مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ
ماہ جون ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب
اسلام
ماہ محرم اور مبالغہ آرائی :اسلامی ہجری کیلنڈرکے سنہ ۱۴۴۸ کا ماہ محرم الحرام جاری ہے اور بی بی سی اردو نے خبر دی کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے قوانین کی خلاف ورزی اور مذہبی جذبات مجروح کرنے پراردو زبان کے معروف ترین چینل جیو نیوز کا لائسنس پندرہ روز کے لیے معطل کرتے ہوئے نشریات بند کرنے کا حکم دیا ہے۔
بیان میں بتایا گیا کہ جیو نیوز پر ۱۰؍محرم الحرام کو’’سفرِ عشق‘‘ نامی پروگرام میں ناقابل قبول مذہبی تصویر کشی کی گئی۔ اس سے مذہبی جذبات مجروح ہوئے اور ہونے کا خدشہ ہے۔
جیوز نیوز نے اس معاملے میں وضاحت اور معذرت کی اور ’’سفر عشق‘‘ کے حوالے سے غلطی کو تسلیم کرتا ہے۔ اس مواد میں عراق اورمشرقِ وسطیٰ کے بعض دیگر ممالک میں محدود تعداد میں افراد کی جانب سے اختیار کی جانے والی بعض رسومات کی عکاسی کی گئی تھی اورمواد کی جانچ میں خامی رہ گئی۔
معزز قارئین! سب آگاہ ہیں کہ محرم کے دوران خصوصاً برصغیر میں مختلف ذاکر، مرثیہ خواں، نوحہ خواں، اور بعض مقررین ایک دوسرے سے بڑھ کر حضرت امام حسینؓ کی عظمت بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اس کے نتیجے میں بعض اوقات ایسے دعوے بھی سامنے آ جاتے ہیں جوقرآن سے ثابت نہیں ہوتے، مستند احادیث سے ثابت نہیں ہوتے، ابتدائی اسلامی تاریخ سے بھی ثابت نہیں ہوتے،بلکہ بعد کی عوامی روایت یا محض عقیدت کا نتیجہ ہوتے ہیں۔
گلی محلوں میں یہی ذاکر اور مقرر سادہ لوح سامعین کا خون گرمانےکے لیے ایسے واقعات بلاخوف وخطر سناتے اور دہراتے چلے جاتے ہیں۔ لیکن جب یہی مواد بغیر علمی جانچ کے ٹی وی پر نشر ہوا تو تنازع پیدا ہوگیا ۔
یادرہے کہ مذہبی شخصیات کی عظمت بیان کرنا یقیناً قابلِ قدر کام ہے، لیکن اسلام نے فضائل بیان کرنے میں بھی سچائی، اعتدال اور تحقیق کو ضروری قرار دیا ہے۔حضرت امام حسینؓ کا مقام اتنا بلند ہے کہ اسے ثابت کرنے کے لیے غیر ثابت شدہ واقعات، مبالغہ آمیز روایات یا جذباتی تصویری مناظر کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ جذباتی خطابت محض وقتی اثر پیدا کر تی ہے۔
یہودیت
اسرائیل میں’’ حجاز ریلوے ‘‘کا ذکر:میڈیارپورٹس کے مطابق اسرائیل کی وزیرِ ٹرانسپورٹ نے وزیرِ اعظم کو ایک خط لکھ کر خبردار کیا ہے کہ اگر ترکی، شام، اردن اور سعودی عرب کے درمیان ریلوے اور زمینی راہداری کے منصوبے آگے بڑھتے ہیں تو اس سے اسرائیل کی علاقائی اور اقتصادی اہمیت متاثر ہو سکتی ہے۔ اس تناظر میں حجاز ریلوے کی بحالی کا بھی ذکر کیا گیا۔
