خلاصہ خطبہ جمعہ

قناعت اور سادگی کے حوالے سےسیرت النبیﷺ کا ایمان افروز تذکرہ۔ خلاصہ خطبہ جمعہ ۲۳؍اکتوبر ۲۰۲۶ء

٭… آپؐ کی سادگی کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ بعض اوقات اپنی ضرورت کی ا شیاء خود بازار سے خریدفرماتے تھے

٭… آنحضورﷺ بچوں کے پاس سے گزرتے تو آپؐ انہیں سلام کرتے۔ ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے۔ ان کے لیے دعا کیا کرتے۔ کوئی شخص آپؐ کے ساتھ بیٹھتا، یا کسی حاجت کے لیے آپؐ سے گفتگو کرتا تو آپؐ اس کے ساتھ تحمل سے بیٹھے رہتے یہاں تک کہ وہ شخص خود اٹھ کر چلا جاتا۔ یہ سادگی اور تحمل آنے والے کو تسلی اور حوصلہ دیتا کہ وہ اپنی بات آرام سے بیان کرے۔ پس یہ وہ طریقہ ہے جو ہمارے عہدےداروں کو بھی اختیار کرنا چاہیے

٭… حضورﷺ کی زندگی میں کوئی بناوٹ نہیں تھی، سادگی تھی۔ آپؐ اپنے صحابہ ؓکو بھی یہی سمجھایا کرتے تھے کہ سادگی اختیار کرو تاکہ ان کی بھی اصلاح ہوتی رہے

٭… نبی کریمﷺ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپؐ اچھی سے اچھی غذا بھی کھالیا کرتے تھے اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپؐ نے فاقے بھی کیے۔ بعض دفعہ اتنے لمبے فاقے کیے کہ آپؐ کو اپنا پیٹ باندھنا پڑا۔ مگر ہر حالت میں آپؐ کی زندگی شکر اور سادگی میں بسر ہوئی (حضرت مصلح موعودؓ)

خلاصہ خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ ۲۳؍اکتوبر ۲۰۲۶ء بمطابق ۲۳؍اخاء ۱۴۰۵؍ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

اميرالمومنين حضرت خليفةالمسيح الخامس ايدہ اللہ تعاليٰ بنصرہ العزيز نے مورخہ ۲۳؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ، يوکے ميں خطبہ جمعہ ارشاد فرمايا جو مسلم ٹيلي وژن احمديہ کے توسّط سے پوري دنيا ميں نشرکيا گيا۔ جمعہ کي اذان دينےکي سعادت مولانا فیروز عالم صاحب کے حصے ميں آئي۔

تشہد،تعوذ اورسورة الفاتحہ کی تلاوت کے بعد حضورِانور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے فرمایا:

آنحضرتﷺ کی سادہ زندگی کا ذکر مَیں نے شروع کیا تھا۔ آپؐ کی سادگی کا ایک انداز یہ بھی تھا کہ بعض اوقات اپنی ضرورت کی ا شیاء خود بازار سے خریدفرماتے تھے۔

چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں ایک دن رسول اللہﷺ کے ساتھ بازار میں داخل ہوا۔ آپؐ کپڑے کے تاجر کے پاس بیٹھ گئے ۔پھر آپؐ نے چار درہم میں کھلا پاجامہ خریدا۔

حضرت عائشہؓ سے روایت ہے ۔وہ کہتی تھیں کہ حضرت ابوبکرؓ میرے پاس آئے ۔اس وقت میرے پاس انصار کی دو لڑکیاں کچھ اشعار گا رہی تھیں۔ وہ پیشہ وَر گانے والیاں نہ تھیں بلکہ حضرت عائشہؓ  فرماتی ہیں کہ وہ میری سہیلیاں تھیں۔حضرت ابوبکرؓ نے گانے کی آواز سنی تو فرمایا :یہ کیا کہ رسول اللہﷺ کے گھر میں تم لوگ شیطان کی بانسریاں (گانا بجانا) لے کر بیٹھی ہو۔ یہ عید کا دن تھا۔ حضورﷺ نے یہ سنا تو فرمایا :اے ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوا کرتی ہے اور یہ ہماری عید ہے ۔ پس ان کو گیت گانے دو اور مت روکو۔ حضورِانور نے فرمایا کہ سادہ بےتکلف ماحول ہے، کوئی شرک کی بات نہیں ہورہی تو انہیں گیت گانے دو۔

