صحت

ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۹)(قسط ۱۵۴)

(ڈاکٹر لئیق احمد)

(حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ’’ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل ‘‘کی ریپرٹری یعنی ادویہ کی ترتیب بلحاظ علامات تیار کردہ THHRI)

کالی سلفیوریکم
Kali Sulphuricum
(Sulphate of Potash)

مرگی کے مرض سے متعلق ڈاکٹر کینٹ کا یہ دعویٰ ہےکہ یہ دوا اس موذی مرض کو جڑسے اکھیڑ دیتی ہے لیکن ضروری نہیں کہ ایک ہی خورا ک سے یہ نتیجہ ظاہرہو۔ بعض اوقات وقفوں کے بعد دوا کو لمبے عرصہ تک دہرانا پڑتا ہےاور درمیان میں دوسرے علاج بھی کرنے پڑتے ہیں۔ (صفحہ۵۱۵)

کالی سلف جلدی امراض کے علاوہ اندرونی جھلیوں کے علاج میں بھی مفید ہے۔ کالی سلف کے متعلق یہ بیان کیا جا تا ہے کہ لیوپس (Lupus) کے بعض مریض اس سے بکلی شفا پا گئے۔ (صفحہ۵۱۶)

کالی سلف کو بائیوکیمی کی پلسٹیلا کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی بہت سی علامتیں پلسٹیلا سے مشابہ ہیں۔ مثلاً گرمی سے تکلیفوں کا بڑھنا ٹھنڈ اور کھلی ہوا سے فائدہ پہنچنا۔ یہ بات کالی سلف کی مزاجی پہچان میں بہت اہمیت رکھتی ہے۔ پلسٹیلا کی تفصیلی علامتیں اسے کالی سلف سے الگ دکھا دیتی ہیں لہذا جس مریض میں پلسٹیلا سے مشابہت پائی جائے لیکن اس میں اس کی عمومی علامتیں نہ ہوں تو یہی بات کالی سلف کی نشاندہی کے لیے کافی ہے۔ پھر عموماً ان سب بیماریوں میں یہ مفید ثابت ہو گی جن کا ذکر اس باب میں ملتا ہے۔ کالی سلف میں عضلات کے ڈھیلے ہو کر لٹکنے کا رجحان بھی پایا جا تا ہے۔ ایسے مریض جن کے جگر میں خرابی ہو اور دل کے عضلات پھیل کر بے جان ہونے لگیں، کالی سلف ان کے عضلات کے ڈھیلے پن میں کام آئے گی۔ لیکن یہ چھوٹی طاقت میں لمبے عرصہ تک کھلانی پڑتی ہے جس کے نتیجہ میں چند مہینوں کے اندر اندر اچھی تبدیلی واقع ہو جاتی ہے۔ مریض میں جان آنے لگتی ہے اور بہت حد تک جگر اور جسم کی چربی پگھل جاتی ہے۔ خواتین میں عموماً بچوں کی پیدائش کے بعد یہ الجھنیں پیدا ہوتی ہیں۔ جگر پر چربی چڑھنے لگتی ہے، جسم کے اعصاب پھیل جاتے ہیں، دل میں طاقت نہیں رہتی اور سانس جلد چڑھتا ہے۔ کالی سلف اگر بالمثل ہو تو بہت فائدہ ہو گا۔ ایسی مریضہ کی ٹانگیں بھاری ہو جاتی ہیں۔ کالی سلف میں لمس سے تکلیف اور مضبوط دباؤ سے آرام ملتا ہے۔ (صفحہ۵۱۶۔ ۵۱۷)

ڈاکٹر کینٹ کے نزدیک اگر ہونٹ پر مسہ بن جائے تو کالی سلف سے فائدہ ہو تا ہے۔ اپی تھلیوما (Epithelioma) میں بھی کالی سلف مفید ہے۔ (صفحہ۵۱۸)

