خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭…انڈونیشیا میں ۳۴۳؍مسافروںسے بھری ایک کشتی خراب موسم کے دوران لاپتہ ہوگئی۔ انڈونیشین ریسکیو حکام کے مطابق کشتی کے ۱۰۳؍مسافروں کو سمندر سے بحفاظت نکال لیا گیا، جبکہ ایک مسافر کے ہلاک ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ کشتی کے عملے نے آخری رابطے میں خراب موسمی حالات کی اطلاع دی تھی۔ یہ کشتی مشرقی جاوا کے شہر سورابایا سے بنجر ماسن کی بندرگاہ جا رہی تھی اور بندرگاہ سے تقریباً ۱۴۸؍ کلومیٹر دور تھی۔ حکام کے مطابق باقی لاپتہ مسافروں کی تلاش کے لیے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ خراب موسم کے باعث امدادی کارروائیوں میںمشکلات کا سامنا بھی ہے۔
٭…یمن کی حوثی تنظیم انصار اللہ نے بحیرۂ احمر کے اہم جزیرے میون پر قبضے کا دعویٰ کیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق اس قبضے کےبعد حوثیوں نے باب المندب پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تنظیم نےسعودی حمایت یافتہ فورسز کے زیرِ استعمال امریکی ساختہ بکتر بند ٹینک قبضے میں لینےکی بھی اطلاع دی۔ انصار اللہ کے مطابق سعودی حمایت یافتہ فورسز کو ۵۴۰۰؍مربع کلومیٹرکے علاقے سے پسپا کر دیا گیا ہے۔ حوثیوں نے قبضے میں لیے گئے علاقوں سے لاکھوںڈالر مالیت کا فوجی سازوسامان بھی ضبط کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
٭…ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہےکہ ایران سعودی عرب کے ساتھ حالتِ جنگ میں نہیں اور حوثیوں کے اپنے مسائل ہیں۔انہوں نے خطے کے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ ایک میز پر بیٹھ کر امن و سلامتی کےلیے مشترکہ کوشش کریں۔ آبنائے ہرمز سے متعلق ایران اور عمان کے متوقع معاہدے کےبارے میں ان کا کہنا تھا کہ اجلاس میں وہ ممالک بھی شریک ہوں گے جن کی سرزمین سے ایران پر حملے کیے گئے۔ پزشکیان نے کہا کہ ایران اپنے بین الاقوامی حقوق کا احترام،ظالمانہ پابندیوں کا خاتمہ اور بین الاقوامی حقوق کا حصول چاہتا ہے۔ ان کے مطابق امریکہ، اسرائیل اور یورپ خطے میں آزادی محدود کرنا چاہتے ہیں۔
٭…ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیےامریکہ کے سامنے سات شرائط پیش کی ہیں، تاہم ان شرائط کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے شرائط پوری نہ ہونے تک آبنائے ہرمز نہیںکھولی جائے گی۔ ایران اور عمان کے درمیان پیر کو طے پانے والا معاہدہ بھی آبنائےہرمز کھولنے کا سبب نہیں بنے گا۔ تہران میں ہونے والے اجلاس میں عراق اور خلیجی ممالک کے نمائندے شریک ہوں گے، جنہیں نئے راستے اور ٹرانزٹ انتظامات سے آگاہ کیاجائے گا۔ معاہدے کے تحت خلیج فارس کا داخلی راستہ ایرانی پانیوں سے گزرے گا، جبکہ امریکی مطالبے والا جنوبی راستہ بند رہے گا۔
٭…سعودی عرب کے علاقے جیزان میں یمنی حوثیوں کے میزائل حملے کے نتیجے میں دو افراد زخمی ہوگئے۔ سعودی سول ڈیفنس کےمطابق حملے میں ایک مسجد، متعدد عمارتوں اور گاڑیوں کو نقصان پہنچا، جبکہ زخمیوںکو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا۔ دوسری جانب حوثی تنظیم انصار اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب نے گذشتہ ۴۸؍گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف علاقوں پر ۱۲۹؍فضائی حملے کیے ہیں۔ انصار اللہ نے ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی کارروائیوںکا جواب دیا جائے گا۔ یمن میں جاری کشیدگی کے باعث دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔انصار اللہ نےاپنی کارروائیوں کے حوالے سے نصف گھنٹے تک جاری رہنے والی لڑائی کی ایک ویڈیو بھی جاری کی ہے۔ روسی میڈیا کے مطابق محاذ چھوڑ کر فرار ہونے والے افراد پر حوثیوں نےحملہ کیا اور ان کی گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ یمن میں جاری کشیدگی کے باعث دونوں جانب سے حملوں اور جوابی کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
٭…۱۱؍ستمبر ۲۰۰۱ء کے حملوں کے بعد امریکہ کی قیادت میں شروع ہونے والی جنگوں اور فوجی کارروائیوں کو پچیس سال مکمل ہوگئے۔ عرب میڈیا کے مطابق ان جنگوں میں ۴۵سے ۴۷؍لاکھ افراد براہِ راست یا بالواسطہ ہلاک جبکہ تین کروڑ اسّی لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے۔ افغانستان جنگ میں تقریباً ایک لاکھ ۷۶؍ہزار اور عراق جنگ میں تین لاکھ ۱۵؍ہزار براہِ راست ہلاکتیں ہوئیں۔ پاکستان، یمن،صومالیہ، لیبیا اور شام میں بھی امریکی کارروائیاں جاری رہیں۔ ان جنگوں پر امریکہ نے تقریباً ۵.۸؍کھرب ڈالر خرچ کیے، جبکہ ذہنی صحت، خودکشیوں، معاشی بوجھ اور بےگھری کے اثرات آج بھی برقرار ہیں۔
٭…فرانس کے شمالی علاقے نارمنڈی میںروئن اور کین کے درمیان سفر کرنے والی ایک ٹرین پٹری سے اتر گئی، جس کے نتیجے میں۴۴؍افراد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق حادثے کے وقت ٹرین میں تقریباً ۱۸۰؍مسافر سوار تھے۔ حادثے کے فوراً بعد امدادی ٹیموں نے کارروائی شروع کی اور زخمیوںکو اسپتال منتقل کردیا۔ ریسکیو آپریشن کے باعث علاقے میں ٹرین سروس عارضی طور پرمعطل کردی گئی۔
٭…٭…٭