آنحضورﷺ بچوں کے پاس سے گزرتے تو آپؐ انہیں سلام کرتے۔ ان کے سر پر ہاتھ پھیرتے۔ ان کے لیے دعا کیا کرتے۔ کوئی شخص آپؐ کے ساتھ بیٹھتا، یا کسی حاجت کے لیے آپؐ سے گفتگو کرتا تو آپؐ اس کے ساتھ تحمل سے بیٹھے رہتے یہاں تک کہ وہ شخص خود اٹھ کر چلا جاتا۔ یہ سادگی اور تحمل آنے والے کو تسلی اور حوصلہ دیتاکہ وہ اپنی بات آرام سے بیان کرے۔ پس یہ وہ طریقہ ہے جو ہمارے عہدےداروں کو بھی اختیار کرنا چاہیے۔

حضرت امام حسینؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے اپنے والد سے آنحضورﷺ کی مجلس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ

آپؐ اٹھتے بیٹھتے ذکرِ الٰہی کرتے، کسی قوم کے پاس جاتے تو جب مجلس ختم ہوتی تو وہیں تشریف رکھتے۔ آپؐ ہر ہم نشین کو اُس کا حق دیتے، کوئی یہ گمان نہ کرتا کہ کوئی دوسرا اُس سے زیادہ معزّز ہے۔ آپؐ کی سخاوت اور حسنِ خُلق سب کے لیے یکساں تھی، آپؐ اُن کے لیے بمنزلہ باپ ہوگئے تھے۔

ہجرتِ مدینہ کے وقت جب قباءسے باہرآپؐ ایک درخت کے نیچے بیٹھے تھے تو اُس وقت ابھی اہلِ مدینہ کی اکثریت آپؐ کے چہرے سے واقف نہ تھی۔ لوگ حضرت ابوبکر ؓکو آپؐ کی جگہ رسول اللہ ؐسمجھ رہے تھے اوربڑی عقیدت سے حضرت ابوبکرؓ  کی طرف منہ کرکے بیٹھ جاتے۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہ سب دیکھ کر جھٹ اپنی چادر اٹھائی اور سورج کی طرف کھڑے ہوگئے اور کہا کہ یا رسول اللہﷺ! آپ پر دھوپ پڑ رہی ہے۔مَیں آپؐ پر سایہ کرتا ہوں۔

حضرت جابربن عبداللہ ؓکہتے ہیں کہ مَیں ایک بار بیمار ہوا تو نبی ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ میرے گھر تشریف لائے اور انہوں نے مجھے بےہوش پایا۔نبی ﷺ نے وضو کیا اور وضو کا پانی مجھ پر ڈالا تو مجھے ہوش آیا۔

حضورﷺ کی زندگی میں کوئی بناوٹ نہیں تھی، سادگی تھی۔ آپؐ اپنے صحابہ ؓکو بھی یہی سمجھایا کرتے تھے کہ سادگی اختیار کرو تاکہ ان کی بھی اصلاح ہوتی رہے۔

حضرت عبداللہ بن مسعودؓ بیان کرتے ہیں کہ غزوۂ بدر کے دن تین تین آدمی ایک اونٹ پر باری باری سوار ہوتے تھے۔ آپؐ کے ساتھ سوار ہونے والوں نے کہا کہ یارسول اللہﷺ! آپ سوار ہوں اورہم پیدل چل لیتے ہیں۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ مَیں تم دونوں سے ثواب کے معاملے میں بےنیاز ہوں۔ اس لیے جو اصول مقرر ہوگیا ہے اسی کے مطابق عمل ہوگا۔

حضرت عمرو بن حارثؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے نہ کوئی دینار چھوڑا، نہ درہم، نہ غلام، نہ کوئی لونڈی۔ سوائے اپنے سفید خچر کے، جس پر آپؐ سوار ہوا کرتے تھےاور اپنے ہتھیاروں کےاور ایک زمین کے، جو آپؐ نے مسافروں کے لیے وقف کردی تھی۔