ہوا کی نالی میں سبز، زرد اور کبھی سفید بلغم بنتا ہے۔ حنجرہ (Larynx) میں خشکی اورچھیلنے کا احساس جو کھانے سے زیادہ ہو جا تا ہے۔ رات کے وقت بستر میں تکلیف بڑھ جاتی ہے۔ حنجرہ میں سرسراہٹ ہوتی ہے۔ آواز کا بیٹھ جانا، بار بار زکام ہونا، بند کمرے میں دمہ کی تکلیف کا بڑھ جانا، سانس میں دقت جو کھانسنے سے یا لیٹنے اور چلنے سے اور شام کے وقت بڑھ جاتی ہے۔ کھلی ہوا میں تکلیف کم ہوتی ہے۔ نزلہ کے ساتھ کھانسی اور بھی زیادہ ہو جاتی ہے۔ سردی سے سینہ میں کھڑ کھڑاہٹ، گھٹن، جلن، درد اور بے چینی ہوتی ہے۔ صبح کے وقت بلغمی کھانسی بڑھ جاتی ہے اور رات کو خشک کھانسی زیادہ ہو جاتی ہے۔ موسم میں اچانک تبدیلی ہو اور سردی بڑھ جائے تو ایسی سردی سے بھی تکلیفیں بڑھ جاتی ہیں حالانکہ اس کی تکلیفیں عموماً پلسٹیلا کی طرح گرمی سے بڑھتی ہیں۔ گویا یہ دوا تضادات کا مجموعہ ہے۔ مزاج اور پیاس میں بھی یہی تضاد پایا جاتا ہے۔ یہی دوا بعض ایسے مریضوں کو بھی موافق آتی ہے جن کے مزاج پلسٹیلا کی طرح نرم اور غمگین ہوں اور بعض ایسے مریضوں کو بھی موافق آئے گی جن کے مزاج میں چڑچڑا پن اور غصہ ہو۔ پھر اسی دوا میں پلسٹیلا کی طرح پیاس کا نہ ہونا بھی ملتا ہے اور کبھی سخت پیاس بھی ملتی ہے جو بجھنے کا نام نہ لے منہ خشک ہی رہے اور معدہ میں گویا آگ سی لگی ہوئی ہو۔ انہی تضادات کے باعث میں نے شروع ہی میں متنبہ کیا تھا کہ اس دوا کا سمجھنا آسان کام نہیں۔ بائیوکیمی میں کالی سلف چھوٹی طاقتوں میں استعمال ہوتی ہے لیکن ہو میو پیتھی میں بڑی طاقت میں دینا زیادہ فائدہ مند ثابت ہو تا ہے۔ (صفحہ۵۱۹)

کرئیوزوٹم
Kresotum

کرئیوزوٹ کا مزاج رکھنے والے مریضو ں میں تین علامات نمایاں طورپر پائی جاتی ہیں۔ اوّل یہ کہ ان کے تمام اخراجات کاٹنے ، جلانے اور چبھنے والے ہوتے ہیں۔ جن سے خراش پیدا ہوتی ہے۔ دوم،تمام جسم میں دھڑکن پائی جاتی ہے جو کیکٹس کی طرح شدید ہوتی ہے لیکن تشنج اور درد کا فقدان ہوتا ہے۔ تیسری خاص علامت سیلان خون ہےذرا سے دباؤسے خون جاری ہوجاتا ہے۔ آنکھ میں ورم ہو تو معالج کے ہاتھ لگا کر دیکھنے سے بھی خون نکل آتا ہے۔ رحم میں ایسی کیفیت پیدا ہو تو ایسی عورتوں کو مسلسل خون آنے کی شکایت ہو جاتی ہے۔ حیض کے ایام گزرنے کے باوجو د بھی خون جاری رہتا ہے۔ ذرا سی سوئی چبھ جائے تو خون کی بوندیں ٹپکنےلگتی ہیں۔ بعض دفعہ آنسوؤں میں بھی خون کی آمیزش ہوتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی وجوہات سے خون کا جاری ہونا اور جسم کے کسی بھی حصہ سے خون جاری ہونے کا رجحان کر ئیو زوٹ کی خاص علامت ہے۔ (صفحہ۵۲۱)

