پایاں عشق اور محبت کا اجرعطا فرمائے۔
وہاں پہ پہنچو تو
بارِ عصیاں سے ڈبڈباتی
لہو بہاتی، بہت ہی نادم، خجل زدہ
شرمسار نظروں سے
خانہ کعبہ کو دیکھ کر پھر
طواف کرنا
مرے خیالوں کے تشنہ ہونٹوں سے
حجرِاَسود کو چُوم لینا
وہاں سے طیبہ کے شہر جانا
ایک عاصی کی تشنہ نظروں سے
سبز گنبد کو دیکھتے ہی
بصد عقیدت ادب سے میرا
سلام کہنا
درود پڑھنا
مرے خیالوں کے تشنہ ہونٹوں سے پاک مٹی کو
چُوم لینا
٭…٭…٭
سلام کہہ کر
خموش رہ کر
درِعقیدت سے لوٹ آنا
وہ دردمندوں کی التجاؤں کو مانتے ہیں
وہ اپنے خدمت گزارلوگوں کو جانتے ہیں
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: ایک تاریخی دن