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ

نبی کریمﷺ سے یہ بھی ثابت ہے کہ آپؐ اچھی سے اچھی غذا بھی کھالیا کرتے تھے اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپؐ نے فاقے بھی کیے۔ بعض دفعہ اتنے لمبے فاقے کیے کہ آپؐ کو اپنا پیٹ باندھنا پڑا۔ مگر ہر حالت میں آپؐ کی زندگی شکر اور سادگی میں بسر ہوئی۔

حضرت ابوسعید خدریؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کی زندگی بڑی سادہ تھی۔ آپؐ کسی کام میں عار نہیں سمجھتے تھے۔ آپؐ اپنے اونٹ کو خود چارہ ڈالتے، گھر کے کام کاج کرتے، اپنی جوتیوں کی مرمت کر لیتے، کپڑے کے پیوند لگا لیتے، خادم کو اپنے ساتھ بٹھاکر کھانا کھلاتے، آٹا پیستے پیستے اگر وہ تھک جاتا تو اس میں اس کی مدد کرتے ۔بازار سے گھر کا سامان اٹھا کر لانے میں شرم محسوس نہ کرتے۔امیر غریب ہر ایک سےمصافحہ کرتے ، سلام میں پہل کرتے، اگر کوئی کھجور کی دعوت بھی دیتا تو آپؐ اسے حقیر نہ سمجھتے اور اسے قبول کرتے۔ آپؐ نہایت ہمدرد، نرم مزاج اور حلیم الطبع تھے۔ آپؐ کا رہن سہن نہایت سادہ تھا، بشاشت سے پیش آتے، تبسّم آپؐ کے چہرے پر جھلکتا رہتا۔ آپؐ زور کا قہقہہ لگا کر نہیں ہنستے تھے۔ خدا کے خوف سے فکر مند رہتے مگر تُرش روی اور سختی نام کی بھی نہ تھی۔ منکسرالمزاج تھے، مگر اِس میں کوئی کمزوری اور پست ہمتی کا شائبہ تک نہ تھا۔ بڑے سخی، نرم دل اور رحیم و کریم تھے۔ ہرمسلمان سے مہربانی سے پیش آتے۔ اتنا پیٹ بھرکر نہ کھاتے تھے کہ ڈکار لیتے رہیں۔ کبھی حرص وطمع کے جذبے سے ہاتھ نہ بڑھاتے بلکہ صابر وشاکر اور کم پر قانع رہتے۔

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ

رسول اللہﷺ ہدیہ قبول فرمایا کرتے تھے اور خود بھی ہدیہ بھیجا کرتے تھے۔ چھوٹے سے چھوٹا تحفہ بھی ہوتا تو آپؐ قبول کرتے اور اُس کے بدلے میں تحفہ دیا بھی کرتے تھے۔

آپؐ نے کبھی کسی کھانے کو بُرا نہیں کہا۔ اگر آپؐ اس کو پسند کرتے تو کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے۔

آپؐ نے پشم یعنی کھردری اُون کا کپڑا پہنا، مرمت کیے ہوئے جوتے پہنے۔ آپؐ نے ہمیشہ سخت کھانا کھایا (یعنی جَو کی موٹی روٹی جو بغیر پانی کے حلق سے نیچے نہیں اترتی) اور سادہ پہنا۔

