خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭… انڈونیشیا کے بحیرۂ جاوا میں مسافر فیری ورگو ٹرانسپورٹ 8 خراب موسم اور تقریباً تین میٹر بلند لہروں کے باعث الٹ گئی۔ فیری سورابایا سے بنجرماسین جا رہی تھی کہ اتوار کی صبح تقریباً دو بجے اس سے رابطہ منقطع ہوگیا۔ حادثے میں اب تک چھ افراد ہلاک جبکہ ۱۲۹؍افراد لاپتا ہیں اور ۱۰۸؍افراد کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے ۶۵۵؍ امدادی اہلکار، بحری جہاز، طیارے، خصوصی بحری ٹیمیں اور تھرمل کیمروں سے لیس ڈرونز استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکام کو مزید افراد کے زندہ ملنے کی امید ہے۔فیری پر ۲۴۳؍افراد اور ۸۹؍گاڑیاں سوار تھیں۔ ایک مسافر نے فیری میں گنجائش سے زیادہ افراد سوار ہونے اور حفاظتی انتباہ نہ ملنے کا دعویٰ کیا۔ حادثے کی حتمی وجہ ابھی معلوم نہیں ہوئی۔
٭…ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائلوں اور ڈرونز سے نئے حملے کیے ہیں۔ حوثیوں کے مطابق خمیس مشیط میں کنگ خالد ایئر بیس سمیت اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ سعودی حکام نے خمیس مشیط اور ابہا میں مختصر سکیورٹی الرٹ جاری کیا جبکہ دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ حوثیوں نے حملوں کو سعودی فضائی کارروائیوں کا جواب قرار دیا ہے۔ دوسری جانب ایران نے یمن میں براہِ راست مداخلت کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حوثی اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔ یمن میں حالیہ لڑائی دوبارہ شدت اختیار کر چکی ہے اور تنازع وسیع تر علاقائی کشیدگی سے جڑتا جا رہا ہے۔
٭…سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے جدہ میں امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر سے ملاقات کی جس میں خطے کی تازہ صورتحال اور بڑھتی ہوئی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ ملاقات ایسے وقت ہوئی جب یمنی حوثیوں نے سعودی شہروں اور توانائی کی تنصیبات پر میزائل اور ڈرون حملے تیز کر دیے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے حوثیوں کے خلاف فوجی مدد بھی طلب کی تھی تاہم براہِ راست امریکی حملوں کی منظوری نہیں دی گئی۔ حوثیوں کی بحیرۂ احمر اور باب المندب کی جانب پیش قدمی سے سعودی تیل کی برآمدات اور عالمی بحری تجارت کو بھی خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
٭…ایران اور خلیجی ممالک کے درمیان آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے معاملے پر ہونے والے مذاکرات اتفاقِ رائے سے مؤخر کردیے گئے ہیں۔ عمانی وزیر خارجہ بدر البوسعیدی نے نئی تاریخ بتائے بغیر اس فیصلے کا اعلان کیا۔ مذاکرات میں ایران، عراق، عمان، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ شریک ہونے تھے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل اور گیس کی تجارت کا اہم راستہ ہے۔ ایران نے امریکہ سے جاری تنازع کے دوران اس گزرگاہ کو دباؤ کے لیے استعمال کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق امریکی مطالبات پورے ہونے تک آبنائے ہرمز نہیں کھولا جائے گا جبکہ امریکہ بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے دباؤ بڑھا رہا ہے۔
٭…ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے مسلم علما ءاور معاشروں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو سمجھیں اور ان کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلیں۔ کیرالہ کے شہر کوژیکوڈ میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ علم اور ٹیکنالوجی میں پیچھے رہنے سے مسلم معاشرے بیرونی اثر و رسوخ اور نئے نوعیت کے نوآبادیاتی تسلط کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق علما ءکو ڈیجیٹل تبدیلی اور مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا ادراک ہونا چاہیے۔ تاہم انہوں نے زور دیا کہ ٹیکنالوجی کی ترقی مذہبی، اخلاقی اور انسانی اقدار کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے بلکہ علم، مہارت اور ایمان کی بنیاد پر آگے بڑھنی چاہیے۔
٭…چین کے سرکاری میڈیا نے امریکی کمپنی اینتھروپک کے سربراہ ڈیریو اموڈے کی مصنوعی ذہانت کی ترقی کی رفتار کم کرنے کی اپیل کو منافقانہ قرار دیا ہے۔ اموڈے نے جدید اے آئی سے پیدا ہونے والے خطرات کے پیش نظر احتیاط کی ضرورت پر زور دیا تھا جبکہ اوپن اے آئی کے سربراہ سیم آلٹمین اور ایلون مسک بھی رفتار کم کرنے کی حمایت کر چکے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اےآئی میں چین سے آگے ہے اور عالمی سبقت کے لیے تیز رفتار ترقی ضروری ہے۔
٭…ایران کے شہر اصفہان کے قریب تباہ ہونے والے امریکی ایف 15 طیارے کے پائلٹ اور ویپن سسٹم افسر کو ریسکیو کیے جانے کی ویڈیو پانچ ماہ بعد جاری کر دی گئی۔ ویپن سسٹم افسر کے مطابق پیراشوٹ میں خرابی کے باعث گرنے سے اس کی کمر، کندھا اور بازو ٹوٹ گئے جبکہ سر اور چہرے پر بھی زخم آئے۔ شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ ایرانی فورسز سے بچنے کے لیے سات ہزار فٹ بلند پہاڑی پر چڑھا اور محفوظ مقام سے امریکی فوج سے رابطہ کیا۔ پائلٹ کو فوری جبکہ افسر کو دو روز بعد ریسکیو کیا گیا۔ امریکی میڈیا کے مطابق دونوں پر انٹرویو کے لیے دباؤ ڈالا گیا تاہم ایک پائلٹ نے انکار کیا۔
٭…مائیکرو سافٹ کے سی ای او ستیہ نڈیلا نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے حوالے سے محتاط رویے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اے آئی انسانی کنٹرول میں نہ رہے تو اس کی ترقی بے فائدہ ہوگی۔ انہوں نے اے آئی کی ترقی روکنے کے بجائے مؤثر حفاظتی نظام، نگرانی اور انسانی کنٹرول برقرار رکھنے پر زور دیا۔ نڈیلا نے یہ بھی کہا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کو چند بڑی کمپنیوں تک محدود رکھنے کی بجائے مختلف ممالک، اداروں اور کمیونٹیز تک پھیلایا جانا چاہیے۔ مائیکرو سافٹ اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے ایک ’کوڈ آف کنڈکٹ‘بھی متعارف کرانے کی تیاری کر رہا ہے۔




