مکتوب مشرقِ بعید (اگست ۲۰۲۶ء)
مشرقِ بعید کے تازہ حالات و واقعات کا خلاصہ
جاپانی ین (Yen) کی قدر میں کمی روکنے کےلیے امریکہ کی مداخلت
امریکہ اور جاپان کے مالیاتی حکام کی جانب سے جاپانی کرنسی ین (Yen) کی قدر میں مسلسل اور تاریخی کمی کو روکنے کے لیے ایک نادر مشترکہ مالیاتی مداخلت کی گئی ہے۔
ین کی قدر ڈالر کے مقابلے میں گراوٹ کا شکار ہو کر تقریباً ۴۰؍سال کی کم ترین سطح (۱۶۳؍ین فی ڈالر) تک پہنچ گئی تھی۔ ۱۹۹۸ء کے ایشیائی مالیاتی بحران کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی وزارتِ خزانہ اور بینک آف جاپان نے ین کی خریداری کے لیے مل کر غیر ملکی کرنسی مارکیٹ میں براہِ راست مداخلت کی ہے۔اس کارروائی میں نیویارک فیڈرل ریزرو نے امریکی ڈالر فروخت کرنے کی بجائے یورو فروخت کر کے جاپانی ین خریدے۔ اس کا مقصد امریکی بانڈ مارکیٹ پر اثرانداز ہوئے بغیر ین کو سہارا دینا تھا۔ اس مداخلت کے فوراً بعد ین کی قدر میں بحالی دیکھی گئی اور وہ ۱۶۳؍کے لیول سے مضبوط ہو کر ۱۵۵-۱۵۷؍ین فی ڈالر کی سطح پر واپس آ گیا۔ عام طور پر امریکہ Foreign Exchange کی منڈیوں میں مداخلت سے گریز کرتا ہے، لیکن اس بار اگر جاپان اکیلے ین کو بچانے کی کوشش کرتا تو اسے امریکی خزانے کے بانڈز بیچنا پڑتے، جس سے امریکہ میں سود کی شرحیں اچانک بڑھنے کا خطرہ تھا۔ دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ امریکی حکام کا موقف تھا کہ ین کی حد سے زیادہ کمزوری سے امریکی مصنوعات عالمی مارکیٹ میں مہنگی اور جاپانی مصنوعات سستی ہو رہی تھیں، جس سے امریکہ کا تجارتی خسارہ بڑھ رہا تھا۔
جاپانی ین کئی برس سے دباؤ کا شکار ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ امریکہ اور جاپان کے درمیان شرحِ سود کا بڑا فرق ہے۔ بظاہر یہ اقدام جاپان کی کرنسی کو سہارا دینے کے لیے کیا گیا، لیکن اس کے پیچھے امریکہ کے اپنے معاشی مفادات بھی موجود ہیں۔ابتدائی طور پر اس کے مثبت اثرات سامنے آئے، لیکن طویل مدتی کامیابی ابھی واضح نہیں ہے۔ مداخلت کے بعد ین تقریباً ۵؍فیصد تک مضبوط ہوا۔ ماہرین کے نزدیک ین کی کمزوری کی بنیادی وجہ صرف قیاس آرائی یا مارکیٹ میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ امریکہ اور جاپان کی بنیادی مالیاتی پالیسیوں میں فرق ہے۔ ین دنیا کی اہم ترین کرنسیوں میں شامل ہے، اس لیے اس میں بڑی تبدیلی عالمی مالیاتی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔
روسی صدر کا مشرقِ بعید میں واقع متنازع جزیرے اِتورُپ (Iturup) کا دورہ اور جاپان کا احتجاج
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ۱۳؍اگست ۲۰۲۶ءکو مشرقِ بعید میں واقع تنازع کا شکار Kuril Islands کا اپنا پہلا تاریخی دورہ کیا ہے۔ وہ جنوبی کوریل کے سب سے بڑے جزیرے Iturup پہنچے، جسے جاپان میں Etorofu کہا جاتا ہے۔ یہ جزیرہ جاپان اور روس کے درمیان کئی دہائیوں سے جاری علاقائی تنازع کا مرکز ہے۔ جاپان اِتورُپ سمیت جنوبی کوریل کے چار جزیروں کو اپنا علاقہ قرار دیتا ہے، جبکہ روس ان جزیروں پر اپنی خودمختاری کا دعویٰ کرتا اور عملی طور پر ان کا انتظام کر رہا ہے۔