آپؐ نے اپنی زرہ جَو کے عوض گِروی رکھی تھی۔ آپؐ نے ایک مرتبہ روٹی کے ایک ٹکڑے پر کھجور رکھی اور فرمایا کہ یہ اِس کا سالن ہے۔ یوں کھجور کے ساتھ روٹی کھائی۔ آپؐ کی خدمت میں ایک مرتبہ گرم کھانا لایا گیا۔ آپؐ نے تناول کیا اور فرمایا کہ تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اتنے عرصے سے گرم کھانا نہیں کھایا تھا۔ حضرت عائشہؓ  کہتی ہیں کہ نبی کریمﷺ نے اُس وقت وفات پائی جب ہم کھجور اور پانی سیر ہوکر کھاتے تھے۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ طیّبین اور طاہرین کا سیر ہوکر کھانا اُس قسم کا سیر ہونا نہیں ہے جو اُن لوگوں کا ہوا کرتا ہےجن کے حق میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ایسے کھاتے ہیں جیسے چارپائے کھاتے ہیں اور آگ اُن کا ٹھکانہ ہے۔ آنحضرتﷺ کا کسی وقت سیر ہوکر کھانا اور ہی نُور ہے اور اگر اُس سیری کواُن لوگوں کی طرف نسبت دی جاوے جن کا اصل مقصد احتظاذ (یعنی لذت حاصل کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا) حاصل کرنا اور جن کی نگاہیں نفسانی شہوات کے استفا تک محدود ہوں، اُس سیری کو ہم ہرگز سیری نہیں کہہ سکتے۔ سیری کی تعریف میں پاکوں اور مقدسوں کی اصطلاح اور ناپاکوں اور شکم پرستوں کی اصطلاح الگ الگ ہے۔ پاک لوگ اُسی قدر غذا کا نام سیری رکھ لیتے ہیں کہ جب فی الجملہ وقت جُوع دُور ہوجائے اور حرکات و سکنات پر قوّت حاصل ہوجائے۔ غرض مومن کی سیری یہی ہے کہ اس قدر غذا کھائے کہ جو اُس کی پشت کو قائم رکھے اور حقوقِ واجبہ ادا کرسکے۔ پس جو سید المرسلین ہے اس کی سیری کاقیاس عام لوگوں کی سیری پر قیاس مع الفارق ہے۔ اسی طرح بہت لوگوں نے آپؐ کی شانِ عظیم کو نہیں سمجھا اور الفاظ کے موردِ استعمال کو ملحوظ نہیں رکھا اور اپنے تئیں غلطی میں ڈال لیا۔ آنحضرتﷺ کا کسی وقت یہ فرمانا کہ مَیں سیر ہوگیا ہوں ہرگز ان کے قول کا مراد نہیں جنہوں نے اصل مقصد اپنی زندگی کا کھانا ہی سمجھا ہوا ہے۔ غرض پاکوں کا کام اور کلام پاکوں کے مراتبِ عالیہ کے مطابق سمجھنا چاہیے اور اُن کے اُمور کا دوسروں پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے۔ وہ درحقیقت اس عالَم سے باہر ہوتے ہیں گو بصورت اس عالَم کے اندر ہی ہوں۔

حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ جب بھی مَیں دن میں دو مرتبہ سیر ہوکر کھانا کھاتی ہوں تو مجھے رونا آتا ہے۔ پوچھا گیا کہ کیوں رونا آتا ہے؟ تو آپؓ نے فرمایا کہ مجھے رسول اللہﷺ کی وہ حالت یاد آجاتی ہے جس میں آپؐ نے دنیا چھوڑی۔

خدا کی قسم ! رسول اللہﷺ نے کبھی ایک دن میں دو مرتبہ روٹی اور گوشت پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔

حضرت عبداللہ بن عبیدؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں کھانا پیش کیا گیا۔ حضرت عائشہؓ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبیؐ!آپ ٹیک لگا کر کھائیں یہ آپؐ کے لیے زیادہ آرام دِہ ہوگا۔ آپؐ نے اپنی پیشانی زمین کی طرف جھکادی اور قریب تھا کہ وہ زمین کو چھوئے۔ آپؐ نے فرمایا :مَیں تو اسی طرح کھاؤں گا جس طرح عام بندہ کھاتا ہے اور اسی طرح بیٹھوں گا جس طرح عام بندہ بیٹھتا ہے کیونکہ مَیں تو محض ایک بندہ ہوں۔

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ

آنحضرتﷺ کی پاک زندگی کا مطالعہ کرو تاتمہیں معلوم ہوکہ آپؐ ایسے خلیق تھے باوجویکہ آپؐ بڑے بارعب تھے لیکن اگر کوئی ضعیفہ عورت بھی آپؐ کو کھڑا کرتی تو آپؐ اُس وقت تک کھڑے رہتے جب تک وہ اجازت نہ دے۔

خطبے کے اختتام پر حضورِانور نے فرمایا کہ آپؐ کا مقام بہت اعلیٰ مقام ہےاور آپؐ کے ہر عمل میں ایک اُسوہ ہے۔ اللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَّعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍوَّبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button