حجاز ریلوے خلافتِ عثمانیہ کا ایک عظیم الشان منصوبہ تھا، جس کی تعمیر ۱۹۰۰ء میں سلطان عبدالحمید ثانی کے حکم پر شروع ہوئی تھی اور منصوبہ تھا کہ استنبول، دمشق، مدینہ اور مکہ تک ریلوے پہنچائی جائے۔مگر ہوا یوں کہ عملی طور پر ریل کا راستہ دمشق سے مدینہ تک مکمل ہوا، لیکن پہلی جنگِ عظیم اور داخلی شورش کے باعث مکہ تک نہ پہنچ سکی۔
اس منصوبہ کی مذہبی افادیت پیش گوئیوں کے لحا ظ سے بھی غیرمعمولی تھی۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:’’منجملہ اور علامات کے جو ہمارے آنے کے واسطے اللہ اور رسول کی کتابوں میں مندرج ہیں ایک اونٹوں کی سواریوں کا معطل ہو جانا بھی ہے۔ چنانچہ اس مضمون کو قرآن شریف نے بالفاظ ذیل تعبیر کیا ہے، وَاِذَا الۡعِشَارُ عُطِّلَتۡ(التکویر: ۵) اور حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں اس مضمون کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہےکہ وَلَايُتْرَكُنَّ الْقِلَاصُ فَلَا يُسْعَی عَلَيْهَا۔
اب سوچنے والے کو چاہیے کہ ان امور میں جو آج سے تیرہ سو برس پیشتر خدا اور اس کے رسول کے منہ سے نکلے اور اس وقت وہ الفاظ بڑی شان اور شوکت سے پورے ہو کر اپنے کہنے والوں کے جلال کا اظہار کر رہے ہیں۔ دیکھیے! اب اس پیشگوئی کے پورا ہونے کے کیسے کیسے سامان پیدا ہو رہے ہیں، حتى کہ حجاز ریلوے کے تیار ہو جانے پر مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے سفر بھی بجائے اونٹ کے ریل کے ذریعہ ہوا کریں گے اور اونٹنیاں بیکار ہوجاویں گی۔‘‘(ملفوظات جلد ۱۰ صفحہ ۲۲۴۔ ایڈیشن۲۰۲۲ء)
اُس زمانے میں شام سے مدینہ تک سفر اونٹوں پر کئی ہفتےلیتا تھا۔ ریلوے بننے کے بعد یہی سفر دنوں میں طے ہونے لگا۔اس سےحج آسان ہوا۔اخراجات کم ہوئے۔وباؤں، متعدی بیماریوں کے پھیلنے اور ڈاکوؤں کے خطرات کم ہوئے۔مگرکشیدہ سیاسی منظرنامے اور جنگ نے اس ریلوے نظام کو عملاً ناقابل سفر بنا دیا۔
حالیہ برسوں میں ترکی، شام، اردن اور سعودی عرب اس تاریخی راستے کو جدید ریلوے نیٹ ورک کی صورت میں دوبارہ فعال کرنے میں دلچسپی دکھا رہے ہیں۔جبکہ گذشتہ چند برسوں سے اسرائیل، بھارت، یورپ، امریکہ اور بعض عرب ممالک بھی ایک ایسی راہداری پر کام کر رہے ہیں، جس میں اسرائیل ایک اہم زمینی و بحری راہداری کا حصہ بن سکتا ہے۔اب اگر اس کے متبادل کے طور پر سعودی عرب، اردن، شام، ترکی کا ریلوے راستہ فعال ہو جاتا ہے، تو تجارت کا ایک بڑا حصہ اسرائیل سے گزرنے کے بجائے اس متبادل راہداری سے گزر سکتا ہے۔ اسی لیے اسرائیلی حلقوں میں اس منصوبے کو صرف ایک ریلوے نہیں بلکہ جغرافیہ اور سیاست کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔
عیسائیت