پیوٹن نے جزیرے پر قائم مچھلی کی پروسیسنگ کی فیکٹری، مقامی ہسپتال اور ایک سکول کا دورہ کیا اور علاقائی گورنر سے ملاقات کی۔ ولادیمیر پیوٹن کے ۲۶؍سالہ اقتدار کے دوران ان متنازع جزائر کا یہ پہلا براہِ راست دورہ ہے۔ اس سے قبل ۲۰۱۰ء میں ان کے نائب دمتری میدویدیف نے یہاں کا دورہ کیا تھا۔
جاپان کی وزیراعظم ثناء تاکائیچی نے اس دورے کو ’شدید تشویشناک اور مکمل طور پر ناپائیدار‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جزائر تاریخی اور بین الاقوامی قانون کے تحت جاپان کا حصہ ہیں۔ جاپانی وزارتِ خارجہ نے روسی سفیر کو طلب کرکے باقاعدہ احتجاجی مراسلہ پیش کیا۔ جواباً روسی وزارتِ خارجہ اور سیکیورٹی کونسل کے نائب سربراہ دمتری میدویدیف نے جاپانی ردِعمل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ جزائر روس کے زیرِ انتظام ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔
اِتورُپ کوریل جزائر کے سلسلے میں واقع سب سے بڑے جزیروں میں سے ایک ہے۔ کوریل جزائر روس کے کامچٹکا جزیرہ نما سے جنوب کی جانب جاپان کے شمالی جزیرے ہوکائیدو تک پھیلے ہوئے آتش فشانی جزیروں کا ایک طویل سلسلہ ہیں۔روس جنوبی حصے کے چار متنازع جزیروں کو اپنے Southern Kurils کا حصہ قرار دیتا ہے، جبکہ جاپان انہیں Northern Territories کہتا ہے۔ یہ چار جزیرے ہیں: ۱۔ اِتورُپ۔جاپانی نام (Etorofu)۔ ۲۔ کوناشیر۔ (جاپانی نام Kunashiri)۔ ۳۔ شیکوتان۔۴۔ہابومائی جزائر۔
کوریل جزائر صرف علاقائی خودمختاری کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ فوجی اور جغرافیائی اہمیت کے حامل ہیں۔ یہ جزائر روس کے بحرالکاہل تک رسائی کے اہم راستوں کے قریب واقع ہیں۔ روس نے ان علاقوں میں فوجی تنصیبات، فضائی اڈوں اور ساحلی دفاعی نظام کو مضبوط کیا ہے۔پیوٹن کے دورے سے ایک روز قبل وہ سخالین میں روسی Pacific Fleet کی بحری مشقوں کا مشاہدہ بھی کر رہے تھے۔ ان مشقوں میں جنگی بحری جہاز اور دیگر فوجی وسائل شامل تھے۔بعد میں روس نے متنازع جزائر کے قریب میزائل مشقیں بھی کیں۔
چین میں سمندری طوفان ’ڈولفن‘ کی تباہ کاریاں
چین میں رواں سال آنے والے طاقتور ترین سمندری طوفان ’ڈولفن‘ نے ملک کے مشرقی اور وسطی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ طوفان کے نتیجے میں شدید بارشیں، سیلاب، تیز ہوائیں اور بعض مقامات پر لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ پیدا ہوا، جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ طوفان نے فضائی، بحری اور زمینی آمدورفت کو بھی شدید متاثر کیا۔
