نماز جنازہ حاضر و غائب

نمازِ جنازہ حاضر و غائب

مکرم منیر احمد جاوید صاحب پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز تحریر کرتے ہیں کہ حضورِ انور ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ۱۸؍مارچ ۲۰۲۶ء بروز بدھ بارہ بجے بعد دوپہر اسلام آباد (ٹلفورڈ) میں اپنے دفتر سے باہر تشریف لاکر مکرمہ شمیم اشرف صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری محمد اشرف صاحب مرحوم (ٹوٹنگ یوکے) اور مکرم ممتاز احمد بٹ صاحب (آف مالڈن مینر۔ یوکے) کی نماز جنازہ حاضر اور چھ مرحومین کی نمازِ جنازہ غائب پڑھائی۔

نماز جنازہ حاضر

۱۔مکرمہ شمیم اشرف صاحبہ اہلیہ مکرم چودھری محمد اشرف صاحب مرحوم (ٹوٹنگ یوکے)

15؍مارچ 2026ء کو 85 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحومہ جماعت آئرلینڈ کی ممبر تھیں لیکن چند سال سے بیماری کے باعث اپنے بیٹوں کے پاس یو کےمیں مقیم تھیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، غریبوں کا خیال رکھنے والی، بڑی ہمدرد، خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار، چندوں کی ادائیگی میں باقاعدہ اور دیگر مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والی مخلص خاتون تھیں۔ خلافت کے ساتھ اخلاص کا گہرا تعلق تھا۔ حضور انور کے خطابات اور خطبات بڑی توجہ سےسنا کرتی تھیں۔ مرحومہ کو آئر لینڈ کی مسجد کے سنگ بنیاد میں اینٹ رکھنے کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹے، آٹھ بیٹیاں اور بہت سے نواسے نواسیاں اور پوتے پوتیاں شامل ہیں۔

۲۔مکرم ممتاز احمد بٹ صاحب (آف مالڈن مینر۔ یوکے)

12؍مارچ 2026ء کو 81 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت محمد بخش بٹ صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےپوتے، مكرم عبد الکریم بٹ صاحب (آف تنزانیہ) کے بیٹے اور مکرم خلیفہ صلاح الدین صاحب مرحوم کے داماد تھے۔ مرحوم نماز اورروزہ کے پابند، اچھی طبیعت کے مالک، بڑے مہمان نواز، ہر کسی کے ساتھ پیار اور محبت کا تعلق رکھنے والے مخلص انسان تھے۔ آپ دوسروں کے کام اور مدد کر کے خوشی محسوس کرتے تھے۔خلافت کے ساتھ گہرا عقیدت کا تعلق تھا۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹا، تین بیٹیاں اور پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں شامل ہیں۔ آپ مکرم خلیفہ فلاح الدین صاحب کے بہنوئی اور مکرم مرزا خلیق احمد صاحب (سیکرٹری اشاعت جماعت یوکے) اور مکرم مرزا لئیق احمد صاحب (عملہ حفاظت اسلام آباد۔یوکے) کے خالو تھے۔

نماز جنازہ غائب

۱۔مکرم مبارک احمد صاحب ابن مکرم سلطان احمد صاحب (دارالشکر جنوبی ربوہ)

7؍جنوری 2026ء کو 68 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت نظام الدین صاحب بافندہ رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پوتے تھے۔مرحوم نے اپنی زندگی کے تقریباً 18سال اخلاص و وفا کے ساتھ جماعت کی خدمت میں گزارے۔ پیر کوٹ ثانی (ضلع حافظ آباد) میں سیکرٹری مال اور زعیم انصاراللہ کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ ربوہ آنے کے بعد محلہ نصرت آباد میں بطور سیکرٹری وقفِ جدید اور پھر دارالشکر جنوبی میں معاون سیکرٹری وقفِ جدید کے طور پر خدمت بجالاتے رہے۔ پیر کوٹ ثانی کی نئی مسجد کی تعمیر کے تمام مراحل میں بڑی قابلِ قدر خدمات سرانجام دیں۔ مرحوم صوم و صلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار اور باقاعدگی سے تلاوتِ قرآنِ کریم کرنے والے،بڑے منکسر المزاج، مہمان نواز اور اچھے اخلاق کے مالک ایک مخلص اور باوفا انسان تھے۔ خلافت کے ساتھ والہانہ عشق کا تعلق تھا۔ مرحوم اپنے تمام چندے غیر معمولی شوق کے ساتھ ادا کرتے تھے۔ آپ نے اپنی اولاد کی بڑی عمدہ تربیت کی اور انہیں ہمیشہ نمازباجماعت، تلاوتِ قرآنِ کریم اور دین کی خدمت کی تلقین کرتے رہے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے مکرم عدنان مبارک صاحب … خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

۲۔مکرم پروفیسر عزیز احمد طاہر صاحب ابن مکرم عبداللطیف صاحب (ناصر آباد شرقی ربوہ)

