خبرنامہ(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)
٭…برطانیہ میں فضائی نظام میں کئی گھنٹوں تک رہنے والے شدید خلل کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی ہے۔ فنانشل ٹائمز کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک برطانوی فوجی طیارے کی جانب سے جمع کرایا گیا فلائٹ پلان فضائی ٹریفک کنٹرول نظام میں خرابی کا باعث بنا۔ درج کیے گئے ڈیٹا کے نتیجے میںنظام متاثر ہوا، جس کی بحالی میں کئی گھنٹے اور متعدد کوششیں لگیں۔ نیشنل ایئر ٹریفک سروسز نے ابتدا میں اسے تکنیکی خرابی قرار دیا تھا۔ این اے ٹی ایس کے سربراہ نےمسافروں سے معذرت کی۔ برطانیہ کی سول ایوی ایشن اتھارٹی واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرے گی اور چھ ماہ میں رپورٹ پیش کرے گی۔
٭…امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے بحران اور سعودی عرب کو درپیش خطرات کا حل جلد نکل آئے گا۔ آئرلینڈکے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سعودی ولی عہد ان کےاچھے دوست ہیں اور صورتحال بہتر ہوجائے گی۔ ٹرمپ نے سعودی عرب کی تیل پائپ لائن پرحملے کا ذمہ دار غالباً ایران کو قرار دیا، جبکہ کہا کہ حوثی امریکہ سے جنگ نہیںچاہتے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز امریکی کنٹرول میں ہے اور ایران جنگ وسط مدتی انتخابات کے فوراً بعد ختم ہوسکتی ہے۔ جنگ کے خاتمے سے تیل کی قیمتیں بھی کم ہوں گی۔
٭…ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہےکہ ایران جنگ جاری رکھنے کے بجائے امن کو ترجیح دیتا ہے اور اپنے پڑوسی و مسلم ممالک سے کوئی اختلاف نہیں چاہتا۔ نئی دہلی میں ملائیشیا کے صدر سے ملاقات کےدوران انہوں نے کہا کہ ایران اپنے حقوق کا احترام، ظالمانہ پابندیوں کا خاتمہ اوربین الاقوامی حقوق کا حصول چاہتا ہے۔ پزشکیان کے مطابق امریکہ ایران کو دشمن بناناچاہتا ہے، جبکہ امریکہ، اسرائیل اور بعض یورپی ممالک کی خواہش ہے کہ خطے میں کوئی ملک آزاد نہ رہے۔ ایرانی صدر نے زور دیا کہ ایران امن کا خواہاں ہے اور خطے میںباہمی احترام، آزادی اور سلامتی کے اصولوں کے تحت تعلقات قائم کرنا چاہتا ہے۔
٭…امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق گذشتہ دو ماہ کے دوران ایک سو کمرشل بحری جہازوں کو راستہ تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیاہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ کارروائی ایرانی پانیوں کی ناکہ بندی کے سلسلے میں کی جا رہی ہے۔ سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ ناکہ بندی کے دوران کوئی بھی بحری جہازامریکی افواج کی اجازت کے بغیر گزرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ امریکی فوج کا کہنا ہےکہ ایران کے خلاف جاری مشن پر اہل کار پوری توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ حکام نے واضح کیا کہ کوئی جہاز امریکی اجازت کے بغیر اس نام نہاد ’’آہنی دیوار‘‘ سے گزر نہیں سکتا۔
٭…مصنوعی ذہانت کے معروف ماہر اور نوبیل انعام یافتہ سائنس دان جیفری ہنٹن نے خبردار کیا ہے کہ مستقبل میں انتہائی طاقتوراے آئی انسانیت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ بی بی سی سے گفتگو میں انہوں نےانسانوں کے مکمل خاتمے کے امکان کو تقریباً دس فیصد قرار دیا۔ ہنٹن کے مطابق اگراے آئی انسانوں سے کہیں زیادہ ذہین ہوگئی اور اپنے اہداف و مفادات خود طے کرنے لگی تو اسے قابو میں رکھنا مشکل ہوگا۔ انہوں نے سائبر حملوں، غلط معلومات اور دیگرتباہ کن کارروائیوں کے خطرات بھی بیان کیے۔ ہنٹن نے عالمی سطح پر اے آئی سیفٹی،مؤثر نگرانی اور انسانی کنٹرول یقینی بنانے پر زور دیا۔
٭…٭…٭