اس طوفان نے ۹؍اگست ۲۰۲۶ء کو مشرقی چین کے صوبے ژےجیانگ (Zhejiang) میں دو مرتبہ لینڈ فال کیا طوفان ’ڈولفن‘ صوبہ ژے جیانگ کے ساحلی علاقے میں تقریباً ۱۵۱؍کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے ساتھ ٹکرایا۔ طوفان کے باعث ژےجیانگ، فوجیان، انہوئی، جیانگسو اور شانگھائی سمیت کئی صوبے شدید متأثر ہوئے ہیں۔ ژے جیانگ کے شہر وین ژو میں ہی ۹ لاکھ سے زیادہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا جبکہ تقریباً ۱۵۰۰؍ہنگامی پناہ گاہیں قائم کی گئیں۔ چین کے معاشی مرکز شانگھائی میں طوفان کی وجہ سے ہونے والی بارش نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے۔ شہر کے مرکزی موسمیاتی سٹیشن پر ۲۴؍گھنٹوں کے دوران ۳۱۳؍ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جو پچھلے ۱۵۰؍سے زائد سال میں سب سے زیادہ ہے۔ شہر کی سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں۔ شانگھائی کے پودونگ اور ہونگ چیاؤ ایئرپورٹس پر ۱۳۰۰؍سے زائد پروازیں منسوخ یا تاخیر کا شکار ہوئیں۔ کئی اہم شاہراہوں اور ریلوے لائنوں کو بند کر دیا گیا، جبکہ متعدد شہروں میں سب وے سروسز کو عارضی طور پر روکنا پڑا۔
یہ طوفان چین سے ٹکرانے سے پہلے جاپان کے جنوبی جزائر خصوصاً اوکیناوا میں بھی شدید موسم کا باعث بنا تھا، جہاں متعدد افراد زخمی ہوئے اور ہزاروں گھرانے بجلی سے محروم ہوئے۔
’ڈولفن‘ کو چین میں ۲۰۲۶ء کا سب سے طاقتور سمندری طوفان قرار دیا گیا ہے۔ اس طوفان کی ایک غیر معمولی خصوصیت یہ تھی کہ اس کا وسیع موسمی نظام جاپان سے چین کے مشرقی ساحل اور پھر اندرونِ ملک تک تقریباً چھ ہزار کلومیٹر کا سفر کرتا رہا، جس کے نتیجے میں طوفان کمزور ہونے کے باوجود شدید بارشوں کا سلسلہ برقرار رہا۔
تھائی لینڈ: بینکاک کے مضافات میں سکول میں فائرنگ
تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کے مضافاتی ضلع Nonthaburi کے ایک معروف تعلیمی ادارے Debsirin Nonthaburi School میں فائرنگ کے ایک ہولناک واقعے میں مجموعی طور پر ۹؍افراد ہلاک اور ۲۳؍سے زائد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ پولیس کے مطابق فائرنگ کرنے والا حملہ آور اسی سکول کا ۱۴؍سالہ طالب علم تھا جس نے بعد میں خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کر لیا۔
حکام اور پولیس کے مطابق یہ دردناک واقعہ ۷؍اگست کی صبح پیش آیا۔ ۱۴؍سالہ طالب علم نے سکول روانہ ہونے سے قبل اپنے گھر میں سوئے ہوئے دادا دادی کو ۹؍ملی میٹر کی زگ زیگ (CZ-75) پسٹل سے گولی مار کر قتل کیا۔ یہ ہتھیار اس کے دادا کا لائسنس یافتہ پسٹل تھا۔
اس کے بعد طالب علم صبح تقریباً ۹:۳۰ بجے اپنے سکول پہنچا جہاں اس نے عمارت کی بالائی منزلوں پر جا کر اساتذہ اور سیکیورٹی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ عینی شاہدین اور اساتذہ کے مطابق اچانک گولیوں کی آوازوں سے سکول میں شدید بھگدڑ مچ گئی اور طالب علموں نے جان بچانے کے لیے کلاس رومز میں خود کو بند کر لیا۔ حملہ آور نے کم از کم ۲۶؍گولیاں چلائیں۔ فائرنگ کے نتیجے میں ۵؍اساتذہ و سکول کے انتظامی اہلکار موقع پر ہی دم توڑ گئے، جبکہ اگلے دن ہسپتال میں زیرِ علاج ایک ۱۲؍سالہ بچی بھی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسی، جس کے بعد کل اموات کی تعداد ۹؍ہو گئی۔