مسوڑھے بھی ڈھیلے پڑ کر دانتوں کو چھوڑنے لگتے ہیں۔ ہاتھ سے دانت صاف کرنے پر بھی خون نکل آتا ہے۔ عام طور پر سرخ خون بہتا ہے لیکن درمیان میں سیاہ خون کا سیلان بھی شروع ہو جاتا ہے۔ منہ کے کنارے چھل جاتے ہیں۔ خشک اور چھلے ہوئے ہونٹ اس کی خاص علامت ہیں۔ ناک کے کنارے بھی چھلے ہوئے اور زخمی ہوتے ہیں۔ عموماً بگڑے ہوئے نزلہ میں یہ علامت ملتی ہے لیکن کر ئیو زوٹ میں یہ علامت مستقلاً پائی جاتی ہے۔

اکثر مخارج سے خون بہتا رہتا ہے۔ ناک، آنکھ، گردوں اور رحم سے خون بہنا اس دوا کاخاص مزاج ہے۔ کرئیو زوٹ میں مزاج کی تیزی اور جلد غصہ آجانا کیمو میلا سے مشابہ دکھائی دیتا ہےلیکن کیمومیلا کا مزاج ہی غصہ والا ہوتا ہے جبکہ کرئیو زوٹ میں یہ کیفیت عارضی ہوتی ہے۔ بیماری کی شدت سے مریض چڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے طبیعت میں کیمومیلا کی علامات پیدا ہو جاتی ہیں۔ کیمومیلا کا مریض تندرست ہو یا بیمار، ہر حال میں غصے والا ہی رہے گا اور اس کے مزاج میں بد خلقی اس کی سرشت بن جاتی ہے۔ کر ئیو زوٹ میں خون کے اخراج کی وجہ سے ماؤف حصہ چھل جاتا ہے اور جلن ہوتی ہے۔ اگر اس کے اخراجات سیاہی مائل ہوں تو ان میں بدبو بھی پائی جاتی ہے۔ (صفحہ۵۲۱-۵۲۲)

کھلی ہوا،سردی کے موسم، ٹھنڈے پانی اور نہانے سے اور لیٹنے سے تکلیفیں بڑھتی ہیں جبکہ گرمی سے عموماً تکلیف کم ہوجاتی ہے۔ سوائے اس کے کہ سخت گرمی کے اثر سے اسہال شروع ہوجائیں۔ (صفحہ۵۲۳ )

لیک کینائینم
Lac Caninum

اس دوا کی سب سے بڑی علامت اعصابی بے چینی اور اعصابی انتشار ہے۔ اعصاب اچھلنے لگتے ہیں۔ کتوں میں یہ علامت پائی جاتی ہے کہ یہ فرضی چیزوں پر اچھلتے ہیں۔ اور فضا میں بھونکتے ہیں۔ اسی وجہ سے اکثر افسانہ نگاروں نے اپنی کہانیوں میں یہ لکھا ہےکہ کتوں کو جن، بھوت اور روحیں نظر آتی ہیں۔ ان ڈاکٹروں کو اس پس منظر کا علم نہیں تھا لیکن جب کتیا کے دودھ کی ہومیو پیتھک پوٹینسی بنائی گئی تو پتہ چلا کہ اس میں یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ اگر انسان پر اس کی آزمائش کی جائے تو اسے فضا میں فرضی چیزیں دکھائی دینے لگتی ہیں اور وہ محسوس کرتا ہےکہ یہ چیزیں ابھر کر ایک وجود بن کر مجھے نقصان پہنچائیں گی۔ یہ بات کتے کہ مزاج میں داخل ہےاور اس کے دودھ کے ذریعہ انسانی دماغ میں بیماریاں بن کر ابھرتی ہیں۔ اگر بیماریاں پہلے سے موجود ہوں تو اس دودھ کی ہومیوپیتھک دوائی میں ان کو ٹھیک کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔ (صفحہ۵۲۵-۵۲۶)