18؍اکتوبر 2025ء کو 86سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم مکرم عبداللطیف صاحب اوورسیئر کےبیٹے تھے جنہوں نے ربوہ کی نقشہ بندی کی تھی۔ آپ نے قاضی سلسلہ اور نائب قائد تعلیم انصاراللہ پاکستان کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ کچھ عرصہ تعلیم الاسلام کالج میں پڑھاتے بھی رہے۔ انتہائی دین دار، مالی قربانی میں پیش پیش اور دعوت الی اللہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والے مخلص انسان تھے۔ مرحوم موصی تھے۔پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دولے پالک بچے شامل ہیں۔

۳۔مکرمہ سلیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم کرم دین بشیر صاحب (دارالعلوم جنوبی حمید ربوه)

6؍دسمبر 2025ء کو 87سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت جلال دین صاحب رضی اللہ عنہ کی پوتی اورمکرم ملک شرافت احمد صاحب مرحوم (کارکن وقف جدید) کی بڑی بیٹی تھیں۔ مرحومہ نے لمبا عرصہ صدر لجنہ مجلس شمس آباد ضلع قصور کے طورپر خدمت کی توفیق پائی۔ گاؤں کے بہت سے بچوں کو قرآن کریم بھی پڑھاتی رہیں۔ بڑی نیک، مخلص اور باوفا خاتون تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں دو بیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔

۴۔مکرمہ امۃالسلیم نجمہ صاحبہ اہلیہ مکرم محمد نعمت اللہ غوری صاحب (آف یاد گیر صوبہ کرنا ٹک۔انڈیا)

10؍نومبر 2025ء کو 93 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ حضرت سیٹھ شیخ حسن صاحب رضی اللہ عنہ صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوتی تھیں۔ مرحومہ صوم و صلوٰۃ اور تلاوت قرآن کریم کی پابند، غریب پرور،اچھے اخلاق کی حامل ایک نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ مرحومہ کا جماعت اور خلافت کے ساتھ بڑاگہرا تعلق تھا۔ احمدی اور غیر احمدی مستحق لڑکیوں کی شادی بیاہ کے موقع پر امداد کیا کرتی تھیں۔ جماعتی جلسوں اور اجلاسات میں بلاناغہ شرکت کرتیں اور باقاعدگی کے ساتھ تمام چندہ جات ادا کرتی تھیں۔آپ نے 40 سال تک صدر لجنہ اماءاللہ یاد گیر صوبہ کرناٹک کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں ایک بیٹی اور تین بیٹے شامل ہیں۔آپ مکرم عرفان قریشی صاحب (سیکرٹری جائیداد یوکے) کی اہلیہ کی نانی تھیں۔

۵۔مکرمہ جہاں آراء صاحبہ اہلیہ مکرم شیخ عبدالمومن صاحب مرحوم (قادیان)

29؍جنوری 2026ء کو 78 سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پاگئیں۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ آپ کا اصل تعلق جماعت بانسرہ صوبہ بنگال سے تھا۔ 1971ء میں مستقل ہجرت کرکے اپنے شوہرکے پاس قادیان آگئیں۔ مرحومہ صوم وصلوٰۃ کی پابند، ملنسار،صابرہ وشاکرہ، دعا گو، غریب پرور، بڑی نیک اور مخلص خاتون تھیں۔ چندہ جات با قاعدگی سے ادا کیا کرتی تھیں۔ جماعت اور خلافت کے ساتھ مضبوط مخلصانہ تعلق تھا۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں تین بیٹیاں اور چار بیٹے شامل ہیں۔آپ کے ایک بیٹے مکرم مولوی شیخ مجاہد احمد شاستری صاحب (واقف زندگی مبلغ سلسلہ) اس وقت جامعہ احمدیہ قادیان میں بطور استاد خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

۶۔مکرم امانت محمود محسن صاحب ابن مکرم چودھری محموداحمد صاحب (گھٹیالیاں کلاں ضلع سیالکوٹ)

7؍جنوری 2026ء کو بقضائے الٰہی وفات پاگئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَ اِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ مرحوم پنجوقتہ نماز وں کے پابند، تہجدگزار، ملنسار، غرباء کی مدد کرنے والےایک نیک فطرت اور مخلص انسان تھے۔ نظام جماعت اور خلافت سے پختہ تعلق تھا۔ چندہ جات بڑی باقاعدگی سے ادا کرتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں والدہ اور اہلیہ کے علاوہ تین بیٹے اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔آپ کے ایک بھانجے مکرم نعیم اشفاق صاحب مربی سلسلہ کے طورپر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ تمام مرحومین سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور انہیں اپنے پیاروں کے قرب میں جگہ دے۔ اللہ تعالیٰ ان کے لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کی خوبیوں کو زندہ رکھنے کی توفیق دے۔آمین

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button