مذہبی وعظ کون کرسکتا ہے؟ :ایک خبر کے مطابق کیتھولک عیسائیت کے عالمی مرکز (ویٹیکن)نےاپنے ایک حالیہ فیصلے میں واضح کیا ہے کہ کیتھولک گرجا گھروں میں اتوار یا دیگر مخصوص تہواروں کی اہم عبادت کے دوران صرف مقرر کردہ پادری ہی مذہبی خطبہ یا وعظ دے سکتے ہیں۔یوں ویٹیکن نے غیر مقرر شدہ عام لوگوں اور خصوصاً خواتین کو یہ وعظ دینے کی اجازت دینے کی درخواست کو باقاعدہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔
دراصل ایک بشپ کانفرنس نے ویٹیکن سے خاص رعایت مانگی تھی کہ پادریوں کی کمی یا غیر معمولی حالات میں ان کے گرجا گھروں کے تربیت یافتہ عام مرد و خواتین کو بھی عبادت کے دوران وعظ دینے کی اجازت دی جائے۔
اس پر ویٹیکن میں عبادات کے متعلقہ محکمہ نے ۲۳؍جون ۲۰۲۶ءکو جاری کردہ اپنے فیصلے میں اس درخواست کو یکسر مسترد کر دیا۔ ویٹیکن کا کہنا ہے کہ چرچ میں ہونے والا یہ وعظ صرف ایک عام تقریر یا نصیحت نہیں ہے، بلکہ یہ کیتھولک عبادات کا ایک لازمی اور مقدس حصہ ہے۔
کیتھولک عقیدے کے مطابق عبادت کے دوران پادری گویا حضرت عیسیٰ کی نمائندگی کر رہا ہوتا ہے، اس لیے یہ خاص حق ہر کسی کو نہیں دیا جاسکتا۔ اور چونکہ کیتھولک چرچ کے قوانین کے مطابق خواتین کی بطور پادری تقرری نہیں ہو سکتی، اس لیے وہ خود بخود عبادت کے دوران یہ مخصوص وعظ دینے سے بھی محروم رہیں گی۔
ویٹیکن نے واضح کیا ہے کہ عام لوگ (بشمول خواتین) گرجا گھر کے دیگر پروگراموں، دعائیہ تقاریب، بائبل اسٹڈی اور دیگر مذہبی سیمینارز میں وعظ یا تقریر کر سکتے ہیں، لیکن وہ مرکزی اتوار کی عبادت کے دوران پادری کی جگہ نہیں لے سکتے۔ اس حالیہ فیصلہ کو کیتھولک چرچ کی روایتی قوانین کو برقرار رکھنے اورمغربی ممالک میں جاری لبرل اصلاحات کی تحریکوں کو روکنے کے لیے ویٹیکن کے ایک اہم اقدام کے طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔
تبتی بدھ مت
دلائی لامہ کی صحت کی تازہ صورت حال:تبتی بدھ مت، بدھ مت کی ایک منفرد شاخ ہے، جسے وجریانہ یا تانترک بدھ مت بھی کہا جاتا ہے۔جس میں عام بدھ مت کی طرح اہنسا یعنی عدم تشدد ، شفقت، اور نروان (دکھ سے نجات) کا درس دیا جاتا ہے اور اس کے پیروکار تبت، منگولیا، بھوٹان، اور بھارت کے ہمالیائی خطوں (جیسے لداخ اور دھرم شالہ) میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔
’’دلائی لامہ‘‘ تبتی بدھ مت کے سب سے بڑے روحانی پیشوا کا عہدہ یا لقب ہے۔ جس کا مطلب ہے:روحانی استاد۔ اس وقت ۱۴ ویں دلائی لامہ دنیا کے سامنے ہیں، جن کا اصل نام تنزن گیاتسو (Tenzin Gyatso) ہے۔ وہ ۱۹۳۵ء میں پیدا ہوئے اور محض ۴؍سال کی عمر میں انہیں دلائی لامہ تسلیم کیا گیا۔تبتی بدھ مت کے مطابق، دلائی لامہ کوئی عام انسان یا بادشاہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ’’ شفقت کے بدھ‘‘کا انسانی روپ ہیں۔ جب ایک دلائی لامہ وفات پاتے ہیں، تو ان کی روح دوبارہ کسی بچے کے روپ میں جنم لیتی ہے، جسے بعد میں نشانیاں دیکھ کر تلاش کیا جاتا ہے۔