پولیس اور سیکیورٹی اداروں کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق طالب علم سکول میں سخت تدریسی دباؤ اور ہم جماعتوں کے رویے (School Bullying) سے پریشان تھا۔ رپورٹس کے مطابق وہ ایک مضمون میں فیل ہونے کے بعد متعلقہ استاد کو بھی تلاش کر رہا تھا۔ تحقیقات میں معلوم ہوا کہ ملزم پچھلے ایک سے دو سال سے آن لائن اسلحہ استعمال کرنے اور فائرنگ کے طریقے سیکھنے میں دلچسپی لے رہا تھا۔
انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور کا آبنائے ملاکہ کھلا رکھنے کا اعلان
انڈونیشیا، ملائیشیا اور سنگاپور نے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ ’آبنائے ملاکہ اور سنگاپور‘ (Straits of Malacca and Singapore) کو تمام بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے مکمل طور پر کھلا، آزاد اور محفوظ رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ یہ اہم فیصلہ ۲۵ اور ۲۶؍اگست ۲۰۲۶ء کو سنگاپور میں منعقد ہونے والے ۱۷ویں کوآپریشن فورم کے موقع پر جاری کردہ مشترکہ بیان میں کیا گیا۔ فورم میں ۱۲۵؍سے زائد ممالک کے ۳۰۰؍سے زیادہ مندوبین، عالمی سمندری تنظیمی راہنماؤں اور تجارتی نمائندوں نے شرکت کی۔
تینوں ساحلی ممالک کے سمندری اور نقل و حمل کے اداروں نے واضح کیا کہ ۱۹۸۲ء کے اقوامِ متحدہ کے قانون برائے سمندر (UNCLOS) اور بین الاقوامی قوانین کے تحت آبنائے ملاکہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے ایک آزاد گزرگاہ ہے جہاں تمام ممالک کے بحری جہازوں کو بلا تعطّل گزرنے کا بنیادی حق حاصل ہے۔
آبنائے ملاکہ دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے۔ یہ انڈونیشیا کے جزیرے سماٹرا اور جزیرہ نما ملائیشیا کے درمیان واقع ہے اور بحرِ ہند کو بحرالکاہل سے ملانے والے اہم ترین راستوں میں شامل ہے۔
آبنائے ملاکہ اور اس سے منسلک آبنائے سنگاپور سے ہر سال ایک لاکھ سے زیادہ بحری جہاز گزرتے ہیں۔ ان گزرگاہوں سے عالمی سمندری تجارت کا تقریباً ایک چوتھائی اور دنیا کی تیل و گیس کی سمندری ترسیل کا تقریباً ایک تہائی گزرتا ہے۔
تینوں ممالک کا تازہ اعلان بنیادی طور پر آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والے بحران کے پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ تینوں ممالک کے تعاون کی بنیاد ۲۰۰۷ء میں قائم کیے گئے مشترکہ نظام پر ہے۔ آبنائے ملاکہ اس حوالے سے خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ چین، جاپان، جنوبی کوریا اور دیگر مشرقی ایشیائی صنعتی معیشتوں کے لیے مشرقِ وسطیٰ سے آنے والی توانائی اور یورپ، افریقہ اور جنوبی ایشیا کے ساتھ تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی سمندری راستے سے گزرتا ہے۔
٭…٭…٭
مزید پڑھیں: مکتوب ایشیا (جون و جولائی ۲۰۲۶ء)