اس دوا میں اعصابی علامات بہت نمایاں ہوتی ہیں۔ غدودوں پر بھی یہ اثر انداز ہوتی ہے۔ بڑھے ہوئے غدودوں کو ٹھیک کر دیتی ہے۔ اگر غدودوں میں زخم ہو جائیں تو ان کی سطح بہت چمکدار ہو جاتی ہے۔ ایسی چمک پائی جاتی ہے جو نظر کو بری لگتی ہے۔ تناؤ بھی ہو تا ہے۔ لیک کینائینم ایسے زخموں کو ٹھیک کر دیتی ہے۔ لیک کینا ئینم میں جلد کی شدید زودحسی پائی جاتی ہے۔ عموماً عورتوں میں یہ زودحسی نمایاں ہوتی ہے اور وہ پانچوں انگلیاں پھیلا کر رکھتی ہیں۔ اگر اتفاقاً ایک انگلی دوسرے سے لگ جائے تو چلا اٹھتی ہیں۔ کپڑے کا ہلکا سا لمس بھی برداشت نہیں کر سکتیں۔ لیکیسس میں بھی یہ زودحسی پائی جاتی ہے اور بعض دفعہ یہ دونوں ایک دوسرے کی متبادل دوائیں بن جاتی ہیں۔ لیکیسس اورلیک کینائینم میں ایک اور مشترک بات یہ ہے کہ دونوں کے مریضوں کے احساسات بہت تیز ہو جاتے ہیں اور وہ خیالی چیزوں سے بھی خوف کھانے لگتے ہیں۔ اس قسم کی علامات ملنے کے باوجود دونوں میں فرق بھی نمایاں ہیں۔ لیک کینائینم کا مریض اکیلا نہیں رہ سکتا جبکہ لیکیسس کا مریض تنہائی چاہتا ہے۔ لیکیسس کی تکلیفیں نیند کے بعد بڑھتی ہیں اور بائیں طرف سے دائیں طرف حرکت کرتی ہیں۔ (صفحہ۵۲۶)

لیک کینائینم میں روشنی اور شور سے زود حسی پائی جاتی ہے۔ پڑھتے ہوئے آنکھوں کے سامنے دھندسی آجاتی ہے۔ آوازیں دور سے آتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ قریب کی آوازیں بھی دور ہوتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ یہ علامت کسی اور دوا میں نہیں پائی جاتی۔ (صفحہ۵۲۷)

لیک کینائینم کا عورتوں کی بیماریوں سے بھی تعلق ہے۔ رحم اور بیضۃ الرحم میں دونوں طرف درد ہو تا ہے۔ حیض کھل کر جاری ہونے سے مریض کی تمام نسوانی تکلیفیں دور ہو جاتی ہیں۔ اس لحاظ سے اس کا مزاج سمی سی فیوجا سے بالکل مختلف ہے۔ سمی سی فیوجا میں حیض کھل کر جاری ہو تو تکلیفیں بھی بڑھ جاتی ہیں لیکن لیک کینائینم میں رحم کی وہ تکلیفیں شامل ہیں جو سارا مہینہ جاری رہیں اور کھل کر حیض جاری ہونے پر بالکل ختم ہو جائیں۔ گلے کی خرابی حیض کے ساتھ شروع ہوتی ہے اور حیض ختم ہونے کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے۔ یہ لیک کینا ئینم کی امتیازی علامت ہے جو ذہن نشین رہنی چاہیے۔ دنیا کے کسی اَور طبی نظام میں ایسی علامتوں پر غور نہیں کیا جاتا بلکہ ان کے نزدیک تو یہ فرضی اور بے معنی باتیں ہیں۔ ہومیو پیتھی میں اس قسم کی عجیب علامتیں ضرور کسی نہ کسی دوا کی طرف اشارہ کرتی ہیں اس لیے انہیں یاد رکھنا ضروری ہے۔ مثلاً اگر حیض شروع ہونے سے پہلے گلا خراب ہوتا ہو تو یہ میگنیشیا کا رب کی بھی علامت ہے لیکن اس صورت میں حیض ختم ہونے کے ساتھ گلا ٹھیک نہیں ہو گا بلکہ اس کا الگ علاج کرنا پڑے گا۔ گلے کی خرابی کا حیض کی ابتدا اور اختتام سے تعلق ہونا لیک کینا ئنیم کا خاصا ہے۔ کلکیریا کارب میں بھی سمی سی فیوجا کی طرح حیض کے کھل کر جاری ہونے سے تکلیف بڑھتی ہے مگر کلکیریا کارب میں اس تکلیف کا گلے سے تعلق ہو تا ہے، اندرونی اعضاء سے نہیں۔ (صفحہ۵۲۸)

٭…٭…٭

مزید پڑھیں: ہومیو پیتھی یعنی علاج بالمثل(عمومی علامات کے متعلق نمبر ۲۸)(قسط ۱۵۳)

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button