۱۹۵۰ءمیں چین نے تبت پر کنٹرول حاصل کیاتو تبت میں چینی حکومت کے خلاف ایک ناکام بغاوت کے بعد، ۱۴ ویں دلائی لامہ کو اپنی جان بچانے کے لیے تبت سے بھاگنا پڑا۔ وہ بھارت آئے جہاں انہیں سیاسی پناہ دی گئی۔ تب سے اب تک دلائی لامہ بھارت کے شہر دھرم شالہ (ہماچل پردیش) میں مقیم ہیں، جسے تبت کی جلاوطن حکومت کا مرکز بھی کہا جاتا ہے۔
دلائی لامہ کو ۱۹۸۹ء میں امن کے شعبہ میں نوبیل انعام بھی مل چکا ہے نیز انہوں نے فروری ۲۰۱۴ء میں جماعت احمدیہ کی طرف سے منعقدہ تاریخی بین المذاہب کانفرنس میں اپنا خیرسگالی کا پیغام بھی بھیجا تھا جو ان کے نمائندے نے پڑھ کر سنایاتھا۔ یہ کانفرنس جماعت احمدیہ برطانیہ کی صد سالہ تقریبات کے سلسلہ میں لندن کے تاریخی گلڈ ہال میں منعقد ہوئی تھی ، جہاں تقریباً ۵۰۰؍مندوبین، مختلف مذاہب کے راہنما، سفارت کار، اراکین پارلیمنٹ اور ماہرین تعلیم شریک ہوئے تھے۔
اسلام میں جمعہ کے خطبے کی طرح تبتی بدھ مت میں کوئی لازمی ہفتہ وار نظام موجود نہیں، لیکن دلائی لامہ باقاعدگی سے بدھ مت کی مقدس کتابوں کی تشریح کرتے ہیں، عوامی لیکچر دیتے ہیں اور سوال و جواب کی نشستیں کرتے ہیں اوران سے تعلیمات سننے کے لیے ہزاروں افراد ہر سال ان کے مرکز دھرم شالہ جاتے ہیں، جہاں وہ مرکزی تبتی مندر میں کئی روزہ درس دیتے ہیں۔ اسی جگہ فروری ۲۰۲۳ء میں ایک عوامی تقریب کے دوران ایک کم عمر لڑکے اور دلائی لامہ کے مابین گفتگو وغیرہ کا مشہور واقعہ بھی ہوا تھا۔
حال ہی میں ۹۱؍سالہ اس روحانی پیشوا کے گھٹنے کا آپریشن بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں ہوا۔ جس کے بعد دلائی لامہ کے ذاتی معالجین اور متعلقہ ہسپتال کے ڈاکٹرز نے تصدیق کی ہے کہ یہ آپریشن مکمل طور پر کامیاب رہا ۔ بڑھتی عمر کے باعث انہیں چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا تھا۔اس آپریشن سے قبل دھرم شالہ، لداخ، نئی دہلی اور دنیا بھر میں تبتی بدھ مت کے پیروکاروں، راہبوں نے ان کی صحت یابی کے لیے خصوصی دعائیں اور مذہبی منتر پڑھے۔
ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد دلائی لامہ نئی دہلی میں آرام کر رہے ہیں اور جون کے آخر یا جولائی کے آغاز میں وہ ہر سال کی طرح موسم گرما گزارنے لداخ روانہ ہوں گے۔ جولائی ۲۰۲۶ء کو دلائی لامہ اپنی ۹۱؍ویں سالگرہ منائیں گے اور توقع ہے کہ وہ اس موقع پر ایک عوامی تقریب میں بھی شرکت کریں گے۔
(اواب سعد حیات)
مزید پڑھیں: مذاہبِ عالم : خبریں اور تجزیہ(ماہ جون ۲۰۲۶ء کی بعض خبروں سے انتخاب)




