کوئی دن ایسا نہ ہو جس دن تم نے خداتعالیٰ کے حضور رو کر دعا نہ کی ہو
قرآن شریف سے یہ ثابت ہے کہ جب قہر الٰہی نازل ہوتا ہے تو بدوں کے ساتھ نیک بھی لپیٹے جاتے ہیں اور پھر ان کا حشر اپنے اپنے اعمال کے مطابق ہو گا۔ دیکھو حضرت نوح ؑکا طوفان سب پر پڑا اور ظاہر ہے کہ ہر ایک مرد عورت اور بچے کو اس سے پورے طور پر خبر نہ تھی کہ نوح کا دعویٰ اور ان کے دلائل کیا ہیں۔ جہاد میں جو فتوحات ہوئیں یہ سب اسلام کی صداقت کے واسطے نشان تھیں۔ لیکن ہر ایک میں کفار کے ساتھ مسلمان بھی مارے گئے۔ کافر جہنم کو گیا اور مسلمان شہید کہلایا۔ ایسا ہی طاعون ہماری صداقت کے واسطے ایک نشان ہے اور ممکن ہے اس میں ہماری جماعت کے بعض آدمی بھی شہید ہوں۔ ہم خداتعالیٰ کے حضور دعا میں بہت مصروف ہیں کہ وہ اُن میں اور غیروں میں تمیز قائم رکھے۔ لیکن جماعت کے آدمیوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ صرف ہاتھ پر ہاتھ رکھنے سے کچھ نہیں بنتا جب تک کہ ہماری تعلیم پر عمل نہ کیا جاوے۔ سب سے اوّل حقوق اللہ کو ادا کرو، اپنے نفس کو جذبات سے پاک رکھو۔ اس کے بعد حقوقِ عباد کو ادا کرو اور اعمال صالحہ کو پورا کرو۔ خداتعالیٰ پر سچا ایمان لاؤ اور تضرع کے ساتھ خداتعالیٰ کے حضور میں دعا کرتے رہو اور کوئی دن ایسا نہ ہو جس دن تم نے خداتعالیٰ کے حضور رو کر دعا نہ کی ہو۔ اس کے بعد اسباب ظاہری کی رعایت رکھو۔
(ملفوظات جلد پنجم صفحہ ۱۹۵،۱۹۴،ایڈیشن۱۹۸۸ء)
مزید پڑھیں: اسلام اور دوسرے مذہب میں خدا کا تصوّر



